Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 356

نماز کا بیان

وقت سے پہلے اذان دینے کی ممانعت کا بیان

8 hadiths in this chapter

1797

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1797

Zaeef

(۱۷۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِیرُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُوسَی حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ بِلاَلاً أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یَرْجِعَ فَیُنَادِیَ : أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ ۔ ثَلاَثًا۔ زَادَ مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ فِی حَدِیثِہِ فَرَجَعَ فَنَادَی : أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ ۔ ہَذَا حَدِیثٌ تَفَرَّدَ بِوَصْلِہِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَیُّوبَ۔ وَرُوِیَ أَیْضًا عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَرْبِیٍّ عَنْ أَیُّوبَ إِلاَّ أَنَّ سَعِیدًا ضَعِیفٌ وَرِوَایَۃُ حَمَّادٍ مُنْفَرِدَۃٌ ، وَحَدِیثُ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَصَحُّ مِنْہَا وَمَعَہُ رِوَایَۃُ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ۔ [منکر۔ أخرجہ أبوداؤد ۵۳۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٧) (الف) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ بلال (رض) نے فجر طلوع ہونے سے پہلے اذان دی، انھیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ واپس لوٹ کر اعلان کرے کہ خبردار بندہ سویا ہوا تھا خبردار بندہ سویا ہوا تھا، تین بار کہا۔ (ب) موسیٰ بن اسماعیل کی حدیث میں ہے کہ خبردار بند، سویا ہوا تھا۔ اس حدیث میں ایوب سے موصولاً بیان کرنے میں حماد بن سلمہ متفرد ہے۔

1798

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1798

Zaeef

(۱۷۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ وَطَالُوتُ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ نَحْوَ حَدِیثِ أَبِی عُمَرَ الضَّرِیرِ۔ (ج) ثُمَّ قَالَ قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ أَخْطَأَ حَمَّادٌ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ وَالصَّحِیحُ حَدِیثُ عُبَیْدِ اللَّہِ یَعْنِی عَنْ نَافِعٍ وَحَدِیثُ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٨) علی بن مدینی کہتے ہیں کہ حماد نے اس حدیث میں غلطی کی ہے اور صحیح حدیث عبید اللہ کی ہے، یعنی عن نافع اور زہری کی حدیث عن سالم ہے۔

1799

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1799

Sahih

(۱۷۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرٍ الْمُطَرِّزَ یَقُولُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی یَقُولُ حَدِیثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ بِلاَلاً أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ ۔ شَاذٌّ غَیْرُ وَاقِعٍ عَلَی الْقَلْبِ وَہُوَ خِلاَفُ مَا رَوَاہُ النَّاسُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رَوَاہُ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ أَیُّوبَ قَالَ أَذَّنَ بِلاَلٌ مَرَّۃً بِلَیْلٍ فَذَکَرَہُ مُرْسَلاً۔ وَرُوِیَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ مَوْصُولاً وَہُوَ ضَعِیفٌ لاَ یَصِحُّ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٩) (الف) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ بلال (رض) نے طلوع فجر سے پہلے اذان دی۔ یہ روایت شاذ ہے، اس میں قلب نہیں ہے، یہ اس روایت کے خلاف ہے جسے لوگ سیدنا ابن عمر (رض) سے نقل کرتے ہیں۔ (ب) شیخ کہتے ہیں کہ معمر بن راشد نے ایوب سے روایت کیا ہے کہ سیدنا بلال (رض) نے رات کو اذان کہی، پھر انھوں نے مرسل روایت بیان کی عبدالعزیز بن ابورواد عن نافع موصول روایت ہے اور ضعیف ہے۔

1800

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1800

Zaeef

(۱۸۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَرَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرِ بْنِ خَالِدٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی مَحْذُورَۃَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ بِلاَلاً أَذَّنَ بِلَیْلٍ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((مَا حَمَلَکَ عَلَی ذَلِکَ))۔ قَالَ اسْتَیْقَظْتُ وَأَنَا وَسْنَانُ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ الْفَجْرَ قَدْ طَلَعَ ، فَأَذَّنْتُ فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یُنَادِیَ فِی الْمَدِینَۃِ ثَلاَثًا : إِنَّ الْعَبْدَ رَقَدَ ۔ ثُمَّ أَقْعَدَہُ إِلَی جَنْبِہِ حَتَّی طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ قَالَ : ((قُمِ الآنَ))۔ قَالَ ثُمَّ رَکَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ۔ وَرَوَاہُ أَیْضًا عَامِرُ بْنُ مُدْرِکٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ مَوْصُولاً مُخْتَصَرًا وَہُوَ وَہْمٌ وَالصَّوَابُ رِوَایَۃُ شُعَیْبِ بْنِ حَرْبٍ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٠) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے بلال (رض) نے رات کو اذان دی، انھیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ کو اس (اذان) پر کس نے ابھارا تھا ؟ انھوں نے کہا : میں اور وسنان بیدار ہوئے، میں نے گمان کیا کہ فجر طلوع ہوچکی ہے، میں نے اذان دے دی۔ انھیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ مدینہ میں تین مرتبہ اعلان کرے کہ بندہ سو گیا تھا، پھر اپنے پہلو کی جانب بیٹھ جا، یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجائے، پھر فرمایا : اب کھڑا ہو، فرماتے ہیں کہ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی دو رکعتیں پڑھی۔

1801

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1801

Sahih

(۱۸۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی رَوَّادٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ مُؤَذِّنٍ لِعُمَرَ یُقَالُ لَہُ مَسْرُوحٌ أَذَّنَ قَبْلَ الصُّبْحِ فَأَمَرَہُ عُمَرُ۔ ذَکَرَ نَحْوَہُ یَعْنِی نَحْوَ حَدِیثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ أَوْ غَیْرِہِ أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ یُقَالُ لَہُ مَسْرُوحٌ أَوْ غَیْرُہُ۔ وَرَوَاہُ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ لِعُمَرَ مُؤَذِّنٌ یُقَالُ لَہُ مَسْعُودٌ فَذَکَرَ نَحْوَہُ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَہَذَا أَصَحُّ مِنْ ذَاکَ یَعْنِی حَدِیثَ عُمَرَ أَصَحُّ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّہُ قَالَ: عَجِّلُوا الأَذَانَ بِالصُّبْحِ یُدْلِجُ الْمُدْلِجُ وَیَخْرُجُ الْعَامِرَۃُ۔ [حسن۔ أخرجہ أبو داؤد ۵۳۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠١) (الف) نافع سیدنا عمر (رض) کے مؤذن سے نقل فرماتے ہیں، جس کو مسروح کہا جاتا تھا، اس نے صبح سے پہلے اذان دے دی، سیدنا عمر (رض) نے اس کو حکم دیا۔۔۔ آگے حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح حدیث بیان کی۔ (ب) سیدنا عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ صبح کی اذان جلدی دو تاکہ داخل ہونے والا داخل ہوجائے اور گھر میں رہنے والا اٹھ پڑے۔ (ب) امام ابوداؤد فرماتے ہیں : حماد بن زید نے عبیداللہ بن عمر سے انھوں نے نافع وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ سیدنا عمر (رض) کا مقرر کردہ مؤذن تھا جس کا نام مسروح یا اس کے علاوہ اور کوئی تھا۔ (ج) دراوردی، نے عبیداللہ بن عمر سے انھوں نے نافع سے اور وہ سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر (رض) کا ایک مؤذن تھا، اس کا نام مسعود تھا۔ انھوں نے بھی پچھلی روایت کی طرح بیان کیا ہے۔ (د) امام ابوداؤد کہتے ہیں : سیدنا عمر (رض) والی یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔

1802

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1802

Zaeef

(۱۸۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الإِمَامُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ الْفِرَیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ شَدَّادٍ مَوْلَی عِیَاضٍ قَالَ: جَائَ بِلاَلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ یَتَسَحَّرُ فَقَالَ : ((لاَ تُؤَذِّنْ حَتَّی تَرَی الْفَجْرَ))۔ ثُمَّ جَائَہُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ : ((لاَ تُؤَذِّنْ حَتَّی یَطْلُعَ الْفَجْرُ))۔ ثُمَّ جَائَہُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ : ((لاَ تُؤَذِّنْ حَتَّی تَرَی الْفَجْرَ ہَکَذَا))۔ وَجَمَعَ بَیْنَ یَدَیْہِ ثُمَّ فَرَّقَ بَیْنَہُمَا۔ وَہَذَا مُرْسَلٌ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجْسْتَانِیُّ: شَدَّادٌ مَوْلَی عِیَاضٍ لَمْ یُدْرِکْ بِلاَلاً أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ عَنْ أَبِی دَاوُدَ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رُوِیَ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ کُلِّہَا ضَعِیفَۃٍ قَدْ بَیَّنَّا ضَعْفَہَا فِی کِتَابِ الْخِلاَفِ۔ وَإِنَّمَا یُعْرَفُ مُرْسَلاً مِنْ حَدِیثِ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ وَغَیْرِہِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ أبو داؤد ۵۳۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٢) (الف) شداد جو عیاض کا غلام تھا کہتا ہے کہ سیدنا بلال (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ سحری کر رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اذان نہ دے یہاں تک کہ فجر دیکھ لے، پھر اگلے دن آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اذان نہ دے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجائے، پھر اگلے دن آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اذان نہ دے یہاں تک کہ تو فجر دیکھ لے اس طرح اور اپنے ہاتھوں کو جمع کیا پھر ان دونوں کو جدا کردیا۔ (ب) امام ابوداؤد کہتے ہیں : عیاض آزاد کردہ غلام شداد کی ملاقات سیدنا بلال (رض) سے ثابت نہیں ہے۔ یہ حدیث ابو علی روزباری نے ابوبکر بن دراسہ کے واسطے سے ابوداؤد سے نقل کی ہے۔ (ج) شیخ کہتے ہیں : اسے بعض دوسری اسناد سے بھی نقل کیا گیا ہے جو تمام ضعیف ہیں، ہم نے ان کا ضعف کتاب الخلاف میں بیان کیا ہے۔ حمید بن ہلال وغیرہ کی حدیث مرسل ہے۔

1803

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1803

Zaeef

(۱۸۰۳) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ: أَذَّنَ بِلاَلٌ بِلَیْلٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ارْجِعْ إِلَی مَقَامِکَ فَنَادِ ثَلاَثًا أَلاَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ))۔ وَہُوَ یَقُولُ: لَیْتَ بِلاَلاً لَمْ تَلِدْہُ أُمُّہُ وَابْتَلَّ مِنْ نَضَحِ دَمِ جَبِینِہِ فَنَادَی ثَلاَثًا: إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ مُرْسَلاً وَالأَحَادِیثُ الصِّحَاحُ الَّتِی تَقَدَّمَ ذِکْرُہَا مَعَ فِعْلِ أَہْلِ الْحَرَمَیْنِ أَوْلِی بِالْقَبُولِ مِنْہُ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [منکر۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۲۴۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٣) حمید سے روایت ہے کہ سیدنا بلال (رض) نے رات کو اذان دی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی جگہ واپس جا اور تین مرتبہ اعلان کر کہ بندہ سو گیا تھا، وہ کہہ رہے تھے کہ کاش بلال کی ماں اس کو جنم نہ دیتی اور انھوں نے اپنی پیشانی کو خون کے چھینٹوں سے تر کیا اور تین مرتبہ اعلان کیا کہ بندہ سو گیا تھا۔

1804

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1804

Sahih

(۱۸۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ قُلْتُ لِمَالِکِ بْنِ أَنَسٍ: أَلَیْسَ قَدْ أَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِلاَلاً أَنْ یُعِیدَ الأَذَانَ؟ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ بِلاَلاً یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ ، فَکُلُوا وَاشْرَبُوا ۔ قُلْتُ: أَلَیْسَ قَدْ أَمَرَہُ أَنْ یُعِیدَ الأَذَانَ؟ قَالَ: لاَ لَمْ یَزَلِ الأَذَانُ عِنْدَنَا بِلَیْلٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٤) شعیب بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا مالک بن انس (رض) سے کہا : کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو حکم نہیں دیا کہ اذان لوٹائے ؟ انھوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلال (رض) رات کی اذان دیتا ہے، پس تم کھاؤ اور پیو میں نے کہا : کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو حکم نہیں دیا کہ اذان لوٹائے ؟ انھوں نے کہا : نہیں ہمیشہ ہمارے نزدیک اذان رات کو ہی رہی۔