Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 581

نماز کا بیان

تشہد کی ابتدا صرف ” التحیات “ سے ہی کی جائے

2 hadiths in this chapter

2827

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2827

Sahih

(۲۸۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ہُوَ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ یُونُسَ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ: أَنَّ أَبَا مُوسَی صَلَّی بِالنَّاسِ ، فَلَمَّا قَعَدَ قَالَ رَجُلٌ: أُقِرَّتِ الصَّلاَۃُ بِالْبِرِّ وَالزَّکَاۃِ۔ قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ أَبُو مُوسَی قَالَ: أَیُّکُمُ الْقَائِلُ کَلِمَۃَ کَذَا وَکَذَا ، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ، ثُمَّ قَالَ: أَیُّکُمُ الْقَائِلُ کَلِمَۃَ کَذَا وَکَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ أَبُو مُوسَی: یَا حِطَّانُ لَعَلَّکَ قَائِلُہَا؟ قُلْتُ: وَاللَّہِ مَا قُلْتُہَا ، وَلَقَدْ خَشِیتُ أَنْ تَبْکَعَنِی بِہَا۔ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنَا قَائِلُہَا وَمَا أَرَدْتُ بِہَا إِلاَّ الْخَیْرَ۔ فَقَالَ أَبُو مُوسَی: أَمَا تَدْرُونَ کَیْفَ تُصَلُّونَ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا صَلاَتَنَا ، وَبَیَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا فَقَالَ: ((إِذَا صَلَّیْتُمْ فَأَقِیمُوا صُفُوفَکُمْ ، فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا ، وَإِذَا قَالَ {غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ} فَقُولُوا آمِینَ یُجِبْکُمُ اللَّہُ ، وَإِذَا کَبَّرَ وَرَکَعَ فَکَبِّرُوا وَارْکَعُوا ، فَإِنَّ الإِمَامَ یُکَبِّرُ قَبْلَکُمْ وَیَرْفَعُ قَبْلَکُمْ))۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((فَتِلْکَ بِتِلْکَ ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ، فَإِذَا کَانَ عِنْدَ الْقُعُودِ فَلْیَقُلْ أَوَّلَ مَا یَتَکَلَّمُ بِہِ التَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الزَّاکِیَاتُ لِلَّہِ ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاہَوَیْہِ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۱۹۰۱۷، ۱۹۰۹۸، ۱۹۱۳۰۔ ابوداود ۹۷۲۔ مسلم ۴۰۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٢٧) حطان بن عبداللہ رقاشی نے بیان کیا کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری (رض) نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ (نماز کے آخر میں) بیٹھے تو ایک شخص نے کہا : نماز نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ ثابت ہے۔ جب ابوموسیٰ اشعری (رض) نے نماز سے سلام پھیرا تو پوچھا کہ تم میں سے یہ کلمات کس نے کہے تھے ؟ تمام لوگ خاموش رہے۔ انھوں نے پھر دریافت کیا کہ یہ کلمات کس نے کہے تھے ؟ پھر بھی کسی نے جواب نہ دیا۔ تو خود ہی کہنے لگے : اے حطان ! شاید تم نے یہ کلمات کہے ہیں ؟ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے یہ کلمہ نہیں کہا، لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ مجھے اس وجہ سے سزا نہ دیں ۔ تب ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا : یہ کلمات میں نے کہے ہیں اور میری نیت درست تھی تو ابو موسیٰ نے کہا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم کس طرح نماز پڑھتے ہو ؟ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطاب فرمایا، ہمیں وضاحت سے سنت کی تعلیم دی اور ہمیں نماز سکھائی اور فرمایا : جب تم نماز پڑھنے لگو تو صفوں کو سیدھا کرلو۔ جب امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ } پڑھے تو تم آمین کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول فرمائے گا اور جب امام تکبیر کہہ کر رکوع کرے تو تم بھی تکبیر کہہ کر رکوع کرو۔ امام تم سے پہلے تکبیر کہے اور تم سے پہلے اٹھے ۔ پس یہ اس کا بدل ہے (یعنی جتنا وقت پہلے رکوع کرتا ہے اتنا وقت رکوع سے پہلے اٹھتا ہے) اور جب امام ” سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ “ کہے تو تم ” رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ “ کہو، جب وہ بیٹھے تو سب سے پہلے یہ کہے : ” التَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الزَّاکِیَاتُ لِلَّہِ ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِیْنَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ” تمام قولی، مالی اور بہترین عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ سلامتی ہو آپ پر اے نبی ! اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہو۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ “

2828

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2828

Sahih

(۲۸۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ یُونُسَ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الرَّقَاشِیِّ: أَنَّ الأَشْعَرِیَّ صَلَّی بِأَصْحَابِہِ صَلاَۃً ، فَلَمَّا جَلَسَ فِی صَلاَتِہِ قَالَ رَجُلٌ خَلْفَہُ: أُقِرَّتِ الصَّلاَۃُ بِالْبِرِّ وَالزَّکَاۃِ۔ فَلَمَّا قَضَی الأَشْعَرِیُّ صَلاَتَہُ قَالَ: أَیُّکُمُ الْقَائِلُ کَلِمَۃَ کَذَا وَکَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ لِی: یَا حِطَّانُ لَعَلَّکَ قُلْتَہَا؟ قُلْتُ: مَا قُلْتَہَا ، وَلَقَدْ رَہِبْتُ أَنْ تَبْکَعَنِی بِہَا۔ قَالَ الأَشْعَرِیُّ: أَمَا تَعْلَمُونَ مَا تَقُولُونَ فِی صَلاَتِکُمْ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا ، وَبَیَّنَ لَنَا صَلاَتَنَا فَقَالَ: ((أَقِیمُوا صُفُوفَکُمْ ، ثُمَّ لْیَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ ، فَإِذَا کَبَّرَ الإِمَامُ فَکَبِّرُوا ، وَإِذَا قَرَأَ {غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ} فَقُولُوا آمِینَ یُجِبْکُمُ اللَّہُ ، وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا ، فَإِنَّ الإِمَامَ یَرْکَعُ قَبْلَکُمْ وَیَرْفَعُ قَبْلَکُمْ ۔ قَالَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- : فَتِلْکَ بِتِلْکَ ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُولُوا اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ یَسْمَعِ اللَّہُ لَکُمْ ، فَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَلَی لِسَانِ نَبِیِّہِ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، فَإِذَا کَبَّرَ وَسَجَدَ فَکَبِّرُوا وَاسْجُدُوا ، فَإِنَّ الإِمَامَ یَسْجُدُ قَبْلَکُمْ وَیَرْفَعُ قَبْلَکُمْ ۔ قَالَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- : فَتِلْکَ بِتِلْکَ ، فَإِذَا کَانَ عِنْدَ الْقَعْدَۃِ فَلْیَکُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدُکُمْ: التَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّہِ ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ وَسَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ وَأَبِی عَوَانَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ بِہَذَا اللَّفْظِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ: فَإِنَّ اللَّہَ قَالَ عَلَی لِسَانِ نَبِیِّہِ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ۔ إِلاَّ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عَوَانَۃَ وَذَکَرَہُ أَیْضًا فِی رِوَایَۃِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، وَلَیْسَ فِیمَا رُوِّینَا مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٢٨) (ا) حطان بن عبداللہ رقاشی فرماتے ہیں کہ ابو موسیٰ اشعری (رض) نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، جب آپ نماز میں بیٹھے تو ایک آدمی نے کہا : نماز نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ ثابت ہے۔ جب سیدنا ابوموسیٰ (رض) نے نماز مکمل کی تو فرمایا : یہ کلمات کس نے کہے تھے ؟ سب لوگ خاموش ہوگئے تو انھوں نے مجھے کہا کہ اے حطان ! لگتا ہے تم نے کہے ہیں، میں نے کہا کہ میں نے تو نہیں کہے اور میں ڈر گیا کہ کہیں آپ مجھے اس کی وجہ سے سزا نہ دیں، پھر سیدنا ابو اموسیٰ اشعری (رض) نے کہا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم نماز میں کیا پڑھتے ہو ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطاب فرمایا، آپ نے ہمیں سنتیں سکھائیں اور ہمارے لیے نماز کی تعلیم فرمائی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صفوں کو سیدھا کرو پھر تم میں سے ایک امامت کروائے، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب امام { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ } [الفاتحہ : ٧] کہے تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو ؛کیونکہ امام رکوع بھی تم سے پہلے کرتا ہے اور اٹھتا بھی تم سے پہلے ہے، یہ اس کا بدل ہے (یعنی جتنا وقت پہلے رکوع کرتا ہے اتنا وقت وہ رکوع سے پہلے اٹھتا ہے) اور جب امام ” سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ “ کہے تو تم ” رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ “ کہو، اللہ تمہاری دعا قبول کرلے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے یہ کہلوایا ہے ” سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ “۔ جب وہ تکبیر کہہ کر سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو ، کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے اور تم سے پہلے اٹھتا ہے۔ یہ اس کا بدل ہے، جب وہ آخر میں ہو تو تم میں سب سے پہلے امام کہے : التحیات۔۔۔ ” تمام قولی، مالی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، اے نبی ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ (ب) امام مسلم (رح) کی روایت میں یہ قول نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی کہلوایا : ” سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ۔۔۔“