Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 354

نماز کا بیان

فجر طلوع ہونے سے پہلے صبح کی اذان کہنا سنت ہے

5 hadiths in this chapter

1784

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1784

Zaeef

(۱۷۸۴) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ یَعْقُوبَ بِالطَّابَرِانِ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ بِلاَلاً یُنَادِی بِلَیْلٍ ، فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُنَادِیَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ))۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: وَکَانَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ رَجُلاً أَعْمَی لاَ یُنَادِی حَتَّی یُقَالَ لَہُ أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَأَرْسَلَہُ الشُّافِعِیُّ وَجَمَاعَۃٌ مِنِ الرُّوَاۃِ عَنْ مَالِکٍ ، وَالْحَدِیثُ فِی الأَصْلُ مَوْصُولٌ ، وَقَدْ وَصَلَہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ مَالِکٍ مِنْہُمُ ابْنُ وَہْبٍ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَکَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ وَوَصَلَہُ أَیْضًا جَمَاعَۃٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٤) سالم بن عبداللہ (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بلال (رض) رات کو اذان دیتا ہے پس کھاؤ اور پیو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے۔ “ ابن شھاب کہتے ہیں کہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی تھے، وہ اذان نہیں دیتے تھے جب تک ان سے یہ نہ کہا جاتا کہ تو نے صبح کردی تو نے صبح کردی۔

1785

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1785

Sahih

(۱۷۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِی یُونُسُ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِنَّ بِلاَلاً یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ ، فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ))۔ قَالَ یُونُسُ فِی الْحَدِیثِ: وَکَانَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ ہُوَ الأَعْمَی الَّذِی أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِ {عَبْسَ وَتَوَلَّی أَنْ جَائَہُ الأَعْمَی} [عبس: ۱۔۲] کَانَ یُؤَذِّنُ مَعَ بِلاَلٍ۔ قَالَ سَالِمٌ: وَکَانَ رَجُلاً ضَرِیرَ الْبَصَرِ وَلَمْ یَکُنْ یُؤَذِّنُ حَتَّی یَقُولَ لَہُ النَّاسُ حِینَ یَنْظُرُونَ إِلَی بُزُوغِ الْفَجْرِ: أَذِّنْ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنِ اللَّیْثِ وَعَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ دُونَ الْقِصَّۃِ۔[صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٥) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ بلال (رض) رات کو اذان دیتا ہے پس کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تم ابن ام مکتوم کی اذان سن لو۔ یونس کی روایت میں ہے : ابن ام مکتوم نابینا تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی { عَبْسَ وَتَوَلَّی أَنْ جَائَہُ الأَعْمَی } [عبس : ١۔ ٢] وہ سیدنا بلال (رض) کے ساتھ مؤذن تھے۔ سالم کہتے ہیں کہ ان کی نگاہ خراب تھی، وہ اذان اس وقت کہتے جب لوگ فجر کے طلوع ہونے کو دیکھ لیتے تو ان سے کہتے، اذان دو ۔

1786

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1786

Sahih

(۱۷۸۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ بِلاَلاً یُنَادِی بِلَیْلٍ ، فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُنَادِیَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٦) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ بلال (رض) رات کی اذان دیتا ہے پس کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے۔

1787

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1787

Sahih

(۱۷۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَوَادَۃَ الْقُشَیْرِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یَغُرَّنَّکُمْ مِنْ سُحُورِکُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ وَلاَ بَیَاضُ الأُفُقِ الْمُسْتَطِیلُ حَتَّی یَسْتَطِیرَ ہَکَذَا ۔ وَحَکَاہُ حَمَّادٌ بِیَدِہِ یَعْنِی مُعْتَرِضًا))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۰۹۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٧) سیدنا سمرہ بن جندب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلال (رض) کی اذان تمہیں تمہاری سحریوں سے دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ کنارے میں سیدھی پھیلنے والی سفیدی یہاں تک کہ اس طرح پھیل جائے اور حماد نے اپنے ہاتھ سے اس کی کیفیت بیان کی ہے یعنی لمبائی کی صورت میں۔

1788

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1788

Zaeef

(۱۷۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَعْنِی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: الْحُسَیْنُ بْنُ عَلُوشَا بِأَسَدَابَاذَ ہَمَذَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: بِشْرُ بْنُ مُوسَی الأَسَدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنِی زِیَادُ بْنُ نُعَیْمٍ الْحَضْرَمِیُّ قَالَ سَمِعْتُ زِیَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِیَّ یُحَدِّثُ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَبَایَعْتُہُ عَلَی الإِسْلاَمِ۔ وَذَکَرَ حَدِیثًا طَوِیلاً قَالَ: فَلَمَّا کَانَ أَذَانُ صَلاَۃِ الصُّبْحِ أَمَرَنِی فَأَذَّنْتُ فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أُقِیمُ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَنْظُرُ إِلَی نَاحِیَۃِ الْمَشْرِقِ إِلَی الْفَجْرِ فَیَقُولُ : لاَ ۔ حَتَّی إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ نَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَتَبَرَّزَّ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَیَّ وَقَدْ تَلاَحَقَ أَصْحَابُہُ فَقَالَ : ((ہَلْ مِنْ مَائٍ یَا أَخَا صُدَائَ؟))۔ فَقُلْتُ: لاَ إِلاَّ شَیْئٌ قَلِیلٌ لاَ یَکْفِیکَ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((اجْعَلْہُ فِی إِنَائٍ ثُمَّ ائْتِنِی بِہِ))۔ فَفَعَلْتُ فَوَضَعَ کَفَّہُ فِی الْمَائِ ، قَالَ الصُّدَائِیُّ: فَرَأَیْتُ بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِہِ عَیْنًا تَفُورُ فَقَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَوْلاَ أَنِّی أَسْتَحْیِی مِنْ رَبِّی لَسَقَیْنَا وَأَسْقَیْنَا ، نَادِ بِأَصْحَابِی مَنْ کَانَ لَہُ حَاجَۃٌ فِی الْمَائِ))۔ فَنَادَیْتُ فِیہِمْ فَأَخَذَ مَنْ أَرَادَ مِنْہُمْ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی الصَّلاَۃِ ، فَأَرَادَ بِلاَلٌ أَنْ یُقِیمَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((إِنَّ أَخَا صُدَائَ ہُوَ أَذَّنَ ، وَمَنْ أَذَّنَ فَہُوَ یُقِیمَ))۔ قَالَ الصُّدَائِیُّ فَأَقَمْتُ الصَّلاَۃَ۔ أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِیَادٍ مُخْتَصَرًا وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: لَمَّا کَانَ أَوَّلُ أَذَانِ الصُّبْحِ أَمَرَنِی النَّبِیُّ -ﷺ- فَأَذَّنْتُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۵۱۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٨) سیدنا زیاد بن حارث صدائی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا : اور اسلام پر بیعت کی ۔۔۔ ، فرماتے ہیں کہ جب صبح کی اذان کا وقت ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ کو حکم دیا، میں نے اذان کہی۔ پھر میں کہنے لگا اے اللہ کے رسول ! میں اقامت کہوں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرقی کنارے کی طرف فجرکو دیکھ رہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں جب تک فجر طلوع نہ ہوجائے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترے، آپ نے قضائے حاجت کی، پھر میری طرف پھرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام ملے ہوئے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے صداء کے بھائی ! کیا تیرے پاس پانی ہے ؟ میں نے کہا : ہاں تھوڑا سا ہے، جو آپ کو کافی نہیں ہوگا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو برتن میں انڈیل کر میرے پاس لا، میں نے ایسے ہی کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ہتھیلی پانی میں رکھی۔ صدائی کہتے ہیں : میں نے دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگلیوں کے درمیان سے چشمہ پھوٹا ہوا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں اپنے رب سے حیا نہ کرتا تو ہم پیتے اور پلاتے، میرے صحابہ کو آواز دے جس کو پانی ضرورت ہے (لے لے) میں نے انھیں آواز دی تو پانی لیا جس نے چاہا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے کھڑے ہوئے، سیدنا بلال (رض) نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو ان سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صداء کے بھائی نے اذان دی ہے اور جو اذان دے وہی اقامت کہے۔ صدائی کہتے ہیں : میں نے نماز کی اقامت کہی۔