Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 429

نماز کا بیان

عشا سے پہلے سونے، عشا کے بعد دنیاوی باتیں کرنے اور عشا کو بہت زیادہ موخر کرنے کی کراہت کا بیان

11 hadiths in this chapter

2123

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2123

Sahih

(۲۱۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَوْفٍ الأَعْرَابِیِّ عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ ((أَکْرَہُ النَّوْمَ قَبْلَہَا وَالْحَدِیثَ بَعْدَہَا)) یَعْنِی صَلاَۃَ الْعِشَائِ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٣) حضرت ابوبرزہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں عشا سے پہلے سونے کو اور عشا کے بعد گپ شپ کو ناپسند سمجھتا ہوں۔

2124

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2124

Sahih

(۲۱۲۴) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: مَا نَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَبْلَہَا وَلاَ سَمَرَ بَعْدَہَا یَعْنِی الْعِشَائَ الآخِرَۃَ۔ [حسن۔ اخرجہ ابن ماجہ ۷۰۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٤) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشا سے پہلے کبھی نہیں سوئے اور نہ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشا کے بعد باتیں کرتے تھے۔

2125

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2125

Sahih

(۲۱۲۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ وَہُوَ ابْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہَا قَالَتْ: مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَائِمًا قَبْلَ الْعِشَائِ وَلاَ لاَعِبًا بَعْدَہَا ، إِمَّا ذَاکِرًا فَیَغْنَمُ ، وَإِمَّا نَائِمًا فَیَسْلَمُ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ ابو یعلی ۴۸۷۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٥) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عشا سے پہلے کبھی سوتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی عشا کے بعد کبھی کھیلتے دیکھا، یا تو آپ ذکر کرتے رہتے اور ثواب پاتے یا پھر آرام فرماتے اور سکون کرتے۔

2126

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2126

Zaeef

(۲۱۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ شَقِیقِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَدَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- السَّمَرَ بَعْدَ صَلاَۃِ الْعَتَمَۃِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۶۶۷۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٦) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشا کی نماز کے بعد دنیاوی باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔

2127

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2127

Sahih

(۲۱۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: جُنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جُنَاحٍ الْمُحَارِبِیُّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَیْثَمَۃَ عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ سَمَرَ بَعْدَ الصَّلاَۃِ إِلاَّ لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ))۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۱/ ۳۷۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٧) حضرت خیثمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عشا کی نماز کے بعد دنیاوی گفتگو جائز نہیں ہے، البتہ نماز پڑھنے والا اور مسافر ضرورت کی باتیں کرسکتے ہیں۔

2128

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2128

Sahih

(۲۱۲۸) وَأَخْبَرَنَا جُنَاحٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَیْثَمَۃَ عَنْ رَجُلٍ جُعْفِیٍّ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ سَمَرَ بَعْدَ الصَّلاَۃِ إِلاَّ لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ))۔ وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَیْثَمَۃَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ وَأَخْطَأَ فِیہِ وَقِیلَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ وَہُوَ خَطَأٌ۔ [حسن لغیرہ۔ انظر ما قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٨) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عشا کی نماز کے بعد نمازی اور مسافر کے علاوہ کسی اور کے لیے باتیں کرنا مناسب نہیں۔

2129

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2129

Sahih

(۲۱۲۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ بِعَرَفَۃَ فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ جِئْتُ مِنَ الْکُوفَۃِ وَتَرْکَتُ بِہَا رَجُلاً یُمْلِی الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَہْرِ قَلْبِہِ۔ قَالَ: فَغَضِبَ عُمَرُ وَانْتَفَخَ حَتَّی کَادَ یَمْلأُ مَا بَیْنَ شُعْبَتَیِ الرَّجُلِ ثُمَّ قَالَ: وَیْحَکَ مَنْ ہُوَ؟ قَالَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ۔ فَمَا زَالَ یُطْفِئُ وَیُسِرُّ الْغَضَبَ حَتَّی عَادَ إِلَی حَالِہِ الَّتِی کَانَ عَلَیْہَا ، ثُمَّ قَالَ: وَیْحَکَ وَاللَّہِ مَا أَعْلَمُہُ بَقِیَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ہُوَ أَحَقُّ بِذَلِکَ مِنْہُ ، سَأُحَدِّثُکَ عَنْ ذَلِکَ ، کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لاَ یَزَالُ یَسْمُرُ فِی الأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِینَ عِنْدَ أَبِی بَکْرٍ ، وَأَنَّہُ سَمَرَ عِنْدَہُ ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَأَنَا مَعَہُ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَخَرَجْنَا نَمْشِی مَعَہُ ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ یُصَلِّی فِی الْمَسْجِدِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَسْتَمِعُ قِرَائَ تَہُ ، فَلَمَّا أَعْیَانَا أَنْ نَعْرِفَ مِنَ الرَّجُلِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا کَمَا أُنْزِلَ فَلْیَقْرَأْہُ عَلَی قِرَائَ ۃِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ))۔ ثُمَّ جَلَسَ الرَّجُلُ یَدْعُو ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ لَہُ: ((سَلْ تُعْطَہْ))۔ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ: لأَغْدُوَنَّ إِلَیْہِ فَلأُبَشِّرَنَّہُ قَالَ فَغَدَوْتُ إِلَیْہِ لأُبَشِّرَہُ ، فَوَجَدْتُ أَبَا بَکْرٍ قَدْ سَبَقَنِی إِلَیْہِ فَبَشَّرَہُ ، وَوَاللَّہِ مَا سَابَقْتُہُ إِلَی خَیْرٍ قَطٌّ إِلاَّ سَبَقَنِی إِلَیْہِ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ الأَعْمَشِ وَفِی ذَلِکَ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ رِوَایَۃَ السَّمَرِ مِنْ عُمَرَ لاَ مِنْ عَبْدِ اللَّہِ فِی رِوَایَۃِ عَلْقَمَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۱/۲۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٩) علقمہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس عرفہ کے مقام پر ایک آدمی آیا، اس نے کہا : اے امیرالمومنین ! میں کوفہ سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور وہاں میں ایک ایسے آدمی سے ملا ہوں جو مصاحف کو زبانی املا کرواتا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر (رض) غصہ ہوگئے حتیٰ کہ آپ کی سانس پھول گئی، قریب تھا کہ وہ اس کو لات مار دیتے۔ پھر کہنے لگے : تیرا ناس ہو وہ ہے کون ؟ اس نے کہا : عبداللہ بن مسعود۔ حضرت عمر (رض) (یہ سن کر) بجھ سے گئے اور آپ کا غصہ ختم ہوگیا حتیٰ کہ اپنی پہلے والی حالت میں لوٹ آئے۔ پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی باقی ہو جو اس کام کا عبداللہ بن مسعود سے زیادہ حق دار ہو، میں تجھے ان کے بارے میں بتاتا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) کے ہاں مسلمانوں کے معاملات کے بارے میں رات گئے تک گفتگو کرتے رہتے تھے۔ ایک دن آپ ان کے ہاں عشا کے بعد باتیں کر رہے تھے اور اتفاقاً میں بھی وہاں موجود تھا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور ہم بھی آپ کے ہمراہ نکل پڑے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں کھڑا نماز ادا کررہا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی قراءت سننے لگ گئے۔ پھر جب ہم نے غور کیا کہ ہم اس آدمی کو پہچان لیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو یہ پسند ہو کہ وہ قرآن کو پست آواز میں پڑھے جس طرح نازل ہوا تو وہ ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود) کی قرات کے موافق پڑھے، پھر وہ (ابن مسعود) بیٹھ کر دعا کرنے لگے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں کہنے لگے : تو جو سوال کر تجھے عطا کیا جائے گا اس کے بعد حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : میں صبح ابن مسعود (رض) کے پاس جا کر انھیں خوشخبری دوں گا۔ (عمر) کہتے ہیں کہ صبح میں انھیں بشارت دینے گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ابوبکر صدیق (رض) مجھ سے سبقت لے گئے ہیں اور انھوں نے ابن مسعود کو بشارت بھی دے دی۔ اللہ کی قسم ! میں کبھی بھی کسی نیکی میں ابوبکر سے پہل نہیں کرسکا مگر وہ ہمیشہ مجھ سے سبقت لے گئے۔ اس روایت کو اعمش سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور اس میں دلیل ہے کہ رات کو باتیں کرنے والی روایت حضرت عمر (رض) سے منقول ہے نہ کہ عبداللہ سے جو علقمہ نے نقل کی ہے۔

2130

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2130

Sahih

(۲۱۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: جِئْتُکَ مِنْ عِنْدِ رَجُلٍ یُمْلِی الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَہْرِ قَلْبِہِ ، فَذَکَرَ بَعْضَ الْحَدِیثِ ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: سَأُحَدِّثُکَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ، إِنَّا سَمَرْنَا لَیْلَۃً فِی بَیْتِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی بَعْضِ مَا یَکُونُ مِنْ حَاجَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- ثُمَّ ذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ بِمَعْنَاہُ۔ وَفِی آخِرِہِ قَالَ مُحَمَّدٌ الْعَطَّارُ لِلأَعْمَشِ: أَلَیْسَ قَالَ خَیْثَمَۃُ إِنَّ اسْمَ الرَّجُلِ قَیْسُ بْنُ مَرْوَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ یںُرِیدُ الرَّجُلَ الَّذِی جَائَ إِلَی عُمَرَ۔ وَہَذَا الْحَدِیثُ لَمْ یَسْمَعْہُ عَلْقَمَۃُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ عُمَرَ إِنَّمَا رَوَاہُ عَنِ الْقَرْثَعِ عَنْ قَیْسٍ عَنْ عُمَرَ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۱/۲۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٣٠) حضرت علقمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے کہا کہ میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے آرہا ہوں جو مصاحف کی زبانی املا کرواتا ہے، پھر طویل حدیث ذکر کی۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے کہ میں تجھے عبداللہ کے بارے بتاتا ہوں۔ ایک رات ہم ابوبکر (رض) کے گھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی کام کے سلسلے میں گفتگو کر رہے تھے۔۔۔ پھر مکمل حدیث اسی طرح ذکر کی۔ (ب) اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ محمد عطار نے اعمش سے کہا تھا کہ کیا خیثمہ نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس آدمی کا نام (جو عمر کے پاس آیا تھا) قیس بن مروان نہیں ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں ، ان کی مراد حضرت عمر کے پاس آنے والا آدمی تھا۔

2131

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2131

Sahih

(۲۱۳۱) أَخْبَرَنَا بِصِحَّۃِ ذَلِکَ أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنِ الْقَرْثَعِ عَنْ قَیْسٍ أَوِ ابْنِ قَیْسٍ رَجُلٌ مِنْ جُعْفِیٍّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَنَا مَعَہُ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَہُوَ یَقْرَأُ ، فَذَکَرَ الْقِصَّۃَ بِمَعْنَاہُ ، إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ قِصَّۃَ السَّمَرِ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٣١) حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس سے گزرے اور وہ (قرآن کی) تلاوت کر رہے تھے۔ میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھا۔۔۔ پھر مکمل قصہ ذکر کیا مگر انھوں نے عشا کے بعد باتیں کرنے کا ذکر نہیں کیا۔

2132

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2132

Sahih

(۲۱۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَوُادَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ لَیْلَۃٍ حَتَّی أَکْثَرَ بِنَا الْحَدِیثَ ، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَی أَہَالِینَا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((عُرِضَ عَلَیَّ الأَنْبِیَائُ بِأُمَمِہَا وَأَتْبَاعِہَا مِنْ أُمَمِہَا))۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۱۵/ ۴۲۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٣٢) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ایک رات ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے۔ ہم نے بہت باتیں کیں۔ پھر ہم گھروں کو لوٹے۔ صبح جب ہم بیدار ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ پر تمام انبیاء اپنی امتوں سمیت پیش کیے گئے اور ان کے پیروکار بھی۔۔۔ پھر لمبی حدیث ذکر کی۔

2133

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2133

Sahih

(۲۱۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی حَثْمَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْعِشَائِ فِی آخِرِ حَیَاتِہِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ: ((أَرَأَیْتَکُمْ لَیْلَتَکُمْ ہَذِہِ فَإِنَّ عَلَی رَأْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ مِنْہَا لاَ یَبْقَی مِمَّنْ ہُوَ الْیَوْمَ عَلَی ظَہْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ))۔ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ: فَوَہِلَ النَّاسُ فِی مَقَالَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی مَا یَتَحَدَّثُونَ مِنْ ہَذِہِ الأَحَادِیثِ عَنْ مِائَۃِ سَنَۃٍ ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یَبْقَی مِمَّنْ ہُوَ الْیَوْمَ عَلَی ظَہْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ)) ۔ یُرِیدُ بِذَلِکَ أَنَّہَا تَخْرِمُ ذَلِکَ الْقَرْنَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۱۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٣٣) (ا) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں عشا کی نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر فرمایا : تمہارا اس رات کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ پھر فرمایا : سو برس کے ختم ہونے تک جتنے لوگ زمین پر ہیں، ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔ (ب) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان سننے میں غلطی کھا گئے حتیٰ کہ جن احادیث میں سو سال کا ذکر ہے، اس سے کچھ اور سمجھنے لگے یعنی سو برس بعد قیامت آجائے گی، حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ مراد نہیں تھی۔ بلکہ مقصد یہ تھا کہ جو آدمی آج اس زمین پر موجود ہیں ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔ آپ اس سے صدی کا ختم ہونا مراد لے رہے تھے۔ یعنی یہ زمانہ سو برس میں گزر جائے گا۔