Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 2 · Chapter 332

نماز کا بیان

پانچ نمازوں کی فرضیت کا بیان

5 hadiths in this chapter

1688

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1688

Sahih

(۱۶۸۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ یَعْنِی ابْنَ عَطَائٍ الْخَفَّافَ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ یَعْنِی ابْنَ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَذَکَرَ قِصَّۃَ الْمِعْرَاجِ وَفِیہَا قَالَ : وَفُرِضَتْ عَلَیَّ خَمْسُونَ صَلاَۃً کُلَّ یَوْمٍ ۔ أَوْ قَالَ : أُمِرْتَ بِخَمْسِینَ صَلاَۃً کُلَّ یَوْمٍ ۔ الشَّکُّ مِنْ سَعِیدٍ : فَجِئْتُ حَتَّی أَتَیْتُ عَلَی مُوسَی فَقَالَ لِی: بِمَا أُمِرْتَ؟ فَقُلْتُ: أُمِرْتُ بِخَمْسِینَ صَلاَۃً کُلَّ یَوْمٍ۔ قَالَ: إِنِّی قَدْ بَلَوْتُ النَّاسَ قَبْلَکَ وَعَالَجْتُ بَنِی إِسْرَائِیلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَۃِ ، وَإِنَّ أُمَّتَکَ لاَ یُطِیقُونَ ذَلِکَ ، فَارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ فَسَلْہُ التَّخْفِیفَ لأُمَّتِکَ۔ فَرَجَعْتُ فَحَطَّ عَنِّی خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، فَمَا زِلْتُ أَخْتَلِفُ بَیْنَ رَبِّی وَبَیْنَ مُوسَی ، کُلَّمَا أَتَیْتُ عَلَیْہِ قَالَ لِی مِثْلَ مَقَالَتِہِ حَتَّی رَجَعْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ ، فَلَمَّا أَتَیْتُ عَلَی مُوسَی قَالَ لِی: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: أُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ۔ قَالَ: إِنِّی قَدْ بَلَوْتُ النَّاسَ قَبْلَکَ وَعَالَجْتُ بَنِی إِسْرَائِیلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَۃِ ، وَإِنَّ أُمَّتَکَ لاَ یُطِیقُونَ ذَلِکَ فَارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ فَسَلْہُ التَّخْفِیفَ لأُمَّتِکَ۔ قُلْتُ: لَقَدْ رَجَعْتُ إِلَی رَبِّی حَتَّی اسْتَحْیَیْتُ وَلَکِنْ أَرْضَی وَأُسَلِّمُ قَالَ فَنُودِیتُ أَوْ نَادَانِی مُنَادٍ ۔ الشَّکُّ مِنْ سَعِیدٍ : أَنْ قَدْ أَمْضَیْتُ فَرِیضَتِی ، وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِی ، وَجَعَلْتُ بِکُلِّ حَسَنَۃٍ عَشْرَ أَمْثَالِہَا ۔ مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۶۷۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٨٩) سیدنا مالک بن صععہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معراج کا قصہ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مجھ پر ہر دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں یا فرمایا : مجھے ہر دن پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا، سعید کو شک ہے۔ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا تو انھوں نے مجھے کہا : آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا ہے ؟ میں نے کہا : مجھے دن میں پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا، کو خوب برکھا انھوں نے کہا : میں نے لوگوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے آزمایا ہے اور نبی اسرائیل کا بہت معالجہ کیا ہے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، اپنے رب کی طرف واپس جائیں اور اپنی امت کے لیے آسانی کا سوال کریں۔ میں واپس لوٹا تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پانچ نمازیں کم کردیں، میں مسلسل اپنے رب کے پاس اور موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آتا جاتا رہا جب میں ان کے پاس آتا تو مجھے پہلی بات کی طرح کہتے، یہاں تک کہ میں ہر دن میں پانچ نمازوں کے ساتھ واپس لوٹا، جب میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا تو انھوں نے مجھے کہا : آپ کو کس کا حکم دیا گیا ہے ؟ میں نے کہا : مجھے ہر دن میں پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا ہے، انھوں نے کہا : آپ سے پہلے میں نے لوگوں کو آزمایا ہے اور بنی اسرائیل کا بہت سخت تجربہ کیا ہے آپ کی امت بیشک اس کی طاقت نہیں رکھے گی، اپنے رب کی طرف واپس جائیں اور اپنی امت کے لیے آسانی کا سوال کریں۔ میں اپنے رب کی طرف واپس لوٹا تو مجھے حیاء محسوس ہوئی، اور میں نے کہا : میں راضی اور فرمان بردار ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے آواز دی گئی یا آواز دینے والے نے آواز دی۔ سعید راوی کو شک ہے کہ میں نے اپنے فریضے کو جاری کردیا ہے، میں نے اپنے بندوں پر آسانی کردی ہے اور میں ہر نیکی (کے اجر) کو دس گنا بڑھا دیا ہے۔

1689

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1689

Sahih

(۱۶۹۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الأَمَوِیُّ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُرَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی نَمِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یُحَدِّثُنَا عَنْ لَیْلَۃِ أُسْرِیَ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ مَسْجِدِ الْکَعْبَۃِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ: فَأَوْحَی إِلَیْہِ مَا شَائَ فِیمَا أَوْحَی خَمْسِینَ صَلاَۃً عَلَی أُمَّتِہِ کُلَّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ ، ثُمَّ ہَبَطَ حَتَّی بَلَغَ مُوسَی فَاحْتَبَسَہُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ مَا عَہِدَ إِلَیْکَ رَبُّکَ؟ قَالَ : عَہِدَ إِلَیَّ خَمْسِینَ صَلاَۃً عَلَی أُمَّتِی کُلَّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ ۔ قَالَ: فَإِنَّ أُمَّتَکَ لاَ تَسْتَطِیعُ فَارْجِعْ فَلْیُخَفِّفْ عَنْکَ وَعَنْہُمْ۔ فَالْتَفَتُّ إِلَی جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ کَأَنَّہُ یَسْتَشِیرُہُ فِی ذَلِکَ فَأَشَارَ إِلَیْہِ أَنْ نَعَمْ إِنْ شِئْتَ۔ فَعَلاَ بِہِ جِبْرِیلُ فَقَالَ: یَا رَبِّ خَفِّفْ عَنَّا، فَإِنَّ أُمَّتِی لاَ تَسْتَطِیعُ ہَذَا۔ فَوَضَعَ عَنْہُ عَشْرَ صَلَوَاتٍ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی مُوسَی فَاحْتَبَسَہُ وَلَمْ یَزَلْ یَرُدُّہُ مُوسَی إِلَی رَبِّہِ حَتَّی صَارَ إِلَی خَمْسِ صَلَوَاتٍ ، ثُمَّ احْتَبَسَہُ عِنْدَ الْخَامِسَۃِ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ قَدْ وَاللَّہِ رَاوَدْتُ بَنِی إِسْرَائِیلَ عَلَی أَدْنَی مِنْ ہَذِہِ الْخَمْسِ فَضَیَّعُوہُ وَتَرَکُوہُ ، وَأُمَّتُکَ أَضْعَفُ أَجْسَادًا وَقُلُوبًا وَأَبْصَارًا وَأَسْمَاعًا ، فَارْجِعْ فَلْیُخَفِّفْ عَنْکَ رَبُّکَ۔ فَالْتَفَتُّ إِلَی جِبْرِیلَ لِیُشِیرَ عَلَیْہِ فَلاَ یَکْرَہُ ذَلِکَ جِبْرِیلُ ، فَرَفَعَہُ عِنْدَ الْخَامِسَۃِ فَقَالَ : یَا رَبِّ إِنَّ أُمَّتِی ضِعَافٌ أَجْسَادُہُمْ وَقُلُوبُہُمْ وَأَسْمَاعُہُمْ وَأَبْصَارُہُمْ فَخَفِّفْ عَنَّا ۔ فَقَالَ: إِنِّی لاَ یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ ہِیَ کَمَا کُتِبَتْ عَلَیْکُمْ فِی أُمِّ الْکِتَابِ ، وَلَکَ بِکُلِّ حَسَنَۃٍ عَشْرُ أَمْثَالِہَا ہِیَ خَمْسُونَ فِی أُمِّ الْکِتَابِ ، وَہِیَ خَمْسٌ عَلَیْکَ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ ہَارُونَ الأَیْلِیِّ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۷۰۷۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٠) شریک بن عبداللہ بن أبی نمر کہتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک (رض) سے رات والا واقعہ سنا جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسجد الکعبہ کی سیر کرائی گئی ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وحی نازل ہوئی جو اللہ نے چاہی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت پر دن اور رات میں پچاس نمازوں کا حکم ہوا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیچے اترے ، جب موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انھوں نے آپ کو روک لیا اور کہا : اے محمد ! آپ کے رب نے آپ کے ساتھ کیا وعدہ کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میری امت پر دن اور رات میں پچاس نمازوں کا وعدہ کیا ہے، انھوں نے کہا : آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، آپ واپس جائیں اور اپنے رب سے اس میں آسانی کروائیں۔ میں نے جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف جھانکا، گویا ان سے اس کے متعلق مشورہ طلب کررہا ہوں، اس نے اشارہ کیا، ہاں ! اگر آپ چاہتے ہیں۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ کو ساتھ لیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے میرے رب ہم پر آسانی کر، بیشک میری امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، اللہ نے دس نمازیں کم کردیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لوٹے تو انھوں نے آپ کو روک لیا اور موسیٰ (علیہ السلام) مسلسل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کی طرف واپس لوٹاتے رہے یہاں تک کہ نمازیں پانچ ہوگئی پھر پانچویں مرتبہ بھی روک لیا، انھوں نے کہا : اے محمد ! اللہ کی قسم ! میں نے بنی اسرائیل کو اس سے آسان کام کی ترغیب دی تو انھوں نے اس کو ضائع کردیا اور اس کو چھوڑ دیا اور آپ کی امتجسم و قلب ، سننے اور دیکھنے پر کے لحاظ سے بہت کمزور ہے، آپ واپس جائیں اور اپنے رب سے آسانی کے متعلق کہیں، میں نے جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف جھانکا تاکہ ان سے مشورہ لوں، جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کو ناپسند نہیں سمجھا اور پانچویں مرتبہ پھر معاملہ اٹھایا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے میرے رب ! بیشک میری امت ان کے جسم اور دل اور کان اور آنکھیں کمزور ہیں، ہم پر آسانی فرما۔ اللہ نے فرمایا ! میرے ہاں باتیں تبدیل نہیں ہوتیں، جس طرح لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہر ایک نیکی کے بدلے اس کا دس گنا ہے، لوح محفوظ میں پچاس ہی ہیں اور آپ پر پانچ ہیں، پھر لمبی حدیث بیان کی۔

1690

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1690

Sahih

(۱۶۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ الشَّافِعِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَمِّہِ أَبِی سُہَیْلِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ سَمِعَ طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ یَقُولُ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ أَہْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِیَّ صَوْتِہِ وَلاَ نَفْقَہُ مَا یَقُولُ حَتَّی دَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَإِذَا ہُوَ یَسْأَلُ عَنِ الإِسْلاَمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ))۔ فَقَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُنَّ؟ قَالَ : ((لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ))۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَصِیَامُ شَہْرِ رَمَضَانَ))۔ قَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُ؟ قَالَ : ((لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ))۔ قَالَ: وَذَکَرَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الزَّکَاۃَ قَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہَا؟ قَالَ : ((لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ))۔ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَہُوَ یَقُولُ: وَاللَّہِ لاَ أَزِیدُ عَلَی ہَذَا وَلاَ أَنْقُصُ مِنْہُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ)) قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی حَدِیثِہِ وَذَکَرَ الصَّدَقَۃَ فَقَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہَا۔ مُخَرَّجُ فِی الصَّحِیحِینِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩١) ابو سہیل بن مالک کے باپ نے طلحہ بن عبیداللہ سے سنا کہ اہل نجدکا ایک شخص پرا گندہ سر والا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ سنتے تھے اور ہم سمجھتے نہیں تھے وہ کیا کہہ رہا ہے، یہاں تک وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوگیا اور اسلام کے متعلق سوال کیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” دن اور رات میں پانچ نمازیں۔ اس نے کہا : کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں مگر یہ کہ تو نفل پڑھے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمضان کے مہینے کے روزے۔ اس نے کہا : کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں مگر یہ تو نفلی روزے رکھے۔ راوی کہتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے زکوۃ کا بھی ذکر کیا۔ اس نے کہا : کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مگر یہ تو نفلی صدقہ دے۔ آدمی واپس پلٹا اور کہہ رہا تھا : اللہ کی قسم ! نہ میں اس سے زیادہ کروں گا اور نہ کم۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کامیاب ہوگیا اگر اس نے سچ کہا ہے۔

1691

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1691

Sahih

(۱۶۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الضَّرِیرُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مُحَیْرِیزٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ کِنَانَۃَ قَالَ سَمِعْتُ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ کَتَبَہُنَّ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی عِبَادِہِ ، فَمَنْ وَفَی بِہِنَّ لَمْ یُضَیِّعْہُنَّ کَانَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ أَنْ یَغْفِرَ لَہُ وَأَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ ، وَمَنْ لَمْ یُوَافِ بِہِنَّ اسْتِخْفَافًا بِحَقِّہِنَّ فَلَیْسَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ، إِنْ شَائَ عَذَّبَہُ وَإِنْ شَائَ غَفَرَلَہُ))۔ وَقَالَ مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ فِی ہَذَا الإِسْنَادِ رَجُلٌ مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ یُدْعَی الْمُخْدَجِیَّ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ مالک ۲۶۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٢) عبداللہ ابن محیریز جو نبی کنانہ کا ایک شخص تھا فرماتے ہیں کہ میں نے عبادہ بن صامت (رض) سے سنا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : ” پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر لکھ دیں ہیں، جنھوں نے ان کو پورا کیا ان کو ضائع نہ کیا تو ان کے لیے اللہ کے ہاں وعدہ ہے کہ اللہ ان کو معاف کر دے گا اور جنت میں داخل کر دے گا۔ اور جس نے ان کو پورا نہ کیا ان کے حق کو ہلکا جانتے ہوئے تو اللہ کے ہاں کوئی وعدہ نہیں ہے اگر ان کو چاہے عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف کر دے۔

1692

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1692

Sahih

(۱۶۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((أَرَأَیْتُمْ لَوْ أَنَّ نَہَرًا بِبَابِ أَحَدِکُمْ یَغْتَسِلُ مِنْہُ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ مَا تَقُولُونَ مُبْقِیًا مِنْ دَرَنِہِ؟))۔ قَالُوا: لاَ یُبْقِی مِنْ دَرَنِہِ شَیْئًا۔ قَالَ : ((فَذَلِکَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ یَمْحُو اللَّہُ بِہِنَّ الْخَطَایَا))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ الْہَادِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۰۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : مجھے بتلاؤ، اگر تمہارے دروازے پر ایک نہر ہو تو ہر دن میں پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا کچھ میل کچیل باقی رہے گی ؟ انھوں نے کہا : میل کچیل میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ “