Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 373

نماز کا بیان

صرف باوضو شخص اذان دے

2 hadiths in this chapter

1858

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1858

Zaeef

(۱۸۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَارِثِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ یَحْیَی عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ: ((لاَ یُؤَذِّنُ إِلاَّ مُتَوَضِّئٌ))۔ ہَکَذَا رَوَاہُ مُعَاوِیَۃُ بْنُ یَحْیَی الصَّدَفِیُّ۔ (ج) وَہُوَ ضَعِیفٌ۔ وَالصَّحِیحُ رِوَایَۃُ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ الأَیْلِیِّ وَغَیْرِہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: لاَ یُنَادِی بِالصَّلاَۃِ إِلاَّ مُتَوَضِّئٌ۔ [منکر۔ أخرجہ الترمذی ۲۰۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٨) (الف) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” صرف باوضو شخص اذان دے۔ “ (ب) زہری سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : نماز کی اذان صرف باوضو شخص دے۔

1859

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1859

Zaeef

(۱۸۵۹) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنِ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُمَیْرُ بْنُ عِمْرَانَ الْعَلاَّفُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُتْبَۃَ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: حَقٌّ وَسُنَّۃٌ مَسْنُونَۃٌ أَنْ لاَ یُؤَذِّنُ إِلاَّ وَہُوَ طَاہِرٌ وَلاَ یُؤَذِّنُ إِلاَّ وَہُوَ قَائِمٌ۔ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ عَنْ أَبِیہِ مُرْسَلٌ۔ (ق) وَہُوَ قَوْلُ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ وَقَالَ إِبْرَاہِیمُ النَّخَعِیُّ کَانُوا لاَ یَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ یُؤَذِّنَ الرَّجُلُ عَلَی غَیْرِ وُضُوئٍ۔ وَبِہِ قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِیُّ وَقَتَادَۃُ وَالْکَلاَمُ فِیہِ یَرْجِعُ إِلَی اسْتِحْبَابِ الطَّہَارَۃِ فِی الأَذْکَارِ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الطَّہَارَۃِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٩) (الف) عبد الجبار بن وائل اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حق اور سنت یہ ہے کہ صرف باوضوشخص کھڑے ہو کر اذان دے۔ (ب) عبدالجبار بن وائل اپنے والد سے مرسل روایت نقل کرتے ہیں۔ یہ عطاء بن ابی رباح کا قول ہے۔ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ وہ بغیر وضو اذان دینے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے، یہی قول حسن بصری اور قتادہ کا ہے ، لیکن وضو کے ساتھ اذان مستحب ہے یہ بات کتاب الطہارۃ میں گزر چکی ہے۔