Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 374

نماز کا بیان

اذان میں آواز کو بلند کرنا

3 hadiths in this chapter

1860

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1860

Sahih

(۱۸۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی صَعْصَعَۃَ الأَنْصَارِیِّ ثُمَّ الْمَازِنِیِّ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ قَالَ: إِنِّی أَرَاکَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِیَۃَ ، فَإِذَا کُنْتَ فِی غَنَمِکَ أَوْ بَادِیَتِکَ فَأَذَّنْتَ لِلصَّلاَۃِ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالنِّدَائِ ، فَإِنَّہُ لاَ یَسْمَعُ مَدَی صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلاَ إِنْسٌ وَلاَ شَیْئٌ إِلاَّ شَہِدَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ قَالَ أَبُو سَعِیدٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ۔ وَفِی حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی صَعْصَعَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ قَالَ لَہُ وَقَالَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلاَۃِ فَارْفَعْ صَوْتَکَ فَإِنَّہُ لاَ یَسْمَعُ مَدَی صَوْتِکَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۱۲۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٦٠) (الف) سیدنا ابوسعید خدری (رض) فرماتے تھے کہ میں تجھ کو دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور دیہات کو پسند کرتے ہو، لہٰذا جب تم اپنی بکریوں یا دیہات میں ہو تو نماز کے لیے اذان کہو اور اذان میں اپنی آواز کو بلند کرو، یقیناً موذن کی آواز کو جن، انسان اور جو چیز بھی سنتی ہے، وہ قیامت کے دن اس کی گواہی دیں گے۔ ابو سعید کہتے ہیں : میں نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے۔ (ب) عبد الرحمن بن عبداللہ بن أبی صعصعہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابو سعید خدری (رض) نے ان سے کہا : تو نماز کے لیے اذان دے اور اپنی آواز کو بلند کر اس لیے کہ وہ آپ کی بلند آواز نہیں سن پاتے۔

1861

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1861

Sahih

(۱۸۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عُثْمَانَ قَالَ شُعْبَۃُ: وَکَانَ یُؤَذِّنُ عَلَی أَطْوَلِ مَنَارَۃٍ بِالْکُوفَۃِ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو یَحْیَی وَأَنَا أَطُوفُ مَعَہُ یَعْنِی حَوْلَ الْبَیْتِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَسَمِعْتُہُ مِنْ فِیہِ یَقُولُ: ((الْمُؤَذِّنُ یُغْفَرُ لَہُ مَدَّ صَوْتِہِ ، وَیَشْہَدُ لَہُ کُلُّ رَطْبٍ وَیَابِسٍ ، وَشَاہِدُ الصَّلاَۃِ یُکْتَبُ لَہُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَۃً وَیُکَفَّرُ عَنْہُ مَا بَیْنَہُمَا))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ أبو داؤد ۵۱۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٦١) شعبہ فرماتے ہیں اور وہ کوفہ کے لمبے مینار پر اذان دیتے تھے : مجھ کو ابو یحییٰ نے بیان کیا اور میں ان کے ساتھ چکر لگا رہا تھا (یعنی بیت اللہ کا طواف کررہا تھا) انھوں نے کہا میں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے سنا ہے کہ موذن کو اس کی آواز کی لمبائی کی مقدار معاف کردیا جاتا ہے اور ہر تر اور خشک چیز اس کے لیے گواہی دیتی ہے اور نماز میں حاضر ہونے والے کے لیے پچیس نیکیاں لکھ دیں جاتی ہیں اور ان (نمازوں) کے درمیان (کے گناہوں کے لیے) کفارہ ہوجاتا ہے۔

1862

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1862

Sahih

(۱۸۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدِ بْنُ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ أَبِی مَحْذُورَۃَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عُمَرُ مَکَّۃَ أَذَّنْتُ فَقَالَ لِی عُمَرُ: یَا أَبَا مَحْذُورَۃَ أَمَا خِفْتَ أَنْ یَنْشَقَّ مُرَیْطَاؤُکَ۔ [حسن۔ أخرجہ عبد الرزاق ۲۰۶۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٦٢) سیدنا ابو محذورہ (رض) سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر (رض) مکہ آئے تو میں نے اذان دی، مجھ کو عمر (رض) نے فرمایا : اے ابو محذورہ ! کیا تو ڈر گیا کہ زور لگانے سے تیری آواز پھٹ جائے گی۔