Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 612

نماز کا بیان

امام کا تعلیم کی غرض سے بلند آواز میں ذکر کرنا جائز ہے امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلند آواز سے ” لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ “ پڑھنے سے متعلق ابن زبیر اور ابن عباس (رض) کی روایات کے بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ آپ بلند آواز سے پڑھتے تھے تاکہ لوگ آپ سے سیکھ

6 hadiths in this chapter

3013

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3013

Sahih

(۳۰۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَائَ صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِالتَّکْبِیرِ۔ قَالَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ ثُمَّ ذَکَرْتُہُ لأَبِی مَعْبَدٍ بَعْدُ فَقَالَ: لَمْ أُحَدِّثْکَ بِہِ۔(ج) قَالَ عَمْرٌو: وَقَدْ حَدَّثَنِیہِ وَکَانَ مِنْ أَصْدَقِ مَوَالِی ابْنِ عَبَّاسٍ۔قَالَ الشَّافِعِیُّ: کَأَنَّہُ نَسِیَہُ بَعْدَ مَا حَدَّثَہُ إِیَّاہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۴۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠١٣) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کے ختم ہونے کو تکبیر سے پہچانتا تھا۔ عمرو بن دینار (رح) کہتے ہیں : میں نے یہ حدیث ابو معبد کے سامنے ذکر کی تو انھوں نے فرمایا : میں نے تمہیں یہ حدیث بیان نہیں کی۔ عمرو کہتے ہیں : انھوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی اور وہ ابن عباس (رض) کے غلاموں میں سب سے سچے تھے۔ (ب) امام شافعی (رح) کہتے ہیں : وہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد بھول گئے ہوں گے۔

3014

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3014

Sahih

(۳۰۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَلِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ أَخْبَرَنِی أَبُو مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَائَ صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِالتَّکْبِیرِ۔ قَالَ عَمْرٌو: ثُمَّ أَنْکَرَہُ أَبُو مَعْبَدٍ قَالَ عَمْرٌو: وَقَدْ أَخْبَرَنِیہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ (ت) وَرَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرٍو۔ صحیح، وقد تقدم فی الذی قبلہ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠١٤) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کے ختم ہونے کو آپ کے تکبیر کہنے سے پہچان لیتا تھا۔

3015

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3015

Sahih

(۳۰۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَنْبَارِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِالْوَہَّابِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ کَانَ یُہَلِّلُ فِی دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ یَقُولُ: لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ ، وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ، لاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِیَّاہُ، لَہُ النِّعْمَۃُ وَلَہُ الْفَضْلُ، وَلَہُ الثَّنَائُ الْحَسَنُ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ، مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ وَلَوْکَرِہَ الْکَافِرُونَ۔ ثُمَّ یَقُولُ ابْنُ الزُّبَیْرِ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُہَلِّلُ بِہِنَّ دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ وَحَجَّاجٌ الصَّوَّافُ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ سَمِعَ ابْنَ الزُّبَیْرِ یَذْکُرُہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۴/۴/۱۶۲۰۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠١٥) ابو زبیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر (رض) ہر نماز کے بعد ” لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ “ ” اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت اللہ ہی کی طرف ہے۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے، اسی کے لیے نعمت ہے اور اسی کے لیے فضیلت اور اچھی تعریف ہے۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہم اپنی عبادت اسی کے لیے خالص کرتے ہیں خواہ کافروں کو برا لگے۔ (ب) پھر ابن زبیر (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔

3016

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3016

Sahih

(۳۰۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیُّ قَالَ قُتَیْبَۃُ حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَی الْمُغِیرَۃِ قَالَ کَتَبَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ إِلَی مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّہُ -ﷺ- کَانَ یَقُولُ فِی دُبُرِ صَلاَتِہِ إِذَا سَلَّمَ: ((لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمَلْکُ ، وَلَہُ الْحَمْدُ ، وَہْوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ، اللَّہُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ ، وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۳۳۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠١٦) مغیرہ بن شعبہ (رض) کے غلام وراد بیان کرتے ہیں کہ آپ (رض) نے سیدنا معاویہ بن سفیان (رض) کو خط لکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز سے سلام پھیرتے تو یہ کلمات کہتے ” لا الہ الا اللہ۔۔۔“ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں بادشاہت اور تعریف اسی کے لیے ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ الٰہی ! تو جو کچھ عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک لے تو اسے کوئی عطا نہیں کرسکتا اور کسی کا غنی ہونا تیرے ہاں کچھ نفع بخش نہیں ہوسکتا (تیرے ہاں تو صرف اعمال کی اہمیت ہے) ۔

3017

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3017

Sahih

(۳۰۱۷) وَحَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ سُعَیْرٍ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ وَالْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ وَرَّادٍ قَالَ: أَمْلَی الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ کِتَابًا إِلَی مُعَاوِیَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ إِذَا قَضَی صَلاَتَہُ قَالَ ، فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ لَفْظًا وَاحِدًا۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ وَمَنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ وَعَبْدَۃَ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠١٧) وراد بیان کرتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ (رض) نے معاویہ (رض) کی طرف خط لکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنی نماز مکمل کرتے تو کہتے۔

3018

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3018

Sahih

(۳۰۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَمِّہِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی صَلاَتِہِ قَالَ: وَإِذَا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِہِ فَسَلَّمَ قَالَ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ)) وَرَوَاہُ یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ عَنْ أَبِیہِ الْمَاجِشُونِ بِإِسْنَادِہِ وَذَکَرَ ہَذَا الدُّعَائَ بَیْنَ التَّشَہُّدِ وَالتَّسْلِیمِ وَکِلاَہُمَا مُخَرَّجٌ فِی کِتَابِ مُسْلِمٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۱۵۰۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠١٨) (ا) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز سے فارغ ہوتے تو کہتے : ” اللہم اغفرلی ماقدمت۔۔۔ ” الٰہی ! میرے اگلے پچھلے، پوشیدہ اور اعلانیہ تمام گناہ اور جو میں نے زیادتی کی جسے آپ ہی خوب جاننے والے ہیں وہ تمام معاف فرما دے۔ تو ہی آگے کرنے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ “ (ب) یہ حدیث یوسف بن یعقوب نے اپنی سند کے ساتھ اپنے والد سے روایت کی ہے اور انھوں نے اس دعا کو تشہد اور سلام کے درمیان بیان کیا ہے۔ یہ دونوں روایتیں صحیح مسلم میں بھی ہیں۔