Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 617

نماز کا بیان

امام جب مسجد میں نفل نماز پڑھنا چاہے تو اس کو چاہیے کہ اپنی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ ادا کرے

12 hadiths in this chapter

3043

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3043

Zaeef

(۳۰۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَۃَ: الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا عَطَائٌ الْخُرَاسَانِیُّ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یُصَلِّی الإِمَامُ فِی الْمَوْضِعِ الَّذِی صَلَّی فِیہِ حَتَّی یَتَحَوَّلَ))۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: عَطَائٌ الْخُرَاسَانِیُّ لَمْ یُدْرِکِ الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٤٣) حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام اس جگہ پر نفل نماز نہ پڑھے جہاں اس نے فرض نماز پڑھی ہو بلکہ اپنی جگہ تبدیل کرلے۔

3044

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3044

Zaeef

(۳۰۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا أَرَادَ أَحَدُکُمْ أَنْ یَتَطَوَّعَ بَعْدَ الْفَرِیضَۃِ فَلْیَتَقَدَّمْ أَوْ لِیَسْتَأَخِّرْ ، أَوْ عَنْ یَمِینِہِ أَوْ عَنْ شِمَالِہِ))۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٤٤) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی فرض نماز ادا کرنے کے بعد نفل نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو وہ وہاں سے تھوڑا آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہو کر نماز پڑھے۔

3045

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3045

Zaeef

(۳۰۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ لَیْثٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((أَیَعْجِزُ أَحَدُکُمْ إِذَا صَلَّی فَأَرَادَ أَنْ یَتَطَوَّعَ أَنْ یَتَقَدَّمَ أَوْ یَتَأَخَّرَ ، أَوْ یَتَحَوَّلَ عَنْ یَمِینِہِ أَوْ عَنْ یَسَارِہِ))۔ وَرَوَاہُ جَرِیرٌ عَنْ لَیْثٍ عَنْ حَجَّاجِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ أَوْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَصَحُّ ، وَاللَّیْثُ یَضْطَرِبُ فِیہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَہُوَ لَیْثُ بْنُ أَبِی سُلَیْمٍ یَتَفَرَّدُ بِہِ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٤٥) (ا) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے کہ وہ فرض نماز ادا کرنے کے بعد نفل نماز پڑھنے کے لیے اس جگہ سے تھوڑا آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہونے سے عاجز ہو ؟

3046

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3046

Sahih

(۳۰۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَیْرٍ الْخُلْدِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَۃَ حَدَّثَنَا الْمِنْہَالُ بْنُ خَلِیفَۃَ عَنِ الأَزْرَقِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: صَلَّی بِنَا إِمَامٌ لَنَا یُکْنَی أَبَا رِمْثَۃَ قَالَ: صَلَّیْتُ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ أَوْ مِثْلَ ہَذِہِ الصَّلاَۃِ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُومَانِ فِی الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ یَمِینِہِ ، وَکَانَ رَجُلٌ قَدْ شَہِدَ التَّکْبِیرَۃَ الأُولَی مِنَ الصَّلاَۃِ ، فَصَلَّی نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ یَمِینِہِ ، وَعَنْ یَسَارِہِ حَتَّی رَأَیْنَا بَیَاضَ خَدَّیْہِ، ثُمَّ انْفَتَلَ کَانْفِتَالِ أَبِی رِمْثَۃَ یَعْنِی نَفْسَہُ ، فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِی أَدْرَکَ مَعَہُ التَّکْبِیرَۃَ الأُولَی مِنَ الصَّلاَۃِ یَشْفَعُ فَوَثَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ ، فَأَخَذَ بِمَنْکَبَیْہِ فَہَزَّہُ ، ثُمَّ قَالَ: اجْلِسْ فَإِنَّہُ لَمْ یُہْلِکْ أَہْلُ الْکِتَابِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ بَیْنَ صَلاَتِہِمْ فَصْلٌ۔فَرَفَعَ النَّبِیُّ -ﷺ- بَصَرَہُ فَقَالَ: ((أَصَابَ اللَّہُ بِکَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ))۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَۃَ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَدْ قِیلَ مَکَانَ أَبِی رِمْثَۃَ أَبُو أُمَیَّۃَ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَہَذَا إِنْ ثَبَتَ یَجْمَعُ الإِمَامَ وَالْمَأْمُومَ ، وَکَذَلِکَ حَدِیثُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، وَفِی ہَذَا الْبَابِ حَدِیثٌ ہُوَ أَصَحُّ مِنْ جَمِیعِ مَا ذَکَرْنَاہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۱۰۰۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٤٦) (ا) ازرق بن قیس بیان کرتے ہیں کہ ہمارے امام ابو رمثہ (رض) نے ہمیں نماز پڑھائی اور فرمایا : میں نے اسی طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی۔ ابوبکر اور عمر (رض) آپ کی داہنی طرف پہلی صف میں کھڑے تھے۔ ایک اور شخص بھی تھا جو تکبیر اولیٰ میں شامل ہوا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے اپنی داہنی اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ ہم نے آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھی، پھر آپ کھڑے ہوگئے، جیسے میں (ابو رمثہ) کھڑا ہوا۔ پھر وہ تکبیر اولیٰ میں شامل ہونے والا شخص کھڑا ہو کر دوسری (نفل) نماز پڑھنے لگا تو حضرت عمر (رض) تیزی سے اس کی طرف بڑھے اور اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ کر فرمایا : بیٹھ جاؤ۔ کیونکہ اہل کتاب صرف اسی لیے ہلاک ہوئے کہ وہ فرض نمازوں اور نفل نمازوں میں کچھ وقفہ نہیں کرتے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! اللہ تعالیٰ نے تجھے درست بات کہنے کی توفیق دی۔ (ب) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : اگر یہ حدیث ثابت ہو تو امام اور مقتدی کا اس بارے میں ایک ہی حکم ہوگا۔ اسی طرح ابوہریرہ (رض) کی حدیث ہے اور اس باب میں یہی حدیث سب سے صحیح ہے۔

3047

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3047

Sahih

(۳۰۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ عَطَائِ بْنِ أَبِی الْخُوَارِ: أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَیْرٍ أَرْسَلَہُ إِلَی السَّائِبِ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ یَسْأَلُہُ عَنْ شَیْئٍ رَآہُ مِنْہُ مُعَاوِیَۃُ فِی الصَّلاَۃِ ، فَقَالَ: نَعَمْ صَلَّیْتُ مَعَہُ الْجُمُعَۃَ فِی الْمَقْصُورَۃِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ الإِمَامُ قُمْتُ فِی مَقَامِی فَصَلَّیْتُ ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَیَّ فَقَالَ: لاَ تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ ، إِذَا صَلَّیْتَ الْجُمُعَۃَ فَلاَ تَصِلْہَا بِصَلاَۃٍ حَتَّی تَتَکَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَنَا بِذَلِکَ أَنْ لاَ نُوصِلَ صَلاَۃً حَتَّی نَتَکَلَّمَ أَوْ نَخْرُجَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ بِہَذَا اللَّفْظِ۔ وَرَوَاہُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ بِمَعْنَاہُ وَقَالَ فِی آخِرِہِ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَ بِذَلِکَ وَقَالَ: ((لاَ تُوصَلُ صَلاَۃٌ بِصَلاَۃٍ حَتَّی تَخْرُجَ أَوْ تَتَکَلَّمَ))۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۵۵۳۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٤٧) (ا) عمر بن عطا بن ابی خوار بیان کرتے ہیں کہ نافع بن جبیر نے انھیں سائب بن اخت نمر کی طرف بھیجا کہ وہ ان سے اس چیز کے بارے میں پوچھیں جو انھوں نے دورانِ نماز معاویہ (رض) میں دیکھی۔ انھوں نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے ان کے ساتھ مقصورہ کے مقام پر جمعہ کی نماز ادا کی، جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اپنی جگہ کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔ جب وہ تشریف لائے تو میری طرف پیغام بھیجا اور فرمایا : یہ جو تم نے کیا ہے دوبارہ مت کرنا۔ جب تم جمعہ کی نماز پڑھو تو اس کے ساتھ اس وقت کوئی نماز نہ ملاؤ حتیٰ کہ تم بات کرلو یا جگہ تبدیل کرلو۔ اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں کا حکم دیا ہے کہ ہم فرض نماز کے بعد نفل نماز اس وقت تک نہ پڑھیں جب تک کہ کوئی بات کرلیں یا اس جگہ کو چھوڑ دیں۔ (ب) عبدالرزاق نے ابن جریج سے اسی جیسی روایت بیان کی ہے، اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا : فرض نماز کے بعد نفل نماز نہ پڑھی جائے جب تک کہ بات وغیرہ نہ کرلی جائے یا جگہ بدل لی جائے۔

3048

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3048

Sahih

(۳۰۴۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: فَلَمَّا سَلَّمْتُ قُمْتُ وَلَمْ یَذْکُرِ الإِمَامَ۔ وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ تَجْمَعُ الْجُمُعَۃَ وَغَیْرَہَا حَیْثُ قَالَ: لاَ تُوصَلُ صَلاَۃٌ بِصَلاَۃٍ۔ وَتَجْمَعُ الإِمَامَ وَالْمَأْمُومَ۔وَقَدْ ذَکَرَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی رِوَایَۃِ الْمُزَنِیِّ عَنْ عَبْدِ الْمَجِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ہَذِہِ الرِّوَایَۃَ وَقَدْ نَقَلْتُہَا مَعَ أَثَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَقَوْلِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الإِمْلاَئِ فِی کِتَابِ الْجُمُعَۃِ مِنَ الْمَبْسُوطِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٤٨) (ا) ابن جریج ایک دوسری سند سے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں مگر اس کے آخر میں ہے کہ جب میں نے سلام پھیرا تو میں کھڑا ہوگیا، انھوں نے امام کا ذکر نہیں کیا۔ (ب) یہ روایت جمعہ وغیرہ کو شامل ہے جس طرح آپ کا فرمان کہ فرض نماز کے ساتھ نفل نماز کو نہ ملایا جائے امام اور مقتدی دونوں کو شامل ہے۔ امام شافعی (رح) نے امام مزنی (رح) سے منقول روایت میں اس کا ذکر کیا ہے کہ میں نے اس کو ابن عباس (رض) کے اثر سے نقل کیا ہے۔ امام شافعی (رح) کا یہ قول مبسوط کی کتاب الجمعہ میں موجود ہے۔

3049

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3049

Zaeef

(۳۰۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو: عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ السَّمَّاکُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ: إِنَّ مِنَ السُّنَّۃِ إِذَا سَلَّمَ الإِمَامُ أَنْ لاَ یَقُومَ مِنْ مَوْضِعِہِ الَّذِی صَلَّی فِیہِ یُصَلِّی تَطَوُّعًا حَتَّی یَنْحَرِفَ أَوْ یَتَحَوَّلَ أَوْ یَفْصِلَ بِکَلاَمٍ۔ وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ مَیْسَرَۃَ بْنِ حَبِیبٍ عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: لاَ یَصْلُحُ لِلإِمَامِ ، وَفِی رِوَایَۃٍ لاَ یَنْبَغِی لِلإِمَامِ۔ وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی ذَلِکَ وَقَالَ: فَلْیَتَقَدَّمْ أَوْ لِیُکَلِّمْ أَحَدًا۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٤٩) (ا) عباد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ جب امام سلام پھیرے تو اپنی جگہ پر نفل پڑھنے کے لیے کھڑا نہ ہو بلکہ رخ بدل لے اور پھر جائے یا بات وغیرہ کرلے۔ (ب) ثوری نے بھی یہ روایت بیان کی ہے مگر اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا : امام کے لیے ایسا کرنا درست نہیں ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ امام کو یہ زیب نہیں دیتا۔ (ج) اور ہمیں ابن عباس (رض) کے واسطے سے اس بارے میں روایت بیان کی گئی ہے کہ امام تھوڑا آگے پیچھے ہوجائے یا کسی سے بات کرلے۔

3050

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3050

Sahih

(۳۰۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا الْقَاضِی أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ خُرَّزَاذَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ یَعْنِی الشَّافِعِیَّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: مَنْ صَلَّی الْفَرِیضَۃَ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یُصَلِّیَ بَعْدَہَا فَلْیَتَقَدَّمْ أَوْ لِیُکَلِّمْ أَحَدًا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٥٠) عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے فرمایا : جس نے فرض نماز ادا کی، پھر اس کے بعد نفل نماز پڑھنا چاہاتو وہ تھوڑا آگے پیچھے ہوجائے یا کسی سے بات چیت کرلے۔

3051

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3051

Zaeef

(۳۰۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ قَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَفَعَ رَجُلاً عَنْ مَقَامِہِ الَّذِی صَلَّی فِیہِ الْمَکْتُوبَۃَ وَقَالَ: إِنَّمَا دَفَعْتُکَ لِتَقَدَّمَ أَوْ تَأَخَّرَ۔ وَرُوِیَ عَنْہُ بِمَعْنَاہُ فِی الْجُمُعَۃِ۔ [ضعیف۔ التاریخ الکبیر ۲۹۹۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٥١) عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو ایک آدمی کوا س کی جائے نماز سے دھکیلتے دیکھا۔ آپ (رض) نے فرمایا : میں نے اس کو صرف اس لیے دھکیلا تاکہ وہ آگے پیچھے ہوجائے۔

3052

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3052

Zaeef

(۳۰۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا صَلَّی تَحَوَّلَ مِنْ مَقَامِہِ الَّذِی صَلَّی فِیہِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٥٢) حفص بن غیاث بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر (رض) جب نماز پڑھتے تو اپنی جائے نماز سے ہٹ جاتے۔

3053

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3053

Sahih

(۳۰۵۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُصَلِّی سُبْحَتَہُ فِی مَقَامِہِ الَّذِی صَلَّی فِیہِ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ شُعْبَۃُ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ وَکَأَنَّہُ کَانَ یَفْصِلُ بَیْنَہُمَا بِکَلاَمٍ أَوِ انْحِرَافٍ أَوْ فِعْلِ مَا یَجُوزُ فِعْلُہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٥٣) (ا) نافع روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) اپنی نفل نماز اسی جگہ ادا کرلیا کرتے جہاں آپ نے فرض نماز ادا کی ہوتی۔ (ب) شاید آپ ان دونوں نمازوں کے درمیان کلام کرلیتے یا رخ وغیرہ پھیر لیتے یا کسی ایسے کام کے ساتھ فاصلہ کردیتے جو جائز ہوتا۔

3054

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3054

Sahih

(۳۰۵۴) وَکَذَلِکَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا فُرَاتُ بْنُ أَحْنَفَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرٍ الْہِلاَلِیِّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَتَطَوَّعَ الرَّجُلُ مَکَانَہُ أَوْ رَآہُ فَعَلَہُ۔شَکَّ عَلِیٌّ۔ وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ فَرَّقَ فِی ذَلِکَ بَیْنَ الإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ ، فَکَرِہَہُ لِلإِمَامِ دُونَ الْمَأْمُومِ ، وَإِسْنَادُہُ غَیْرُ قَوِیٍّ۔ [صحیح۔ التاریخ الکبیر ۱۰۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٥٤) (ا) حضرت ابن مسعود (رض) سے منقول ہے کہ وہ اس بات میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے کہ آدمی اسی جگہ نفل نماز پڑھے۔ اگرچہ وہ کسی کو اس طرح کرتے دیکھ بھی لیں ۔ حضرت علی (رض) کو شک ہے۔ (ب) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ وہ اس مسئلہ میں امام اور مقتدی کے درمیان فرق کرتے تھے اور امام کے لیے اس طرح کرنا مکروہ خیال کرتے تھے جبکہ مقتدی کے لیے جواز کے قائل تھے۔ اس کی اسناد قوی نہیں ہیں۔