Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 582

نماز کا بیان

تشہد سے پہلے بسم اللہ کے جائز یا مستحب ہونے کا بیان

8 hadiths in this chapter

2829

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2829

Zaeef

(۲۸۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَیْمَنُ بْنُ نَابِلٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعَلِّمُنَا التَّشَہُّدَ: بِسْمِ اللَّہِ وَبِاللَّہِ ، التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ، أَسْأَلُ اللَّہَ الْجَنَّۃَ ، وَأَعُوذُ بِہِ مِنَ النَّارِ ۔ [منکر۔ اخرجہ ابن ماجہ ۹۰۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٢٩) سیدنا جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں تشہد سکھاتے تھے : بِسْمِ اللَّہِ وَبِاللَّہِ ، التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ، أَسْأَلُ اللَّہَ الْجَنَّۃَ ، وَأَعُوذُ بِہِ مِنَ النَّارِ ” اللہ کے نام کے ساتھ اور اس کی مدد و توفیق کے ساتھ، تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے پناہ مانگتا ہوں۔ “

2830

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2830

Zaeef

(۲۸۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا أَیْمَنُ بْنُ نَابِلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ وَزَادَ: کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ وَقَالَ: التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلَّہِ ۔ وَقَالَ فِی آخِرِہِ: نَسْأَلُ اللَّہَ الْجَنَّۃَ ، وَنَعُوذُ بِہِ مِنَ النَّارِ ۔ تَفَرَّدَ بِہِ أَیْمَنُ بْنُ نَابِلٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ۔ قَالَ أَبُو عِیسَی: سَأَلْتُ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ: ہُوَ خَطَأٌ ، وَالصَّوَابُ مَا رَوَاہُ اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَطَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ وَہَکَذَا رَوَاہُ عَبْدُ الرَّحَمْنِ بْنُ حُمَیْدٍ الرُّؤَاسِیُّ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ مِثْلَ مَا رَوَی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ۔ وَرُوِیَ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتِینِ عَنْ عُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔ [منکر۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٣٠) (ا) ایک دوسری سند سے اسی طرح کی حدیث منقول ہے۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ جس طرح ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے اور انھوں نے کہا : ’ ’ التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلَّہِ “ اور اس کے آخر میں انھوں نے فرمایا : نَسْأَلُ اللَّہَ الْجَنَّۃَ ، وَنَعُوذُ بِہِ مِنَ النَّارِ ۔ ” ہم اللہ سے جنت کا سوال کرتے ہیں اور اس کے ذریعے آگ سے پناہ مانگتے ہیں۔ “ (ب) امام ابو عیسیٰ ترمذی کہتے ہیں کہ میں نے امام بخاری (رح) سے اس حدیث کے بارے پوچھا تو انھوں نے فرمایا : یہ غلط ہے۔

2831

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2831

Zaeef

(۲۸۳۱) أَمَّا الرِّوَایَۃُ فِیہِ عَنْ عُمَرَ فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِیُّ بِمَکَّۃَ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُعَلِّمُ النَّاسَ التَّشَہُّدَ فِی الصَّلاَۃِ ، وَہُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ عَلَی مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَیَقُولُ: إِذَا تَشَہَّدَ أَحَدُکُمْ فَلْیَقُلْ: بِسْمِ اللَّہِ خَیْرِ الأَسْمَائِ، التَّحِیَّاتُ الزَّاکِیَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلَّہِ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: ابْدَئُ وا بِأَنْفُسِکُمْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَسَلِّمُوا عَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ۔ وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ عَنْ عُمَرَ وَذَکَرَ فِیہِ التَّسْمِیَۃَ وَزَادَ: وَقَدَّمَ وَأَخَّرَ۔ وَذَلِکَ یَرِدُ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٣١) سیدنا ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھے تو اس طرح پڑھے : بِسْمِ اللَّہِ خَیْرِ الأَسْمَائِ ، التَّحِیَّاتُ ۔۔۔ ” اللہ تعالیٰ کے نام ساتھ جو سب سے بہترین نام ہے۔ تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، اے نبی ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ “ عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اپنے آپ پر سلام بھیجو، پھر اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام بھیجو۔ “

2832

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2832

Sahih

(۲۸۳۲) وَأَمَّا الرِّوَایَۃُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَتَشَہَّدُ فَیَقُولُ: بِسْمِ اللَّہِ ، التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ الزَّاکِیَاتُ لِلَّہِ ، السَّلاَمُ عَلَی النَّبِیِّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، شَہِدْتُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، شَہِدْتُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ۔ یَقُولُ ہَذَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ وَیَدْعُو إِذَا قَضَی تَشَہُّدَہُ بِمَا بَدَا لَہُ ، فَإِذَا جَلَسَ فِی آخِرِ صَلاَتِہِ تَشَہَّدَ کَذَلِکَ أَیْضًا إِلاَّ أَنَّہُ یُقَدِّمُ التَّشَہُّدَ ، ثُمَّ یَدْعُو بِمَا بَدَا لَہُ ، فَإِذَا قَضَی تَشَہُّدَہُ وَأَرَادَ أَنْ یُسَلِّمَ قَالَ: السَّلاَمُ عَلَی النَّبِیِّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عَبَّادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ عَلَی یَمِینِہِ ، ثُمَّ یَرُدُّ عَلَی الإِمَامِ ، فَإِنْ سَلَّمَ عَلَیْہِ أَحَدٌ عَنْ یَسَارِہِ رَدَّ عَلَیْہِ۔ [صحیح۔ موقوف علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٣٢) نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) تشہد میں یہ پڑھتے : بسم اللہ التحیات۔۔۔ ” اللہ کے نام کے ساتھ، تمام قولی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر سلامتی ہو اور اللہ کے نیکو کار بندوں پر سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ “ یہ وہ پہلی دو رکعتوں میں پڑھتے تھے اور جب تشہد پورا کرتے تو دعا کرتے۔۔۔ پھر جب آپ نماز کی آخری رکعت میں (قعدہ) کے لیے بیٹھتے تو اسی طرح کرتے مگر تشہد کو مقدم کرتے، پھر اللہ کے نام کے ساتھ دعا کرتے۔ جب تشہد مکمل کرلیتے اور سلام پھیرنا چاہتے تو کہتے : السلام علی النبی ورحمۃ۔۔۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں بھی ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو۔ پھر دائیں طرف مڑ کر کہتے : السلام علیکم پھر امام کو سلام کرتے ۔ اگر ان کے بائیں طرف سے کوئی سلام کہتا تو اس کو جواب دیتے۔

2833

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2833

Zaeef

(۲۸۳۳) وَأَمَّا الرِّوَایَۃُ فِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَحَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ یَقُولُ فِی التَّشَہُّدِ فِی الصَّلاَۃِ فِی وَسَطِہَا وَفِی آخِرِہَا قَوْلاً وَاحِدًا: بِسْمِ اللَّہِ ، التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ الصَّلَوَاتُ لِلَّہِ الزَّاکِیَاتُ لِلَّہِ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ۔ وَیَعُدُّہُ لَنَا بِیَدِہِ عَدَدَ الْعَرَبِ۔ وَرُوِیَ عَنِ الْحَارِثِ الأَعْوَرِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٣٣) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں تشہد کے آخر یا درمیان میں یہی پڑھتے تھے : ” بسم اللہ التحیات۔۔۔“ ” اللہ کے نام کے ساتھ ابتدا ہے، تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں سب اللہ کے لیے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اے نبی ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر۔ آپ اس کو ہمارے لیے اپنے ہاتھ کے ساتھ عرب کی تعداد کے برابر شمار کر رہے تھے۔

2834

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2834

Zaeef

(۲۸۳۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ الْفَقِیہُ بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ إِسْرَائِیلَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ کَانَ إِذَا تَشَہَّدَ قَالَ: بِسْمِ اللَّہِ۔ وَرُوِیَ عَنْ وَکِیعٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ: أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ إِذَا تَشَہَّدَ قَالَ: بِسْمِ اللَّہِ وَبِاللَّہِ۔ (ج) وَالْحَارِثُ لاَ یُحْتَجُّ بِمِثْلِہِ۔ وَالرِّوَایَۃُ الْمَوْصُولَۃُ الْمَشْہُورَۃُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِیِّ عَنْ عُمَرَ لَیْسَ فِیہَا ذِکْرُ التَّسْمِیَۃِ۔ وَکَذَلِکَ الرِّوَایَۃُ الصَّحِیحَۃُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ وَیَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَۃَ لَیْسَ فِیہَا ذِکْرُ التَّسْمِیَۃِ ، إِلاَّ مَا تَفَرَّدَ بِہَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ۔ وَأَمَّا الرِّوَایَۃُ فِیہَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَہِیَ وَإِنْ کَانَتْ صَحِیحَۃً ، فَیُحْتَمَلُ أَنْ تَکُونَ زِیَادَۃً مِنْ جِہَۃِ ابْنِ عُمَرَ ، فَقَدْ رُوِّینَا عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- حَدِیثَ التَّشَہُّدِ لَیْسَ فِیہِ ذِکْرُ التَّسْمِیَۃِ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَقَدْ رَوَی ثَابِتُ بْنُ زُہَیْرٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ کِلاَہُمَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی التَّسْمِیَۃِ قَبْلَ التَّحِیَّۃِ۔ (ج) وَثَابِتُ بْنُ زُہَیْرٍ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ ضَعِیفٌ۔ وَالصَّحِیحُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفٌ کَمَا رُوِّینَا۔ وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ سَمِعَ رَجُلاً یَقُولُ بِسْمِ اللَّہِ التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ فَانْتَہَرَہُ۔ ضعیف۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٣٤) (ا) سیدنا علی سے منقول ہے کہ وہ جب تشہد میں بیٹھتے تو بسم اللہ پڑھتے۔ (ب) ایک دوسری روایت میں ہے جو حارث سے منقول ہے کہ سیدنا علی (رض) جب تشہد میں ہوتے تو پڑھتے : بسم اللہ وباللّٰہ۔ (ج) حضرت عروہ سے ایک موصول روایت بھی ہے ، لیکن اس میں بسم اللہ کا ذکر نہیں۔ (د) ابن عمر اور سیدہ عائشہ (رض) سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشہد سے پہلے بسم اللہ پڑھتے تھے۔ (ہ) ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو سنا، وہ پڑھ رہا تھا : بسم اللہ التحیات۔۔۔ تو ابن عباس نے اس کو ڈانٹ پلائی۔

2835

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2835

Sahih

(۲۸۳۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَّانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُعْشُمٍ عَنْ سُفْیَانَ ہُوَ الثَّوْرِیُّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا رَجُلاً حِینَ جَلَسَ فِی الصَّلاَۃِ یَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّہِ قَبْلَ التَّشَہُّدِ۔ فَانْتَہَرَہُ وَقَالَ: ابْدَأْ بِالتَّشَہُّدِ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۳۰۵۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٣٥) ابوعالیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے ایک شخص کو نماز میں تشہد کے شروع میں الحمدللہ پڑھتے ہوئے سنا تو آپ (رض) نے جھڑک کر کہا : تشہد التحیات سے شروع کرو۔

2836

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2836

Sahih

(۲۸۳۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَأَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالاَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ قُلْتُ لإِبْرَاہِیمَ: أَقُولُ فِی التَّشَہُّدِ بِسْمِ اللَّہِ؟ قَالَ: قُلِ التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ۔ قَالَ قُلْتُ: أَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّہِ؟ قَالَ: قُلِ التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ۔ قَالَ: وَکَانَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ یَقُولُ إِذَا تَشَہَّدَ: بِسْمِ اللَّہِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الرُّوذْبَارِیِّ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٣٦) (ا) حماد فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے کہا : میں تشہد میں بسم اللہ کہہ لیا کروں ؟ تو انھوں نے فرمایا : التحیات پڑھا کرو۔ حماد کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : الحمد للہ کہہ لوں ؟ انھوں نے فرمایا : ” التحیات للہ “ کہا کرو۔ (ب) حماد کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر (رض) جب تشہد پڑھتے تو بسم اللہ بھی پڑھتے تھے۔