Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2300

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

بھاؤ بڑھانا ممنوع ہے

7 hadiths in this chapter

10886

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10886

Sahih

(۱۰۸۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَالْحَدِیثُ لإِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنِ النَّجْشِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ بخاری ۶۸۶۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٨١) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھاؤ بڑھانے سے منع فرمایا ہے۔

10887

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10887

Sahih

(۱۰۸۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَنَاجَشُوا ۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافعی ۸۳۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٨٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ایک دوسرے پر بھاؤ زیادہ نہ کرو۔

10888

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10888

Zaeef

(۱۰۸۸۳) قَالَ وَأَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِثْلَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٨٣) خالی۔

10889

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10889

Zaeef

(۱۰۸۸۴) قَالَ وَأَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ وَمَالِکٌ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِثْلَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٨٤) خالی۔

10890

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10890

Sahih

(۱۰۸۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَالنَّجْشُ أَنْ یَحْضُرَ الرَّجُلُ السِّلْعَۃَ تُبَاعُ فَیُعْطِی بِہَا الشَّیْئَ وَہُوَ لاَ یُرِیدُ شِرَائَ ہَا لِیَقْتَدِیَ بِہِ السُّوَّامُ فَیُعْطُونَ بِہَا أَکْثَرَ مِمَّا کَانُوا یُعْطُونَ لَوْ لَمْ یَسْمَعُوا سَوْمَہُ فَمَنْ نَجَشَ فَہُوَ عَاصٍ بِالنَّجْشِ إِنْ کَانَ عَالِمًا بِنَہْیِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ وَالْبَیْعُ جَائِزٌ لاَ یُفْسِدُہُ مَعْصِیَۃُ رَجُلٍ نَجَشَ عَلَیْہِ قَالَ وَقَدْ بِیعَ فِیمَنْ یَزِیدُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَجَازَ الْبَیْعُ وَقَدْ یَجُوزُ أَنْ یَکُونَ زَادَ مَنْ لاَ یُرِیدُ الشِّرَائَ ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٨٥) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ” النجش “ یہ ہے کہ آدمی فروخت ہونے والے سامان کے پاس موجود ہو جب وہ فروخت ہو رہا ہو۔ اس کے عوض اس کو کچھ دیا جائے لیکن وہ سامان خریدنا نہیں چاہتا۔ تاکہ بھاؤ کرنے والے (بولی لگانے والے) اس کی پیروی کریں۔ وہ جتنا دینا چاہتے تھے، اس سے زیادہ دیے جاتے۔ اگر اس کا بھاؤ نہ سنیں۔ بھاؤ میں اضافہ کرنے والا اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ممانعت کو جانتا ہے تو گناہ گار ہے۔ بیع جائز ہے اس آدمی کی نافرمانی کی وجہ سے بیع فاسد نہ ہوگی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ایسی بیع ہوتی تھی تو بیع جائز ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ریٹ میں اضافہ کرنے والا خریدنے کا ارادہ نہ بھی رکھتا ہو۔

10891

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10891

Zaeef

(۱۰۸۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ وَأَبُو مَنْصُورٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ حَمْدَانَ وَأَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّفَّارُ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرُو بْنُ نُجَیْدٍ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا أَخْضَرُ بْنُ عَجْلاَنَ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَادَی عَلَی حِلْسٍ وَقَدَحٍ فِیمَنْ یَزِیدُ فَأَعْطَاہُ رَجُلٌ دِرْہَمًا وَأَعْطَاہُ آخَرُ دِرْہَمَیْنِ فَبَاعَہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد ۳/۱۱۴۔ ابوداود ۱۶۴۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٨٦) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٹاٹ اور پیالے کی بولی لگائی کہ کون زیادہ دے گا۔ ایک آدمی نے ایک درہم دینے کو کہا جبکہ دوسرے نے دو درہم دیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو فروخت کردیا۔

10892

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10892

Sahih

(۱۰۸۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ مَالِکٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی جَعْفَرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلِمَ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً یُقَالُ لَہُ شَہْرٌ کَانَ تَاجِرًا وَہُوَ یَسْأَلُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ عَنْ بَیْعِ الْمُزَایَدَۃِ فَقَالَ نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَبِیعَ أَحَدُکُمْ عَلَی بَیْعِ أَخِیہِ حَتَّی یَذَرَ إِلاَّ الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِیثَ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی جَعْفَرٍ وَرَوَاہُ یُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : وَہُوَ یَسْأَلُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَأَرْسَلَہُ۔ {ق} وَرُوِّینَا عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّہُ قَالَ : أَدْرَکْتُ النَّاسَ لاَ یَرَوْنَ بَأْسًا بِبَیْعِ الْمَغَانِمِ فِیمَنْ یَزِیدُ۔[حسن۔ اخرجہ ابن الجارود ۵۷۰۔ الدارقطنی ۳/۱۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨٨٧) زید بن اسلم کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سنا، اس کو شہر کہا جاتا تھا، وہ تاجر تھا۔ وہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے بیع المزایدہ کے متعلق پوچھ رہا تھا۔ انھوں نے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے یہاں تک کہ وہ چھوڑ دے۔ الا یہ کہ غنیمتیں اور وراثت ہو۔ (ب) یونس بن عبدالاعلیٰ ابن وہب سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن عبداللہ بن عمر سے سوال کررہا تھا۔ (ج) عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو پایا ہے کہ وہ غنیمتوں کی قیمت میں اضافہ کرنے میں حرج محسوس نہ کرتے تھے۔