Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 618

نماز کا بیان

امام کے پھرنے پر مقتدی کا پھرنا مستحب ہے

2 hadiths in this chapter

3055

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3055

Sahih

(۳۰۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی زِیَادَاتِ الْفَوَائِدِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ ہِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ الْقُرَشِیَّۃِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: کُنَّ النِّسَائُ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا سَلَّمَ مِنَ الْمَکْتُوبَۃِ قُمْنَ ، وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَمَنْ خَلْفَہُ مِنَ الرِّجَالِ ، فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَامَ الرِّجَالُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم ۳۰۴۳۔۳۰۴۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٥٥) ام المومنین ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں جب فرض نماز کا سلام پھرتا تو عورتیں فوراً اٹھ کر نکل جاتیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر مقتدی مرد وہیں بیٹھے رہتے، پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوتے تو دیگر لوگ بھی اٹھ کر کھڑے ہوجاتے۔

3056

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3056

Sahih

(۳۰۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الأَزْدِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- حَضَّہُمْ عَلَی الصَّلاَۃِ ، وَنَہَاہُمْ أَنْ یَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِہِ مِنَ الصَّلاَۃِ۔ وَہَذَا مُخْتَصَرٌ مِنَ الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسٍ فِی النَّہْیِ عَنْ سَبْقِ الْمَأْمُومِ الإِمَامَ بِالرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْقِیَامِ وَالاِنْصِرَافِ۔ وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ أَرَادَ بِالاِنْصِرَافِ الْخُرُوجَ مِنَ الصَّلاَۃِ بِالسَّلاَمِ ، وَیُحْتَمَلُ غَیْرُہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔(ت) وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ التَّکْبِیرُ ، وَانْقِضَاؤُہَا التَّسْلِیمُ ، إِذَا سَلَّمَ الإِمَامُ فَقُمْ إِنْ شِئْتَ۔ [صحیح۔ اصل الحدیث عند مسلم بغیر ہا اللفظ وقد تقدم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٥٦) (ا) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں نماز پر خوب ابھارا (اور امام سے مراد آپ (علیہ السلام) خود ہیں) سے پہلے نماز سے پھرنے سے منع فرماتے تھے۔ (ب) یہ اس حدیث کا مختصرحصہ ہے جو علی بن مسہر سے مختار بن فلفل کے واسطے سے ثابت ہے اور وہ سیدنا انس (رض) سے مقتدی کے امام سے رکوع، سجود، قیام اور پھرنے میں پہل کرنے کی ممانعت کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔ (ج) اور یہاں پر یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ نماز سے انصراف وخروج سے ان کی مراد سلام ہو اور اس کے علاوہ کوئی اور بھی احتمال ہوسکتا ہے۔ واللہ اعلم اور ہمیں عبداللہ بن مسعود (رض) کے حواے سے روایت بھی بیان کی گئی۔ وہ فرماتے ہیں : نماز کی چابی (شروع کرنا) تکبیر یعنی اللہ اکبر کہنا ہے اور اس کا خاتمہ سلام ہے یعنی السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہنا ہے۔ جب امام سلام پھیرے اگر تو چاہے تو کھڑا ہوجا۔