Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 623

نماز کا بیان

جہری قراءت کی کیفیت کا بیان

3 hadiths in this chapter

3070

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3070

Sahih

(۳۰۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- مُتَوَارٍ بِمَکَّۃَ ، فَکَانَ إِذَا صَلَّی رَفَعَ صَوْتَہُ ، فَإِذَا سَمِعَ ذَلِکَ الْمُشْرِکُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ نَزَلَ بِہِ وَمَنْ جَائَ بِہِ ، فَقَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِیِّہِ -ﷺ- {وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا} أَسْمِعْ أَصْحَابَکَ {وَابْتَغِ بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلاً} أَسْمِعْہُمُ الْقُرْآنَ حَتَّی یَأْخُذُوا عَنْکَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ۔ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ وَعَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ ہُشَیْمٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فِی الْحَدِیثِ فَقَالَ اللَّہُ لِنَبِیِّہِ -ﷺ- {وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ} فَیَسْمَعَ الْمُشْرِکُونَ قِرَائَ تَکَ {وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا} عَنْ أَصْحَابِکَ ، أَسْمِعْہُمُ الْقُرْآنَ {وَلاَ تَجْہَرْ} ذَلِکَ الْجَہْرَ {وَابْتَغِ بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلاً} قَالَ یَقُولُ: بَیْنَ الْجَہْرِ وَالْمُخَافَتَۃِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۴۹۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٧٠) (ا) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہ آیت جب نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت مکہ میں چھپ کر عبادت کرتے تھے۔ آپ جب نماز پڑھتے تو اونچی قراءت کرتے۔ جب مشرکوں نے قرآن سنا تو انھوں نے قرآن کو برا بھلا کہا اور قرآن نازل والے اور لے کر آنے والے کو بھی برا بھلا کہا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو فرمایا : { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } [الاعراف : ١١٠] ” کہ اے نبی ! نہ اپنی نماز میں اونچی آواز سے قرات کر اور نہ ہی بالکل آہستہ پڑھ۔ “ یعنی اتنی آواز سے پڑھو کہ صرف اپنے ساتھیوں کو سناؤ۔ { وَابْتَغِ بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلاً } ” اور اس کا کوئی درمیانی راستہ تلاش کریں۔ “ یعنی اتنی آواز سے پڑھو کہ آپ کے ساتھی قرآن سن کر یاد کرلیں۔ (ب) امام مسلم (رح) نے بھی اپنی صحیح میں یہ حدیث اپنی سند سے روایت کی ہے۔ اس کے آخر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو فرمایا : { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ } [الاعراف : ١١٠] ” اور اپنی نماز میں اونچی قراءت نہ کر۔ “ تاکہ مشرکین آپ کی قرات نہ سن لیں { وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } [الاعراف ] ” اور نہ ہی بہت زیادہ آہستہ۔ “ بلکہ اپنے ساتھیوں کو قرآن سناؤ { وَابْتَغِ بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلًا } [الاعراف : ١١٠] ” اور اس کوئی درمیانی راستہ تلاش کر۔ “ یعنی اتنی آواز سے پڑھو کہ آپ کے صحابہ آپ سے سن کر یاد کرلیں۔

3071

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3071

Sahih

(۳۰۷۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ و قد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٧١) ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے۔

3072

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3072

Sahih

(۳۰۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَمِّہِ أَبِی سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَجْہَرُ بِالْقِرَائَ ۃِ فِی الصَّلاَۃِ ، وَأَنَّ قِرَائَ تَہُ کَانَتْ تُسْمَعُ عِنْدَ دَارِ أَبِی جَہْمٍ بِالْبَلاَطِ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ ہُوَ الْبُوشَنْجِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: الْبَلاَطُ مَوْضِعٌ بِالْمَدِینَۃِ قَرِیبٌ مِنَ السُّوقِ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَلَمْ یَکُنْ فِی الْوَقْتِ الَّذِی جَہْرَ فِیہِ عُمَرُ ہَذَا الْجَہْرُ مَا کَانَ فِی وَقْتِ نُزُولِ الآیَۃِ مِنْ خَوْفِ الْمُشْرِکِینَ أَنْ یَنَالُوا مِنْہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک فی الموطا ۱۸۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٧٢) (ا) ابو سہیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب (رض) نماز میں جہری قراءت کیا کرتے تھے اور ان کی قراءت کی آواز ” بلاط “ میں ابو جہم کے گھر کے پاس سنی جاسکتی تھی۔ (ب) ابو عبداللہ بوشنجی بیان کرتے ہیں کہ بلاط مدینہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے جو بازار کے قریب ہے۔ (ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) اس وقت جہری قراءت کرتے تھے جب مشرکین کی طرف سے دخل اندازی کا خوف تھا۔