Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 537

نماز کا بیان

دورانِ نماز کپڑوں یا بالوں کو سمیٹنا اور جوڑا باندھ کر نماز پڑھنا درست نہیں

4 hadiths in this chapter

2677

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2677

Sahih

(۲۶۷۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُمِرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَسْجُدَ عَلَی سَبْعَۃِ أَعْظُمٍ ، وَلاَ یَکُفَّ ثَوْبًا وَلاَ شَعَرًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم ۲۶۴۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٦٧٧) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سات ہڈیوں یعنی سات اعضا پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ کہ کوئی اپنے کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز نہ سمیٹے۔

2678

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2678

Sahih

(۲۶۷۸) وَحَدَّثَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: عَلَی سَبْعٍ ، وَأَنْ لاَ یَکُفَّ ثَوْبًا وَلاَ شَعْرًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ قَبِیصَۃَ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٦٧٨) ایک دوسری سند سے بھی اسی جیسی حدیث منقول ہے مگر اس میں سبعۃ اعظم کی جگہ علی سبع کے الفاظ ہیں۔

2679

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2679

Sahih

(۲۶۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَیْرًا حَدَّثَہُ أَنَّ کُرَیْبًا مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَہُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْحَارِثِ یُصَلِّی وَرَأْسُہُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِہِ ، فَقَامَ وَرَائَہُ فَجَعَلَ یَحُلُّہُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَا لَکَ وَرَأْسِی؟ قَالَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((إِنَّمَا مَثَلُ ہَذَا مَثَلُ الَّذِی یُصَلِّی وَہُوَ مَکْتُوفٌ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۴۹۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٦٧٩) سیدنا ابن عباس (رض) کے غلام کریب فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس (رض) نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، انھوں نے اپنے سر کے بالوں کو پچھلی طرف اکٹھا کر کے باندھا ہوا تھا۔ آپ (رض) اس کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور اس کے بالوں کو کھولنا شروع کردیا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابن عباس (رض) کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے : آپ کو میرے سر سے کیا سروکار ؟ انھوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ستر کھول کر نماز پڑھے۔

2680

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2680

Sahih

(۲۶۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ لِی ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیُّ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّہُ رَأَی أَبَا رَافِعٍ مَوْلَی النَّبِیِّ -ﷺ- مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ ، وَحَسَنٌ یُصَلِّی قَائِمًا قَدْ غَرَزَ ضَفْرَتَہُ فِی قَفَاہُ ، فَحَلَّہُمَا أَبُو رَافِعٍ ، فَالْتَفَتَ حَسَنٌ إِلَیْہِ مُغْضَبًا ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: أَقْبِلْ عَلَی صَلاَتِکَ وَلاَ تَغْضَبْ ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((ذَلِکَ کِفْلُ الشَّیْطَانِ)) ۔ یَقُولُ مَقْعَدَ الشَّیْطَانِ یَعْنِی مَغْرِزَ ضَفْرَتِہِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَفِی حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ سَعِیدٍ وَقَالَ: ہُوَ کِفْلُ الشَّیْطَانِ ۔ یَعْنِی مَقْعَدَ الشَّیْطَانِ۔ وَرُوِّینَا فِی کَرَاہِیَۃِ ذَلِکَ عَنْ عُمَرَ وَعَلِیٍّ وَحُذَیْفَۃَ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔ [ضعیف۔ اخرجہ عبدالرزاق ۲۹۹۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٦٨٠) (ا) سعید بن ابو سعید مقبری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ابو رافع (رض) کو حسن بن علی (رض) کے پاس سے گزرتے دیکھا۔ آپ (رض) نماز ادا کر رہے تھے۔ آپ نے زلفوں کی مینڈھیاں بنا کر گردن کے پیچھے ڈال رکھی تھیں۔ ابورافع (رض) نے وہ مینڈھیاں کھول دیں۔ حضرت حسن (رض) غصہ کے عالم میں ان کی طرف مڑے تو ابورافع (رض) نے کہا : اپنی نماز جاری رکھوغصہ نہ کرو۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ یہ بالوں کی مینڈھیاں شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہیں، یعنی مینڈھیوں کا جوڑا بنانا منع ہے۔ (ب) عبدالرزاق کی حدیث میں ہے میں ہے کہ آپ (رض) نے فرمایا : یہ شیطان کی بیٹھنے کی جگہ ہیں ۔ (ج) جوڑے کی کراہت کے بارے میں حضرت عمر، علی، حذیفہ اور عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایات گزر چکی ہیں۔