Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 622

نماز کا بیان

صبح کی نماز میں جہری قراءت کا بیان

3 hadiths in this chapter

3067

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3067

Sahih

(۳۰۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ سَرِیعٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَیْثٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقْرَأُ فِی الْفَجْرِ {وَاللَّیْلِ إِذَا عَسْعَسَ} رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ مِسْعَرٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ الحمیدی ۵۶۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٦٧) عمرو بن حریث (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فجر کی نماز میں { وَاللَّیْلِ إِذَا عَسْعَسَ } [اللیل ] کی قراءت کرتے سنا۔

3068

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3068

Sahih

(۳۰۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی الْجِنِّ وَلاَ رَآہُمْ ، انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی طَائِفَۃٍ مِنْ أَصْحَابِہِ عَامِدِینَ إِلَی سُوقِ عُکَاظٍ ، وَقَدْ حِیلَ بَیْنَ الشَّیَاطِینِ وَبَیْنَ خَبَرِ السَّمَائِ ، وَأُرْسِلَتْ عَلَیْہِمُ الشُّہُبُ ، فَرَجَعَتِ الشَّیَاطِینُ إِلَی قَوْمِہِمْ ، فَقَالُوا: مَا لَکُمْ؟ قَالُوا: حِیلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَ خَبَرِ السَّمَائِ ، وَأُرْسِلَتْ عَلَیْنَا الشُّہُبُ۔قَالُوا: مَا حَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ خَبَرِ السَّمَائِ إِلاَّ شَیْئٌ حَدَثَ ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَہَا ، وَانْظُرُوا مَا ہَذَا الَّذِی حَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ خَبَرِ السَّمَائِ ۔فَانْصَرَفَ أُولَئِکَ الَّذِینَ تَوَجَّہُوا نَحْوَ تِہَامَۃَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ بِنَخْلَۃَ عَامِدِینَ إِلَی سُوقِ عُکَاظٍ ، وَہْوَ یُصَلِّی بِأَصْحَابِہِ صَلاَۃَ الْفَجْرِ ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَہُ وَقَالُوا: وَاللَّہِ ہَذَا الَّذِی حَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ خَبَرِ السَّمَائِ ۔فَہُنَالِکَ حِینَ رَجَعُوا إِلَی قَوْمِہِمْ قَالُوا: یَا قَوْمَنَا {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا یَہْدِی إِلَی الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِہِ وَلَنْ نُشْرِکَ بِرَبِّنَا أَحَدًا} فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی نَبِیِّہِ -ﷺ- {قُلْ أُوحِیَ إِلَیَّ} وَإِنَّمَا أُوحِیَ إِلَیْہِ قَوْلُ الْجِنِّ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۷۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٦٨) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنوں پر نہ قرآن پڑھا اور نہ ہی آپ نے انھیں دیکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ بازارِ عکاظ کی طرف جا رہے تھے۔ ان دنوں شیطانوں کو آسمانوں کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگاروں کی مار ہونے لگی تھی۔ شیاطین اپنی قوم کی طرف لوٹ کر آئے تو انھوں نے پوچھا : کیا خبر ہے ؟ وہ کہنے لگے : آسمانوں کی خبریں ہم سے روک دی گئی ہیں اور ہم پر انگارے برسائے گئے۔ وہ کہنے لگے : یہ جو آسمانوں کی خبریں تم سے روک دی گئی ہیں اس کی وجہ کوئی نئی بات معلوم ہوتی ہے، ذرا زمین کے مشرق ومغرب میں گھوم پھر کر دیکھو کہ کون سی نئی بات ہوئی ؟ جس کی وجہ سے آسمان کی خبریں تم سے روک دی گئیں۔ یہ سن کر وہ چاروں طرف پھیل گئے۔ ان میں سے جو جنات تہامہ کی طرف نکلے تھے۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آپہنچے۔ اس وقت آپ وادی ” نخلہ “ میں تھے اور عکاظ کی منڈی کو جانے کا ارادہ تھا ۔ آپ صحابہ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جب ان جنوں نے قرآن سنا تو کان لگا لیے اور کہنے لگے : اللہ کی قسم ! یہی وہ چیز ہے جو ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان حائل ہوگئی ہے۔ جب وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ کر گئے تو کہنے لگے : {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا یَہْدِی إِلَی الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِہِ وَلَنْ نُشْرِکَ بِرَبِّنَا أَحَدًا } (الجن) ” بھائیو ! ہم ایک عجیب قرآن سن کر آئے ہیں وہ سیدھا راستہ بتاتا ہے، ہم تو اس پر ایمان لائے اور ہرگز اپنے مالک کا کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ “ تب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر سورة جن نازل فرمائی اور لفظ ” أُوحِیَ إِلَیّ “ جن کا قول ہے۔

3069

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3069

Zaeef

(۳۰۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکُنَّا نَتَذَاکَرُ الْعِلْمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ: لاَ تَتَحَدَّثُوا إِلاَّ بِمَا فِی الْقُرْآنِ۔ فَقَالَ لَہُ عِمْرَانُ: إِنَّکَ لأَحْمَقُ أَوَجَدْتَ فِی الْقُرْآنِ صَلُّوا الظُّہْرَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ ، وَالْعَصْرَ أَرْبَعًا لاَ تَجْہَرْ بِالْقِرَائَ ۃِ فِی شَیْئٍ مِنْہَا ، وَالْمَغْرِبَ ثَلاَثًا تَجْہَرُ بِالْقِرَائَ ۃِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ مِنْہَا ، وَلاَ تَجْہَرْ بِالْقِرَائَ ۃِ فِی رَکْعَۃٍ ، وَالْعِشَائَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ تَجْہَرُ بِالْقِرَائَ ۃِ فِی رَکْعَتَیْنِ مِنْہَا ، وَلاَ تَجْہَرْ بِالْقِرَائَ ۃِ فِی رَکْعَتَیْنِ ، وَالْفَجْرَ رَکْعَتَیْنِ تَجْہَرُ فِیہِمَا بِالْقِرَائَ ۃِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ عبدالرزاق ۲۰۴۷۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٦٩) ابو نضرۃ سے روایت ہے کہ ہم عمران بن حصین (رض) کے پاس علمی مذاکرہ کر رہے تھے۔ ایک شخص بولا کہ قرآن کے علاوہ کوئی بات نہ کرو۔ عمران (رض) نے ان سے کہا : تو واقعی بیوقوف اور احمق ہے، کیا تجھے قرآن سے یہ بات ملی ہے کہ ظہر کی چار رکعتیں پڑھو، عصر کی بھی چار پڑھو اور ان میں قراءت اونچی نہ کرو اور مغرب کی تین رکعتیں پڑھو، دو میں جہری قراءت اور ایک میں سری قراءت کرو اور عشا کی چار رکعتیں ادا کرو، دو میں اونچی اور دو میں آہستہ قراءت کرو اور فجر کی دو رکعتیں پڑھو اور دونوں رکعتوں میں اونچی قراءت کرو ؟