Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 555

نماز کا بیان

نماز میں اقعاء مکروہ کا بیان

5 hadiths in this chapter

2739

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2739

Sahih

(۲۷۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الإِقْعَائِ فِی الصَّلاَۃِ۔ خَالَفَہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ۔ [حسن لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٧٣٩) حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں اقعا کرنے سے منع فرمایا ہے۔

2740

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2740

Sahih

(۲۷۴۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَّانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا السَّالَحِینِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَہَی عَنِ الإِقْعَائِ وَالتَّوَرُّکِ فِی الصَّلاَۃِ۔ تَفَرَّدَ بِہِ یَحْیَی بْنُ إِسْحَاقَ السَّیْلَحِینِیُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ۔ وَقَدْ قِیلَ عَنْہُ عَنْ حَمَّادٍ وَبَحْرِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ وَالرِّوَایَۃُ الأُولَی أَصَحُّ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٧٤٠) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں اقعاء اور تورک کرنے سے منع فرمایا ہے۔

2741

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2741

Sahih

ٖ(۲۷۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ النَّیْسَابُورِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ لَیْثٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: أَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِثَلاَثٍ ، وَنَہَانِی عَنْ ثَلاَثٍ ، أَمَرَنِی بِصِیَامِ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ، وَأَنْ لاَ أَنَامَ إِلاَّ عَلَی وِتْرٍ ، وَرَکْعَتَیِ الضُّحَی ، وَنَہَانِی عَنْ الاِلْتِفَاتِ فِی صَلاَتِی الْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ ، أَوْ أُقْعِیَ إِقْعَائَ الْقِرْدِ ، أَوْ أَنْقُرَ نَقْرَ الدِّیکِ۔ [حسن۔ تقدمت لہ شواہد فی رقم ۲۷۲۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٧٤١) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین باتوں کا حکم دیا ہے اور تین باتوں کاموں سے منع کیا ہے : آپ نے مجھے ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اور وتر پڑھ کر سونے اور چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا ہے اور مجھے نماز میں بھیڑیے کی طرح جھانکنے، بندر کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے سے منع کیا ہے۔

2742

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2742

Zaeef

(۲۷۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا عَلِیُّ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ: وَلاَ تُقْعِ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ))۔ الْحَارِثُ الأَعْوَرُ لاَیُحْتَجُّ بِہِ وَکَذَلِکَ لَیْثُ بْنُ أَبِی سُلَیْمٍ۔ وَحَدِیثُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ صَحِیحٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٧٤٢) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی !۔۔۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا : دو سجدوں کے درمیان اقعاء نہ کرنا۔

2743

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2743

Sahih

(۲۷۴۳) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ أَنَّہُ حَکَی عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ أَنَّہُ قَالَ: الإِقْعَائُ ہُوَ أَنْ یَلْصَقَ أَلْیَتَیْہِ بِالأَرْضِ ، وَیَنْتَصِبَ عَلَی سَاقَیْہِ ، وَیَضَعَ یَدَیْہِ بِالأَرْضِ۔ وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ: الإِقْعَائُ جُلُوسُ الإِنْسَانِ عَلَی أَلْیَتَیْہِ نَاصِبًا فَخِذَیْہِ مِثْلَ إِقْعَائِ الْکَلْبِ وَالسَّبُعِ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا النَّوْعُ مِنَ الإِقْعَائِ غَیْرُ مَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ ، وَہَذَا مَنْہِیٌّ عَنْہُ ، وَمَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ مَسْنُونٌ ، وَأَمَّا حَدِیثُ أَبِی الْجَوْزَائِ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہُ کَانَ یَنْہَی عَنْ عَقِبِ الشَّیْطَانِ ، وَکَانَ یَفْرِشُ رِجْلَہُ الْیُسْرَی ، وَیَنْصِبُ رِجْلَہُ الْیُمْنَی ، فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ وَارِدًا فِی الْجُلُوسِ لِلتَّشَہُدِّ الأَخِیرِ فَلاَ یَکُونُ مُنَافِیًا لِمَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ فِی الْجُلُوسِ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٧٤٣) (ا) ابوعبیدہ سے منقول ہے کہ اقعاء کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی سرین کو زمین پر رکھ لے، اپنی پنڈلیوں کو کھڑا کرلے اور اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھ لے۔ (ب) ایک دوسرے مقام پر اس کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ انسان کا اپنی سرین پر اس طرح بیٹھنا کہ (درندے اور کتے کی طرح) اس کی رانیں کھڑی ہو۔ (ج) شیخ امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ اقعاء کی یہ قسم وہ نہیں ہے جو ہم عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر (رض) کی روایات میں نقل کرچکے ہیں بلکہ یہاں پر جو اقعاء ہے اس سے منع کیا گیا ہے اور جو ابن عباس اور ابن عمر (رض) سے منقول روایات میں ہے۔ وہ مسنون ہے۔ رہی بات ابوجوزا کی حدیث کی جو وہ عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شیطان کی چوکڑی سے منع کرتے تھے اور آپ اپنی بائیں ٹانگ کو بچھاتے اور دائیں ٹانگ کو کھڑا رکھتے تو اس میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ آپ آخری تشہد میں ہوں تو یہ ان روایتوں کے منافی نہیں ہے جو ہم ابن عباس اور ابن عمر (رض) سے دو سجدوں کے درمیان جلسہ کے بارے میں ذکر کرچکے ہیں۔ واللہ اعلم