Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2336

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

زائد پانی کو بیچنے کی نہی کا بیان

7 hadiths in this chapter

11062

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11062

Zaeef

(۱۱۰۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْہَالِ یَقُولُ سَمِعْتُ إِیَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِیِّ وَرَأَی رَجُلاً یَبِیعُ الْمَائَ فَقَالَ : لاَ تَبِیعُوا الْمَائَ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَنْہَی عَنْ بَیْعِ الْمَائِ ۔ ذَکَرَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی سُنَنِ حَرْمَلَۃَ عَنْہُ ہَذَا الْخَبَرَ عَنْ سُفْیَانَ ثُمَّ قَالَ مَعْنَی ہَذَا الْحَدِیثِ أَنْ یُبَاعَ الْمَائُ فِی الْمَوْضِعِ الَّذِی خَلَقَہُ اللَّہُ فِیہِ وَذَلِکَ أَنْ یَأْتِیَ بِالْبَادِیَۃِ الرَّجُلَ لَہُ الْبِئْرُ لِیَسْقِی بِہَا مَاشِیَتَہُ وَیَکُونَ فِی مَائِہَا فَضْلٌ عَنْ مَاشِیَتِہِ فَنَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَالِکَ الْمَائِ عَنْ بَیْعِ ذَلِکَ الْفَضْلِ وَنَہَاہُ عَنْ مَنْعِہِ ثُمَّ سَاقَ الْکَلاَمَ إِلَی أَنَّہُ إِذَا حَمَلَ الْمَائَ عَلَی ظَہْرِہِ فَلاَ بَأْسَ أَنْ یَبِیعَہُ مِنْ غَیْرِہِ لأَنَّہُ مَالِکٌ لِمَا حَمَلَ۔قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ آدَمَ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَنْہَی عَنْ بَیْعِ فَضْلِ الْمَائِ ۔ [مسند عبدالرزاق، رقم ۱۴۴۹۵، مسند حمیدی، رقم ۸۳۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٠٥٧) عمرو بن دینار فرماتی ہیں کہ میں نے ابو منہال کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ایاس بن عبدمزنی سے سنا کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ پانی بیچ رہا تھا میں نے کہا : پانی مت بیچو؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانی بیچنے سے روکا کرتے تھے ۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جہاں پر اللہ تعالیٰ نے پانی کا چشمہ جاری کیا ہے، وہاں پر وہ پانی بیچا جائے تو حرام ہے۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ ایک آدمی اس چشمے پر اپنے جانور لے جائے تو چشمے کا مالک وہ پانی اسے پیسوں کے عوض دے، حالانکہ وہ پانی اس کی ضرورت سے زائد ہوتا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے، البتہ اگر پانی کو اپنی پیٹھ پر رکھ کرلے جائے تو کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ وہ اپنی محنت کا بدلہ لیتا ہے۔

11063

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11063

Zaeef

(۱۱۰۵۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ فَذَکَرَہُ وَلَمْ یَقُلْ وَرَأَی رَجُلاً یَبِیعُ الْمَائَ ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ : نَہَی عَنْ بَیْعِ فَضْلِ الْمَائِ ۔وَرَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ أَنَّ أَبَا الْمِنْہَالِ أَخْبَرَہُ أَنَّ إِیَاسَ بْنَ عَبْدٍ قَالَ لِلنَّاسِ : لاَ تَبِیعُوا فَضْلَ الْمَائِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنْ بَیْعِ الْمَائِ ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ فَذَکَرَہُ وَعَلَی ہَذَا یَدُلُّ حَدِیثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیِّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٠٥٨) عمرو بن دینارفرماتے ہیں زائد پانی بیچنے سے منع کیا گیا ہے۔ ابو منہال کہتے ہیں کہ ایاس بن عبد نے لوگوں سے کہا : ضرورت سے زائد پانی مت بیچو ، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع کیا ہے۔

11064

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11064

Sahih

(۱۱۰۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ (ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ بَیْعِ فَضْلِ الْمَائِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یَحْیَی الْقَطَّانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۶۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٠٥٩) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زائد پانی بیچنے سے منع کیا ہے۔

11065

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11065

Zaeef

(۱۱۰۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِیمٍ الْقَنْطَرِیُّ الْحَنْظَلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ : عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَہَی عَنْ بَیْعِ الْمَائِ وَعَنْ ضِرَابِ الْجَمَلِ وَأَنْ یَبِیعَ الرَّجُلُ أَرْضَہُ وَمَاء ہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ : قَوْلُہُ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ وَأَنْ یَبِیعَ الرَّجُلُ أَرْضَہُ وَمَائَ ہُ فَإِنَّمَا أَرَادَ َاللَّہُ أَعْلَمُ أَنْ یُکْرِیَہَا مَعَ الْمَائِ لِلْحَرْثِ بِبَعْضِ مَا یَخْرُجُ مِنْہَا فَقَدْ رَوَاہُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ وَعَنْ بَیْعِ الْمَائِ وَالأَرْضِ لِتُحْرَثَ۔ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ وَقَالَ بَیَاضُ الأَرْضِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

( ١١٠٦٠) حضرت جابر (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی بیچنے سے منع کیا ہے اور اونٹ دکھانے کی قیمت سے منع کیا ہے ، اسی طرح اس سے بھی منع کیا ہے کہ آدمی اپنی زمین اور پانی بیچے۔” شیخ (رح) فرماتے ہیں : حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” وَأَنْ یَبِیعَ الرَّجُلُ أَرْضَہُ وَمَاء ہُ “ اپنی زمین اور پانی کو مت بیچو۔ اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آدمی زمین پانی کی ساتھ کرائے پر دے، اس شرط پر کہ وہ آمدن میں سے کچھ دے گا، واللہ اعلم اسی روایت کو روح بن عبادہ نے ابن جریج سے روایت کیا ہے ، انھوں نے حدیث میں کہا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ز میں اور پانی کو کھیتی باڑی کرنے کے لیے بیچنے سے منع کیا ہے۔

11066

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11066

Sahih

(۱۱۰۶۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْفَقِیہُ الشِّیرَازِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی زِیَادُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ ہِلاَلَ بْنَ أُسَامَۃَ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یُبَاعُ فَضْلُ الْمَائِ لِیُبَاعَ بِہِ الْکَلأُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ النَّوْفَلِیِّ الْبَصْرِیِّ ہَکَذَا بِلَفْظِ الْبَیْعِ فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ وَفِیہَا دِلاَلَۃٌ عَلَی صِحَّۃِ تَأْوِیلِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ۔ [صحیح۔ مسلم ،حدیث ۱۵۶۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٠٦١) حضرت ابوہریرہ ہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زائد پانی نہ بیچا جائے کہ اس کے ذریعے گھاس بیچا جائے۔

11067

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11067

Sahih

(۱۱۰۶۲) أَخْبَرَنَاأَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ شُعَیْبِ بْنِ شُعَیْبٍ أَخِی عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَخِیہِ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ سَالِمٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَعْطَوْنِی بِفَضْلِ الْمَائِ مِنْ أَرْضِہِ بِالْوَہْطِ ثَلاَثِینَ أَلْفًا قَالَ فَکَتَبْتُ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو فَکَتَبَ إِلَیَّ لاَ تَبِعْہُ وَلَکِنْ أَقِمْ قِلْدَکَ ثُمَّ اسْقِ الأَدْنَی فَالأَدْنَی فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَنْہَی عَنْ بَیْعِ فَضْلِ الْمَائِ ۔ [صحیح لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٠٦٢) سیدنا عبداللہ بن عمرو کے آزادکردہ غلام سالم فرماتے ہیں کہ انھوں نے مجھے اپنی زمین کا زائد پانی تین ہزار میں دیا جو گڑھے میں تھا، چنانچہ میں نے یہ بات عبداللہ بن عمرو (رض) کو بتائی تو انھوں نے میری طرف جوابی خط میں لکھا : اسے مت بیچ تو باری مقرر کردے، پھر اپنے قریب والوں کو پانی دے؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : ضرورت سے زائد پانی نہ بیچو۔

11068

Sunan Al Kubra Bayhaqi #11068

Sahih

(۱۱۰۶۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ بَیْعِ الْمَائِ فِی الْقِرَبِ فَقَالَ : ہَذَا یَنْزِعُہُ وَیَحْمِلُہُ لاَ بَأْسَ بِہِ لَیْسَ کَفَضْلِ الْمَائِ الَّذِی یَذْہَبُ فِی الأَرْضِ۔ [صحیح ۔رجالہ ثقات وسند ہ متصل]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٠٦٣) ابن جریج فرماتے ہیں : عطاء (رح) سے پوچھا گیا : مشکیزوں میں پانی بیچنا کیسا ہے ؟ جواب دیا : یہ صورت مختلف ہے اس میں تو آدمی پانی کھنچتا ہے اور اسے اٹھاتا ہے اس لیے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ پانی اس زائد پانی کی طرح نہیں ہے جو زمین میں ہی خشک ہوجاتا ہے۔