Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 377

نماز کا بیان

کوئی شخص اذان دے اور اقامت کوئی دوسرا کہے

6 hadiths in this chapter

1869

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1869

Zaeef

(۱۸۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ قَالَ عَلِیٌّ وَحَدَّثَنِی جَامِعُ بْنُ سَوَادَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ نُعَیْمٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِیَّ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَذَّنْتُ بِالْفَجْرِ ، فَجَائَ بِلاَلٌ یُقِیمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا بِلاَلُ إِنَّ أَخَا صُدَائَ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَہُوَ یُقِیمُ))۔ وَلَہُ شَاہِدٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ وَفِی إِسْنَادِہِ ضَعْفٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٦٩) زیاد بن حارث صدائی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے فجر کی اذان دی تو سیدنا بلال (رض) آئے وہ اقامت کہنے لگے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال ! صداء کے بھائی نے اذان دی ہے اور جو اذان دے وہی اقامت کہے۔

1870

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1870

Zaeef

(۱۸۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَمِیلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ الْمُقْرِئُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ رَاشِدٍ الْمَازِنِیُّ حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ فِی مَسِیرٍ لَہُ فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ ، فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَطَلَبُوا بِلاَلاً فَلَمْ یَجِدُوہُ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَأَذَّنَ ، ثُمَّ جَائَ بِلاَلٌ فَقَالَ الْقَوْمُ إِنَّ رَجُلاً قَدْ أَذَّنَ فَمَکَثَ الْقَوْمُ ہَوْنًا ، ثُمَّ إِنَّ بِلاَلاً أَرَادَ أَنْ یُقِیمَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((مَہْلاً یَا بِلاَلُ فَإِنَّمَا یُقِیمُ مَنْ أَذَّنَ))۔ تَفَرَّدَ بِہِ سَعِیدُ بْنُ رَاشِدٍ وَہُوَ ضَعِیفٌ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٧٠) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ایک سفر میں تھے کہ نماز کا وقت ہوگیا، لوگوں نے پڑاؤ ڈالا اور بلال (رض) کو تلاش کیا تو وہ نہ ملے پھر ایک شخص کھڑا ہوا اور اذان دی، پھر بلال (رض) آئے تو لوگوں نے کہا : اذان ایک دوسرے شخص نے دی ہے اور لوگ ٹھہرے رہے، پھر بلال (رض) نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں فرمایا : اے بلال ! رک جا اقامت وہی کہے جو اذان دے۔

1871

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1871

Sahih

(۱۸۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنِی الشَّیْبَانِیُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ قَالَ: رَأَیْتُ أَبَا مَحْذُورَۃَ جَائَ وَقَدْ أَذَّنَ إِنْسَانٌ قَبْلَہُ فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ۔ وَہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ شَاہِدٌ لَمَّا تَقَدَّمَ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۲۲۴۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٧١) عبد العزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے ابو محذورہ (رض) کو دیکھا وہ آئے اور ان سے پہلے کسی شخص نے اذان دے دی پھر انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی۔

1872

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1872

Zaeef

(۱۸۷۲) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْوَاقِفِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ عَمِّہِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ: أَنَّہُ رَأَی الأَذَانَ فِی الْمَنَامِ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ قَالَ فَأَذَّنَ بِلاَلٌ قَالَ وَجَائَ عَمِّی إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَرَی الرُّؤْیَا وَیُؤَذِّنُ بِلاَلٌ۔ قَالَ: ((فَأَقِمْ أَنْتَ))۔ فَأَقَامَ عَمِّی۔ ہَکَذَا رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو۔ وَرَوَاہُ مَعْنٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْوَاقِفِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ: فِیہِ نَظَرٌ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الطیالسی ۳/۱۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٧٢) سیدنا عبداللہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے خواب میں اذان کا طریقہ دیکھا، پھر وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات بتلائی، فرماتے ہیں کہ بلال (رض) نے اذان دی اور میرے چچا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے بھی خواب دیکھا اور بلال (رض) اذان دے رہے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو کھڑا ہو، پھر میرے چچا نے اقامت کہی۔

1873

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1873

Zaeef

(۱۸۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَّادُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ أَبِی الْعُمَیْسِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ کَیْفَ رَأَیْتُ الأَذَانَ فَقَالَ: ((أَلْقِہِ عَلَی بِلاَلٍ ، فَإِنَّہُ أَنْدَی مِنْکَ صَوْتًا))۔ فَلَمَّا أَذَّنَ بِلاَلٌ نَدِمَ عَبْدُ اللَّہِ ، فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَقَامَ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ أَبُو الْعُمَیْسِ۔ وَرُوِیَ عَنْ زَیْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ کَذَلِکَ۔ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ الْفَقِیہُ یُضَعِّفُ ہَذَا الْحَدِیثِ بِمَا سَبَقَ ذِکْرُہُ۔ وَبِمَا۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٧٣) سیدنا عبداللہ بن زید اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی کہ میں نے کس طرح اذان دیکھی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بلال (رض) کو سکھا دے، اس کی آواز تجھ سے زیادہ ہے۔ “ جب بلال (رض) نے اذان دی تو سیدنا عبداللہ (رض) پریشان ہوئے، انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو انھوں نے اقامت کہی۔

1874

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1874

Zaeef

(۱۸۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ أَبِی عُمَیْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ حَدَّثَنِی عُمُومَۃٌ لِی مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالُوا: اہْتَمَّ النَّبِیُّ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَقَالَ فِیہِ: وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدٍ مَرِیضًا یَوْمَئِذٍ ، وَالأَنْصَارُ تَزْعُمُ أَنَّہُ لَوْ لَمْ یَکُنْ مَرِیضًا لَجَعَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُؤَذِّنًا۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَلَوْ صَحَّ حَدِیثُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ وَصَحَّ حَدِیثُ الصُّدَائِیِّ کَانَ الْحُکْمُ لِحَدِیثِ الصُّدَائِیِّ لِکَوْنِہِ بَعْدَ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٧٤) سیدنا ابو عمیر بن انس فرماتے ہیں کہ مجھ کو میرے پھوپھا جان جو انصار ی تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی تھے نے بیان فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہتمام کیا۔۔۔ اس میں ہے کہ عبداللہ بن زید ان دنوں میں بیمار تھے اور انصار گمان کرتے تھے کہ وہ مریض نہیں تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں مؤذن بنادیا۔