Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 611

نماز کا بیان

اذکار آہستہ آواز میں پڑھنے کا امام و مقتدی کو اختیار ہے امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } [الاسراء : ١١٠] ” نماز نہ بہت بلند آواز سے پڑھ اور نہ بالکل آہستہ آواز سے۔ “ امام شافعی (رح) اس سے دعا

5 hadiths in this chapter

3008

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3008

Sahih

(۳۰۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی قَوْلِہِ {وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا} [الاسراء: ۱۱۰] قَالَتْ: ہُوَ الدُّعَائُ ۔ [صحیح۔ الاثر اخرجہ البخاری ۶۳۲۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٠٨) سیدہ عائشہ (رض) سے اللہ تعالیٰ کے فرمان :{ وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } [الاسراء : ١١٠] ” اپنی نماز نہ تو بہت آواز سے پڑھ اور نہ بالکل پوشیدہ “ کے بارے میں منقول ہے کہ اس سے مراد دعا ہے۔

3009

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3009

Sahih

(۳۰۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ الْہَبَّارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: نَزَلَتْ یَعْنِی ہَذِہِ الآیَۃُ {وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا} [الاسراء: ۱۱۰] فِی الدُّعَائِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ وَکَذَلِکَ قَالَہُ مُجَاہِدٌ فِی الدُّعَائِ وَالْمَسْأَلَۃِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠٠٩) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ یہ آیت : { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } [الاسراء : ١١٠] دعا کے بارے میں نازل ہوئی ۔ (ب) اسی طرح مجاہد کا قول ہے کہ یہ دعا مانگنے کے بارے میں نازل ہوئی۔

3010

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3010

Zaeef

(۳۰۱۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ {وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا}[الاسراء: ۱۱۰] قَالَ: کَانَ الرَّجُلُ إِذَا دَعَا فِی الصَّلاَۃِ رَفَعَ صَوْتَہُ۔کَذَا فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ وَلَیْسَتْ بِقَوِیَّۃٍ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠١٠) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے فرمان : { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } [الاسراء : ١١٠] ” کہ اپنی نماز کو نہ بہت اونچی آواز سے پڑھ اور نہ ہی بالکل آہستہ آواز سے۔ “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک آدمی جب دعا کرتا تھا تو اپنی آواز بہت بلند کرتا تھا جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

3011

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3011

Sahih

(۳۰۱۱) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا} [الاسراء: ۱۱۰] قَالَ: نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُتَوَارٍ بِمَکَّۃَ ، وَکَانَ إِذَا رَفَعَ صَوْتَہُ سَمِعَ الْمُشْرِکُونَ ذَلِکَ فَیَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَہُ ، وَمَنْ جَائَ بِہِ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی {وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ} [الاسراء: ۱۱۰] حَتَّی یَسْمَعَ الْمُشْرِکُونَ {وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا} [الاسراء: ۱۱۰] عَنْ أَصْحَابِکَ فَلاَ تُسْمِعُہُمْ {وَابْتَغِ بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلاً} [الاسراء: ۱۱۰] أَسْمِعْہُمْ {وَلاَ تَجْہَرْ} [الاسراء: ۱۱۰] حَتَّی یَأْخُذُوا عَنْکَ الْقُرْآنَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ وَغَیْرِہِ عَنْ ہُشَیْمٍ۔ وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الْجَمِیعُ مُرَادًا بِالآیَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۷۲۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠١١) (ا) سیدنا ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ آیت { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } [الاسراء : ١١٠] اس وقت اتری جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں روپوش تھے اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں اپنی آواز اونچی کرتے تو مشرکین سن لیتے اور قرآن کو، اس کے نازل کرنے والے اور لے کر آنے والے سب کو برا بھلا کہتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ } [الاسراء : ١١٠] اپنی آواز کو اپنی نماز میں زیادہ اونچا نہ کرو، حتیٰ کہ مشرکین سن لیں { وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } [الاسراء : ١١٠] اور اس کو اتنا آہستہ بھی نہ پڑھو کہ اپنے ساتھی سے بھی نہ سن سکیں { وَابْتَغِ بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلاً } [الاسراء : ١١٠] ” بلکہ آپ معتدل راستہ اختیار کریں۔ آپ ان کو سنائیں اور آواز اونچی نہ کریں تاکہ وہ آپ سے قرآن لے لیں۔ (ب) یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تمام اس آیت سے مراد ہوں۔

3012

Sunan Al Kubra Bayhaqi #3012

Sahih

(۳۰۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ قَالَ: لَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حُنَیْنًا - أَوْ قَالَ لَمَّا تَوَجَّہَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی حُنَیْنٍ - أَشْرَفَ النَّاسُ عَلَی وَادٍ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَہُمْ بِالتَّکْبِیرِ: اللَّہُ أَکْبَرُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ ، إِنَّکُمْ لاَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا ، إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِیعًا قَرِیبًا وَہُوَ مَعَکُمْ))۔قَالَ: وَأَنَا خَلْفَ رَایَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَسَمِعَنِی وَأَنَا أَقُولُ: لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ فَقَالَ: ((یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ قَیْسٍ))۔فَقُلْتُ: لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔فَقَالَ: ((أَلاَ أَدُلُّکَ عَلَی کَلِمَۃٍ مِنْ کَنْزِ الْجَنَّۃِ؟))۔قُلْتُ: بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی۔قَالَ: ((لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ عَاصِمٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۲۰۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٣٠١٢) سیدنا ابو موسیٰ اشعری (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ حنین کے لیے روانہ ہوئے تو لوگ ٹیلوں پر چڑھ کر اونچی اونچی آواز سے تکبیر کہنے لگے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! اپنی تسبیحات وتکبیرات کو آہستہ پڑھو، تم کسی بہرے یا گونگے کو نہیں پکار رہے بلکہ تم ایک سننے والے اور قریب کو پکار رہے ہو۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے تھا اور کہہ رہا تھا :ؒ ” لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ “ تو آپ نے فرمایا : اے عبداللہ بن قیس ! میں نے کہا : جی ہاں ! اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : کیا میں تجھے کوئی ایسا کلمہ نہ بتادوں جو جنت کے خزانوں سے ہے ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ضرور بتائیں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ جنت کے خزانوں میں سے ہے۔