Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2350

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

کستوری پاک ہے اس کا بیچنا ، خریدنا اور اس میں بیع سلف کرنا جائز ہے

2 hadiths in this chapter

11131

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11131

Sahih

(۱۱۱۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّحَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ بُرَیْدٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ: إِنَّمَا مَثَلُ جَلِیسِ الصَّالِحِ وَجَلِیسِ السَّوْئِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَنَافِخِ الْکِیرِ حَامِلُ الْمِسْکِ إِمَّا أَنْ یُحْذِیَکَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْہُ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْہُ رِیحًا طَیِّبَۃً وَنَافِخُ الْکِیرِ إِمَّا أَنْ یُحْرِقَ ثِیَابَکَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدُ رِیحًا خَبِیثَۃً ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الْجَنَائِزِ حَدِیثُ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : الْمِسْکُ أَطْیَبُ الطِّیبِ۔ وَمَضَی فِی کِتَابِ الْحَجِّ حَدِیثُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہَا : کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی وَبِیصِ الْمِسْکِ فِی مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ مُحْرِمٌ ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۱۰۱۔۵۵۳۴، مسلم ۲۶۲۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١٢٦) حضرت ابو موسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اچھی مجلس اور بری مجلس کی مثالک کستوری اٹھانے والے اور بھٹی میں پھونکنے والے کی طرح ہیکستوری بیچنے والا یا تو آپ کو عطر کرے گا یا آپ اس سے خرید لیں گے یا کم ازکم آپ کو اس سے اچھی خوشبوتو آئے گی اور بھٹی میں پھونکنے والا یا تو آپ کے کپڑے جلائے گا یا پھر آپ کو گندی بو تو آئے گی۔ حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کستوری سب سے پاک خوشبو ہے اور حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : گویا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مانگ میں کستوری کی سفیدی کو دیکھ رہی تھی اور آپ نے احرام باندھا ہوا تھا ۔

11132

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11132

Zaeef

(۱۱۱۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبَدِیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِیُّ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ أُمِّ کُلْثُومٍ قَالَ ابْنُ وَہْبٍ فِی رِوَایَتِہِ أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَتْ : لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أُمَّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَ لَہَا : إِنِّی قَدْ أَہْدَیْتُ إِلَی النَّجَاشِیِّ أَوَاقٍ مِنْ مِسْکٍ وَحُلَّۃً وَإِنِّی لاَ أُرَاہُ إِلاَّ قَدْ مَاتَ وَلاَ أُرَی الْہَدِیَّۃَ الَّتِی أَہْدَیْتُ إِلَیْہِ إِلاَّ سَتُرَدُّ فَإِذَا رُدَّتْ إِلَیَّ فَہِیَ لَکِ أَوْ لَکُنَّ ۔ فَکَانَ کَمَا قَالَ ہَلَکَ النَّجَاشِیُّ عَنْہُ فَلَمَّا رُدَّتْ إِلَیْہِ الْہَدِیَّۃُ أَعْطَی کُلَّ امْرَأَۃٍ مِنْ نِسَائِہِ أُوقِیَّۃٍ مِنْ ذَلِکَ الْمِسْکِ وَأَعْطَی سَائِرَہُ أُمَّ سَلَمَۃَ وَأَعْطَاہَا الْحُلَّۃَ۔ وَفِی رِوَایَۃِ مُسَدَّدٍ : إِلاَّ سَتُرَدُّ عَلَیَّ فَإِنْ رُدَّتْ عَلَیَّ أَظُنُّہُ قَالَ قَسَمْتُہَا بَیْنَکُنَّ أَوْ فَہِیَ لَکِ۔ قَالَ: فَکَانَ کَمَا قَالَ۔ [ضعیف ہے: طبقات ابن سعد۸/۹۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١٢٧) ابن وھب مسلم بن خالد سے ، وہ موسیٰ بن عقبہ سے اور وہ ام کلثوم سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام سلمہ (رض) سے شادی کی تو اسے کہا : میں نے نجاشی کو چند اوقیے مشک اور ایک جوڑا تحفہ کے طورپر بھیجا ہے، لیکن اب وہ فوت ہوگیا ہے۔ لگتا ہے وہ سامان واپس آئے گا۔ اگر وہ واپس آگیا تو وہ تمہارا ہوگا یا فرمایا : تم سب کا ہوگا۔ اسی طرح ہوا نجاشی ہلاک ہوگیا اور وہ تحفے واپس آگئے تو آپ نے اپنی ہر بیوی کو اس میں سے ایک ایک اوقیہ دیا اور باقی ابو سلمہ کو دیا اور وہ حلہ بھی انھیں دیا۔ سید کی روایت میں ہے : مگر وہ مجھے واپس دے دیا جائے گا، اگر مجھے واپس مل گئے تو وہ میں تمہارے درمیان تقسیم کر دوں گا یا فرمایا : وہ سامان تیرا ہوگا ۔