Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 486

نماز کا بیان

سورة فاتحہ کے قراءت ہونے کا بیان

9 hadiths in this chapter

2363

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2363

Sahih

(۲۳۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ بْنِ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِیعِ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔ صحیح اخرجہ البخاری [۷۵۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٦٣) حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو سورة فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔

2364

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2364

Sahih

(۲۳۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ قَالَ سَمِعْتُ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِیعِ یُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ فِیہَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ))۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ وَالْحُمَیْدِیُّ عَنْ سُفْیَانَ لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ فِیہَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ۔ [صحیح۔ وتقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٦٤) سیدنا عبادہ بن صامت (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس آدمی کی نماز نہیں ہوتی جو سورة فاتحہ نہ پڑھے۔ اسی طرح امام شافعی (رح) اور حمیدی نے سفیان بن عیینہ سے روایت کیا ہے کہ جو سورة فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔

2365

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2365

Sahih

(۲۳۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ حَدَّثَنِی الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَعْقُوبَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہُ -ﷺ- یَقُولُ: ((کُلُّ صَلاَۃٍ لاَ یُقْرَأُ فِیہَا بِأُمِّ الْکِتَابِ فَہِیَ خِدَاجٌ ، ثُمَّ ہِیَ خِدَاجٌ ، ثُمَّ ہِیَ خِدَاجٌ))۔ فَقَالَ: یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ فَإِنِّی أَکُونُ أَحْیَانًا وَرَائَ الإِمَامِ۔ قَالَ: یَا فَارِسِیُّ اقْرَأْ بِہَا فِی نَفْسِکَ ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہُ -ﷺ- یَقُولُ: ((قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلاَۃَ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی، وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} قَالَ اللَّہُ: حَمِدَنِی عَبْدِی۔ وَإِذَا قَالَ {الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} قَالَ: أَثْنَی عَلَیَّ عَبْدِی۔ وَإِذَا قَالَ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} قَالَ: مَجَّدَنِی عَبْدِی أَوْ قَالَ فَوَّضَ إِلَیَّ عَبْدِی۔ وَإِذَا قَالَ {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ} قَالَ: ہَذِہِ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ ، فَإِذَا قَالَ {اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ صِرَاطَ الَّذِینَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ} فَہَذَا لِعَبْدِی وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ)) قَالَ سُفْیَانُ: دَخَلْتُ عَلَی الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِی بَیْتَہِ وَہُوَ مَرِیضٌ فَسَأَلْتُہُ فَحَدَّثَنِی بِہَذَا الْحَدِیثِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، وَقَالَ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} ہَکَذَا رَوَاہُ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ وَتَابَعَہُ عَلَی إِسْنَادِہِ شُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ وَعَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ الْبَصْرِیُّ وَجَہْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ فَرَوَوْہُ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ وَخَالَفَہُمْ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ فَرَوَاہُ کَمَا۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۳۹۵]ق

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٦٥) (ا) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ جس نماز میں سورة فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص ہے، تین مرتبہ فرمایا۔ راوی نے ابوہریرہ (رض) سے عرض کیا : اے ابوہریرہ ! میں کبھی امام کے پیچھے بھی تو ہوتا ہوں (تو اس وقت کیا کروں ؟ ) تو ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : اے فارسی ! تو اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے نماز (فاتحہ) کو اپنے اور بندے کے درمیان تقسیم کرلیا ہے اور میرے بندے کے لیے وہ کچھ ہے جو وہ مجھ سے مانگے، جب بندہ کہتا ہے ” الحمد للہ رب العالمین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری تعریف کی اور جب بندہ کہتا ہے : ” الرحمن الرحیم “ تو اللہ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری حمد و ثنا کی اور جب بندہ کہتا ہے : ” ملک یوم الدین “ تو اللہ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی یا فرمایا : میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے سپرد کردیا اور جب بندہ عرض کرتا ہے : ” ایاک نعبد وایاک نستعین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ سوال کرے۔ جب بندہ کہتا ہے : ” اہدنا الصراط المستقیم ۔ صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولاالضآلین ۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔ (الفاتحۃ ١۔ ٧) (ب) سفیان کہتے ہیں : میں علا بن عبدالرحمن کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ بیمار تھے۔ میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی۔

2366

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2366

Sahih

(۲۳۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکِ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَی ہِشَامِ بْنَ زُہْرَۃَ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہُ -ﷺ- : ((مَنْ صَلَّی صَلاَۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیہَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَہِیَ خِدَاجٌ ، فَہِیَ خِدَاجٌ ، فَہِیَ خِدَاجٌ غَیْرُ تَمَامٍ))۔ قَالَ فَقُلْتُ: یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ إِنِّی أَحْیَانًا أَکُونُ وَرَائَ الإِمَامِ۔ قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِی وَقَالَ: اقْرَأْ بِہَا فِی نَفْسِکَ یَا فَارِسِیُّ ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلاَۃَ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی نِصْفَیْنِ ، فَنِصْفُہَا لِی وَنِصْفُہَا لِعَبْدِی ، وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ))۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اقْرَئُ وا یَقُولُ الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} یَقُولُ اللَّہُ: حَمِدَنِی عَبْدِی۔ وَیَقُولُ الْعَبْدُ {الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} یَقُولُ اللَّہُ: أَثْنَی عَلَیَّ عَبْدِی۔ یَقُولُ الْعَبْدُ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} یَقُولُ اللَّہُ: مَجَّدَنِی عَبْدِی۔ یَقُولُ الْعَبْدُ {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ} فَہَذِہِ الآیَۃُ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی ، وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ۔ یَقُولُ الْعَبْدُ {اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ صِرَاطَ الَّذِینَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ} فَہَؤُلاَئِ لِعَبْدِی وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ قُتَیْبَۃَ وَفِی حَدِیثِ الْقَعْنَبِیِّ: ((یَقُولُ الْعَبْدُ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} یَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ: مَجَّدَنِی عَبْدِی ، وَہَذِہِ الآیَۃُ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی))۔ وَالْبَاقِی بِنَحْوِہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ وَالْوَلِیدُ بْنُ کَثِیرٍ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِی السَّائِبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، وَکَأَنَّہُ سَمِعَہُ مِنْہُمَا جَمِیعًا ، وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَیْہِ رِوَایَۃُ أَبِی أُوَیْسِ الْمَدَنِیِّ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْہُمَا عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٦٦) (ا) ہشام بن زہرہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ (رض) کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے نماز میں سورة فاتحہ کی تلاوت نہیں کی تو وہ نماز ناقص اور نامکمل ہے، تین مرتبہ فرمایا۔ ہشام بن زہرہ کہتے ہیں : میں نے پوچھا : اے ابوہریرہ ! کبھی کبھار میں امام کی اقتدا میں نماز ادا کررہا ہوتا ہوں ؟ تو ابوہریرہ (رض) نے میرے بازو کو پکڑا اور فرمایا : اے فارسی ! اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان تقسیم کرلیا ہے۔ یہ آدھی میرے لیے اور آدھی میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے پڑھا کرو۔ جب بندہ کہتا ہے : ” الحمد للہ رب العالمین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری تعریف کی ہے اور جب بندہ کہتا ہے : ” الرحمن الرحیم “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری ثنا بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے :” ملک یوم الدین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے :” ایاک نعبد وایاک نستعین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا اور بندہ کہتا ہے : ” اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔ (ب) مذکورہ حدیث کے الفاظ قتیبہ کے ہیں اور قعنبی کی حدیث میں ہے کہ جب بندہ کہتا ہے : ” مالک یوم الدین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری بزرگی اور بڑائی بیان کی ہے اور یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔ باقی حدیث اسی طرح ہے۔

2367

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2367

Sahih

(۲۳۶۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِیسَی وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِیُّ الشَّیْخُ الصَّالِحُ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ قَالاَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ مِنْ أَبِی وَمِنْ أَبِی السَّائِبِ جَمِیعًا وَکَانَا جَلِیسَیْنِ لأَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ وَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ صَلَّی صَلاَۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیہَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فَہْیَ خِدَاجٌ، ہِیَ خِدَاجٌ غَیْرُ تَمَامٍ))۔ انْتَہَی حَدِیثُ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَذَکَرَ أَبُو نَصْرٍ الْفَامِیُّ بَاقِیَ الْحَدِیثِ بِنَحْوِ رِوَایَۃِ الْقَعْنَبِیِّ عَنْ مَالِکِ۔ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِیِّ عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی أُوَیْسٍ۔ (ب) وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زِیَادِ بْنِ سَمْعَانَ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَزَادَ فِیہِ التَّسْمِیَۃَ۔ [صحیح۔ وتقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٦٧) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہ پڑھی تو وہ ناقص اور نامکمل ہے۔ (ب) عبداللہ بن زیاد بن سمعان کے واسطے سے علا نے ابوہریرہ (رض) سے بسم اللہ کے الفاظ بھی نقل فرمائے ہیں۔

2368

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2368

Sahih

(۲۳۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُوحَازِمٍ: عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُوالطَّیِّبِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدُونَ الذُّہْلِیُّ وَکَتَبَہُ لِی بِخَطِّہِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ عَنِ ابْنِ سَمْعَانَ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَقُولُ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی: قَسَمْتُ ہَذِہِ السُّورَۃَ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی نِصْفَیْنِ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} یَقُولُ اللَّہُ: ذَکَرَنِی عَبْدِی۔ فَإِذَا قَالَ {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} یَقُولُ اللَّہُ: حَمِدَنِی عَبْدِی۔ فَإِذَا قَالَ {الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} یَقُولُ اللَّہُ: أَثْنَی عَلَیَّ عَبْدِی۔ فَإِذَا قَالَ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} یَقُولُ اللَّہُ: مَجَّدَنِی عَبْدِی۔ وَإِذَا قَالَ {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ} قَالَ: ہَذَا لِعَبْدِی وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ))۔ [صحیح۔ بدون البسملۃ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٦٨) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں : میں نے یہ سورة (فاتحہ) اپنے اور بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کرلی ہے۔ جب جب بندہ کہتا ہے : ” بسم اللہ الرحمن الرحیم تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میرا ذکر کیا ہے۔ پھر جب بندہ کہتا ہے : ” الحمد للہ رب العالمین تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری تعریف کی ہے اور جب بندہ کہتا ہے : ” الرحمن الرحیم “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری ثنا بیان کی ہے، پھر جب بندہ کہتا ہے : ” مالک یوم الدین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے : ” ایاک نعبد وایاک نستعین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔

2369

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2369

Sahih

(۲۳۶۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَزْرَقُ یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُہْلُولٍ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ سَمْعَانَ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ صَلَّی صَلاَۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیہَا بِأُمِّ الْکِتَابِ فَہِیَ خِدَاجٌ))۔ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ فِی أَوَّلِہِ ثُمَّ زَادَ التَّسْمِیَۃَ ، وَقَالَ فِی آخِرِ الْحَدِیثِ: ((فَہَذِہِ الآیَۃُ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی نِصْفَیْنِ ، وَآخِرُ السُّورَۃِ لِعَبْدِی ، وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ))۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ رَحِمَہُ اللَّہُ: ابْنُ سَمْعَانَ ہُوَ عَبْدُاللَّہِ بْنُ زِیَادِ بْنِ سَمْعَانَ مَتْرُوکُ الْحَدِیثِ۔ وَرَوَی ہَذَا الْحَدِیثَ جَمَاعَۃٌ مِنَ الثِّقَاتِ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْہُمْ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَابْنُ جُرَیْجٍ وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ وَابْنُ عُیَیْنَۃَ وَابْنُ عَجْلاَنَ وَالْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ وَأَبُو أُوَیْسٍ وَغَیْرُہُمْ عَلَی اخْتِلاَفٍ مِنْہُمْ فِی الإِسْنَادِ وَاتِّفَاقٍ مِنْہُمْ عَلَی الْمَتْنِ ، فَلَمْ یَذْکُرَ أَحَدٌ مِنْہُمْ فِی حَدِیثِہِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَاتِّفَاقُہُمْ عَلَی خِلاَفِ مَا رَوَاہُ ابْنُ سَمْعَانَ أَوْلَی بِالصَّوَابِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ بدون البسملۃ وقد تقدم فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٦٩) (ا) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص نماز میں سورة فاتحہ نہ پڑھے تو وہ نماز نامکمل اور ناقص ہے۔ (ب) انھوں نے اس کے شروع میں ابن عیینہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا، لیکن بسم اللہ کا اضافہ کیا اور حدیث کے آخر میں ذکر کیا کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان نصف نصف ہے اور اس سورت کا آخری حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔ (ج) اس حدیث کو معتمد راویوں کی ایک جماعت نے علا بن عبدالرحمن سے نقل کیا ہے، ان میں مالک بن انس، ابن جریج، روح بن قاسم، ابن عیینہ، ابن عجلان، حسن بن حر، ابو اویس اور ان کے علاوہ متعدد اصحاب ہیں۔ ان کی سند میں اختلاف تو ہے لیکن متن پر اتفاق ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی اپنی حدیث میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کو ذکر نہیں کیا اور ان کا اتفاق ابن سمعان کی روایت کردہ احادیث کے علاوہ باقی احادیث پر ہے جو درستگی کے زیادہ قریب ہے۔ واللہ اعلم

2370

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2370

Sahih

(۲۳۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ حَبِیبٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَطَائٍ قَالَ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: فِی کُلِّ صَلاَۃٍ قِرَائَ ۃٌ فَمَا أَسْمَعَنَا النَّبِیُّ -ﷺ- أَسْمَعْنَاکُمْ ، وَمَا أَخْفَی مِنَّا أَخْفَیْنَاہُ مِنْکُمْ ، مَنْ قَرَأَ بِأُمِّ الْکِتَابِ فَقَدْ أَجْزَأَتْ عَنْہُ ، وَمَنْ زَادَ فَہُوَ أَفْضَلُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۷۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٧٠) عطا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : ہر نماز میں قرات ہے، جس نماز میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں سنایا (یعنی جہری قرات کی) ہم نے بھی آپ کو سنایا اور جس نماز میں آپ نے ہم سے چھپایا (یعنی آہستہ قرات کی) ہم نے بھی آپ سے چھپایا۔ جو سورة فاتحہ پڑھے تو وہ اسے کفایت کر جائے گی اور جو زیادہ پڑھے تو وہ افضل ہے۔

2371

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2371

Zaeef

(۲۳۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیمٍ الأَوْدِیُّ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ عَامِرٍ الْبَجَلِیُّ حَدَّثَنَا ہُرَیْمُ بْنُ سُفْیَانَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَۃِ ، فَقَرَأَ فِی أَوَّلِ رَکْعَۃٍ بِ {الَحَمْدُ لِلَّہِ} وَأَوَّلِ آیَۃٍ مِنَ الْبَقَرَۃِ ، ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ قَامَ فِی الثَّانِیَۃِ فَقَرَأَ {الْحَمْدُ لِلَّہِ} وَالآیَۃَ الثَّانِیَۃَ مِنَ الْبَقَرَۃِ ، ثُمَّ رَکَعَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَیْنَا فَقَالَ: إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ {فَاقْرَئُ وا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ} [المزمل: ۲۰] قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ رَحِمَہُ اللَّہُ: ہَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ۔ (ق) وَفِیہِ حُجَّۃٌ لِمَنْ یَقُولُ إِنَّ مَعْنَی قَوْلِہِ {فَاقْرَئُ وا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ} [المزمل: ۲۰] أَنَّ ذَلِکَ إِنَّمَا ہُوَ بَعْدَ قِرَائَ ۃِ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ۔ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٣٧١) (ا) قیس بن ابو حازم سے روایت ہے کہ میں نے بصرہ میں سیدنا ابن عباس کے پیچھے نماز ادا کی ۔ انھوں نے پہلی رکعت میں سورة فاتحہ اور سورة بقرہ کی ایک آیت پڑھی، پھر رکوع کیا۔ پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے اور اس میں سورة فاتحہ پڑھی اور سورة بقرہ کی دوسری آیت پڑھی، پھر رکوع کیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { فَاقْرَئُ وا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ } [المزمل : ٢٠] قرآن میں سے جو آسان ہو وہ پڑھا کرو۔ (ب) علی بن عمر فرماتے ہیں : یہ سند حسن ہے اور اس میں اس شخص کے لیے دلیل ہے جو کہتا ہے کہ اللہ کے اس قول { فَاقْرَئُ وا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ } [المزمل : ٢٠] ” قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو۔ “ سے مراد سورة فاتحہ ہے۔