Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 487

نماز کا بیان

اس بات کی دلیل کا بیان کہ صحابہ (رض) کے مصاحف میں جو کچھ بھی جمع ہوا وہ سارا قرآن ہے اور اس میں سورة توبہ کے علاوہ ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے

11 hadiths in this chapter

2372

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2372

Sahih

(۲۳۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا أَبُو ثَابِتٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: بَعَثَ إِلَیَّ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَقْتَلَ أَہْلِ الْیَمَامَۃِ وَعِنْدَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِی فَقَالَ: إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ یَوْمَ الْیَمَامَۃِ بِقُرَّائِ الْقُرْآنِ ، وَإِنِّی أَخْشَی أَنْ یَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِقُرَّائِ الْقُرْآنِ فِی الْمَوَاطِنِ کُلِّہَا ، فَیَذْہَبَ قُرْآنٌ کَثِیرٌ ، وَإِنِّی أَرَی أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ۔ قُلْتُ: کَیْفَ أَفْعَلُ شَیْئًا لَمْ یَفْعَلْہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَالَ عُمَرُ: ہُوَ وَاللَّہِ خَیْرٌ۔ فَلَمْ یَزَلْ عُمَرُ یُرَاجِعُنِی فِی ذَلِکَ حَتَّی شَرَحَ اللَّہُ صَدْرِی لِلَّذِی شَرَحَ لَہُ صَدْرَ عُمَرُ ، وَرَأَیْتُ فِی ذَلِکَ الَّذِی رَأَی عُمَرُ۔ قَالَ زَیْدٌ قَالَ أَبُو بَکْرٍ: وَإِنَّکَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لاَ نَتَّہِمُکَ ، قَدْ کُنْتَ تَکْتُبُ الْوَحْیَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْہُ۔ قَالَ زَیْدٌ: فَوَاللَّہِ لَوْ کَلَّفَنِی نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا کَانَ بِأَثْقَلَ عَلَیَّ مِمَّا کَلَّفَنِی مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ۔ قُلْتُ: کَیْفَ تَفْعَلاَنِ شَیْئًا لَمْ یَفْعَلْہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ أَبُو بَکْرٍ: ہُوَ وَاللَّہِ خَیْرٌ۔ فَلَمْ یَزَلْ یُرَاجِعُنِی فِی ذَلِکَ حَتَّی شَرَحَ اللَّہُ صَدْرِی لِلَّذِی شَرَحَ لَہُ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ، وَرَأَیْتُ فِی ذَلِکَ الَّذِی رَأْیًا - قَالَ - فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُہُ مِنَ الْعُسُبِ وَالرِّقَاعِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ ، فَوَجَدْتُ آخِرَ سُورَۃِ التَّوْبَۃِ {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ} [التوبۃ: ۱۲۸] إِلَیَّ آخِرَ السُّورَۃِ أَصَبْتُہَا مَعَ خُزَیْمَۃَ أَوْ أَبِی خُزَیْمَۃَ فَأَلْحَقْتُہَا فِی السُّورَۃِ ، وَکَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِی بَکْرٍ حَیَاتَہُ ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَیَاتَہُ حَتَّی تَوَفَّاہُ اللَّہُ ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی ثَابِتٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۱۹۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٧٢) سیدنا زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے مجھے جنگ یمامہ کے میدان کار زار سے واپس بلایا۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت عمر (رض) بھی تشریف فرما ہیں۔ سیدنا ابوبکر (رض) نے فرمایا : عمر (رض) میرے پاس آئے ہیں اور انھوں نے مجھے بتایا کہ یمامہ کی لڑائی میں قرآن کے قراء شہید ہوگئے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی طرح مختلف محاذوں میں قرآن کے قراء شہید ہوتے رہے تو بہت سا قرآن ضائع ہوجائے گا (جو صرف سینوں میں ہے) ۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ قرآن کو جمع کرنے کا حکم فرما دیں۔ میں نے عمر (رض) سے کہا کہ جو کام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں کیا وہ میں کیسے کروں ؟ تو عمر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ کام بہتر ہے اور یہ برابر مجھ سے اس کام کے لیے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرا سینہ بھی اس کام کے لیے کھول دیا جس کے لیے عمر (رض) کا سینہ کھول دیا تھا اور عمر (رض) کی جو رائے تھی وہی رائے میری بھی قرار پائی۔ آپ نوجوان اور عقل مند آدمی ہیں، ہمیں آپ پر اعتبار بھی ہے اور آپ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے وحی بھی لکھا کرتے تھے۔ لہٰذا آپ ایسا کریں کے قرآن کو تلاش کر کے اس کو اکٹھا کریں۔ زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! اگر یہ لوگ مجھے پہاڑ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو مجھ پر اتنا بھاری اور سخت نہ ہوتا جتنا یہ کام مشکل معلوم ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ تم لوگ ایسا کام کیوں کرو گے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں کیا ؟ تو سیدنا ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : (اگرچہ نہیں کیا) مگر اللہ کی قسم ! یہ کام بہتر ہے اور وہ مسلسل مجھے اس بارے میں کہتے رہے۔ حتیٰ کہ جس طرح اللہ نے ابوبکر وعمر (رض) کے دل میں یہ بات ڈال دی۔ اسی طرح میرے دل میں بھی ڈال دی اور میری رائے بھی ان کے رائے کی طرح ہوگئی۔ لہٰذا میں نے قرآن کی تلاش شروع کردی، میں اس کو کھجور کی شاخوں، باریک پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ میں نے سورة توبہ کی آخری آیت { لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ } [التوبۃ : ١٢٨]۔۔۔ حضرت خزیمہ یا ابوخزیمہ انصاری (رض) کے پاس پائی تو میں نے اس کو سورة توبہ کے ساتھ ملا لیا۔ پھر یہ مصحف سیدنا ابوبکر (رض) کی زندگی میں ان کے پاس رہا، پھر ان کے بعد حضرت عمر (رض) کے پاس رہا حتیٰ کہ وہ فوت ہوگئے۔ پھر حفصہ بنت عمر (رض) کے پاس منتقل ہوگیا۔

2373

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2373

Sahih

(۲۳۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَیْہِ بْنِ أَحْمَدَ الْکُشْمِیہَنِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَبِیبٍ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ وَزَادَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: وَأَخْبَرَنِی خَارِجَۃُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: فَقَدْتُ آیَۃً مِنْ سُورَۃِ الأَحْزَابِ قَدْ کُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقْرَأُ بِہَا ، فَالْتَمَسْتُہَا فَلَمْ أَجِدْہَا مَعَ أَحَدٍ إِلاَّ مَعَ خُزَیْمَۃَ الأَنْصَارِیِّ الَّذِی جَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- شَہَادَتَہُ شَہَادَۃَ رَجُلَیْنِ فِی قَوْلَ اللَّہِ تَعَالَی {مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیْہِ} [الاحزاب: ۲۳] [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۲۸۰۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٧٣) (ا) ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت زید (رض) سے اسی طرح کی روایت منقول ہے۔ (ب) ابن شہاب نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے خارجہ بن زید نے زید بن ثابت سے یہ روایت نقل کی ہے کہ زید فرماتے ہیں : مجھے سورة احزاب کی آیت نہیں مل رہی تھی جس کو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا۔ آپ اس کی تلاوت کیا کرتے تھے، لہٰذا میں نے اس کو تلاش کیا تو وہ مجھے صرف خزیمہ انصاری (رض) کے پاس سے ملی جن کی گواہی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مردوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیْہِ } [الاحزاب : ٢٣] ” مومنوں میں سے کئی ایک ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا اس کو سچ کر دکھایا، کی وجہ سے۔ــ

2374

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2374

Sahih

(۲۳۷۴) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: أَنَّ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ قَدِمَ عَلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِی وِلاَیَتِہِ ، وَکَانَ یَغْزُو مَعَ أَہْلِ الْعِرَاقِ قِبَلَ أَرْمِینِیَّۃَ وَأَذْرَبِیجَانَ فِی غَزْوِہِمْ ذَلِکَ الْفَرْجَ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ وَأَہْلِ الْعِرَاقِ ، فَتَنَازَعُوا فِی الْقُرْآنِ حَتَّی سَمِعَ حُذَیْفَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنَ اخْتِلاَفِہِمْ فِیہِ مَا أَذْعَرَہُ فَرَکِبَ حُذَیْفَۃُ حَتَّی قَدِمَ عَلَی عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَدْرِکْ ہَذِہِ الأُمَّۃَ قَبْلَ أَنْ یَخْتَلِفُوا فِی الْقُرْآنِ اخْتِلاَفَ الْیَہُودِ وَالنَّصَارَی فِی الْکُتُبِ۔ فَفَزِعَ لِذَلِکَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَرْسَلَ إِلَی حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ: أَنْ أَرْسِلِی إِلَیْنَا بِالصُّحُفِ الْتِی جُمِعَ فِیہَا الْقُرْآنُ۔ فَأَرْسَلَتْ بِہَا إِلَیْہِ حَفْصَۃُ فَأَمَرَ عُثْمَانُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَسَعِیدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ أَنْ یَنْسَخُوہَا فِی الْمَصَاحِفِ ، وَقَالَ لَہُمْ: إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِی عَرَبِیَّۃٍ مِنْ عَرَبِیَّۃِ الْقُرْآنِ فَاکْتُبُوہَا بِلِسَانِ قُرَیْشٍ ، فَإِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ بِلِسَانِہِمْ۔ فَفَعَلُوا حَتَّی کُتِبَتِ الْمَصَاحِفُ، ثُمَّ رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ إِلَی حَفْصَۃَ ، وَأَرْسَلَ إِلَی کُلِّ جُنْدٍ مِنْ أَجْنَادِ الْمُسْلِمِینَ بِمُصْحَفٍ وَأَمَرَہُمْ أَنْ یُحَرِّقُوا کُلَّ مُصْحَفٍ یُخَالِفُ الْمُصْحَفَ الَّذِی أُرْسِلَ بِہِ ، وَذَلِکَ زَمَانَ حُرِّقَتِ الْمَصَاحِفُ۔ لَفْظُ حَدِیثِ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ وَحَدِیثُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: فِی رِوَایَۃِ أَبِی الْوَلِیدِ الْحَارِثَ بْنَ ہِشَامٍ، وَقَالَ فِی رِوَایَۃِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ حَمْزَۃَ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ، وَلَمْ یُذْکَرَ رَدَّ الْصُحُفِ إِلَی حَفْصَۃَ فِی رِوَایَۃِ أَبِی الْوَلِیدِ ، وَذَکَرَہَا فِی رِوَایَۃِ ابْنِ حَمْزَۃَ وَقَالَ فِی آخِرِہِ: فَکَتَبُوا الصُّحُفَ فِی الْمَصَاحِفِ، فَبَعَثَ إِلَی کُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ ، وَأَمَرَ بِمَا سِوَی ذَلِکَ مِنَ الْقِرَائَ ۃِ فِی کُلِّ صَحِیفَۃٍ أَنْ تُمْحَی أَوْ تُحْرَقَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ ، وَعَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ وَقَالَ فِی الرِّوَایَتَیْنِ جَمِیعًا {مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیْہِ} [الاحزاب: ۲۳] [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۲۸۰۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٧٤) (ا) اور اس سند کے ساتھ زہری سے روایت ہے کہ مجھے سیدنا انس بن مالک (رض) نے خبر دی کہ حضرت حذیفہ بن یمان حضرت عثمان (رض) کے دور خلافت میں ان کے پاس تشریف لائے، جب کہ وہ آرمینیہ اور آذربائیجان کی طرف اہل عراق کے ساتھ شریکِ جہاد تھے۔ وہ اہل عراق اور اہل شام کی سرحد پر برسرپیکار تھے تو وہاں اہل عراق اور اہل شام نے قرآن کی قراءت میں اختلاف کیا حتیٰ کہ حضرت حذیفہ (رض) کو ان کے اختلاف کا پتہ چلا تو وہ سہم گئے اور فوراً مدینہ کو عازم سفر ہوئے اور عثمان (رض) کے پاس آئے اور عرض کیا : اے امیرالمومنین ! (خدارا) اس امت کی خبر لیجیے۔ اس سے پہلے کہ یہ یہود و نصاریٰ کی طرح قرآن میں اختلاف کرنے لگیں۔ سیدنا عثمان (رض) اس واقعہ سے حیران ہوگئے اور ام المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر (رض) کو پیغام بھیجا کہ وہ مصحف ارسال فرما دیں جس میں قرآن جمع کیا گیا ہے۔ سیدہ حفصہ (رض) نے وہ مصحف حضرت عثمان (رض) کو بھیج دیا۔ سیدنا عثمان (رض) نے زید بن ثابت، سعید بن عاص، عبداللہ بن زبیر اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام (رض) کو حکم دیا کہ اس قرآن کی کاپیاں تیار کریں۔ حضرت عثمان (رض) نے انھیں فرمایا کہ جب تمہارا زید بن ثابت (رض) سے قرآن کی عربی میں اختلاف ہوجائے تو اس کو لسانِ قریش میں لکھو کیونکہ قرآن انہی کی زبان اور محاورے پر نازل ہوا ہے۔ انھوں نے ایسا ہی کیا حتیٰ کہ مصاحف تیار ہوگئے۔ پھر حضرت عثمان (رض) نے سیدہ حفصہ (رض) کا مصحف انھیں واپس کردیا اور مسلمانوں کے لشکروں میں سے ہر لشکر کی طرف ایک ایک مصحف روانہ کیا اور انھیں حکم دیا کہ یہ جو مصحف آپ کو بھیجا گیا ہے اس کے خلاف کوئی بھی مصحف ہو تو اس کو جلا دیا جائے اور اس دور میں مصاحف کو جلایا گیا۔ (ب) ابراہیم بن سعد سے اس طرح کی روایت منقول ہے مگر اس میں سیدہ حفصہ (رض) کا مصحف واپس لوٹانے کا ذکر نہیں ہے۔ (ج) ابن حمزہ کی روایت میں ہے کہ انھوں نے صحیفوں کو مصاحف میں لکھا، پھر ہر ملک میں ایک ایک مصحف بھیج دیا اور ان کے علاوہ باقی ہر صحیفے کی قراءت کے بارے حکم دیا کہ یا تو مٹا دیا جائے یا جلا دیا جائے۔ (د) امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں ابو ایمان سے اس کو روایت کیا ہے۔ ان کے علاوہ موسیٰ بن اسماعیل اور ابراہیم بن سعد سے بھی روایت کیا ہے۔ اس میں ہے :” من المومنین رجال صدقوا ما عہدوا اللہ علیہ۔ (الاحزاب : ٢٣) ” مومنوں میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا۔ “

2375

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2375

Sahih

(۲۳۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ یَعْنِی ابْنَ عَلِیٍّ الْجُعْفِیَّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ وَہُوَ زَوْجُ أُخْتِ حُسَیْنٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ الْعَیْزَارِ بْنِ جِرْوَلٍ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ فِی الْقُرْآنِ عَلَی عَہْدِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَقُولُ لِلرَّجُلِ قِرَائَ تِی خَیْرٌ مِنْ قِرَائَ تِکَ۔ قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِکَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَجَمَعَنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا الْیَوْمَ فِی الْقِرَائَ ۃِ ، وَأَنْتُمْ بَیْنَ ظَہْرَانَیْہِمْ ، فَقَدْ رَأَیْتُ أَنْ أَجْمَعَہُمْ عَلَی قِرَائَ ۃٍ وَاحِدَۃٍ۔ قَالَ: فَاجْتَمَعَ رَأْیُنَا مَعَ رَأْیِہِ عَلَی ذَلِکَ قَالَ وَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: لَوْ وُلِّیْتُ مِثْلَ الَّذِی وُلِّیَ لَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِی صَنَعَ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن عساکر فی تاریخ دمشق ۳۹/ ۲۴۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٧٥) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ لوگوں نے حضرت عثمان (رض) کے دور خلافت میں قرآن میں اختلاف کیا۔ حتیٰ کہ ایک آدمی دوسرے کو کہتا : میری قرائت، تیری قرات سے بہتر ہے۔ جب حضرت عثمان (رض) کو اس کی خبر پہنچی تو انھوں نے ہم سب صحابہ کو جمع کر کے فرمایا : لوگ آج قراءت میں اختلاف کرچکے ہیں حالانکہ تم ان میں موجود ہو۔ میرا خیال ہے کہ میں انھیں ایک ہی قراءت پر جمع کر دوں۔ علی (رض) فرماتے ہیں : ہماری رائے بھی حضرت عثمان (رض) کی رائے کے موافق ہوگئی اور فرمانے لگے : جس طرح کا معاملہ عثمان (رض) کے ساتھ پیش آیا۔ اگر اس طرح میرے ساتھ ہوتا تو ضرور میں بھی ویسے ہی کرتا جیسے عثمان (رض) نے کیا ہے۔

2376

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2376

Zaeef

(۲۳۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا عَوْفُ عَنْ یَزِیدَ الْفَارِسِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قُلْتُ لِعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: مَا حَمَلَکُمْ أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَی بَرَائَ ۃَ وَہِیَ مِنَ الْمِئِینَ وَإِلَی الأَنْفَالِ وَہِیَ مِنَ الْمَثَانِی فَقَرَنْتُمْ بَیْنَہُمَا ، وَلَمْ تَجْعَلُوا بَیْنَہُمَا سَطْرًا فِیہِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَوَضَعْتُمُوہَا فِی السَّبْعِ الطُّوَلِ ، مَا حَمَلَکُمْ عَلَی ذَلِکَ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ مِمَّا یَنْزِلُ عَلَیْہِ مِنَ السُّوَرِ الَّتِی یُذْکَرُ فِیہَا کَذَا وَکَذَا ، فَإِذَا أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ الآیَاتُ یَقُولُ: ضَعُوا ہَذِہِ الآیَاتِ فِی مَوْضِعِ کَذَا وَکَذَا ۔ وَکَانَ إِذَا أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ السُّورَۃُ یَقُولُ: ضَعُوا ہَذِہِ فِی مَوْضِعِ کَذَا وَکَذَا ۔ وَکَانَتِ الأَنْفَالُ أُوَّلَ مَا أُنْزِلَ عَلَیْہِ بِالْمَدِینَۃِ وَکَانَتْ بَرَائَ ۃُ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ نُزُولاً ، وَکَانَتْ قِصَّتُہَا تُشْبِہُ قِصَّتَہَا ، فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَلَمْ یُبَیِّنْ أَمْرَہَا ، فَظَنَنْتُ أَنَّہَا مِنْہَا مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ قَرَنْتُ بَیْنَہُمَا ، وَلَمْ أَجْعَلْ بَیْنَہُمَا سَطْرًا فِیہِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَوَضَعْتُہَا فِی السَّبْعِ الطُّوَلِ۔ فَفِی ہَذَا مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہَا إِنَّمَا کُتِبَتْ فِی مَصَاحِفِ الصَّحَابَۃِ مَعَ دِلاَلَۃِ الْمُشَاہَدَۃِ۔ وَقَدْ رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہَا إِنَّمَا کُتِبَتْ فِی فَوَاتِحِ السُّورِ لِنُزُولِہَا ، وَعِنْدَ نُزُولِہَا کَانَ یُعْلَمُ انْقِضَائُ سُورَۃٍ وَابْتِدَائِ أُخْرَی۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۷۸۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٧٦) (ا) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عثمان (رض) سے کہا : تمہیں کس چیز نے ابھارا کہ تم نے سورة توبہ کو جو ان سورتوں میں سے ہے جن کی آیات ٢٠٠ (دو سو) کے قریب ہیں اور سورة انفال کو جو ان سورتوں میں سے ہے جن کی آیات اسی (٨٠) کے قریب ہیں ملا دیا ہے اور تم نے ان دونوں کے درمیان سطر بھی نہیں چھوڑی، جس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہو اور تم نے اسے سات لمبی سورتوں میں رکھا ہے ؟ تو حضرت عثمان (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وہ سورتیں نازل ہوتی تھیں جن میں فلاں فلاں چیزیں ذکر کی جاتی ہیں۔ جب آپ پر آیات نازل ہوتیں تو آپ فرماتے : ان آیات کو فلاں فلاں جگہ پر رکھو اور جب آپ پر کوئی (مکمل) سورت نازل ہوتی تو فرماتے : اس سورت کو فلاں جگہ پر رکھو (لکھو) اور سورة انفال مدینہ میں نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور سورة توبہ نزول کے اعتبار سے آخری سورتوں میں سے ہے اور اس کا موضوع بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ (یعنی ان دونوں سورتوں کا مضمون ملتا جلتا ہے، لیکن جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے اور ان کے معاملے کو واضح نہ کیا تو میں نے گمان کیا شاید یہ (توبہ) بھی اس (انفال) کا حصہ ہے، اس لیے میں نے ان دونوں کو قریب قریب رکھا اور میں نے ان کے درمیان سطر نہیں چھوڑی کہ جس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھتا اور اس کو بھی میں نے سات لمبی سورتوں میں رکھا۔ (ب) اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ (رض) کے مصاحف میں جو بسم اللہ لکھی گئی تھی یہ مشاہدے کی بنا پر لکھی گئی ہے۔ (ج) ہم وہ روایت بھی ذکر کرچکے ہیں جو ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ یہ (بسم اللہ) سورتوں کے شروع میں ان کے نزول کی وجہ سے لکھی جاتی ہے اور نزول کے وقت یہ پتا چل جاتا تھا کہ ایک سورة ختم ہوگئی ہے اور دوسری شروع ہوچکی ہے۔

2377

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2377

Sahih

(۲۳۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ فِی کِتَابِ السُّنَنِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِیُّ وَابْنُ السَّرْحِ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ قُتَیْبَۃُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لاَ یَعْرِفُ فَصْلَ السُّورَۃِ حَتَّی تَنْزِلَ عَلَیْہِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} رَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۶۶۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٧٧) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورة کے اختتام کو اس وقت نہیں پہچانتے تھے حتیٰ کہ آپ پر { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } نازل ہوتی۔

2378

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2378

Sahih

(۲۳۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْغُزْیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: کَانَ الْمُسْلِمُونَ لاَ یَعْلَمُونَ انْقِضَائَ السُّورَۃِ حَتَّی تَنَزَّلَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} فَإِذَا نَزَلَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} عَلِمُوا أَنَّ السُّورَۃَ قَدِ انْقَضَتْ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ دُحَیْمُ بْنُ النَّعِیمِ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَصَّرَ بِہِ فَلَمْ یَذْکُرْ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ فِی إِسْنَادِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ اخرجہ الطحاوی فی مشکل الآثار ۳/۴۰۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٧٨) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ مسلمانوں کو اس وقت تک سورة کے اختتام کا علم نہ ہوتا تھا جب تک کہ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } نازل نہ ہوجاتی اور جب { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } نازل ہوجاتی تو وہ سمجھ لیتے کہ سورة مکمل ہوچکی ہے۔

2379

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2379

Sahih

(۲۳۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ بِخُسْرَوْجِرْدَ مِنْ أُصُولِہِ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْمَرْوَزِیُّ وَدَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: بَیْنَمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ یَوْمٍ بَیْنَ أَظْہُرِنَا فِی الْمَسْجِدِ إِذْ أَغْفَی إِغْفَائَ ۃً ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الأَبْتَرُ} ثُمَّ قَالَ: ((ہَلْ تَدْرُونَ مَا الْکَوْثَرُ؟۔ قُلْنَا: اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔ فَقَالَ: إِنَّہُ نَہْرٌ وَعَدَنِیہِ رَبِّی فِی الْجَنَّۃِ ، آنِیَتُہُ أَکْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْکَوَاکِبِ ، تَرِدُ عَلَیْہِ أُمَّتِی فَیُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْہُمْ فَأَقُولُ: یَا رَبِّ إِنَّہُ مِنْ أُمَّتِی ۔ فَیُقَالُ: إِنَّکَ لاَ تَدْرِی مَا أَحْدَثَ بَعْدَکَ))۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۶/ ۳۰۵/ ۳۱۶۵۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٧٩) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان مسجد میں تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ پر (غشی) ہلکی اونگھ طاری ہوگئی۔ (اونگھ کے بعد) آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا تو پڑھا : بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الأَبْتَرُ } [الکوثر : ١۔ ٣] ” شروع اللہ رحمن ورحیم کے نام کے ساتھ بلاشبہ ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا۔ پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے، بیشک آپ کا دشمن ہی بےنام و نشاں ہوگا۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایک نہر ہے جس کا جنت میں میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ اس کے برتن (گلاس وغیرہ) ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، اس پر میری امت آئے گی ان میں سے بعض کو روکا جائے گا تو میں کہوں گا : اے اللہ ! یہ تو میرا امتی ہے۔ جواباً کہا جائے گا : آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد اس نے دین میں کیا کیا بدعات ایجاد کرلی تھیں۔

2380

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2380

Sahih

(۲۳۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: بَیْنَمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ یَوْمٍ بَیْنَ أَظْہُرِنَا إِذْ أَغْفَی إِغْفَائَ ۃً ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا: مَا أَضْحَکَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ: نَزَلَتْ عَلَیَّ آنِفًا سُورَۃٌ ۔ فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ} إِلَی آخِرِہَا وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَعَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ عَلَی لَفْظِ حَدِیثِ أَبِی بَکْرٍ۔ وَعَلَی لَفْظِہِ أَیْضًا رَوَاہُ أَیْضًا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، وَرُبَّمَا لَمْ یَقُلْ بَعْضُہُمْ آنِفًا ، وَالْمَشْہُورُ فِیمَا بَیْنَ أَہْلِ التَّفْسِیرِ وَالْمَغْازِی أَنَّ ہَذِہِ السُّورَۃَ مَکِّیَّۃٌ ، وَلَفْظُ حَدِیثِ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ لاَ یُخَالِفُ قَوْلَہُمْ فَیُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ أَوْلَی۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٨٠) (ا) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان جلوہ افروز تھے کہ اچانک آپ پر اونگھ طاری ہوگئی، پھر (کچھ دیر بعد) آپ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر مبارک اٹھایا تو ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ کو کس چیز نے ہنسا دیا ؟ آپ نے فرمایا : ابھی ابھی مجھ پر ایک سورة نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھنے لگے۔ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ } [الکوثر : ١]۔۔۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ ] (ب) انہی الفاظ سے اور بھی کئی راویوں نے اس کو نقل کیا ہے اور بعض راویوں نے آنفا کا لفظ ذکر نہیں کیا ۔ اس بارے میں اہل تفسیر اور مغازی کے ہاں مشہور قول یہ ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور علی بن حجر کی حدیث کے الفاظ ان کے خلاف نہیں ہیں، شاید یہ بہتر ہو۔

2381

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2381

Zaeef

(۲۳۸۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَیْرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الأَعْرَجُ الْمَکِّیُّ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی ذِکْرِ الإِفْکِ قَالَتْ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَکَشَفَ عَنْ وَجْہِہِ وَقَالَ: ((أَعُوذُ بِالسَّمِیعِ))- أَوْ قَالَ ((أَعُوذُ بِاللَّہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ - مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ {إِنَّ الَّذِینَ جَائُ وا بِالإِفْکِ})) الآیَۃَ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَخَافُ أَنْ یَکُونَ أَمْرُ الاِسْتِعَاذَۃِ مِنْ کَلاَمِ حُمَیْدِ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: فَالنَّبِیُّ -ﷺ- قَرَأَ (بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ) عِنْدَ افْتِتَاحِ سُورَۃٍ وَلَمْ یَقْرَأْہَا عِنْدَ افْتِتَاحِ آیَاتٍ لَمْ تَکُنْ أَوَّلَ سُورَۃٍ ، وَفِی ذَلِکَ تَأْکِیدٌ لَمَّا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَأَنَّہَا إِنَّمَا کُتِبَتْ فِی الْمَصَاحِفِ حَیْثُ نَزَلَتْ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [منکر۔ اخرجہ ابوداود ۷۸۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٨١) (ا) ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) سے واقعہ افک سے متعلق منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے تھے، آپ نے اپنے چہرے سے پردہ ہٹایا اور یہ آیت تلاوت کی : أَعُوذُ بِاللَّہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ {إِنَّ الَّذِینَ جَائُ وا بِالإِفْکِ } [النور : ١١] ۔ (ب) ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے خدشہ ہے کہ استعاذہ کی زیادتی حمید کا کلام نہ ہو۔ (ج) شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ سورة شروع کرنے سے پہلے پڑھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ آیات جو سورت کے شروع میں نہ ہوں ان سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھی۔ اس میں اس کی بھی تاکید ہے جو ہم نے ابن عباس (رض) سے نقل کی ہے کہ بسم اللہ مصاحف میں تب ہی لکھی جاتی جب نازل ہوتی۔ واللہ اعلم

2382

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2382

Zaeef

(۲۳۸۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغْدَادِیُّ بِہَرَاۃَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی رَوَّادٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا: أَنَّہُ کَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ کَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ الْحَمْدُ لِلَّہِ} فَإِذَا فَرَغَ قَرَأَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} قَالَ: وَکَانَ یَقُولُ لِمَ کُتِبَتْ فِی الْمُصْحَفِ إِنْ لَمْ تُقْرَأْ۔ [قوی]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٨٢) حضرت ابن عمر (رض) سے منقول ہے کہ وہ جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر پڑھتے : { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ الْحَمْدُ لِلَّہِ }۔۔۔ جب سو رہ فاتحہ سے فارغ ہوئے تو { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } پڑھی۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) فرماتے تھے : اگر اس کو پڑھا نہ جائے تو پھر یہ قرآن میں لکھی کیوں گئی ہے ؟