Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2249

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

جو کہتا ہے کہ نقصان کو کم نہ کیا جائے گا سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ اس نے اپنا باغ فروخت کیا تو خریدار کو نقصان ہوگیا۔ سعد نے اس سے قیمت وصول کی۔ میں نہیں جانتا کیا وہ ثابت رہا یا نہیں۔

5 hadiths in this chapter

10628

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10628

Sahih

(۱۰۶۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ الْمُعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنْ بَیْعِ الثِّمَارِ حَتَّی تُزْہِیَ فَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَا تُزْہِی؟ قَالَ : حِینَ تَحْمَرُّ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَرَأَیْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّہُ الثَّمَرَۃَ فَبِمَ یَأْخُذُ أَحَدُکُمْ مَالَ أَخِیہِ؟ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ کَمَا مَضَی ذِکْرُہُ۔ [صحیح۔ معنی قریبا]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٢٣) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا، کہا گیا : اس کا پکنا کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب وہ سرخ ہوجائیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ کا کیا خیال ہے جب اللہ پھل روک لے پھر تم اپنے بھائی کا مال کیوں مباح خیال کرتے ہو۔

10629

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10629

Sahih

(۱۰۶۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُوسَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ خِلاَلَ کَلاَمِہِ فِی مَسْأَلَۃِ الْجَائِحَۃِ : لَوْ کَانَ مَالِکُ الثَّمَرَۃِ لاَ یَمْلِکُ ثَمَنَ مَا اجْتِیحَ مِنْ ثَمَرَتِہِ مَا کَانَ لِمَنْعِہِ أَنْ یَبِیعَہَا مَعْنًی إِذَا کَانَ یَحِلُّ بَیْعُہَا طَلْعًا أَوْ بَلَحًا یُلْقَطُ وَیَقْطَعُ إِلاَّ أَنَّہُ أُمِرَ بِبَیْعِہَا فِی الْحِینِ الَّذِی الأَغْلَبُ فِیہَا أَنْ تَنْجُوَ مِنَ الْعَاہَۃِ وَلَوْ لَمْ یَلْزَمْہُ ثَمَنُ مَا أَصَابَتْہُ الْجَائِحَۃُ مَا ضَرَّ ذَلِکَ الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِیَ قَالَ وَإِنْ ثَبَتَ الْحَدِیثُ فِی وَضْعِ الْجَائِحَۃِ لَمْ یَکُنْ فِی ہَذَا حُجَّۃٌ وَأَمْضَی الْحَدِیثَ عَلَی وَجْہِہِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٢٤) امام شافعی (رح) اس مسئلہ میں فرماتے ہیں کہ اگر پھل کا مالک اپنے پھلوں کی خرابی کی وجہ سے اس قیمت کا مالک نہ بن سکا تو اس وجہ سے اس کو فروخت کرنے سے رکاوٹ پیدا نہ کریں۔ جب وہ کچی کھجور اور درمیانے درجہ کی کھجور فروخت کرسکتا ہے تو اس کو اجازت ہونی چاہیے جب وہ پھل آفات سے محفوظ ہوجائے تو فروخت کرے۔ اگر خشک سالی یا آفات کی وجہ سے کمی پر قیمت لازم نہ ہو تو یہ چیز خریدار اور فروخت کرنے والے کو نقصان نہ دے گی۔ اگر یہ حدیث ثابت ہو کہ خشک سالی یا آفات کی وجہ سے قیمت کم کردی جائے تو یہ حدیث دلیل نہ ہوگی۔ اس طرح کی حدیث پہلے گزر گئی۔

10630

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10630

Zaeef

(۱۰۶۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی الرِّجَالِ : مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّہٌ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُ سَمِعَہَا تَقُولُ : ابْتَاعَ رَجُلٌ ثَمَرَ حَائِطٍ فِی زَمَانِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَعَالَجَہُ وَقَامَ فِیہِ حَتَّی تَبَیَّنَ لَہُ النُّقْصَانُ فَسَأَلَ رَبَّ الْحَائِطِ أَنْ یَضَعَ عَنْہُ أَوْ أَنْ یُقِیلَہُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ یَفْعَلَ فَذَہَبَتْ أَمُّ الْمْشْتَرِی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تَأَلَّی أَنْ لاَ یَفْعَلَ خَیْرًا ۔ فَسَمِعَ بِذَلِکَ رَبُّ الْحَائِطِ فَأَتَی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ہُوَ لَہُ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ بُکَیْرٍ وَلَیْسَ فِی رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ أَوْ أَنْ یُقِیلَہُ وَقَالَ فَعَالَجَہُ وَأَقَامَ عَلَیْہِ۔ زَادَنِی أَبُو سَعِیدٍ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِیعِ عَنِ الشَّافِعِیِّ قَالَ : حَدِیثُ عَمْرَۃَ مُرْسَلٌ وَأَہْلُ الْحَدِیثِ وَنَحْنُ لاَ نُثْبِتُ الْمُرْسَلَ فَلَو ثَبَتَ حَدِیثُ عَمْرَۃَ کَانَتْ فِیہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنْ لاَ تُوضَعَ الْجَائِحَۃُ لِقَوْلِہَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تَأَلَّی أَنْ لاَ یَفْعَلَ خَیْرًا ۔ وَلَو کَانَ الْحُکْمُ عَلَیْہِ أَنْ یَضَعَ الْجَائِحَۃَ لَکَانَ أَشْبَہَ أَنْ یَقُولَ ذَلِکَ لاَزِمٌ لَہُ حَلَفَ أَوْ لَمْ یَحْلِفْ۔ قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ أَسْنَدَہُ حَارِثَۃُ بْنُ أَبِی الرِّجَالِ فَرَوَاہُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا إِلاَّ أَنَّ حَارِثَۃَ ضَعِیفٌ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔ وَأَسْنَدَہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی الرِّجَالِ إِلاَّ أَنَّہُ مُخْتَصَرٌ لَیْسَ فِیہِ ذِکْرُ الثَّمَرِ۔[ضعیف۔ اخرجہ مالک ۱۲۸۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٢٥) عمرہ بنت عبدالرحمن فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ایک آدمی نے باغ کا پھل خریدا۔ اس نے اس میں کام کیا، لیکن پھر بھی نقصان ہوگیا۔ اس نے باغ کے مالک سے کہا کہ وہ قیمت کم کرے یا سودا فسخ کر دے۔ اس نے قسم اٹھائی کہ وہ ایسا نہ کرے گا تو خریدار کی والدہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جا کر تذکرہ کیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس نے بھلائی نہ کرنے کی قسم کھائی ہے، یہ بات باغ کے مالک نے سن لی وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : یہ اس کے لیے ہے۔ (ب) امام شافعی (رح) کی روایت میں ہے کہ وہ سودا توڑ دے اور فرمایا : اس پر وہ ہمیشہ کام کاج کرتا رہا۔ (ج) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ عمرہ بنت عبدالرحمن کی حدیث مرسل ہے ، محدثین اور ہم مرسل حدیث کو ثابت نہیں مانتے۔ اگر عمرۃ کی حدیث ثابت ہو تو گویا کہ قیمت کو کم نہ کیا جائے گا۔ اگر یہ بات اس پر ثابت ہو کہ وہ قیمت کو کم کرے تو یہ اس کے مشابہہ ہے کہ قسم اٹھائے نہ اٹھائے قیمت کم کرنا لازم ہے۔

10631

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10631

Sahih

(۱۰۶۲۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَسْفَاطِیُّ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا أَخِی عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی الرِّجَالِ : مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّہِ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَقُولُ : سَمِعَ النَّبِیُّ -ﷺ- صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِیَۃً أَصْوَاتَہُمْ وَإِذَا أَحَدُہُمْ یَسْتَوْضِعُ الآخَرَ وَیَسْتَرْفِقُہُ فِی شَیْئٍ وَہُوَ یَقُولُ : وَاللَّہِ لاَ أَفْعَلُ فَخَرَجَ النَّبِیُّ -ﷺ- عَلَیْہِمَا فَقَالَ : أَیْنَ الْمُتَأَلِّی عَلَی اللَّہِ لاَ یَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا فَلَہُ أَیُّ ذَلِکَ أَحَبَّ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِہِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۵۵۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٢٦) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دروازے پر جھگڑنے والوں کی بلند آوازیں سنیں، جب دوسرا قیمت کم کرنے اور نرمی کا مطالبہ کرتا تو وہ کہہ دیتا : اللہ کی قسم ! میں ایسا نہ کروں گا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس گئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : وہ قسم اٹھانے والا کدھر ہے، جو کہتا ہے کہ وہ اچھا کام نہ کرے گا، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ہوں۔ اس نے کہا : جو یہ پسند کرے اس کے لیے ہے۔

10632

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10632

Sahih

(۱۰۶۲۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ َبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ : أُصِیبَ رَجُلٌ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی ثِمَارٍ ابْتَاعَہَا فَکَثُرَ دَیْنُہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تَصَدَّقُوا عَلَیْہِ ۔ فَتَصَدَّقُوا عَلَیْہِ فَلَمْ یَبْلُغْ ذَلِکَ وَفَائَ دَیْنِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَیْسَ لَکُمْ إِلاَّ ذَلِکَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یُونُسَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۵۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٦٢٧) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ایک آدمی کو نقصان ہوگیا جو اس نے پھل خریدے تھے، اس کا قرض زیادہ ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس پر صدقہ کرو۔ انھوں نے صدقہ کیا لیکن قرض پورا نہ ہوا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پکڑو جو تم پاؤ تمہارے لیے صرف یہی ہے۔