Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 583

نماز کا بیان

تشہد میں شہادتین کو سلام پر مقدم کرنے کا بیان

7 hadiths in this chapter

2837

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2837

Zaeef

(۲۸۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی ابْنُ شِہَابٍ الزُّہْرِیُّ وَہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ کِلاَہُمَا حَدَّثَنِی عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ وَکَانَ عَامِلاً لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَلَی بَیْتِ الْمَالِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُعَلِّمُ النَّاسَ التَّشَہُّدَ فِی الصَّلاَۃِ وَہُوَ عَلَی مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: أَیُّہَا النَّاسَ إِذَا جَلَسَ أَحَدُکُمْ لِیُسَلِّمَ مِنْ صَلاَتِہِ أَوْ یَتَشَہَّدَ فِی وَسَطِہَا ، فَلْیَقُلْ بِسْمِ اللَّہِ خَیْرِ الأَسْمَائِ ، التَّحِیَّاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ الْمُبَارَکَاتُ لِلَّہِ أَرْبَعٌ ، أَیُّہَا النَّاسُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ، التَّشَہُّدُ أَیُّہَا النَّاسُ قَبْلَ السَّلاَمِ ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، وَلاَ یَقُولُ أَحَدُکُمُ السَّلاَمُ عَلَی جِبْرِیلَ ، السَّلاَمُ عَلَی مِیکَائِیلَ السَّلاَمُ عَلَی مَلاَئِکَۃِ اللَّہِ ، إِذَا قَالَ السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ فَقَدْ سَلَّمَ عَلَی کُلِّ عَبْدٍ لِلَّہِ صَالِحٍ فِی السَّمَوَاتِ أَوْ فِی الأَرْضِ ثُمَّ لِیُسَلِّمْ۔ وَلَمْ یَخْتَلِفْ حَدِیثُ ابْنِ شِہَابٍ وَلاَ حَدِیثُ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ إِلاَّ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ قَالَ: الزَّاکِیَاتُ۔ وَقَالَ ہِشَامٌ: الْمُبَارَکَاتُ ۔ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَلاَ أُرَی إِلاَّ أَنَّ ہِشَامًا کَانَ أَحْفَظَہُمَا لِلُزُومِہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ: کَذَا رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ۔ وَرَوَاہُ مَالِکٌ وَمَعْمَرٌ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ لَمْ یَذْکُرُوا فِیہِ التَّسْمِیَۃَ وَقَدَّمُوا کَلِمَتَیِ التَّسْلِیمِ عَلَی کَلِمَتَیِ الشَّہَادَۃِ ، وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٣٧) عبدالرحمن بن عبدالقاری (عمر بن خطاب (رض) کی طرف سے بیت المال پر عامل مقرر تھے) فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) کو سنا، آپ لوگوں کو نماز میں تشہد سکھا رہے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منبر پر تشریف فرما تھے۔ آپ فرما رہے تھے : اے لوگو ! جب تم میں سے کوئی اپنی نماز کے آخری تشہد یا درمیانی تشہد میں بیٹھے تو وہ کہے : ” بسم اللہ خیر الاسمآء۔۔۔“ ” اللہ کے نام کے ساتھ جو سب ناموں سے بہترین نام ہے، تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادات اللہ ہی کے لیے ہیں۔ “ اے لوگو ! ” میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ “ اے لوگو ! تشہد سلام سے پہلے ہے ۔” اے نبی ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ ہم پر اور تمام اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ “ تم میں سے کوئی ” السلام علی جبرائیل ۔۔۔“ ” جبرائیل پر سلام ہو، میکائیل پر سلام ہو، اللہ کے فرشتوں پر سلام ہو “ نہ کہے۔ جب آدمی ” السلام علینا وعلی عباد اللّٰہ الصالحین “ کہتا ہے تو گویا اس نے اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام بھیجا چاہے وہ زمین میں ہوں یا آسمانوں میں ہوں “ پھر اس کے بعد سلام پھیرے۔

2838

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2838

Sahih

(۲۸۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ حَدَّثَہُمْ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ: أَنَّہُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُعَلِّمُ النَّاسَ التَّشَہُّدَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَیَقُولُ: قُولُوا التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ ، الزَّاکِیَاتُ لِلَّہِ ، الطَّیِّبَاتُ لِلَّہِ ، الصَّلَوَاتُ لِلَّہِ ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ ، وَفِی حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ وَہُوَ یُعَلِّمُ النَّاسَ التَّشَہُّدَ وَقَالَ: الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّہِ۔ وَالْبَاقِی سَوَاء ٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٣٨) (ا) عبدالرحمن بن عبدالقاری سے منقول ہے کہ انھوں نے منبر رسول پر سیدنا عمر بن خطاب (رض) کو فرماتے ہوئے سنا، آپ لوگوں کو تشہد سکھا رہے تھے، آپ فرما رہے تھے : کہو ” التحیات للہ الزاکیات۔۔۔ ” تمام زبانی، مالی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکات ہوں، ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ “ یہ ابن وہب کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ (ب) اور امام شافعی (رح) کی روایت میں ہے کہ انھوں نے عمر بن خطاب (رض) کو منبر کے اوپر لوگوں کو تشہد سکھاتے ہوئے سنا آپ (رض) نے فرمایا : ” الطیبات الصلوات للّٰہ۔۔۔“ باقی اسی طرح ہے۔

2839

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2839

Sahih

(۲۸۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ قَالَ: شَہِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَی الْمِنْبَرِ یُعَلِّمُ النَّاسَ التَّشَہُّدَ فَقَالَ: التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ ، الزَّاکِیَاتُ لِلَّہِ ، الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلَّہِ ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔ قَالَ مَعْمَرٌ: کَانَ الزُّہْرِیُّ یَأْخُذُ بِہِ وَیَقُولُ: عَلَّمَہُ النَّاسَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مُتَوَافِرُونَ لاَ یُنْکِرُونَہُ۔ قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَنَا آخُذُ بِہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَقَدْ رُوِیَ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَقْدِیمُ کَلِمَتَیِ الشَّہَادَۃِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٣٩) (ا) عبدالرحمن بن عبدالقاری فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ منبر رسول پر لوگوں کو تشہد سکھا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : التحیات ۔۔۔ ” تمام قولی ، فعلی اور مالی عبادات اللہ کے لیے ہیں، اے نبی ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ “ (ب) زہری سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) منبر رسول پر لوگوں کو تشہد سکھلا رہے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ بڑی تعداد میں موجود تھے، لیکن صحابہ آپ (رض) کی کسی بات کا انکار نہیں کر رہے تھے۔ (ج) امام بیہقی فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) سے منقول دو روایتوں میں سے ایک میں شہادت کے کلمات، سلام سے مقدم ہیں۔

2840

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2840

Sahih

(۲۸۴۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہَا کَانَتْ تَقُولُ إِذَا تَشَہَّدَتْ: التَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ ، الصَّلَوَاتُ الزَّاکِیَاتُ لِلَّہِ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٤٠) زوجہ رسول ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) سے منقول ہے کہ آپ جب تشہد میں بیٹھتی تھیں تو یہ پڑھتی تھیں : ” التحیات۔۔۔“ ” تمام قولی، مالی اور بدنی عبادات اور تسبیحات اللہ کے لیے ہیں، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اے نبی ! آپ پر سلام ہو اور اس کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو تم پر۔ “

2841

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2841

Sahih

(۲۸۴۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ: وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ۔ وَرُوِّینَا عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَقْدِیمَ کَلِمَتَیِ التَّسْلِیمِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٤١) ایک اور سند سے یہ حدیث سیدہ عائشہ (رض) سے منقول ہے مگر اس میں ” وحدہ لا شریک لہ “ کا ذکر نہیں ہے۔ اور سیدہ عائشہ (رض) سے سلام کے کلمات کو مقدم کرنے کی روایت گزر چکی ہے۔

2842

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2842

Sahih

(۲۸۴۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ: الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ یَقُولُ: کَانَتْ عَائِشَۃُ تُعَلِّمُنَا التَّشَہُّدَ وَتُشِیرُ بِیَدِہَا تَقُولُ: التَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ الزَّاکِیَّاتُ لِلَّہِ ، السَّلاَمُ عَلَی النَّبِیِّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عَبَّادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ثُمَّ یَدْعُو الإِنْسَانَ لِنَفْسِہِ بَعْدُ۔ وَرُوِیَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ مَرْفُوعًا وَالصَّحِیحُ مَوْقُوفٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٤٢) یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا کہ سیدہ عائشہ (رض) ہمیں تشہد سکھایا کرتی تھیں اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہتی تھیں : التحیات۔۔۔ ” تمام قولی، مالی، فعلی عبادات اور تسبیحات اللہ کے لیے ہیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ “ پھر فرماتی : اس کے بعد اپنے لیے دعا مانگو۔

2843

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2843

Zaeef

(۲۸۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنِ مَطَرٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلاَّدٍ حَدَّثَنِی صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارُ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: عَلَّمَتْنِی عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ ہَذَا تَشَہُّدُ النَّبِیِّ -ﷺ-: التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عَبَّادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ قُلْتُ: بِسْمِ اللَّہِ۔ فَقَالَ الْقَاسِمُ: بِسْمِ اللَّہِ کُلَّ سَاعَۃٍ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٨٤٣) قاسم فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ یہ ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تشہد : التحیات۔۔۔ تمام زبانی ، بدنی اور مالی عبادات سب کی سب کا سزاوار اللہ ہے، اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر سلامتی ہو اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ محمد کہتے ہیں : میں نے کہا ” بسم اللہ ؟ “ تو قاسم نے کہا کہ بسم اللہ تو ہر وقت ہوتی ہے۔