Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 381

نماز کا بیان

اکیلے اور جماعت کی حالت میں فرضی نمازوں کے لیے اذان اور اقامت کا طریقہ

7 hadiths in this chapter

1902

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1902

Sahih

(۱۹۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُغِیرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ ، وَکَانَ یَسْتَمِعُ الأَذَانَ ، فَإِنْ سَمِعَ الأَذَانَ أَمْسَکَ وَإِلاَّ أَغَارَ قَالَ فَسَمِعَ رَجُلاً یَقُولُ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((عَلَی الْفِطْرَۃِ))۔ ثُمَّ قَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ ۔ قَالَ: فَنَظَرُوا فَإِذَا ہُوَ رَاعِی مِعْزَی۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی خَیْثَمَۃَ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۸۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٠٢) سیدنا انس (رض) سے روایت کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت حملہ کرتے تھے جب فجر طلوع ہوجاتی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذان سنتے تھے، اگر اذان سنتے تو رک جاتے اور اگر نہ سنتے تو حملہ کردیتے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص سے سنا کہہ رہا تھا : اللہ اکبر اللہ اکبر۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ فطرت پر ہے پھر اس نے کہا : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آگ سے نکل گیا۔ صحابہ نے دیکھا وہ چراوہا تھا اور الگ بیٹھا ہوا تھا۔

1903

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1903

Sahih

(۱۹۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ وَمُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُغِیرُ عِنْدَ صَلاَۃِ الْفَجْرِ ، فَکَانَ یَسْتَمِعُ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَکَ وَإِلاَّ أَغَارَ ، فَاسْتَمَعَ ذَاتَ یَوْمٍ فَسَمِعَ رَجُلاً یَقُولُ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الْفِطْرَۃَ الْفِطْرَۃَ))۔ فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔ فَقَالَ : خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی خَیْثَمَۃَ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٠٣) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز فجر کے وقت حملہ کرتے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سنتے تھے، اگر اذان کی آواز سن لیتے تو رک جاتے اور اگر نہ سنتے تو حملہ کردیتے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن آواز سنی کہ کوئی کہہ رہا تھا اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ فطرت پر ہے اس نے کہا : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔ آپ نے فرمایا : تو آگ سے نکل گیا۔

1904

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1904

Sahih

(۱۹۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ إِذْ سَمِعْنَا مُنَادِیًا یَقُولُ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: عَلَی الْفِطْرَۃِ۔ فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((خَرَجَ مِنَ النَّارِ))۔ قَالَ: فَابْتَدَرْنَاہُ فَإِذَا ہُوَ صَاحِبُ مَاشِیَۃٍ أَدْرَکَتْہُ الصَّلاَۃُ فَنَادَی بِہَا۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۱/۴۰۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٠٤) سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، اچانک ہم نے اعلان کرنے والے کو سنا جو کہہ رہاتھا : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَر، ُ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فطرت پر ہے۔ اس نے کہا : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آگ سے نکل گیا۔ فرماتے ہیں : ہم نے اس کی طرف جلدی کی تو وہ مویشی ولاا تھا۔ نماز کا وقت ہوگیا تو اس نے آواز دی۔

1905

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1905

Sahih

(۱۹۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا عُشَّانَۃَ الْمَعَافِرِیَّ حَدَّثَہُ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((یَعْجَبُ رَبُّکَ مِنْ رَاعِی غَنَمٍ فِی رَأْسِ شَظِیَّۃٍ لِلْجَبَلِ ، یُؤَذِّنُ بِالصَّلاَۃِ وَیُصَلِّی ، فَیَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَی عَبْدِی ہَذَا یُؤَذِّنُ وَیُقِیمُ لِلصَّلاَۃِ یَخَافُ مِنِّی قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِی وَأَدْخَلْتُہُ جَنَّتِی))۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۲۰۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٠٥) عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ تیرا رب بکریوں کے چروا ہے سے پہاڑ کی بلندی چوٹی میں تعجب کرتا ہے جو نماز کی اذان دیتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے اس بندے کی طرف دیکھو اذان دیتا ہے اور نماز کی اقامت کہتا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا اور اس کو جنت میں داخل کردیا۔

1906

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1906

Sahih

(۱۹۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ أَبِی طَالِبٍ بِبَغْدَادَ فِی سَنَۃِ ثَمَانِ وَسِتِّینَ وَمِائَتَیْنِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: لاَ یَکُونُ رَجُلٌ بِأَرْضِ فِیٍّ فَیَتَوَضَّأُ أَوْ یَتَیَمَّمُ صَعِیدًا طَیِّبًا ، فَیُنَادِی بِالصَّلاَۃِ ثُمَّ یُقِیمُہَا فَیُصَلِّی - وَفِی حَدِیثِ أَبِی الْعَبَّاسِ فَیُقِیمُہَا - إِلاَّ أَمَّ مِنْ جُنُودِ اللَّہِ مَنْ لاَ یُرَی قُطْرَاہُ ، أَوْ قَالَ طَرَفَاہُ شَکَّ التَّیْمِیُّ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۷۶۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٠٦) سلیمان سے روایت ہے کہ کوئی شخص کسی سائے والی زمین (جنگل وغیرہ) میں وضو کرتا ہے یا پاک مٹی سے تیمم کرتا ہے، پھر وہ نماز کے لیے اذان دیتا ہے، پھر اقامت کہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ سیدنا ابن عباس (رض) کی حدیث میں ہے : وہ اقامت کہتا ہے تو اللہ کے لشکروں کی امامت کر اتا ہے، جن کے کناروں کو دیکھا نہیں جاسکتا۔

1907

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1907

Sahih

(۱۹۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مَحُمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: لاَ یَکُونُ رَجُلٌ بِأَرْضِ فِیٍّ فَیَتَوَضََّأُ إِنْ وَجَدَ مَائً وَإِلاَّ تَیَمَّمَ ، فَیُنَادِی بِالصَّلاَۃِ ثُمَّ یُقِیمُہَا إِلاَّ أَمَّ مِنْ جُنُودِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ مَا لاَ یُرَی طَرَفَاہُ ، أَوْ قَالَ طَرَفُہُ۔ ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ مَوْقُوفٌ۔ وَقَدْ رُوِیَ مَرْفُوعًا وَلاَ یَصِحُّ رَفْعُہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٠٧) سلیمان سے روایت ہے کہ کوئی شخص کسی سائے والی زمین میں وضو کرتا ہے، اگر اس نے پانی پا لیا تو درست ورنہ وہ تیمم کرتا ہے اور نماز کا اعلان کرتا ہے، پھر اقامت کہتا ہے تو گویا اس نے اللہ کے لشکروں کی امامت کرائی ہے جس کناروں کو دیکھا نہیں جاسکتا۔

1908

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1908

Zaeef

(۱۹۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَیْرُوتِیُّ بِبَیْرُوتَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ یَعْنِی ابْنَ سُوَیْدٍ الرَّمْلِیَّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ یَعْنِی ابْنَ النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ یَعْنِی ابْنَ غُصْنٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَکُونُ بِأَرْضِ قِیٍّ فَیُؤَذِّنُ بِحَضْرَۃِ الصَّلاَۃِ ، وَیُقِیمُ الصَّلاَۃَ فَیُصَلِّی إِلاَّ صَفَّ خَلْفَہُ مِنَ الْمَلاَئِکَۃِ مَا لاَ یُرَی قُطْرَاہُ ، یَرْکَعُونَ بِرُکُوعِہِ وَیَسْجُدُونَ بِسُجُودِہِ ، وَیُؤَمِّنُونَ عَلَی دُعَائِہِ))۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٠٨) سیدنا سلمان فارسی (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کوئی شخص سائے والی زمین میں نماز کے وقت اذان دیتا ہے اور نماز کی اقامت کہتا ہے، وہ نماز پڑھتا ہے مگر اس کے پیچھے فرشتے صف بنا لیتے ہیں جن کے کناروں کو دیکھا نہیں جاسکتا، وہ اس کے رکوع کے ساتھ رکوع کرتے ہیں اور اس کے سجدے کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں اور اس کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔