Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 334

نماز کا بیان

اوقاتِ صلوٰۃ کے ابواب کا بیان

5 hadiths in this chapter

1698

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1698

Sahih

(۱۶۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ وَحَدَّثَنِی أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَخَّرَ الصَّلاَۃَ یَوْمًا فَدَخَلَ عَلَیْہِ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ فَأَخْبَرَہُ أَنَّ الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ أَخَّرَ الصَّلاَۃَ یَوْمًا وَہُوَ بِالْکُوفَۃِ ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیُّ فَقَالَ: مَا ہَذَا یَا مُغِیرَۃُ؟ أَلَیْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ نَزَلَ فَصَلَّی فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ صَلَّی فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ صَلَّی فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ صَلَّی فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ صَلَّی فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ قَالَ: بِہَذَا أُمِرْتُ۔ فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَۃَ: انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ یَا عُرْوَۃُ أَوَإِنَّ جِبْرِیلَ ہُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقْتَ الصَّلاَۃَ؟ فَقَالَ عُرْوَۃُ: کَذَلِکَ کَانَ بَشِیرُ بْنُ أَبِی مَسْعُودٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ۔ قَالَ عُرْوَۃُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ زَوْجُ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِی حُجْرَتِہَا قَبْلَ أَنْ تَظْہَرَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۹۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٩) ابن شہاب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن عبد العزیز نے ایک نماز کو مؤخر کردیا، ان کے پاس عروہ بن زبیر تشریف لائے، انھوں نے خبر دی کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ (رض) نے ایک دن کوفہ میں نماز مؤخرکر دی، اس پر ابو مسعود انصاری تشریف لائے اور کہا : اے مغیرہ ! یہ کیا ہے ؟ کیا نہیں تو جانتا ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) آئے، انھوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی، پھر انھوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی، پھر انھوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی، پھر انھوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی، پھر انھوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔ “ سیدنا عمر (رض) نے عروۃ (رض) سے کہا : اے عروہ ! دیکھ تو کیا بیان کررہا ہے ، کیا جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے وقت اقامت کروائی ؟ عروہ (رض) نے کہا : اسی طرح بشیر بن أبی مسعود اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں۔ عروہ (رض) نے کہا : مجھے سیدہ عائشہ (رض) نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج ظاہر ہونے سے پہلے ان کے کمرے میں ہوتا تھا۔

1699

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1699

Sahih

(۱۷۰۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ: أَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ قَالَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((نَزَلَ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَأَمَّنَا فَصَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنَا فَصَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنَا فَصَلَّیْتُ مَعَہُ حَتَّی عَدَّ خَمْسَ صَلَوَاتٍ))۔ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ: اتَّقِ اللَّہَ وَانْظُرْ مَا تَقُولُ یَا عُرْوَۃُ۔ فَقَالَ عُرْوَۃُ أَخْبَرَنِی بَشِیرُ بْنُ أَبِی مَسْعُودٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((نَزَلَ جِبْرِیلُ فَأَمَّنَا فَصَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنَا فَصَلَّیْتُ مَعَہُ))۔ حَتَّی عَدَّ خَمْسَ صَلَوَاتٍ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْجُمْہُورُ مِنْ أَصْحَابِ الزُّہْرِیِّ نَحْوَ مَعْمَرٍ وَشُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ وَاللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ وَغَیْرِہِمْ لَمْ یَذْکُرُوا الْوَقْتَ الَّذِی صَلَّی فِیہِ وَلَمْ یُفَسِّرُوہُ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اللَّیْثِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ إِلاَّ أَنَّہُ زَادَ مَا أَخْبَرَ بِہِ أَبُو مَسْعُودٍ عَمَّا رَآہُ یَصْنَعُ بَعْدَ ذَلِکَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۰۴۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٠٠) امام زہری سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر (رض) نے عمر بن عبد العزیز سے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جبرائیل (علیہ السلام) آئے، انھوں نے ہماری امامت کروائی، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی، پھر آئے اور ہماری امامت کروائی۔ میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی، پھر آئے اور ہماری امامت کروائی، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی، یہاں تک کہ پانچ نمازیں شمار کیں۔ عمر بن عبد العزیز (رح) نے کہا : اللہ سے ڈر، اے عروہ ! دیکھ تو کیا کہہ رہا ہے ؟ عروہ نے کہا : مجھ کو بشیر بن أبی مسعود نے اپنے والد سے نقل فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل آئے اور انھوں نے ہماری امامت کروائی، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی، پھر آئے اور انھوں نے ہماری امامت کروائی، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی یہاں تک کہ پانچ نمازیں شمار کیں۔

1700

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1700

Sahih

(۱۷۰۱) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی أُسَامَۃُ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ أَخْبَرَہُ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَانَ قَاعِداً عَلَی الْمِنْبَرِ فَأَخَّرَ الْعَصْرَ شَیْئًا فَقَالَ لَہُ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ: أَمَا إِنَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا -ﷺ- بِوَقْتِ الصَّلاَۃِ۔ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ۔ فَقَالَ عُرْوَۃُ سَمِعْتُ بَشِیرَ بْنَ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((نَزَلَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَأَخْبَرَنِی بِوَقْتِ الصَّلاَۃِ ، فَصَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ))۔ یَحْسُبُ بِأَصَابِعِہِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، وَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی الظُّہْرَ حِینَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَرُبَّمَا أَخَّرَہَا حِینَ یَشْتَدَّ الْحَرُّ ، وَرَأَیْتُہُ یُصَلِّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ بَیْضَائُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَہَا الصُّفْرَۃُ ، فَیَنْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلاَۃِ فَیَأْتِی ذا الْحُلَیْفَۃِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ، وَیُصَلِّی الْمَغْرِبَ حِینَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ ، وَیُصَلِّی الْعِشَائَ حِینَ یَسْوَدُّ الأُفُقُ ، وَرُبَّمَا أَخَّرَہَا حَتَّی یَجْتَمِعَ النَّاسُ ، وَصَلَّی الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ، ثُمَّ صَلَّی مَرَّۃً أُخْرَی فَأَسْفَرَ بِہَا ، ثُمَّ کَانَتْ صَلاَتُہُ بَعْدَ ذَلِکَ بِغَلَسٍ حَتَّی مَاتَ ، لَمْ یَعُدْ إِلَی أَنْ یُسْفِرَ۔ وَتَفْسِیرُ کَیْفِیَّۃِ صَلاَۃِ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ بِالنَّبِیِّ -ﷺ- فِی حَدِیثِ أَبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ وَہُوَ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۳۹۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٠١) سیدنا عمر بن عبد العزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے عصر کو کچھ مؤخر کردیا، ان سے عروہ بن زبیر (رض) نے کہا : جبرائیل (علیہ السلام) نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے وقت کی خبر دی ہے، ان سے سیدنا عمر (رض) نے کہا : غور کر تو کیا کہہ رہا ہے ؟ عروہ نے کہا : میں نے بشیر بن أبی مسعود انصاری سے سنا، وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور انھوں نے مجھے نماز کے وقت کی خبر دی، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ اپنی انگلیوں پر پانچ نمازیں شمار کرتے تھے اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز تب پڑھتے تھے جب سورج اڈھل جاتا اور بعض اوقات اس کو مؤخر کردیتے جس وقت گرمی سخت ہوجاتی اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج زردی کے داخل ہونے سے پہلے بلند سفید تھا ‘ آدمی نماز سے پلٹتا تو سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا جس وقت کنارہ سیاہ ہوجاتا ہے اور بعض اوقات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ لوگ جمع ہوجائے اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھتے، پھر ایک مرتبہ نماز روشنی میں پڑھی، پھر اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز اندھیرے میں ہوتی تھی، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوبارہ نہیں لوٹے کہ اس کو روشن کرتے۔

1701

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1701

Sahih

(۱۷۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَکِیمِ بْنِ حَکِیمِ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَمَّنِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ مَرَّتَیْنِ عِنْدَ الْبَیْتِ ، فَصَلَّی بِیَ الظُّہْرَ حِینَ مَالَتِ الشَّمْسُ فَکَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاکِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْمَغْرِبَ حِینَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعِشَائَ حِینَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْفَجْرَ حِینَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَی الصَّائِمِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الظُّہْرَ مِنَ الْغَدِ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ قَدْرَ ظِلِّہِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَیْہِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْمَغْرِبَ حِینَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعِشَائَ لِثُلُثِ اللَّیْلِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ ، وَالْتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ ہَذَا وَقْتُ الأَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِکَ ، وَالْوَقْتُ فِیمَا بَیْنَ ہَذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ))۔ [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۹۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٠٢) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جبرائیل (علیہ السلام) نے بیت اللہ کے پاس دو دفعہ میری امامت کرائی، مجھ کو ظہر کی نماز پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور تسمہ کے برابر ہوگیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی یہاں تک کہ ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا، پھر مجھ کو مغرب کی نماز پڑھائی، جس وقت روزے داروں نے روزہ افطار کرلیا۔ پھر مجھ کو عشاء کی نماز پڑھائی، جب سرخی غروب ہوگئی پھر مجھ کو صبح کی نماز پڑھائی جس وقت روزے دار پر کھانا ، پینا حرام ہوگیا ‘ پھر مجھ کو اگلے دن ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کے سائے کے برابر ہوگیا۔ پھر مجھ کو عصر کے نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی دو مثل ہوگیا۔ پھر مجھ کو مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت روزے داروں نے افطار کرلیا۔ پھر مجھ کو عشا کی نماز پہلی رات کے تہائی حصے میں پڑھائی پھر مجھ کو فجر کی نماز روشنی میں پڑھائی اور میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا : اے محمد ! یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے انبیاء کا وقت ہے اور ان دو وقتوں کے درمیان (آپ کا) وقت ہے۔

1702

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1702

Sahih

(۱۷۰۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَہُوَ ابْنُ الْحَارِثِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ الْمَخْزُومِیُّ عَنْ حَکِیمٍ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ۔ وَرُوِّینَا عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَأَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ وَأَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فِی قِصَّۃِ إِمَامَۃِ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ النَّبِیَّ -ﷺ- بِمَکَّۃَ ، وَثَبَتَ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ وَبُرَیْدَۃَ بْنِ الْحُصَیْبِ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی مَوَاقِیتِ الصَّلاَۃِ فِی غَیْرِ ہَذِہِ الْقَصَّۃِ ، وَنَحْنُ نَأْتِی عَلَی رِوَایَتِہَا إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٠٣) (الف) حکیم نے اسی معنی میں روایت نقل کی ہے۔ (ب) جابر بن عبداللہ، ابو مسعود انصاری، عبداللہ بن عمر، ابوہریرہ اور ابو سعید خدری (رض) سے جبرائیل (علیہ السلام) کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امامت کروانے کا واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری (رض) بریدہ بن حصیب اور عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے نماز کے اوقات سے متعلق اس واقعہ کے علاوہ دیگرروایات بھی ثابت ہیں۔