Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 380

نماز کا بیان

فوت شدہ نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنا

9 hadiths in this chapter

1893

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1893

Sahih

(۱۸۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَۃِ خَیْبَرَ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ قَالَ: ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الصَّلاَۃَ فَصَلَّی بِہِمُ الصُّبْحَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ ، وَلَیْسَ فِیہِ ذِکْرُ الأَذَانِ وَلَمْ یَذْکُرْ فِیہِ الأَذَانَ أَحَدٌ مَعَ الْوَصْلِ غَیْرُ أَبَانَ الْعَطَّارِ عَنْ مَعْمَرٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۶۸۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٩٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس وقت غزوہ خیبر سے لوٹے ۔۔۔ اس میں ہے : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور بلال (رض) نے حکم دیا تو انھوں نے نماز کی اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو صبح کی نماز پڑھائی۔

1894

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1894

Sahih

(۱۸۹۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعِیدٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: عَرَّسَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِنَا مَرْجِعَہُ مِنْ خَیْبَرَ فَقَالَ: مَنْ یَحْفَظُ عَلَیْنَا الصَّلاَۃَ؟ ۔ فَقَالَ بِلاَلٌ: أَنَا۔ فَنَامُوا حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا بِلاَلُ نِمْتَ؟))۔ قَالَ: أَخَذَ بِنَفْسِی الَّذِی أَخَذَ بِأَنْفَاسِکُمْ ، فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((تَحَوَّلُوا عَنْ مَکَانِکُمُ الَّذِی أَصَابَتْکُمْ فِیہِ الْغَفْلَۃُ))۔ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ نَسِیَ صَلاَۃً فَلْیُصَلِّہَا إِذَا ذَکَرَہَا ، فَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ {أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِذِکْرِی})) ۔ وَرَوَاہُ مَالِکٌ فِی الْمَوْطَإِ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ مُرْسَلاً وَذَکَرَ فِیہِ الأَذَانَ۔ وَالأَذَانُ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ صَحِیحٌ ثَابِتٌ قَدْ رَوَاہُ غَیْرُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٩٤) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے ساتھ پڑاؤ ڈالا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر سے لوٹے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون ہماری نماز کی حفاظت کرے گا ؟ بلال (رض) نے کہا : میں، (رات کو) وہ سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال ! آپ سو گئے تھے ؟ انھوں نے کہا : میری جان کو اس نے پکڑ لیا جس کو آپ کی جانوں نے پکڑا تھا (یعنی نیند نے) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا تو انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی جگہ سے کوچ کرو یہاں تم کو غفلت پہنچی ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے اگر کوئی نماز بھول جائے تو جب اس کو یاد آئے وہ پڑھ لے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا : { أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِذِکْرِی } (ب) مؤطا میں زہری نے ابن مسیب سے مرسلاًنقل کیا ہے اور اس میں اذان کا ذکر کیا ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ اس قصے میں اذان کا کہنا صحیح اور ثابت ہے۔

1895

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1895

Sahih

(۱۸۹۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ و أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: سَرَیْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لَیْلَۃً فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَقَالَ: ((إِنِّی أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلاَۃِ))۔ فَقَالَ بِلاَلٌ: أَنَا أُوقِظُکُمْ۔ فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَاضْطَجَعُوا ، وَأَسْنَدَ بِلاَلٌ ظَہْرَہُ إِلَی رَاحِلَتِہِ فَغَلَبَتْہُ عَیْنَاہُ ، فَاسْتَیْقَظَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا بِلاَلُ أَیْنَ مَا قُلْتَ))۔ قَالَ بِلاَلٌ: یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا أُلْقِیَتْ عَلَیَّ نَوْمَۃٌ مِثْلُہَا قَطُّ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ اللَّہَ قَبَضَ أَرْوَاحَکُمْ حِینَ شَائَ ، وَرَدَّہَا إِلَیْکُمْ حِینَ شَائَ))۔ ثُمَّ قَالَ: ((یَا بِلاَلُ قُمْ فَآذِنِ النَّاسَ بِالصَّلاَۃِ))۔ فَتَوَضَّأَ ، فَلَمَّا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَابْیَضَّتْ قَامَ فَصَلَّی۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَیْلٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۷۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٩٥) سیدنا ابی قتادہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چلے، بعض لوگ کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کاش ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ساتھ پڑاؤ کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے خوف ہے کہیں کہ تم نماز سے سو نہ جاؤ، بلال (رض) نے کہا : میں آپ کو بیدار کردوں گا ، لوگوں نے پڑاؤ کیا اور آرام کے لیے لیٹ گئے اور بلال (رض) نے بھی سواری کے ساتھ ٹیک لگا لی آپ (رض) پر غالب آگئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بیدار ہوئے تو سورج کا کنارہ طلوع ہوچکا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال ! کہاں ہے جو تو نے کہا تھا ؟ بلال (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھ پر اس طرح کی نیند کبھی بھی نہیں ڈالی گئی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال ! کھڑے ہو اور لوگوں کو نماز کی اطلاع دو ، انھوں نے وضو کیا جب سورج بلند اور سفید ہوگیا تو آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔

1896

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1896

Sahih

(۱۸۹۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنِی ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ فِی نَوْمِہِمْ عَنِ الصَّلاَۃِ حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَفِیہِ: ثُمَّ نَادَی بِلاَلٌ بِالصَّلاَۃِ ، فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ صَلَّی صَلاَۃَ الْغَدَاۃِ ، فَصَنَعَ کَمَا کَانَ یَصْنَعُ کُلَّ یَوْمٍ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ عَنْ سُلَیْمَانَ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: ثُمَّ أَذَّنَ بِلاَلٌ بِالصَّلاَۃِ۔[صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٩٦) (الف) عبداللہ بن رباح ابو قتادہ اس نیند کے متعلق جب کہ سورج طلوع ہوچکا تھا طویل حدیث بیان فرماتے ہیں۔ اس میں ہے کہ پھر بلال (رض) نے نماز کے لیے اذان کہی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں صبح کی نماز پڑھائی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح کیا جس طرح ہر روز کیا کرتے تھے۔ (ب) سلیمان سے روایت ہے کہ پھر بلال (رض) نے نماز کے لیے اذان دی۔

1897

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1897

Sahih

(۱۸۹۷) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ: الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِی جَمِیلَۃَ عَنْ أَبِی رَجَائٍ الْعُطَارِدِیِّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: کُنَّا فِی سَفَرٍ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی نَوْمِہِمْ عَنِ الصَّلاَۃِ قَالَ فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ شَکَوْنَا إِلَیْہِ الَّذِی أَصَابَنَا فَقَالَ: لاَ ضَیْرَ أَوْ لاَ ضَرَرَ ۔ شَکَّ عَوْفٌ فَقَالَ: ارْتَحِلُوا ۔ فَارْتَحَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَسَارَ غَیْرَ بَعِیدٍ ، فَنَزَلَ فَدَعَا بِوَضُوئٍ وَنَادَی بِالصَّلاَۃِ فَصَلَّی بِالنَّاسِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَیْلٍ عَنْ عَوْفٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۳۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٩٧) سیدنا عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے اور انھوں نے نماز سے سو جانے کے متعلق حدیث بیان کی اور فرمایا : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے تو ہم نے اس کی شکایت کی جو ہم کو پہنچی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی نقصان نہیں ہے عوف کو شک ہوا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیر کے الفاظ بولے ہیں یا ضرر کے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہاں سے کوچ کرو اور آپ خودبھی سوار ہوئے اور چل پڑے لیکن تھوڑی دور چلنے کے بعد آپ اترے اور پانی منگوایا، لوگوں کو نماز کے لیے پکارا گیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔

1898

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1898

Sahih

(۱۸۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ فِی سَفَرٍ فَنَامَ عَنِ الصَّلاَۃِ حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَالَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّی اسْتَعَلَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ فَصَلَّی بِہِمْ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ہِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ۔ [صحیح لغیرہٖ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٩٨) سیدنا عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ نماز سے سو گئے، حتی کہ سورج طلوع ہوگیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے اذان دی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انتظار کیا یہاں تک کہ سورج بلند ہوگیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو نماز پڑھائی۔

1899

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1899

Sahih

(۱۸۹۹) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ زَائِدَۃَ عَنْ سِمَاکٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سِرْنَا لَیْلَۃً مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی نَوْمِہِمْ عَنِ الصَّلاَۃِ حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَقَالَ فِیہِ: فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ احمد ۱/۴۵۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٩٩) سیدنا ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چلے پھر انھوں نے نماز سے سو جانے کے متعلق حدیث بیان کی، یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ اس میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی۔

1900

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1900

Sahih

(۱۹۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ أَخْبَرَنَا عَیَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ کُلَیْبَ بْنَ صُبَیْحٍ حَدَّثَہُ أَنَّ الزِّبْرِقَانَ حَدَّثَہُ عَنْ عَمِّہِ عَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ ، فَنَامَ وَلَمْ یُصَلِّ الصُّبْحَ حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَلَمْ یَسْتَیْقِظْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِہِ حَتَّی آذَاہُمْ حَرُّ الشَّمْسِ، فَأَمَرَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَتَنَحَّوْا عَنْ ذَلِکَ الْمَکَانِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ ، ثُمَّ صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ ، وَأَمَرَ أَصْحَابَہُ فَصَلَّوْا رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الصَّلاَۃَ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ (ت) وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَذِی مِخْبَرٍ الْحَبَشِیِّ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مَرْفُوعًا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۴۴۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٠٠) عمرو بن امیہ ضمری سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کسی سفر میں تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے اور صبح کی نماز نہیں پڑھی، یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ میں سے کوئی بھی بیدار نہیں ہوا، جب سورج کی گرمی نے ان کو تکلیف دی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ اس جگہ سے کوچ کر جائیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے اذان دی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی دو رکعتیں پڑھی اور اپنے صحابہ کو حکم دیا، انھوں نے بھی فجر کی دو رکعتیں پڑھی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم دیا تو انھوں نے نماز کی اقامت کہی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی۔

1901

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1901

Zaeef

(۱۹۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ زُیَیْدَ بْنَ الصَّلْتِ خَرَجَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی الْجُرْفِ ، فَنَظَرَ فَإِذَا ہُوَ قَدِ احْتَلَمَ فَقَالَ: وَاللَّہِ مَا أَظُنُّ إِلاَّ وَأَنَّی قَدِ احْتَلَمْتُ وَمَا شَعَرْتُ ، وَصَلَّیْتُ وَمَا اغْتَسَلْتُ۔ قَالَ: فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَی فِی ثَوْبِہِ وَنَضَحَ مَا لَمْ یَرَ ، وَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَ ارْتِفَاعِ الضُّحَی مُتَمَکِّنًا۔ [ضعیف۔ أخرجہ عبد الرزاق ۳۶۴۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٠١) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ زبید بن صلت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ جرف کی طرف نکلے۔ انھوں نے دیکھا کہ ان کو احتلام ہوگیا ہے۔ کہنے لگے : اللہ کی قسم ! میں گمان نہیں کرتا تھا مجھے احتلام ہوگیا ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں تھا اور میں نے بغیر غسل کیے نماز پڑھی۔ پھر انھوں نے غسل کیا اور جو اپنے کپڑوں میں دیکھا اس کو دھویا اور جو نہیں دیکھا اس پر چھینٹے مارے، پھر اذان دی اور اقامت کہی، پھر انھوں نے سورج کے بلند کے ہونے کے بعد اطمینان سے نماز ادا کی۔