Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2347

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

بیع سلف اس وقت تک جائز نہیں جب تک مقدار، وزن، قیمت اور مدت معلوم نہ ہو

7 hadiths in this chapter

11120

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11120

Zaeef

(۱۱۱۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ الْجَزَرِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لاَ سَلَفَ إِلَی الْعَطَائِ وَلاَ إِلَی الْحَصَادِ وَلاَ إِلَی الأُنْدَرِ وَلاَ إِلَی الْعَصِیرِ وَاضْرِبْ لَہُ أَجَلاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١١٥) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : یہ کہہ کر بیع کرنا کہ جب عطیہ ملے گا یا جب فصل کاٹی جائے گی یا جب کھلیان لگے گا یا جب انگور نچوڑے جائیں گے اس وقت ادائیگی کروں گا تو اس قسم کی بیع جائز نہیں ہے بلکہ میعاد مقررہونی چاہیے ۔

11121

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11121

Zaeef

(۱۱۱۱۶) أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ النَّجَّارُ الْمُقْرِئُ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا الْقَاضِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ عَنْ سُفْیَانَ ہُوَ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ کَرِہَ السَّلَمَ إِلَی الْحَصَادِ وَالْقَصِیلِ وَالْبَیْدَرِ وَلَکِنْ سَمِّہْ شَہْرًا۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١١٦) عکرمہ حضرت ابن عباس (رض) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اس بیع سلم کو جو کھیتی کے کاٹے جانے تک ہو یا مکمل اگ آنے پر یا جب فصل کھلیان میں ہوگی اس وقت تک کی بیع سلم کو مکروہ سمجھتے تھے اور فرماتے تھے : مہینے کا نام لے کر مدت مقرر کی جائے۔

11122

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11122

Zaeef

(۱۱۱۱۷) وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا ابْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ عَنْ سُفْیَانَ (ح) وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِیُّ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ نُبَیْحٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ : السَّلَمُ کَمَا یُقَوَّمُ السِّعْرُ رِبًا وَلَکِنْ کَیْلٌ مَعْلُومٌ إِلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ وَاسْتَکْثِرْ مَا اسْتَطَعْتَ۔ وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : أَسْلِفْ فِی کَیْلٍ مَعْلُومٍ إِلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ وَاسْتَکْثِرْ مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١١٧) حضرت سعید خدری (رض) فرماتے ہیں : بیع سلم جیسے بھی اس کا نرخ مقرر کیا جائے وہ سود ہے مگر جب پیمانہ معلوم ہو اور مدت معلوم ہو اور جتنا ہو سکے ان چیزوں میں اضافہ کریں اور عبدالرزاق کی ایک روایت میں ہے کہ وزن معلوم اور مدت معلوم میں بیع سلف کرو اور اس قسم کی چیزوں میں جتنا ہو سکے اضافہ کرو ۔

11123

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11123

Zaeef

(۱۱۱۱۸) أَخْبَرَنَا الشَّیْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیرِینَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُبَیْدَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ کَانَ یَنْہَی عَنْ بَیْعِ الطَّعَامِ بِسِعْرِ الْبَیْدَرِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١١٨) ابو عبیدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کھلیان کے ریٹ کے ساتھ گندم کی بیع کو جائز نہیں سمجھتے تھے ۔

11124

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11124

Zaeef

(۱۱۱۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُنْدَارِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَشْتَرِیَ إِلَی یُسْرِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١١٩) عمرو بن دینارفرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) اس بات کو مکروہ سمجھتے تھے کہ آدمی کوئی چیز خریدے اور کہے کہ جب میسر ہوگی تو قیمت ادا کر دوں گا ۔

11125

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11125

Zaeef

(۱۱۱۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا کُلَیْبُ بْنُ وَائِلٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ : کَانَتْ لِی عَلَی رَجُلٍ دَرَاہِمُ فَأَتَیْتُہُ أَتَقَاضَاہُ فَقَالَ : لَیْسَ عِنْدِی وَلَکِنِ أَکْتُبْہَا عَلَی طَعَامٍ إِلَی الْحَصَادِ قَالَ : لاَ یَصْلُحُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١٢٠) کلیب بن وائل فرماتے ہیں : میں نے ابن عمر (رض) سے کہا کہ میں نے فلاں آدمی سے کچھ درہم لینے تھے۔ میں اس کے پاس لینے کے لیے گیا تو اس نے کہا : میرے پاس اس وقت تو کچھ نہیں ہے تو ایسا کر جب فصلیں کاٹی جائیں گی اس وقت آنا، ابن عمر (رض) نے فرمایا : اس کی یہ بات درست نہیں ہے۔

11126

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11126

Zaeef

(۱۱۱۲۱) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃُ : قَدِمَ تَاجِرٌ بِمَتَاعٍ فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَوْ أَلْقَیْتَ ہَذَیْنِ الثَّوْبَیْنِ الْغَلِیظَیْنِ عَنْکَ وَأَرْسَلْتَ إِلَی فُلاَنٍ التَّاجِرِ فَبَاعَکَ ثَوْبَیْنِ إِلَی الْمَیْسَرَۃِ فَبَعَثَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ أَرْسِلْ إِلَیَّ ثَوْبَیْنِ إِلَی الْمَیْسَرَۃِ۔ فَقَالَ : إِنَّ مُحَمَّدًا یُرِیدُ أَنْ یَذْہَبَ بِمَالِی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَاللَّہِ لَقَدْ عَلِمُوا أَنِّی أَدَّاہُمْ لِلأَمَانَۃِ وَأَخْشَاہُمْ لِلَّہِ ۔ وَنَحْوَ ہَذَا۔ فَہَذَا مَحْمُولٌ عَلَی أَنَّہُ اسْتَدْعَی الْبَیْعَ إِلَی الْمَیْسَرَۃِ لاَ أَنَّہُ عَقَدَ إِلَیْہَا بَیْعًا ثُمَّ لَوْ أَجَابَہُ إِلَی ذَلِکَ أَشْبَہُ أَنْ یُوَقِّتَ وَقْتًا مَعْلُومًا أَوْ یَعْقِدَ الْبَیْعَ مُطْلَقًا ثُمَّ یَقْضِیَہُ مَتَی مَا أَیْسَرَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١٢١) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : کچھ تاجر سامان لے کر آئے، میں نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ یہ پرانے کپڑے پہننا چھوڑ دیں اور نئے خرید لیں اور جب آپ کے پاس پیسے آجائیں تو اس کی ادائیگی کرلینا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس تاجر کی طرف پیغام بھیجا کہ دو کپڑے دے دو ، میں آپ کو خوشحالی کے دنوں میں ان کی رقم واپس کر دوں گا۔ وہ کہنے لگا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا مال کھانا چاہتا ہے، آپ (رض) نے فرمایا : وہ جانتے بھی ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ امین اور متقی ہوں۔ یہ اس بات پر محمول ہوگا کہ آپ نے آفر کی تھی، لیکن اس نے انکار کردیا، آپ نے بیع پکی نہیں کی تھی۔ پھر اگر وہ اجازت دے بھی دیتا تو اس بات کی زیادہ توقع تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وقت مقرر کرتے یا پھر مطلق بیع کرتے، پھر جب وسعت آتی تو ادا کرتے ۔