Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 333

نماز کا بیان

پانچ نمازوں کی رکعات کی تعداد

5 hadiths in this chapter

1693

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1693

Zaeef

(۱۶۹۴) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ یَعْنِی الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ قَالَ: أَتَی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ۔ وَذَلِکَ دُلُوکَ الشَّمْسِ حِینَ مَالَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرُ أَرْبَعًا ، ثُمَّ أَتَاہُ حِینَ کَانَ ظِلُّہُ مِثْلَہُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ۔ فَصَلَّی الْعَصْرَ أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَاہُ حِینَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ۔ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثَلاَثًا ، ثُمَّ أَتَاہُ حِینَ غَابَ الشَّفَقُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّی الْعِشَائَ الآخِرَۃَ أَرْبَعًا ، ثُمَّ أَتَاہُ حِینَ بَرَقَ الْفَجْرُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ۔ فَصَلَّی الصُّبْحَ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ أَتَاہُ مِنَ الْغَدِ فِی الظَّہِیرِ حِینَ صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ۔ فَصَلَّی الظُّہْرَ أَرْبَعًا ، ثُمَّ أَتَاہُ حِینَ صَارَ ظِلُّہُ مِثْلَیْہِ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ۔ فَصَلَّی الْعَصْرَ أَرْبَعًا ، ثُمَّ أَتَاہُ الْوَقْتَ بِالأَمْسِ حِینَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ۔ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثَلاَثًا ، ثُمَّ أَتَاہُ بَعْدَ أَنْ غَابَ الشَّفَقَ وَأَظْلَمَ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّی الْعِشَائَ الآخِرَۃَ أَرْبَعًا۔ ثُمَّ أَتَاہُ حِینَ أَسْفَرَ الْفَجْرُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ۔ فَصَلَّی الصُّبْحَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ قَالَ: مَا بَیْنَ ہَذَیْنِ صَلاَۃٌ۔ أَبُو بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ لَمْ یَسْمَعْہُ مِنْ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ ، وَإِنَّمَا ہُوَ بَلاَغٌ بَلَغَہُ۔ وَقَدْ رُوِیَ ذَلِکَ فِی حَدِیثٍ آخَرَ مُرْسَلٍ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٤) سیدنا ابومسعود (رض) سے روایت ہے کہ سیدنا جبرائیل (علیہ السلام) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : کھڑے ہوجائیں اور نماز پڑھیں اور یہ ” دلوک شمس “ سے سورج مائل ہونے کا وقت تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے، ظہر کی چار رکعتیں ادا کیں، پھر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے جس وقت اس کا سایہ اس کی لمبائی کی مثل ہوگیا، انھوں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی چار رکعتیں ادا کیں، پھر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے جس وقت سورج غروب ہوگیا، انھوں نے کہا : کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی تین رکعتیں ادا کیں، پھر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے جس وقت سرخی غروب ہوگئی، انھوں نے کہا : آپ کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں آپ نے آخری عشاء کی چار رکعتیں ادا کیں، پھر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے جس وقت فجر پھوٹ پڑی، انھوں نے کہا : آپ کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی دو رکعتیں، ادا کیں پھر کل کو دوپہر کے وقت آئے جس وقت ایک چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا، انھوں نے کہا : آپ کھڑے ہوں نماز پڑھیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی چار رکعتیں ادا کیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے جس وقت اس کا سایہ اس کی دو مثل ہوگیا انھوں نے کہا : آپ کھڑے ہوں نماز پڑھیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی چار رکعتیں ادا کیں۔ پھر کل اسی وقت آئے جس وقت سورج غروب ہوگیا، انھوں نے کہا : آپ کھڑے ہوں نماز پڑھیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی تین رکعتیں ادا کیں۔ پھر سرخی غروب ہونے کے بعد آئے اور اندھیرا ہوگیا، انھوں نے کہا : آپ کھڑے ہوں نماز پڑھیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی چار رکعتیں ادا کیں، پھر آئے جس وقت فجر روشن ہوگئی، انھوں نے کہا : کھڑے ہوں نماز پڑھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی دو رکعتیں ادا کیں، پھر کہا ان دونوں وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔

1694

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1694

Sahih

(۱۶۹۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِیُّ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ مَالِکَ بْنَ صَعْصَعَۃَ حَدَّثَہُمْ فَذَکَرَ حَدِیثَ الْمِعْرَاجِ بِطُولِہِ وَفِیہِ فَرْضُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ۔ قَالَ قَتَادَۃُ وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ یَعْنِی الْبَصْرِیَّ: أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا جَائَ بِہِنَّ إِلَی قَوْمِہِ خَلاَ عَنْہُمْ حَتَّی إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَائِ نُودِیَ فِیہِمْ الصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ - قَالَ- فَفَزِعَ الْقَوْمُ لِذَلِکَ فَاجْتَمَعُوا، فَصَلَّی بِہِمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ لاَ یَقْرَأُ فِیہِنَّ عَلاَنِیَۃً یَقْتَدِی النَّاسُ بِنَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- وَیَقْتَدِی نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- بِجِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ حَتَّی إِذَا تَصَوَّبَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَائِ وَہِیَ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ نُودِیَ فِیہِمْ بِالصَّلاَۃِ جَامِعَۃً فَفَزِعَ الْقَوْمُ لِذَلِکَ فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّی بِہِمْ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- الْعَصْرَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ لاَ یَقْرَأُ فِیہِنَّ عَلاَنِیَۃً، یَقْتَدِی النَّاسُ بِنَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- وَیَقْتَدِی نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- بِجِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ حَتَّی إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ نُودِیَ فِیہِمْ بِالصَّلاَۃِ جَامِعَۃً فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّی بِہِمْ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- ثَلاَثَ رَکَعَاتٍ یَقْرَأُ فِی الأُولَیَیْنِ وَلاَ یَقْرَأُ فِی الْوَاحِدَۃِ یَعْنِی عَلاَنِیَۃً یَقْتَدِی النَّاسُ بِنَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- وَیَقْتَدِی نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- بِجِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ حَتَّی إِذَا غَابَ الشَّفَقُ نُودِیَ فِیہِمْ بِالصَّلاَۃِ جَامِعَۃً ، فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّی بِہِمْ نَبِیُّ اللَّہِ-ﷺ- أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ یَقْرَأُ فِی رَکْعَتَیْنِ عَلاَنِیَۃً، وَلاَ یَقْرَأُ فِی الثِّنْتَیْنِ یَقْتَدِی النَّاسُ بِنَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- وَیَقْتَدِی نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- بِجِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ قَالَ فَبَاتَ الْقَوْمُ وَہُمْ لاَ یَدْرُونَ أَیُزَادُونَ عَلَی ذَلِکَ أَمْ لاَ؟ حَتَّی إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ نُودِیَ فِیہِمْ الصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّی بِہِمْ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- رَکْعَتَیْنِ یُطِیلُ فِیہِمَا الْقِرَائَ ۃَ یَقْتَدِی النَّاسُ بِنَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- وَیَقْتَدِی نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- بِجِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ۔ فَفِی ہَذَا الْحَدِیثِ وَمَا رُوِیَ فِی مَعْنَاہُ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ بِمَکَّۃَ بَعْدَ الْمِعْرَاجِ وَأَنَّ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فُرِضْنَ حِینَئِذٍ بِأَعَدَادِہِنَّ وَقَدْ ثَبَتَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا خِلاَفُ ذَلِکَ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٥) قتادہ کہتے ہیں کہ ہمیں حسن بصری نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب انھیں اپنی قوم کی طرف لے کر آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے الگ ہوئے یہاں تک کہ سورج آسمان کے درمیان سے زائل ہوا ان (نمازوں) کو لوگوں کو بتلایا گیا کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے لوگ گھبراگئے اور جمع ہوئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو چار رکعتیں پڑھائی، ان میں اونچی قرات نہیں کی، لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا کرتے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبرائیل (علیہ السلام) کی اقتدا کرتے تھے، یہاں تک کہ سورج آسمان سے نیچے کی جانب چلا گیا، یعنی مغرب کی طرف جھک گیا، وہ سفید چمکدار تھا ، لوگوں کو آواز دی گئی نماز کھڑی ہونے ولی ہے اس وجہ سے قوم گھبرائی پس وہ جمع ہوئے ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز کی چار رکعتیں پڑھائی ان میں اونچی قراءت نہیں کرتے تھے لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا کرتے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبرائیل (علیہ السلام) کی اقتدا کرتے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا پھر لوگوں کو آواز دی گئی کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے وہ جمع ہوئے، ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین رکعتیں پڑھائیں، پہلی دو رکعتوں میں قراءت کی اور ایک میں نہیں کی یعنی اونچی آواز سے، لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا کر رہے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبرائیل (علیہ السلام) کی اقتدا کر رہے تھے، یہاں تک کہ سرخی غروب ہوگئی پھر لوگوں کو آواز دی گئی کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے، وہ جمع ہوئے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو چار رکعتیں پڑھائیں دو رکعتوں میں اونچی قراءت کی اور دو رکعتوں میں انھیں کی۔ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا کررہے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبرائیل (علیہ السلام) کی اقتدا کر رہے تھے۔ قوم سو گئی اور وہ نہیں جانتے تھے کہ ابھی مزید کچھ ہوگا یا نہیں ؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی ان کو آواز دی گئی کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے۔ ، لوگ جمع ہوئے، ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں پڑھائیں اور ان میں لمبی قرات کی، لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا کر رہے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبرائیل (علیہ السلام) کی اقتدا کر رہے تھے۔

1695

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1695

Sahih

(۱۶۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا فَیَّاضُ بْنُ زُہَیْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: فُرِضَتِ الصَّلاَۃُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَکَّۃَ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ فَلَمَّا خَرَجَ إِلَی الْمَدِینَۃِ فُرِضَتْ أَرْبَعًا ، وَأُقِرَّتْ صَلاَۃُ السَّفَرِ رَکْعَتَیْنِ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ عَنْ مَعْمَرٍ۔ قَالَ وَتَابَعَہُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا التَّقْیِیدُ تَفَرَّدَ بِہِ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَسَائِرُ الثِّقَاتِ أَطْلَقُوہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٦) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مکہ میں دو دو رکعتیں فرض کی گئیں، جب مدینہ کی طرف نکلے تو چار فرض کی گئیں اور سفر کی نماز دور رکعتیں باقی رکھی گئیں۔

1696

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1696

Sahih

(۱۶۹۷) وَقَدْ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ بْنِ یَعْقُوبَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ قَالَ: سُئِلَ الزُّہْرِیُّ کَیْفَ کَانَتْ صَلاَۃُ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَکَّۃَ قَبْلَ أَنْ یُہَاجِرَ إِلَی الْمَدِینَۃِ؟ فَقَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: فَرَضَ اللَّہُ الصَّلاَۃَ أَوَّلَ مَا فَرَضَہَا رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ أَتَمَّہَا فِی الْحَضَرِ ، وَأُقِرَّتْ صَلاَۃُ السَّفَرِ عَلَی الْفَرِیضَۃِ الأُولَی۔ وَرُوِیَ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۰۴۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٧) امام اوزاعی (رح) بیان کرتے ہیں کہ امام زہری سے سوال کیا گیا : مکہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز مدینہ میں ہجرت کرنے سے پہلے کس طرح تھی ؟ انھوں نے کہا : مجھ کو عروہ بن زبیر نے سیدہ عائشہ (رض) سے نقل کیا : اللہ نے نماز کو فرض کیا، پہلے دو رکعتیں فرض کی، پھر حضر میں اس کو مکمل کردیا اور سفر کی نماز پہلے فریضہ پر قائم رکھی گئیں۔

1697

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1697

Sahih

(۱۶۹۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا بَکَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: إِنَّ أَوَّلَ مَا فُرِضَتِ الصَّلاَۃُ رَکْعَتَیْنِ ، فَلَمَّا قَدِمَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ وَاطْمَأَنَّ زَادَ رَکْعَتَیْنِ غَیْرَ الْمَغْرِبِ لأَنَّہَا وِتْرٌ ، وَصَلاَۃُ الْغَدَاۃِ تَطُولُ قِرَائَتُہَا قَالَتْ وَکَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّی صَلاَتَہُ الأُولَی۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن حبان ۱۲۷۳۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٨) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ پہلے جو نماز فرض کی گئی وہ دو رکعتیں تھیں، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آئے اور مطمئن ہوگئے تو مغرب کے علاوہ دو رکعتیں زیادہ کیں، اس لیے کہ وہ وتر ہے اور صبح کی نماز میں قراءت لمبی ہوگی۔ انھوں نے کہا : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر کرتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلی والی نماز پڑھتے یعنی قصر کرتے۔