Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 625

نماز کا بیان

کسی مصیبت کے نازل ہونے پر (نمازوں) میں قنوت نازلہ پڑھنے کا بیان

20 hadiths in this chapter

3084

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3084

Zaeef

(۳۰۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا أَبُو ثَابِتٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَأَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا أَرَادَ أَنْ یَدْعُوَ عَلَی أَحَدٍ أَوْ یَدْعُوَ لأَحَدٍ یَقْنُتُ بَعْدَ الرُّکُوعِ فَرُبَّمَا قَالَ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ، اللَّہُمَّ أَنْجِ الْوَلِیدَ بْنَ الْوَلِیدِ وَسَلَمَۃَ بْنَ ہِشَامٍ وَالْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ ، اللَّہُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلَی مُضَرَ ، وَاجْعَلْہَا عَلَیْہِمْ سِنِینَ کَسِنِی یُوسُفَ۔ یَجْہَرُ بِذَلِکَ قَالَ وَکَانَ یَقُولُ فِی بَعْضِ صَلَوَاتِہِ فِی صَلاَۃِ الْفَجْرِ: اللَّہُمَّ الْعَنْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا۔ لأَحْیَائٍ مِنَ الْعَرَبِ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی {لَیْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: ۱۲۸] رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَغَیْرِہِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۲۸۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٨٤) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی کے لیے دعا یا بددعا کا ارادہ فرماتے تو رکوع کے بعد قنوت اور کبھی کبھی سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ پڑھ کر پھر کھڑے کھڑے ہی یہ دعا کرتے اللہم ۔۔۔ ” الٰہی ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام اور ضعیف مسلمانوں کو نجات دے۔ الٰہی ! کفار مضر کو اپنے سخت عذاب سے دو چار کر دے، اس عذاب کو ان پر قحط یوسف کی مدت کی طرح محیط کر دے۔ “ یہ کلمات اونچی آواز سے پڑھتے تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور بعض اوقات فجر کی نماز میں یہ بددعا کیا کرتے تھے۔ اللہم العن۔۔۔ الٰہی ! فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے قبیلوں کے نام لے لے کر بددعا کرتے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کردی :{ لَیْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ } [ال عمران : ١٢٨] ” آپ کے پاس کچھ بھی اختیار نہیں (اللہ چاہے) ان کی توبہ قبول کرلے چاہے انھیں عذاب سے دو چار کرے کہ وہ ظالم ہیں۔ “

3085

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3085

Zaeef

(۳۰۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَأَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُمَا سَمِعَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ حِینَ یَفْرُغُ مِنْ صَلاَۃِ الْفَجْرِ مِنَ الْقِرَائَ ۃِ ، وَیُکَبِّرُ وَیَرْفَعُ رَأْسَہُ: ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ))۔ثُمَّ یَقُولُ وَہُوَ قَائِمٌ: ((اللَّہُمَّ أَنْجِ الْوَلِیدَ بْنَ الْوَلِیدِ وَسَلَمَۃَ بْنَ ہِشَامٍ وَعَیَّاشَ بْنَ أَبِی رَبِیعَۃَ وَالْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ ، اللَّہُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلَی مُضَرَ ، وَاجْعَلْہَا عَلَیْہِمْ سِنِینَ کَسِنِی یُوسُفَ ، اللَّہُمَّ الْعَنْ لِحْیَانَ وَرِعْلاً وَذَکْوَانَ ، وَعُصَیَّۃَ عَصَتِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ))۔ثُمَّ بَلَغَنَا أَنَّہُ تَرَکَ ذَلِکَ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {لَیْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: ۱۲۸] رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٨٥) سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن ; سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز میں جب قراءت سے فارغ ہوتے تو تکبیر کہتے اور رکوع کرتے ۔ پھر رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے : ” سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ “ پھر قیام کی حالت میں ہی کہتے : ” اللہم انج۔۔۔“ ” اے اللہ ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور و ضعیف مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ ! قبیلہ مضر کے کفار کو اپنی سخت پکڑ سے دو چار کر اور ان پر اس عذاب کی مدت قحط یوسف کی طرح بڑھا دے۔ اے اللہ ! لحیان، رمل اور ذکوان پر پھٹکار بھیج اور عصیہ پر بھی لعنت بھیج جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ نے قنوت ترک کردی ، یعنی { لَیْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ } [آل عمران : ١٢٨] ” آپ کے پاس کچھ بھی اختیار نہیں (اللہ چاہے) ان کی توبہ قبول کرلے چاہے انھیں عذاب سے دو چار کرے کہ وہ ظالم ہیں۔ “

3086

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3086

Sahih

(۳۰۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- لَمَّا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ مِنَ الصُّبْحِ قَالَ: ((اللَّہُمَّ أَنْجِ الْوَلِیدَ بْنَ الْوَلِیدِ وَسَلَمَۃَ بْنَ ہِشَامٍ وَعَیَّاشَ بْنَ أَبِی رَبِیعَۃَ وَالْمُسْتَضْعَفِینَ بِمَکَّۃَ ، اللَّہُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلَی مُضَرَ ، اللَّہُمَّ اجْعَلْہَا عَلَیْہِمْ سِنِینَ کَسِنِی یُوسُفَ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافعی ۸۹۵۔ قد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٨٦) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز میں دوسری رکعت میں جب رکوع سے اٹھتے تو کہتے : ” اللہم انج۔۔۔“ ” اے اللہ ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ ! مضر کے کفار پر اپنی پکڑ سخت کر دے، اے اللہ ! ان پر اس عذاب کو قحط یوسف کی طرح طویل عرصہ تک مسلط رکھ۔ “

3087

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3087

Sahih

(۳۰۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَۃَ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَمَا ہُوَ یُصَلِّی الْعِشَائَ إِذْ قَالَ: ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ))۔ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ یَسْجُدَ: ((اللَّہُمَّ أَنْجِ عَیَّاشَ بْنَ أَبِی رَبِیعَۃَ ، اللَّہُمَّ أَنْجِ سَلَمَۃَ بْنَ ہِشَامٍ ، اللَّہُمَّ أَنْجِ الْوَلِیدَ بْنَ الْوَلِیدِ ، اللَّہُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ، اللَّہُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلَی مُضَرَ، اللَّہُمَّ اجْعَلْہَا سِنِینَ کَسِنِی یُوسُفَ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شَیْبَانَ۔ وَکَذَلِکَ قَالَہُ الأَوْزَاعِیُّ عَنْ یَحْیَی صَلاَۃَ الْعَتَمَۃِ۔ وَکَذَلِکَ قَالَہُ ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ عَنْ یَحْیَی وَفِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ الْعِشَائَ الآخِرَۃَ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٨٧) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشا کی نماز پڑھ رہے تھے (اوزاعی نے صلوۃ العتمہ کے لفظ بولے ہیں۔ اسی طرح ایک اور روایت میں ” العشاء الآخرہ “ کے الفاظ ہیں) جب آپ نے سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا تو سجدے میں جانے سے پہلے یہ دعا کی : الٰہی ! عیاش بن ابی ربیع کو نجات دے۔ اے اللہ ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے ، اے اللہ ! کمزور و لاچار مومنوں کو نجات دے، اے اللہ ! کفار مضر پر اپنا شکنجہ کس دے، اے اللہ ! اس عذاب کو ان پر قحط یوسف کی طرح محیط کر دے۔

3088

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3088

Sahih

(۳۰۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ السَّہْمِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا قَالَ: ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ))۔ فِی الرَّکْعَۃِ الأَخِیرَۃِ مِنْ صَلاَۃِ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ قَنَتَ فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ أَنْجِ الْوَلِیدَ بْنَ الْوَلِیدِ ، اللَّہُمَّ أَنْجِ عَیَّاشَ بْنَ أَبِی رَبِیعَۃَ ، اللَّہُمَّ أَنْجِ سَلَمَۃَ بْنَ ہِشَامٍ ، اللَّہُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ ، اللَّہُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلَی مُضَرَ ، اللَّہُمَّ اجْعَلْہَا سِنِینَ کَسِنِی یُوسُفَ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ فَضَالَۃَ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٨٨) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب عشا کی آخری رکعت میں سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تو رکوع کے بعد قنوت پڑھتے : ” اللہم انج۔۔۔“ ” اے اللہ ! ولید بن ولید کو نجات دے، الٰہی عیاش بن ابی ربیع کو نجات دے، الٰہی ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، الٰہی ! کمزور مومن لوگوں کو نجات دے، اے اللہ ! کفار مضر پر اپنے سخت عذاب سے دو چار کر اور یہ عذاب ان پر قحط یوسف کی طرح مدت تک محیط رکھ۔

3089

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3089

Sahih

(۳۰۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ یَحْیَی عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: وَاللَّہِ لأَنَا أَقْرَبُکُمْ صَلاَۃً بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَکَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ یَقْنُتُ فِی الرَّکْعَۃِ الأَخِیرَۃِ مِنْ صَلاَۃِ الظُّہْرِ وَعِشَائِ الآخِرَۃِ ، وَصَلاَۃِ الصُّبْحِ بَعْدَ مَا یَقُولُ: سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ۔ فَیَدْعُو لِلْمُؤْمِنِینَ وَیَلْعَنُ الْکُفَّارَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۶۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٨٩) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز سے بہت زیادہ مشابہت والی نماز پڑھاؤں گا۔ آپ (رض) نماز ظہر، عشا اور نماز فجر کی آخری رکعت میں ” سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ “ کہنے کے بعد مومنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں کے لیے بددعا کرتے۔

3090

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3090

Sahih

(۳۰۹۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أُمَیَّۃَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ یَعْنِی ابْنَ ہِشَامٍ صَاحِبَ الدَّسْتَوَائِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی فَذَکَرَہُ بِمِثْلِ مَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: وَاللَّہِ لأُقَرِّبَنَّ بِکُمْ صَلاَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ فَضَالَۃَ عَنْ ہِشَامٍ۔ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ مُعَاذِ بْنِ ہِشَامٍ ، فَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ أَثْبَتَتِ الْقُنُوتَ فِی الصَّلَوَاتِ الثَّلاَثِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ] (۳۰۹۰) ایک دوسری سند سے اسی جیسی روایت منقول ہے مگر اس میں یہ الفاظ ہیں، وَاللَّہِ لأُقَرِّبَنَّ بِکُمْ صَلاَۃَ رَسُولِ اللَّہِﷺ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(ب) اسی طرح یہ روایت صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں بھی موجود ہے۔ (ج) ان تمام روایات سے تین نمازوں میں قنوت ثابت ہو رہی ہے۔

3091

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3091

Sahih

(۳۰۹۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ سَمِعَ ابْنَ أَبِی لَیْلَی یُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَائِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یَقْنُتُ فِی الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ۔أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ ، وَأَخْرَجَہُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۳۰۵]q

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٩١) سیدنا براء سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح اور مغرب کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے۔

3092

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3092

Sahih

(۳۰۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِی الْجَہْمِ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ لاَ یُصَلِّی صَلاَۃً مَکْتُوبَۃً إِلاَّ قَنَتَ فِیہَا۔ مُحَمَّدٌ ہَذَا ہُوَ ابْنُ أَنَسٍ أَبُو أَنَسٍ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَمُطَرِّفٌ ہُوَ ابْنُ طَرِیفٍ۔ [حسن۔ اخرجہ الدار قطنی ۲/۳۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٩٢) حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو بھی فرض نماز پڑھتے اس میں قنوت پڑھتے تھے۔

3093

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3093

Sahih

(۳۰۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سَالِمٌ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ -ﷺ- إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ مِنَ الرَّکْعَۃِ الآخِرَۃِ مِنَ الْفَجْرِ قَالَ: ((اللَّہُمَّ الْعَنْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا))۔فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {لَیْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ} الآیَۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حِبَّانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۸۴۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٩٣) سالم اپنے والد عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد یہ دعا کرتے سنا : ” اللہم العن۔۔۔ اے اللہ ! فلاں اور فلاں پر اپنی پھٹکار بھیج تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ { لَیْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ} [اٰل عمران : ١٢٨] کہ آپ کے پاس کچھ بھی اختیار نہیں۔

3094

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3094

Sahih

(۳۰۹۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّ رِعْلاً وَذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ وَبَنِی لِحْیَانَ اسْتَمَدُّوا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَدُوًّا ، فَأَمَدَّہُمْ بِسَبْعِینَ مِنَ الأَنْصَارِ کُنَّا نُسَمِّیہِمُ الْقُرَّائَ فِی زَمَانِہِمْ ، کَانُوا یَحْتَطِبُونَ بِالنَّہَارِ وَیُصَلُّونَ بِاللَّیْلِ حَتَّی إِذَا کَانُوا بِبِئْرِ مَعُونَۃَ قَتَلُوہُمْ ، وَغَدَرُوا بِہِمْ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- شَہْرًا یَدْعُو فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ عَلَی أَحْیَائٍ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ ، عَلَی رِعْلٍ وَذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ ، وَبَنِی لِحْیَانَ۔قَالَ أَنَسٌ: فَقَرَأْنَا بِہِمْ قُرْآنًا ، ثُمَّ إِنَّ ذَلِکَ رُفِعَ: بَلَغُوا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی بْنِ حَمَّادٍ النَّرْسِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۸۶۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٩٤) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ قبیلہ رمل، ذکوان اور عصیہ اور بنو لحیان کے لوگوں نے دشمن کے خلاف مدد کی درخواست کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ستر صحابہ کو ان کی مدد کے لیے روانہ کیا، ان کو ہم اپنے زمانے کے قراء کہا کرتے تھے، وہ دن کو لکڑیاں اکٹھی کرتے تھے اور رات کو قیام کرتے تھے حتیٰ کہ جب یہ بئر معونہ کے مقام پر پہنچے تو ان مذکورہ قبائل نے انھیں شہید کردیا اور ان کے ساتھ دھوکا کیا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو آپ ایک مہینہ تک فجر کی نماز میں قبائل عرب کے کچھ قبیلوں رمل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان پر بددعا کرتے رہے۔ انس (رض) فرماتے ہیں : ہم ان کے بارے میں قرآن پڑھتے رہے۔ پھر یہ حکم اٹھا لیا گیا۔ ہماری قوم کے افراد کو پیغام پہنچ گیا کہ ہم اپنے رب کے پاس پہنچ گئے، وہ ہم سے راضی اور ہم اس سے راضی ہوگئے۔

3095

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3095

Sahih

(۳۰۹۵) وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَجَدَ عَلَی شَیْئٍ قَطُّ مَا وَجَدَ عَلَی أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَۃَ، وَأَصْحَابِ سَرِیَّۃَ الْمُنْذِرِ بْنِ عَمْرٍو، فَمَکَثَ شَہْرًا یَدْعُو عَلَی الَّذِینَ أَصَابُوہُمْ فِی قُنُوتِ صَلاَۃِ الْغَدَاۃِ، یَدْعُو عَلَی رِعْلٍ وَذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ وَلِحْیَانَ۔ وَرَوَاہُ قَتَادَۃُ وَعَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ صُہَیْبٍ وَأَبُو مِجْلَزٍ: لاَحِقُ بْنُ حُمَیْدٍ وَأَنَسُ بْنُ سِیرِینَ وَمُوسَی بْنُ أَنَسٍ وَعَاصِمُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَحْوَلُ کُلُّہُمْ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَقَالُوا فِی الْحَدِیثِ: شَہْرًا۔ وَرَوَاہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أَنَسٍ کَذَلِکَ: ثَلاَثِینَ صَبَاحًا ، وَرَوَاہُ ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی عَنْ إِسْحَاقَ فَقَالَ: أَرْبَعِینَ صَبَاحًا وَالصَّحِیحُ ثَلاَثِینَ۔وَقَدْ رُوِیَ ذَلِکَ أَیْضًا عَنْ ہَمَّامٍ۔ وَرُوِیَ عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلِ عَنْ أَنَسٍ فِی قِصَّۃِ الْعُرَنِیِّینِ قَالَ: فَأَرْسَلَ فِی آثَارِہِمْ بَعْدَ أَنْ دَعَا عَلَیْہِمْ فِی صَلاَتِہِ خَمْسَۃً وَعِشْرِینَ یَوْمًا ، وَتِلْکَ الْقِصَّۃُ غَیْرُ ہَذِہِ۔ وَالْمَحْفُوظُ عَنْ حُمَیْدٍ فِی قِصَّۃِ الْقُرَّائِ مَا۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۳/ ۱۹۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٩٥) (ا) سیدنا انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اتنا غم گین اور پریشان کبھی نہیں دیکھا جتنا بئر معونہ والوں اور سریہ منذر بن عمرو کی وجہ سے ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ماہ تک فجر کی نماز میں ان لوگوں پر بددعا کرتے رہے جنہوں نے ان صحابہ کو شہید کیا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان پر بددعا کرتے تھے۔ (ب) قتادہ عبدالعزیز بن صہیب ابو مجلز لاحق بن حمید، انس بن سیرین، موسیٰ بن انس اور عاصم بن سلیمان احول سب حضرات سیدنا انس (رض) سے ” شہرا “ کے لفاظ روایت کرتے ہیں یعنی ایک مہینہ تک آپ نے بددعا کی۔ (ج) ابن ہمام اسحاق کے واسطہ سے چالیس دن روایت کرتے ہیں۔ (د) ٣٠ دن والی روایت صحیح ہے۔ (ہ) حمید طویل سے سیدنا انس (رض) کے واسطے سے عرنیین کا قصہ منقول ہے کہ آپ نے پندرہ دن تک نماز میں ان پر بددعا کی۔ اس کے بعد ان کے پیچھے دستہ روانہ کیا ، یہ دونوں الگ الگ قصے ہیں۔

3096

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3096

Sahih

(۳۰۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ یَعْقُوبَ الإِیَادِیُّ الْمَالِکِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ بْنِ خَلاَّدٍ النَّصِیبِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ: کَانَ شَبَابٌ مِنَ الأَنْصَارِ یَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ ثُمَّ یَنْتَحُونَ فِی نَاحِیَۃِ الْمَدِینَۃِ ، یَحْسَبُ أَہْلُوہُمْ أَنَّہُمْ فِی الْمَسْجِدِ ، وَیَحْسَبُ أَہْلُ الْمَسْجِدِ أَنَّہُمْ فِی أَہْلِیہِمْ ، فَیُصَلُّونَ مِنَ اللَّیْلِ حَتَّی إِذَا تَقَارَبَ الصُّبْحُ احْتَطَبَ بَعْضُہُمْ ، وَاسْتَقَی بَعْضُہُمْ مِنَ الْمَائِ الْعَذْبِ، ثُمَّ یُقْبِلُونَ حَتَّی یَضَعُوا حُزَمَہُمْ وَقِرَبَہُمْ عَلَی أَبْوَابِ حُجَرِ النَّبِیِّ-ﷺ- فَبَعَثَہُمُ النَّبِیُّ -ﷺ- إِلَی بِئْرِ مَعُونَۃَ ، فَاسْتُشْہِدُوا کُلُّہُمْ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی مَنْ قَتَلَہُمْ خَمْسَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَلْقَمَۃُ بْنُ أَبِی عَلْقَمَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: فَدَعَا عَلَی مَنْ قَتَلَہُمْ خَمْسَۃَ عَشَرَ یَوْمًا۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ مُرْسَلاً خَمْسَۃَ عَشَرَ یَوْمًا۔وَالرِّوَایَاتُ فِی الشَّہْرِ أَشْہَرُ وَأَکْثَرُ وَأَصَحُّ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ وَأَکْثَرُ الرِّوَایَاتُ عَنْ أَنَسٍ فِی إِثْبَاتِ الْقُنُوتِ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ ، وَقَدْ ثَبَتَ عَنْہُ فِی الْمَغْرِبِ أَیْضًا۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۳/ ۲۳۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٩٦) (ا) حمید طویل سیدنا انس (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ انصار کے نوجوان غور سے قرآن سنتے، پھر مسجد کے گوشوں میں علیحدہ ہو کر بیٹھ جاتے، ان کے گھر والے سمجھتے کہ شاید وہ مسجد میں ہیں اور مسجد والے سمجھتے کہ وہ گھر پر ہیں، وہ رات کو نمازیں پڑھتے رہتے حتیٰ کہ جب صبح کا وقت قریب آتا تو بعض لکڑیاں جمع کرنے چلے جاتے بعض تازہ پانی لانے چل پڑتے، پھر وہ واپس آتے اپنی گٹھڑیاں اور مشکیزے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجروں کے دروازوں پر رکھ دیتے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بئر معونہ کی طرف بھیجا تو وہاں ان سب کو شہید کردیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پندرہ راتوں تک ان کے قاتلوں پر بددعا کی۔ (ب) اسی طرح اس کو علقمہ بن ابی علقمہ نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا گیا ہے۔ اس میں فرماتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے قافلوں پر پندرہ دن بددعا کی۔ (ج) اسی طرح جعفر بن محمد نے بھی اپنے والد سے مرسل روایت نقل کی ہے جو پندرہ دن کے بارے میں ہے۔ (د) لیکن مہینہ والی روایات زیادہ مشہور، واضح اور زیادہ صحیح ہیں۔ واللہ اعلم۔ اکثر روایات سیدنا انس (رض) سے صبح کی نماز میں قنوت کے اثبات کی ہیں، اسی طرح حضرت انس (رض) سے مغرب کی نماز میں بھی ثابت ہے۔

3097

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3097

Sahih

(۳۰۹۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا وَہْبٌ ہُوَ ابْنُ بَقِیَّۃَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ہُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ خَالِدٍ ہُوَ الْحَذَّائُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ: الْقُنُوتُ فِی الْمَغْرِبِ وَالْغَدَاۃِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَغَیْرِہِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ وَقَالَ: کَانَ الْقُنُوتُ فِی الْمَغْرِبِ وَالْفَجْرِ۔ وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی الْقِصَّۃِ الَّتِی رَوَاہَا أَنَسٌ فِی جَمِیعِ الصَّلَوَاتِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۲۷۶۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٩٧) (ا) ابو قلابہ حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ قنوت صرف فجر اور مغرب کی نماز میں ہے۔ (ب) ایک دوسری روایت میں ہے کہ قنوت مغرب اور فجر کی نماز میں ہوتی ہے۔ (ج) سیدنا ابن عباس (رض) سے بھی اس قصہ میں تمام نمازوں میں منقول ہے۔

3098

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3098

Sahih

(۳۰۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ خَبَّابٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- شَہْرًا مُتَتَابِعًا فِی الظُّہْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ وَالصُّبْحِ فِی دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ۔ فِی الرَّکْعَۃِ الأَخِیرَۃِ یَدْعُو عَلَی حَیٍّ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ عَلَی رِعْلٍ وَذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ وَیُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَہُ وَکَانَ أَرْسَلَ إِلَیْہِمْ یَدْعُوہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ فَقَتَلُوہُمْ۔قَالَ عِکْرِمَۃُ: ہَذَا مِفْتَاحُ الْقُنُوتِ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۱/ ۳۰۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٩٨) سیدنا ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پورا مہینہ ظہر، مغرب، عشا اور فجر کی آخری رکعت میں سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہنے کے بعد قنوت پڑھتے رہے اور قبائل عرب میں سے بنو سلیم کے رعل، ذکوان اور عصیہ کے لیے بددعا کرتے رہے اور مقتدی آمین کہتے اور یہ (شہدا) وہ لوگ تھے جن کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت کے لیے بھیجا تھا تو انھوں نے ان کو قتل کردیا۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ یہاں سے قنوت شروع ہوئی۔

3099

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3099

Sahih

(۳۰۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ الطُّوسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ حَدَّثَنِی عِمْرَانُ بْنُ أَبِی أَنَسٍ عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ خُفَافِ بْنِ إِیمَائٍ الْغِفَارِیِّ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ: ((اللَّہُمَّ الْعَنْ بَنِی لِحْیَانَ وَرِعْلاً وَذَکْوَانَ ، وَعُصَیَّۃَ عَصَوُا اللَّہَ وَرَسُولَہُ ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّہُ لَہَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَہَا اللَّہُ))۔أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۷۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٩٩) خفاف بن ایماء غفاری (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز میں پڑھتے :” اللہم العن۔۔۔“ ” اے اللہ ! بنو لحیان، رعل اور ذکوان پر لعنت بھیج اور عصیہ پر بھی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور بنو غفار کو اللہ معاف کرے اور بنو سالم کو سلامت رکھے۔ “ (٢٩٣) باب تَرْکِ الْقُنُوتِ فِی سَائِرِ الصَّلَوَاتِ غَیْرِ الصُّبْحِ عِنْدَ ارْتِفَاعِ النَّازِلَۃِ وَفِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ لِقَوْمٍ أَوْ عَلَی قَوْمٍ بِأَسْمَائِہِمْ أَوْ قَبَائِلِہِمْ آفت ختم ہونے کے بعد صبح کی نماز کے علاوہ باقی نمازوں میں قنوت چھوڑ دینے کا بیان اور صبح کی نماز میں کسی قوم کے حق میں یا ان کے خلاف ان کے نام یا قبائل کے نام لے کر بددعا کرنے کا بیان

3100

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3100

Sahih

(۳۱۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ: إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی یَحْیَی حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ حَدَّثَنِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَنَتَ فِی صَلاَۃِ الْعَتَمَۃِ فِی الرَّکْعَۃِ الأَخِیرَۃِ بَعْدَ مَا قَالَ: ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ))۔ شَہْرًا یَقُولُ فِی قُنُوتِہِ: ((اللَّہُمَّ نَجِّ الْوَلِیدَ بْنَ الْوَلِیدِ ، اللَّہُمَّ نَجِّ سَلَمَۃَ بْنَ ہِشَامٍ ، اللَّہُمَّ نَجِّ عَیَّاشَ بْنَ أَبِی رَبِیعَۃَ ، اللَّہُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ ، اللَّہُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلَی مُضَرَ ، اللَّہُمَّ اجْعَلْہَا عَلَیْہِمْ سِنِینَ کَسِنِی یُوسُفَ))۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ ہُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی صَلاَۃِ الْعَتَمَۃِ شَہْرًا ، یَقُولُ فِی قُنُوتِہِ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ ، إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکَرْ عَیَّاشَ بْنَ أَبِی رَبِیعَۃَ وَزَادَ فِی آخِرِہِ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ یَوْمٍ فَلَمْ یَدْعُ لَہُمْ ، فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ: وَمَا تَرَاہُمْ قَدْ قَدِمُوا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِہْرَانَ الرَّازِیِّ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، وَذَکَرَ عَیَّاشًا وَقَالَ فِی آخِرِہِ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: ثُمَّ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- تَرَکَ الدُّعَائَ بَعْدُ ، فَقُلْتُ: أَرَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ تَرَکَ الدُّعَائَ لَہُمْ۔ قَالَ فَقِیلَ وَمَا تَرَاہُمْ قَدْ قَدِمُوا۔ [صحیح۔ مضٰی فی الحدیث ۳۰۸۴، اول الباب]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٠٠) (ا) سیدنا ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز کی آخری رکعت میں قنوت پڑھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ( (سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ) ) کہنے کے بعد ایک ماہ تک پڑھتے رہے : ” اللہم نجّ الولید بن الولید۔۔۔“ ” الٰہی ولید بن ولید کو نجات دے۔ الٰہی ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ اے اللہ ! عباس بن ابی ربیعہ کو نجات دے اور کمزور مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ ! کافروں پر اپنی پکڑ سخت کر۔ اے اللہ ! ان پر قحط یوسف کی طرح لمبا عرصہ تک عذاب کو مسلط رکھ۔ (ب) ایک دوسری سند سے اسی کی مثل روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز میں ایک ماہ تک قنوت پڑھی۔۔۔ اس میں انھوں نے عیاش بن ابی ربیع کا ذکر نہیں کیا اور اس کے آخر میں اضافہ کیا ہے کہ ایک روز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے دعا نہیں کی تو میں نے آپ کو یاد دلایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ نے انھیں نہیں دیکھا ، وہ تو کفار سے نجات پا کر آچکے ہیں۔ (ج) امام مسلم نے اپنی صحیح میں یہ روایت بیان کی، مگر انھوں نے عیاش کا ذکر بھی کیا اور اس کے آخر میں ہے کہ ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بعد دعا کرنی چھوڑ دی ہے۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے ان کے لیے دعا کرنی چھوڑ دی ہے۔ آپ نے جواب دیا : کیا تم نے دیکھا نہیں کہ وہ نجات پا کر آچکے ہیں۔

3101

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3101

Sahih

(۳۱۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عِیسَی وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ قَالاَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِہْرَانَ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ فَذَکَرَہُ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرِ الْعَتَمَۃَ وَقَالَ فِی صَلاَتِہِ شَہْرًا إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ۔ یَقُولُ فِی قُنُوتِہِ۔ وَرَوَاہُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ بِمَعْنَی رِوَایَۃِ الأَوْزَاعِیِّ وَفِی آخِرِہِ: لَمْ یَزَلْ یَدْعُو حَتَّی نَجَّاہُمُ اللَّہُ ، ثُمَّ تَرَکَ الدُّعَائَ لَہُمْ ، وَفِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی عَنْ حَرْبٍ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا لَکَ لَمْ تَدْعُ لِلنَّفَرِ؟ قَالَ: ((أَوَمَا عَلِمْتَ أَنَّہُمْ قَدْ قَدِمُوا))۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٠١) (ا) ایک دوسری سند میں ولید بن مسلم نے اسی طرح کی روایت بیان کی مگر انھوں نے عشا کا ذکر نہیں کیا بلکہ فرمایا : آپ کسی نماز میں ایک ماہ تک قنوت پڑھتے رہے، جب ( (سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ) ) کہتے اور پھر اپنی قنوت میں یہ کہتے۔۔۔ (ب) حرب بن شداد نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے اوزاعی کی روایت کے معنیٰ میں روایت نقل کی ہے اور اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل ان کے لیے دعا کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ نے انھیں نجات دے دی۔ پھر آپ نے ان کے لیے دعا کرنا چھوڑ دی۔ حرب سے منقول ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا وجہ ہے کہ اب آپ ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کرتے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہیں پتا نہیں ہے کہ وہ نجات پاچکے ہیں۔

3102

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3102

Sahih

(۳۱۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَنَتَ شَہْرًا یَدْعُو عَلَی أَحْیَائٍ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ ، ثُمَّ تَرَکَہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۷۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٠٢) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی۔ اس میں عرب کے بعض قبائل پر بددعا کرتے تھے پھر اس کو چھوڑ دیا۔

3103

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3103

Sahih

(۳۱۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قُدَامَۃَ یَحْکِی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَہْدِیٍّ فِی حَدِیثِ أَنَسٍ: قَنَتَ شَہْرًا ثُمَّ تَرَکَہُ۔قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَحِمَہُ اللَّہُ: إِنَّمَا تَرَکَ اللَّعْنَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣١٠٣) حضرت انس (رض) سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ماہ قنوت پڑھی ، پھر چھوڑ دی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ آپ نے صرف بددعا کرنی چھوڑی تھی۔