Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 428

نماز کا بیان

عشا کی نماز کو تاخیر سے پڑھنے کے مستحب ہونے کا بیان

9 hadiths in this chapter

2114

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2114

Sahih

(۲۱۱۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِی حَفْصٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ : أَیُّ حِینٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ أَنْ أُصَلِّیَ الْعِشَائَ الَّتِی یَقُولُہَا النَّاسُ الْعَتَمَۃَ إِمَامًا وَخِلْوًا؟ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ: أَعْتَمَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ لَیْلَۃِ الْعِشَائَ حَتَّی رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَیْقَظُوا ، وَرَقَدُوا وَاسْتَیْقَظُوا ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: الصَّلاَۃَ۔ قَالَ عَطَاء ٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی أَنْظُرَ إِلَیْہِ الآنَ یَقْطُرُ رَأْسُہُ مَائً وَاضِعًا یَدَہُ عَلَی شِقِّ رَأْسِہِ فَقَالَ: ((لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِی لأَمَرْتُہُمْ أَنْ یُصَلُّوہَا کَذَلِکَ)) ۔ قَالَ: فَاسْتَثْبَتُّ عَطَائً کَیْفَ وَضَعَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَدَہُ عَلَی رَأْسِہِ کَمَا أَنْبَأَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَبَدَّدَ لِی عَطَاء ٌ بَیْنَ أَصَابِعِہِ شَیْئًا مِنْ تَبْدِیدٍ ، ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِہِ عَلَی فَرْقِ الرَّأْسِ ، ثُمَّ ضَمَّہَا یُمِرُّہَا کَذَلِکَ عَلَی الرَّأْسِ حَتَّی مَسَّتَ إِبْہَامُہُ طَرَفَ الأُذُنِ مِمَّا یَلِی الْوَجْہَ ، ثُمَّ عَلَی الصُّدْغِ وَنَاحِیَۃِ اللِّحْیَۃِ لاَ یُقَصِّرُ وَلاَ یَبْطُشُ بِشَیْئٍ إِلاَّ کَذَلِکَ۔ قُلْتُ لِعَطَائٍ : کُمْ ذُکِرَ لَکَ أَخَّرَہَا النَّبِیُّ -ﷺ- لَیْلَتَئِذٍ؟ قَالَ لاَ أَدْرِی قَالَ عَطَاء ٌ فَأَحَبُّ إِلَیَّ أَنْ تُصَلِّیَہَا إِمَامًا وَخِلْوًا مُؤَخَّرَۃً کَمَا صَلاَّہَا النَّبِیُّ -ﷺ- لَیْلَتَئِذٍ قَالَ: فَإِنْ شَقَّ عَلَیْکَ ذَلِکَ خِلْوًا أَوْ عَلَی النَّاسِ فِی الْجَمَاعَۃِ وَأَنْتَ إِمَامُہُمْ فَصَلِّہَا وَسْطَۃَ ، لاَ مُعَجَّلَۃً وَلاَ مُؤَخَّرَۃً۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ ہَکَذَا وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۵۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١١٤) عبدالرزاق فرماتے ہیں : ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہ میں نے عطا سے عرض کیا : آپ کے نزدیک عشا کی نماز ادا کرنے کے لیے کون سا وقت زیادہ بہتر ہے ؟ وہ فرمانے لگے : میں نے ابن عباس (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رات عشا کی نماز میں تاخیر کی، حتیٰ کہ لوگ سو گئے پھر بیدار ہوگئے۔ پھر دوبارہ سو گئے۔ جب بیدار ہوئے تو عمر بن خطاب نے کھڑے ہو کر کہا : نماز کا وقت جا رہا ہے۔ عطا کہتے ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا : پھر اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ یہ منظر اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہاتھ کو سر کی ایک طرف رکھے ہوئے تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں انھیں اسی طرح (اس وقت میں) نماز پڑھنے کا حکم دیتا۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے پوچھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ سر مبارک پر کس طرح رکھا تھا ؟ تو عطا نے مجھے سمجھانے کی غرض سے اپنی انگلیوں کے درمیان کچھ فاصلہ کیا یعنی انگلیاں کشادہ کرلیں، پھر انگلیوں کے کناروں کو سر میں مانگ پر رکھا پھر انگلیوں کو ملا کر انھیں اسی طرح سر پر پھیرنے لگے حتیٰ کہ ان کا انگوٹھا چہرے کی طرف والی کان کی لو سے ٹکرایا۔ پھر کنپٹی پر اور داڑھی کے کنارے پر ہاتھ پھیرا۔ وہ نہ کمی کر رہے تھے اور نہ زیادتی۔ میں نے عطا سے پوچھا : اس رات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز کتنی دیر تک موخر کی تھی ؟ انھوں نے فرمایا : میں نہیں جانتا، پھر فرمانے لگے : میرے نزدیک زیادہ محبوب یہ ہے کہ تو اس کو باجماعت یا اکیلے پڑھے تو تاخیر کر کے پڑھ جیسا کہ اس رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھائی تھی۔ اگر تجھ پر اکیلے یا جماعت کے ساتھ لوگوں پر گراں گزرے اور تو ان کا امام ہو تو ان کو درمیانے وقت میں پڑھا، نہ بہت زیادہ جلدی اور نہ ہی بہت زیادہ دیر سے۔

2115

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2115

Sahih

(۲۱۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ: أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ- شُغِلَ عَنِ الصَّلاَۃِ لَیْلَۃً ، فَلَمْ یَخْرُجْ حَتَّی رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَیْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ، ثُمَّ اسْتَیْقَظْنَا فَخَرَجَ عَلَیْنَا وَقَالَ: لَیْسَ أَحَدٌ مِنْ أَہْلِ الأَرْضِ یَنْتَظِرُ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ غَیْرُکُمْ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَحْمُودٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ کِلاَہُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۵۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١١٥) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کا دھیان نہ رہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے نہ نکلے اور ہم بیٹھے بیٹھے سوتے جاگتے رہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : تمہارے علاوہ اہل زمین میں سے کوئی نہیں جو اس نماز کا انتظار کررہا ہو۔

2116

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2116

Sahih

(۲۱۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَکَثْنَا لَیْلَۃً نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لِلْعِشَائِ الآخِرَۃِ ، فَخَرَجَ عَلَیْنَا حِینَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ أَوْ بَعْدَہُ ، فَقَالَ حِینَ خَرَجَ: إِنَّکُمْ تَنْتَظِرُونَ صَلاَۃً مَا یَنْتَظِرُہَا أَہْلُ دِینٍ غَیْرُکُمْ ، وَلَوْلاَ أَنْ یَثْقُلَ عَلَی أُمَّتِی لَصَلَّیْتُ بِہِمْ ہَذِہِ السَّاعَۃَ ۔ قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّی۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۳۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١١٦) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک رات ہم عشا کی نماز کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتظار کرتے رہے۔ جب رات کا تقریباً تہائی حصہ گزر گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : تم ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو کہ تمہارے علاوہ کسی بھی دین وملت والا اس کا انتظار نہیں کر رہا۔ اگر میں اپنی امت پر اس کو بھاری نہ سمجھتا تو میں اس وقت ان کو نماز پڑھایا کرتا، پھر موذن کو حکم دیا، اس نے اقامت کہی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی۔

2117

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2117

Sahih

(۲۱۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی مُغِیرَۃُ بْنُ حَکِیمٍ عَنْ أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ أَخْبَرَتْہُ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ لَیْلَۃٍ بِالْعِشَائِ حَتَّی ذَہَبَ عَامَّۃُ اللَّیْلِ وَحَتَّی نَامَ أَہْلُ الْمَسْجِدِ قَالَتْ ثُمَّ خَرَجَ إِلَیْہِمْ فَصَلَّی بِہِمْ ، وَقَالَ: ((إِنَّہُ لَوَقْتُہَا لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِی))۔ لَفْظُ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَفِی حَدِیثِ حَجَّاجٍ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ أَنَّہَا قَالَتْ وَلَمْ یَقُلْ بِالْعِشَائِ ۔ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ سَوَاء ٌ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ حَجَّاجٍ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۳۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١١٧) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز میں تاخیر کی حتیٰ کہ رات کا ابتدائی حصہ گزر گیا اور مسجد والے بھی سو گئے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی، پھر فرمایا : یہ اس نماز کا افضل وقت ہے ، اگر یہ میری امت پر گراں نہ ہو۔ ” یہ عبدالرزاق کی حدیث کے الفاظ ہیں اور حجاج کی حدیث میں جو ام المومنین حضرت عائشہ (رض) سے منقول ہے کہ انھوں نے عشا کا لفظ نہیں کہا ۔ باقی اسی طرح ہے۔

2118

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2118

Sahih

(۲۱۱۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْمِنْہَالِ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِی إِلَی أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ فَقَالَ لَہُ أَبِی: حَدِّثْنَا کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی الْمَکْتُوبَۃَ؟ قَالَ: کَانَ یُصَلِّی الْہَجِیرَ وَہِیَ الَّتِی تَدْعُونَہَا الأُولَی حِینَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ ، وَیُصَلِّی الْعَصْرَ ثُمَّ یَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَی أَہْلِہِ فِی أَقْصَی الْمَدِینَۃِ وَالشَّمْسُ حَیَّۃٌ وَنَسِیتُ مَا قَالَ فِی الْمَغْرِبِ قَالَ وَکَانَ یَسْتَحِبُّ أَنْ یُؤَخِّرَ الْعِشَائَ قَالَ وَکَانَ یَکْرَہُ النَّوْمَ قَبْلَہَا وَالْحَدِیثَ بَعْدَہَا وَکَانَ یَنْفَتِلُ مِنْ صَلاَۃِ الْغَدَاۃِ حِینَ یَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِیسَہُ وَیَقْرَأُ مِنَ السِّتِّینَ إِلَی الْمِائَۃِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١١٨) عوف بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ابو منہال نے حدیث بیان کی کہ میں اپنے والد کے ہمراہ ابو برزہ اسلمی کے پاس آیا تو میرے والد نے ان سے عرض کیا : ہمیں بتلائیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرض نماز کس وقت میں ادا کرتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز جسے تم پہلی نماز کہتے ہو سورج ڈھلنے کے بعد ادا فرماتے تھے اور عصر کی نماز ایسے وقت میں ادا فرماتے کہ اگر ہم میں سے کوئی مدینہ کے دوسرے کنارے اپنے گھر جاتا تو سورج ابھی چمک رہا ہوتا اور مغرب کا وقت مجھے یاد نہیں رہا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشا کو تاخیر سے ادا کرنا پسند فرماتے تھے اور عشا سے پہلے سونے کو ناپسند سمجھتے اور عشا کے بعد بات چیت کو بھی اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز فجر سے فارغ ہوتے تو (اتنی روشنی ہوجاتی تھی کہ) ہم میں سے ہر ایک اپنے ساتھ بیٹھے آدمی کو پہچان سکتا تھا اور آپ ساٹھ سے سو تک آیات فجر کی نماز میں تلاوت فرماتے تھے۔

2119

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2119

Sahih

(۲۱۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: الْعَلاَئُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمِہْرَجَانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یُؤَخِّرُ صَلاَۃَ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ۔ [حسن۔ اخرجہ مسلم ۶۴۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١١٩) حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشا کی نماز کو موخر کر کے ادا کرتے تھے۔

2120

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2120

Sahih

(۲۱۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ: أَخِّرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ إِلَی قَرِیبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّیْلِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی بِہِمْ وَقَالَ: ((إِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوا فِی صَلاَۃٍ مَا انْتَظَرْتُمُوہَا ، وَلَوْلاَ کِبَرُ الْکَبِیرِ وَضَعْفُ الضَّعِیفِ ۔ قَالَ وَأَحْسَبُہُ قَالَ: وَذُو الْحَاجَۃِ لأَخَّرْتُ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ إِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ))۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَابْنُ أَبِی عَدِیٍّ وَعَبْدُ الْوَارِثِ وَغَیْرُہُمْ عَنْ دَاوُدَ۔ وَرَوَاہُ أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ دَاوُدَ فَقَالَ عَنْ جَابِرٍ بَدَلَ أَبِی سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ تقدم تخریجہ فی الحدیث ۱۷۵۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٠) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (ایک رات) عشا کی نماز میں آدھی رات تک تاخیر کی، پھر تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور فرمایا : تم جب تک نماز کا انتظار کرتے ہو وہ وقت نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔ اگر بوڑھوں اور کمزوروں کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک موخر کردیتا۔ راوی کہتے ہیں : شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاجت مندوں کا ذکر بھی فرمایا۔

2121

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2121

Sahih

(۲۱۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنَا حَرِیزُ بْنُ عُثْمَانَ الرَّحَبِیُّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَیْدٍ السَّکُونِیِّ صَاحِبِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: بَقَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لِصَلاَۃِ الْعَتَمَۃِ لَیْلَۃً فَتَأَخَّرَ بِہَا حَتَّی ظَنَّ الظَّانُّ أَنْ قَدْ صَلَّی أَوْ لَیْسَ بِخَارِجٍ ثُمَّ إِنَّہُ خَرَجَ بَعْدُ فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: یَا نَبِیَّ اللَّہِ لَقَدْ ظَنَنَّا أَنَّکَ قَدْ صَلَّیْتَ یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَوْ لَسْتَ بِخَارِجٍ۔ فَقَالَ لَنَا -ﷺ- : ((أَعْتِمُوا بِہَذِہِ الصَّلاَۃِ ، فَإِنَّکُمْ قَدْ فُضِّلْتُمْ بِہَا عَلَی سَائِرِ الأُمَمِ ، وَلَمْ تُصَلِّہَا أُمَّۃٌ قَبْلَکُمْ)) ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۵/۲۳۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢١) حضرت معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک رات عشا کی نماز کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتظار کر رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تاخیر ہوگئی حتیٰ کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ شاید آپ نے نماز پڑھ لی ہے یا آپ اب تشریف نہیں لائیں گے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائیتو ایک شخص کہنے لگا : اے اللہ کے نبی ! ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ آپ ضرور نماز ادا کرچکے ہوں گے یا آج آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف نہیں لائیں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نماز کو تاخیر سے پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں اس نماز کی وجہ سے سابقہ امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز ادا نہیں کی۔

2122

Sunan Al Kubra Bayhaqi #2122

Sahih

(۲۱۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ: سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَسْتَحِبُّ تَأْخِیرَ الْعِشَائِ وَیَقْرَأُ {وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ} [صحیح۔ تفسیر طبری ۷/ ۱۲۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٢٢) حضرت عبید اللہ بن ابی یزید (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے ابن عباس سے سنا کہ وہ عشا کو تاخیر سے ادا کرنا پسند کرتے تھے اور یہ آیت کریمہ پڑھتے تھے : { وَزُلَفًا مِّنَ اللَّیْلِ } [ھود : ١١٤] (اور رات کی گھڑیوں میں) ۔