Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 628

نماز کا بیان

دعائے قنوت کا بیان

7 hadiths in this chapter

3138

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3138

Sahih

(۳۱۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُوحٍ مِنْ أَوْلاَدِ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ بُرَیْدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ أَبِی الْحَوْرَائِ عَنْ حَسَنٍ أَوِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ: عَلَّمَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- کَلِمَاتٍ أَقُولُہُنَّ فِی الْقُنُوتِ: ((اللَّہُمَّ اہْدِنِی فِیمَنْ ہَدَیْتَ ، وَعَافِنِی فِیمَنْ عَافَیْتَ ، وَتَوَلَّنِی فِیمَنْ تَوَلَّیْتَ ، وَبَارِکْ لِی فِیمَا أَعْطَیْتَ ، وَقِنِی شَرَّ مَا قَضَیْتَ ، إِنَّکَ تَقْضِی وَلاَ یُقْضَی عَلَیْکَ ، وَإِنَّہُ لاَ یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ ، وَلاَ یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ))۔کَذَا کَانَ فِی أَصْلِ کِتَابِہِ عَنِ الْحَسَنِ أَوِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ فَکَأَنَّ الشَّکَّ لَمْ یَقَعْ فِی الْحَسَنِ وَإِنَّمَا وَقَعَ فِی الإِطْلاَقِ أَوِ النِّسْبَۃِ ، وَکَانَ فِی أَصْلِ کِتَابِہِ ہَذِہِ الزِّیَادَۃُ: وَلاَ یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۱۴۲۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٣٨) سیدنا حسن بن علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے چند کلمات سکھائے۔ میں انھیں وتر میں پڑھتا ہوں، وہ کلمات یہ ہیں ” اللہم اہدنی فی من ہدیت۔۔۔“ ” اے اللہ ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے رشد و ہدایت سے نوازا ہے اور مجھے عافیت دے کر ان میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت دی ہے اور جن کو تو نے اپنا دوست قرار دیا، ان میں مجھے بھی شامل فرما کر اپنا دوست بنا لے۔ جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت ڈال دے اور جس شر و برائی کا تو نے فیصلہ کردیا ہے۔ اس سے مجھے محفوظ رکھ اور بچا لے۔ یقیناً فیصلہ تو ہی صادر کرتا ہے۔ تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاسکتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہوسکتا اور جس کا تو دشمن بن جائے وہ کبھی عزت نہیں پاسکتا۔ ہمارے آقا تو ہی برکت والا اور بلند وبالا ہے۔ “

3139

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3139

Sahih

(۳۱۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی بُرَیْدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَوْرَائِ قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ مَا عَقِلْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَالَ: عَلَّمَنِی دَعَوَاتٍ أَقُولُہُنَّ: اللَّہُمَّ اہْدِنِی فِیمَنْ ہَدَیْتَ ، وَعَافِنِی فِیمَنْ عَافَیْتَ ، وَتَوَلَّنِی فِیمَنْ تَوَلَّیْتَ ، وَبَارِکْ لِی فِیمَا أَعْطَیْتَ ، وَقِنِی شَرَّ مَا قَضَیْتَ ، إِنَّکَ تَقْضِی وَلاَ یُقْضَی عَلَیْکَ۔ أُرَاہُ قَالَ: إِنَّہُ لاَ یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ قَالَ: فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِمُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ فَقَالَ: إِنَّہُ الدُّعَائُ الَّذِی کَانَ أَبِی یَدْعُو بِہِ فِی صَلاَۃِ الْفَجْرِ فِی قُنُوتِہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ: بُرَیْدٌ یَقُولُ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لِمُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ۔ [ضعیف۔ قد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٣٩) (ا) ابوحورا بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسن بن علی (رض) سے پوچھا : آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا سیکھا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : آپ نے مجھے دعائیں سکھائی ہیں ، میں وہ پڑھتا ہوں ” اللہم اہدنی فیمن ہدیت۔۔۔“ ” اے اللہ ! مجھے ہدایت سے بہرہ ور فرما کر ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت بخشی ہے اور جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا ان میں مجھے بھی شامل فرما اور جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت عطا فرما اور جس شرکا تو نے فیصلہ کیا ہے اس سے مجھے محفوظ فرما اور بچا لے۔ بیشک تو ہی فیصلہ کرتا ہے تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ “ میرا خیال ہے کہ انھوں نے یہ بھی فرمایا : ” جس کو تو والی بنا دے وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہوسکتا۔ اے ہمارے رب ! تو ہی برکت والا اور بلند وبالا ہے۔ “ راوی فرماتے ہیں : میں نے اس کا ذکر محمد بن حنفیہ کے سامنے کیا تو انھوں نے فرمایا : یہ تو وہی دعا ہے جو میرے والد صاحب فجر کی نماز میں قنوت میں پڑھا کرتے تھے۔

3140

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3140

Zaeef

(۳۱۴۰) فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّارُ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِہِ بَخَطِّ أَبِی الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیِّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَکَرِیَّا بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی مَسَرَّۃَ أَخْبَرَنِی أَبِی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنَ أَبِی رَوَّادٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ہُرْمُزَ أَنَّ بُرَیْدَ بْنَ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَہُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ ہُوَ ابْنُ الْحَنَفِیَّۃِ بِالْخَیْفِ یَقُولاَنِ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَقْنُتُ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ ، وَفِی وِتْرِ اللَّیْلِ بِہَؤُلاَئِ الْکَلِمَاتِ: ((اللَّہُمَّ اہْدِنِی فِیمَنْ ہَدَیْتَ ، وَعَافِنِی فِیمَنْ عَافَیْتَ ، وَتَوَلَّنِی فِیمَا تَوَلَّیْتَ ، وَبَارِکْ لِی فِیمَا أَعْطَیْتَ ، وَقِنِی شَرَّ مَا قَضَیْتَ ، إِنَّکَ تَقْضِی وَلاَ یُقْضَی عَلَیْکَ ، إِنَّہُ لاَ یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ الفاکھی ۱/ ۱۸/۱۔۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٤٠) برید بن ابی مریم بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) اور محمد بن علی بن حنفیہ سے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز میں اور رات کے وتروں میں یہ کلمات پڑھتے تھے۔ ” اللہم اہدنی فیمن ہدیت۔۔۔“ ” اے اللہ ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت سے نوازا ہے اور مجھے عافیت بخش کر ان میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت بخشی ہے اور جن کو تو نے اپنا دوست بنایا ہے۔ ان میں مجھے بھی شامل فرما کر اپنا دوست بنا لے اور تو نے مجھے جو کچھ بھی عطا کیا ہے۔ اس میں میرے لیے برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کردیا ہے اس سے مجھے محفوظ و مامون فرما۔ یقیناً فیصلہ تو ہی کرتا ہے تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اور جس کا تو والی بنے وہ کبھی ذلیل ہو نہیں سکتا۔ اے ہمارے رب ! تو ہی برکتوں والا اور بلند وبالا ہے۔ “

3141

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3141

Sahih

(۳۱۴۱) وَرَوَاہُ الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ: حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ ہُرْمُزَ عَنْ بُرَیْدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعَلِّمُنَا دُعَائً نَدْعُو بِہِ فِی الْقُنُوتِ مِنْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ: ((اللَّہُمَّ اہْدِنَا فِیمَنْ ہَدَیْتَ ، وَعَافِنَا فِیمَنْ عَافَیْتَ ، وَتَوَلَّنَا فِیمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَبَارِکْ لَنَا فِیمَا أَعْطَیْتَ ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَیْتَ ، إِنَّکَ تَقْضِی وَلاَ یُقْضَی عَلَیْکَ ، إِنَّہُ لاَ یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ))۔ وَرَوَاہُ مَخْلَدُ بْنُ یَزِیدَ الْحَرَّانِیُّ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ فَذَکَرَ رِوَایَۃَ بُرَیْدٍ مُرْسَلَۃً فِی تَعْلِیمِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَحَدَ ابْنَیِ ابْنَتِہِ ہَذَا الدُّعَائَ فِی وِتْرِہِ ، ثُمَّ قَالَ بُرَیْدٌ سَمِعْتُ ابْنَ الْحَنَفِیَّۃِ وَابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولاَنِ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُہَا فِی قُنُوتِ اللَّیْلِ ، وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو صَفْوَانَ الأَمَوِیُّ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ ہُرْمُزَ ، وَقَالَ فِی حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ فِی قُنُوتِ صَلاَۃِ الصُّبْحِ۔ فَصَحَّ بِہَذَا کُلِّہِ أَنَّ تَعْلِیمَ ہَذَا الدُّعَائِ وَقَعَ لِقُنُوتِ صَلاَۃِ الصُّبْحِ وَقُنُوتِ الْوِتْرِ ، وَأَنَّ بُرَیْدًا أَخَذَ الْحَدِیثَ مِنَ الْوَجْہَیْنِ اللَّذَیْنِ ذَکَرْنَاہُمَا وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٤١) (ا) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں دعا سکھایا کرتے تھے۔ ہم اسے فجر کی نماز میں پڑھا کرتے تھے ” اللہم اہدنا فیمن ہدیت۔۔۔“ ” اے اللہ ! ہمیں ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے رشد و ہدایت سے نوازا ہے اور ہمیں عافیت دے کر ان میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت دی ہے اور جن کو تو نے اپنا دوست قرار دیا ہے ان میں ہمیں بھی شامل فرما کر اپنا دوست بنا اور جو کچھ تو نے ہمیں عطا فرمایا ہے اس میں ہمارے لیے برکت ڈال اور جس برائی اور شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے اس سے ہمیں محفوظ رکھ اور بچا لے۔ یقیناً تو ہی فیصلہ کرنے والا ہے۔ تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اور جس کا تو والی بنے وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہوسکتا۔ اے ہمارے رب ! تو ہی برکتوں والا اور بلند وبالا ہے۔ “ (ب) مخلد بن یزید کی روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے نواسوں حضرت حسن و حسین (رض) میں سے کسی کو قنوت وتر کی دعا سکھائی ہے۔ یزید نے کہا کہ میں نے ابن حنفیہ اور ابن عباس (رض) دونوں کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دعا کو رات کی قنوت میں پڑھتے تھے : (ج) اسی طرح اس روایت کو ابوصفوان اموی نے ابن جریج سے روایت کیا اور ابن عباس (رض) اور ابن حنفیہ کی حدیث میں ہے کہ ” فی قنوت صلوۃ الصبح “ صبح کی نماز کی قنوت میں پڑھتے تھے۔ (د) یہ درست ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو دعا سکھائی ہے، یہ صبح کی نماز کی قنوت اور قنوت وتر دونوں کے بارے میں ہے اور برید نے یہ حدیث دو سندوں سے ذکر کی ہے۔ وباللہ التوفیق

3142

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3142

Zaeef

(۳۱۴۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِیُّ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الْقَاہِرِ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی عِمْرَانَ قَالَ: بَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَدْعُو عَلَی مُضَرَ إِذْ جَائَ ہُ جِبْرِیلُ فَأَوْمَأَ إِلَیْہِ أَنِ اسْکُتْ ، فَسَکَتَ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّہَ لَمْ یَبْعَثْکَ سَبَّابًا وَلاَ لَعَّانًا ، وَإِنَّمَا بَعَثَکَ رَحْمَۃً ، وَلَمْ یَبْعَثْکَ عَذَابًا لَیْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ ، ثُمَّ عَلَّمَہُ ہَذَا الْقُنُوتَ: اللَّہُمَّ إِنَّا نَسْتَعِینُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ ، وَنُؤْمِنُ بِکَ ، وَنَخْضَعُ لَکَ ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَکْفُرُکَ ، اللَّہُمَّ إِیَّاکَ نَعْبُدُ ، وَلَکَ نُصَلِّی وَنَسْجُدُ ، وَإِلَیْکَ نَسْعَی وَنَحْفِدُ ، نَرْجُو رَحْمَتَکَ وَنَخَافُ عَذَابَکَ الْجَدَّ ، إِنَّ عَذَابَکَ بِالْکَافِرِینَ مُلْحَقٌ۔ ہَذَا مُرْسَلٌ۔وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَحِیحًا مَوْصُولاً۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود فی المراسیل]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٤٢) خالد بن ابی عمران بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار مضر پر بددعا کر رہے تھے۔ اچانک جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اشارہ کر کے فرمایا : خاموش ہوجائیے ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چپ ہوگئے۔ پھر انھوں نے کہا : اے محمد ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو گالیاں دینے والا اور بددعا کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ اس نے تو آپ کو رحمت بنا کر بھیجا ہے نہ کہ عذاب بنا کر۔ آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے یا عذاب دے ، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ پھر جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ قنوت سکھلائی ” اللہم انا نستعینک ونستغفرک۔۔۔“ ” اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں اور تجھ سے بخشش طلب کرتے ہیں اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں۔ تیرے لیے ہی خشوع و خضوع کرتے ہیں اور جو تیرا منکر ہے اس سے ہر قسم کا ناطہ توڑتے ہیں اور اس کو چھوڑتے ہیں۔ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے لیے ہی نماز پڑھتے ہیں اور تیرے لیے ہی سجدہ کرتے ہیں، تیرے طرف ہی بھاگتے ہیں اور تیرے ہر حکم کے لیے تیار ہیں۔ تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بلاشبہ تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔

3143

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3143

Sahih

(۳۱۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ: أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَنَتَ بَعْدَ الرُّکُوعِ فَقَالَ: اللَّہُمَّ اغْفِرْ لَنَا ، وَلِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِینَ وَالْمُسْلِمَاتِ ، وَأَلِّفْ بَیْنَ قُلُوبِہِمْ ، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِہِمْ ، وَانْصُرْہُمْ عَلَی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّہِمْ ، اللَّہُمَّ الْعَنْ کَفَرَۃَ أَہْلِ الْکِتَابِ الَّذِینَ یَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِکَ ، وَیُکُذِّبُونَ رُسُلَکَ ، وَیُقَاتِلُونَ أَوْلِیَائَ کَ اللَّہُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِہِمَ ، وَزَلْزِلْ أَقْدَامَہُمْ ، وَأَنْزِلْ بِہِمْ بَأْسَکَ الَّذِی لاَ تَرُدُّہُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِینَ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ اللَّہُمَّ إِنَّا نَسْتَعِینُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُثْنِی عَلَیْکَ وَلاَ نَکْفُرُکَ ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَفْجُرُکَ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ اللَّہُمَّ إِیَّاکَ نَعْبُدُ ، وَلَکَ نُصَلِّی وَنَسْجُدُ ، وَلَکَ نَسْعَی وَنَحْفِدُ ، نَخْشَی عَذَابَکَ الْجَدَّ ، وَنَرْجُو رَحْمَتَکَ ، إِنَّ عَذَابَکَ بِالْکَافِرِینَ مُلْحَقٌ۔ وَرَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُمَرَ فَخَالَفَ ہَذَا فِی بَعْضِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۴۹۶۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٤٣) (ا) عبید بن عمر سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی : ” اللہم اغفرلنا، وللمومنین والمومنات “ ” اے اللہ ! ہم سب مومن و مسلمان مردوں اور عورتوں کو بخش دے۔ ان کے دلوں میں الفت ڈال دے اور ان کی اصلاح کر دے اور ان کی دشمنوں کے خلاف مدد فرما۔ اے اللہ ! اہل کتاب کے ان کافروں پر لعنت کر جو تیرے راستے سے روکتے ہیں اور جو تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے دوستوں سے لڑائی کرتے ہیں۔ اے اللہ ! ان میں آپس میں اختلاف ڈال دے اور ان کے قدم ڈگمگا دے اور ان پر ایسا عذاب نازل فرما جو تو مجرم قوم سے نہیں پھیرتا۔ “ ” اللہ کے نام کے ساتھ جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اے اللہ ! ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ ہی سے بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی ثنا کرتے ہیں اور تیرے ساتھ کفر نہیں کرتے اور جو تیری نافرمانی کرتا ہے اس سے علیحدہ ہوتے ہیں اور اسے چھوڑتے ہیں۔ اللہ کے نام کے ساتھ جو بےحد مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے لیے نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔ تیری طرف ہی دوڑتے اور کوشش کرتے ہیں اور تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں اور تیری رحمت کے امیدوار ہیں۔ بیشک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔ “

3144

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3144

Sahih

(۳۱۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی عَبْدَۃُ بْنُ أَبِی لُبَابَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ أَبِیہِ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَلاَۃَ الصُّبْحِ ، فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ بَعْدَ الْقِرَائَ ۃِ قَبْلَ الرُّکُوعِ: اللَّہُمَّ إِیَّاکَ نَعْبُدُ ، وَلَکَ نُصَلِّی وَنَسْجُدُ ، وَإِلَیْکَ نَسْعَی وَنَحْفِدُ ، نَرْجُو رَحْمَتَکَ وَنَخْشَی عَذَابَکَ ، إِنَّ عَذَابَکَ بِالْکَافِرِینَ مُلْحَقٌ اللَّہُمَّ إِنَّا نَسْتَعِینُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ ، وَنُثْنِی عَلَیْکَ الْخَیْرَ وَلاَ نَکْفُرُکَ ، وَنُؤْمِنُ بِکَ وَنَخْضَعُ لَکَ ، وَنَخْلَعُ مَنْ یَکْفُرُکَ۔کَذَا قَالَ قَبْلَ الرُّکُوعِ۔ وَہُوَ وَإِنْ کَانَ إِسْنَادًا صَحِیحًا فَمَنْ رَوَی عَنْ عُمَرَ قُنُوتَہُ بَعْدَ الرُّکُوعِ أَکْثَرُ فَقَدْ رَوَاہُ أَبُو رَافِعٍ وَعُبَیْدُ بْنُ عُمَیْرٍ وَأَبُو عُثْمَانَ النَّہْدِیُّ وَزِیدُ بْنُ وَہْبٍ وَالْعَدَدُ أَوْلَی بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ ، وَفِی حُسْنِ سِیَاقِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ لِلْحَدِیثِ دِلاَلَۃٌ عَلَی حِفْظِہِ وَحِفْظِ مَنْ حَفِظَ عَنْہُ۔ وَرُوِّینَا عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَنَتَ فِی الْفَجْرِ فَقَالَ: اللَّہُمَّ إِنَّا نَسْتَعِینُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ ، وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی عَمْرِو بْنِ الْعَلاَئِ أَنَّہُ کَانَ یَقْرَأُ فِی دُعَائِ الْقُنُوتِ إِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ یَعْنِی بِخَفْضِ الْحَائِ ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٤٤) (ا) سعید بن عبدالرحمن بن ابزی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پیچھے صبح کی نماز پڑھی تو انھیں قراءت کے بعد رکوع سے پہلے یہ پڑھتے ہوئے سنا ” اللہم ایاک نعبد۔۔۔“ ” اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے لیے ہی نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں اور تیری طرف ہی دوڑتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں۔ اور تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں اور تیری رحمت کے امیدوار ہیں۔ بیشک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔ اے اللہ ! ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ ہی سے بخشش چاہتے ہیں اور تیری ثناء کرتے ہیں اور تیرے ساتھ کفر نہیں کرتے اور جو تیری نافرمانی کرے اس سے علیحدہ ہوتے ہیں اور اسے چھوڑتے ہیں۔ “ اسی طرح رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔ (ب) اگر اس کی سند صحیح ہو تو حضرت عمر (رض) کی روایت جو قنوت رکوع کے بعد پڑھنے والی تھی اس کی تعداد زیادہ ہے۔ ابورافع، عبید بن عمیر، ابوعثمان نہدی اور زید بن وہب (رض) حفظ میں زیادہ بہتر ہیں اور عبید بن عمیر کے سیاق کلام کی خوبصورتی ان کے حفظ پر اور جس نے ان سے حفظ کیا پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں حضرت علی (رض) کے واسطہ سے بیان کیا گیا کہ انھوں نے فجر کی نماز میں قنوت پڑھی تو یہ دعا کی ” اللہم انا نستعینک وسنتغفرک۔۔۔“ ” اے اللہ ! ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ ہی سے بخشش طلب کرتے ہیں۔ اور ابوعمرو بن علا کے واسطے سے ہمیں حدیث بیان کی گئی کہ وہ دعائے قنوت میں پڑھتے تھے :” ان عذابک بالکفار ملحق “۔