Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2269

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

ضمانت کی چٹی اور عیوب کی وجہ سے لوٹانے کا بیان بائع کا خریدار کو دھوکا دینا اور فروخت کرنے والی چیز کے عیب کو چھپانا

4 hadiths in this chapter

10737

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10737

Sahih

(۱۰۷۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلِ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- مَرَّ بِرَجُلٍ یَبِیعُ طَعَامًا فَقَالَ : کَیْفَ تَبِیعُ ۔ فَأَخْبَرَہُ فَأُوحِیَ إِلَیْہِ أَنْ أَدْخِلْ یَدَکَ فِیہِ فَأَدْخَلَ یَدَہُ فَإِذَا ہُوَ مَبْلُولٌ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ۔ [حسن۔ اخرجہ ابوداود ۳۵۵۲۔ ابن ماجہ ۲۲۲۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٣٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جو غلہ فروخت کررہا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیسے فروخت کر رہے ہو ؟ اس نے بتایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی آئی کہ اپنا ہاتھ اس میں داخل کرو، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ داخل کیا، اچانک وہ تر تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے دھوکا کیا وہ ہم سے نہیں ہے۔

10738

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10738

Sahih

(۱۰۷۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوبَکْرِ بْنُ عَبْدِاللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السَّجْزِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَرَّ عَلَی صُبْرَۃٍ مِنْ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ یَدَہُ فِیہَا فَنَالَتْ أَصَابِعُہُ بَلَلاً فَقَالَ : مَا ہَذَا یَا صَاحِبَ الطَّعَامِ ۔ قَالَ : أَصَابَتْہُ السَّمَائُ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : أَفَلاَ جَعَلْتَہُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّی یَرَاہُ النَّاسُ مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنِّی ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَیَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۰۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٣٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غلے کے ڈھیر کے پاس سے گزرے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ داخل کردیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگلیوں کو تری لگی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے غلے والے ! یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! بارش آگئی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ اس کو ڈھیر کے اوپر کردیتے تاکہ لوگ دیکھ لیں، جس نے دھوکا کیا وہ مجھ سے نہیں۔

10739

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10739

Sahih

(۱۰۷۳۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ أَیُّوبَ یُحَدِّثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَۃَ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ وَلاَ یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ إِنْ بَاعَ مِنْ أَخِیہِ بَیْعًا فِیہِ عَیْبٌ أَنْ لاَ یُبَیِّنَہُ لَہُ۔[صحیح۔ اخرجہ ابن ماجہ ۲۲۴۶۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٣٤) عقبہ بن عامرجہنی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ سامان فروخت کرے اور اگر اس میں عیب ہو تو وضاحت نہ کرے۔

10740

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10740

Zaeef

(۱۰۷۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِیرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ : ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِیُّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی مَالِکٍ أَخْبَرَنَا أَبُو سِبَاعٍ قَالَ : اشْتَرَیْتُ نَاقَۃً مِنْ دَارِ وَاثِلَۃَ بْنِ الأَسْقَعِ فَلَمَّا خَرَجْتُ أَدْرَکَنَا وَاثِلَۃُ بْنُ الأَسْقَعَ وَہُوَ یَجُرُّ رِدَائَ ہُ قَالَ : یَا عَبْدَ اللَّہِ اشْتَرَیْتَ؟ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : ہَلْ بُیِّنَ لَکَ مَا فِیہَا؟ قُلْتُ : وَمَا فِیہَا إِنَّہَا لَسَمِینَۃٌ ظَاہِرَۃُ الصِّحَّۃِ فَقَالَ : أَرَدْتَ بِہَا لَحْمًا أَوْ أَرَدْتَ بِہَا سَفَرًا قَالَ قُلْتُ : بَلْ أَرَدْتُ عَلَیْہَا الْحَجَّ قَالَ : فَإِنَّ بِخُفِّہَا نَقَبًا قَالَ فَقَالَ صَاحِبُہَا : أَصْلَحَکَ اللَّہُ مَا تُرِیدُ إِلَی ہَذَا تَفْسِدُ عَلَیَّ قَالَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ بَاعَ شَیْئًا فَلاَ یَحِلُّ لَہُ حَتَّی یُبَیِّنَ مَا فِیہِ وَلاَ یَحِلُّ لِمَنْ یَعْلَمُ ذَلِکَ أَنْ لاَ یُبَیِّنَہُ ۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد ۳/ ۴۱۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٣٥) ابوسباع کہتے ہیں کہ میں نے واثلہ بن اسقع کے گھر سے ایک اونٹنی خریدی۔ جب میں گھر سے نکلا تو ہم نے واثلہ بن اسقع کو پایا کہ وہ اپنی چادر گھسیٹ رہے تھے، انھوں نے کہا : اے اللہ کے بندے ! تو نے اونٹنی خریدی ہے ؟ میں نے کہا : ہاں۔ واثلہ کہنے لگے : کیا اس کے عیب کی وضاحت کی گئی ہے۔ میں نے کہا : اس میں کیا ہے ؟ ظاہری طور پر موٹی تازی اور صحت مند ہے، واثلہ کہنے لگے : آپ نے گوشت کے لیے خریدی ہے یا سواری کرنا چاہتے ہو ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : میں حج کا سفر کرنا چاہتا ہوں۔ واثلہ کہتے ہیں کہ اس کے پاؤں میں سوراخ ہیں، اس کا ساتھی یعنی اونٹنی والا کہتا ہے کہ اللہ آپ کی اصلاح فرمائے ، آپ نے معاملہ ہی خراب کردیا، کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ جو شخص کوئی چیز فروخت کرنا چاہے تو اس کے عیب کو بیان کر دے اور یہ جائز نہیں کہ جانتے ہوئے پھر عیب کی وضاحت نہ کی جائے۔