Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2226

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

دوالگ جنسوں میں تفاضل جائز ہے، گندم اور جو دو جنسیں ہیں لیکن ادھار میں حرام ہیں، جب سود کی کوئی علت ان دونوں کو ایک جگہ جمع کر دے

6 hadiths in this chapter

10507

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10507

Sahih

(۱۰۵۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ بَیْعِ الْفِضَّۃِ بِالْفِضَّۃِ وَالذَّہَبِ بِالذَّہَبِ إِلاَّ سَوَائً بِسَوَائٍ وَأَمَرَنَا أَنْ نَشْتَرِیَ الْفِضَّۃَ بِالذَّہَبِ وَنَشْتَرِیَ الذَّہَبَ بِالْفِضَّۃِ کَیْفَ شِئْنَا قَالَ فَسَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ یَدًا بِیَدٍ فَقَالَ ہَکَذَا سَمِعْتُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مَیْسَرَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ کِلاَہُمَا عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۰۷۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٠٢) عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاندی چاندی کے عوض، سونا سونے کے بدلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ماسوائے برابر، برابر اور ہمیں حکم دیا کہ ہم چاندی کو سونے کے بدلے اور سونے کو چاندی کے بدلے جیسے ہم چاہیں فروخت کریں۔ ایک آدمی نے سوال کیا تو فرمایا : نقد بنقد۔ فرماتے ہیں : اسی طرح میں نے سنا ہے۔

10508

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10508

Sahih

(۱۰۵۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْحِنْطَۃُ بِالْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیرُ بِالشَّعِیرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلاً بِمِثْلٍ یَدًا بِیَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَی إِلاَّ مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُہُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۸۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٠٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھجور کھجور کے بدلے، گندم گندم کے عوض، جَو جَو کے عوض، نمک نمک کے بدلے برابر، برابر اور دست بدست نقد فروخت کرو۔ جس نے زیادہ کیا یا زیادہ طلب کیا۔ اس نے سود لیا لیکن جب ان کی رنگتیں ایک جیسی نہ ہوں۔ ابوالاشعث صنعانی حضرت عبادہ بن صامت سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ لوگوں کے پاس موجود تھے وہ عطیہ کے سونے اور چاندی کے برتنوں کی بیع کر رہے تھے۔

10509

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10509

Sahih

(۱۰۵۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی اللَّیْثِ حَدَّثَنَا الأَشْجَعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِیِّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ : أَنَّہُ شَہِدَ النَّاسَ یَتَبَایَعُونَ آنِیَۃَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ إِلَی الأَعْطِیَۃِ فَقَالَ عُبَادَۃُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : بِیعُوا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃَ بِالْفِضَّۃِ وَالْبُرَّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِیرَ بِالشَّعِیرِ وَالتَّمْرَ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحَ بِالْمِلْحِ سَوَائً بِسَوَائٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَی فَإِذَا اخْتَلَفَ ہَذِہِ الأَصْنَافُ فَبِیعُوہَا یَدًا بِیَدٍ کَیْفَ شِئْتُمْ لاَ بَأْسَ بِہِ الذَّہَبُ بِالْفِضَّۃِ یَدًا بِیَدٍ کَیْفَ شِئْتُمْ وَالْبُرُّ بِالشَّعِیرِ یَدًا بِیَدٍ کَیْفَ شِئْتُمْ وَالْمِلْحُ بِالتَّمْرِ یَدًا بِیَدٍ کَیْفَ شِئْتُمْ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ وَکِیعٍ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ کَمَا مَضَی وَہَذِہِ رِوَایَۃٌ صَحِیحَۃٌ مُفَسَّرَۃٌ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۸۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٠٤) سیدنا عبادہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے عوض، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے عوض، کھجور کھجور کے عوض، نمک کے عوض، برابر برابر فروخت کرو۔ جس نے زیادہ کیا یا زیادہ طلب کیا اس نے سود لیا۔ جب یہ جنسیں مختلف ہوجائیں تو نقد بنقد جیسے چاہو فروخت کرو۔ کوئی حرج نہیں ہے۔ سونا چاندی کے عوض، نقد بنقد جیسے چاہو۔ گندم جو کے بدلے جیسے چاہو نقد بنقد اور نمک کھجور کے عوض جیسے چاہو۔

10510

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10510

Sahih

(۱۰۵۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَبِی الْخَلِیلِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِیِّ : أَنَّہُ شَاہَدَ خُطْبَۃَ عُبَادَۃَ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ : وَلاَ بَأْسَ بِبَیْعِ الشَّعِیرِ بِالْبُرِّ وَالشَّعِیرُ أَکْثَرُہُمَا۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٠٥) ابواشعت صنعانی فرماتے ہیں کہ وہ عبادہ بن صامت (رض) کے خطبہ میں حاضر تھے، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حدیث کو بیان کر رہے تھے کہ جو کو گندم کے بدلے فروخت کرنا جب جَو زیادہ بھی ہو کوئی حرج نہیں ہے۔

10511

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10511

Sahih

(۱۰۵۰۶) وَرَوَاہُ بِشْرُ بْنُ عُمَرَ عَنْ ہَمَّامٍ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : وَلاَ بَأْسَ بِبَیْعِ الذَّہَبِ بِالْفِضَّۃِ وَالْفِضَّۃُ أَکْثَرُہُمَا یَدًا بِیَدٍ فَأَمَّا النَّسِیئَۃُ فَلاَ وَلاَ بَأْسَ بِبَیْعِ الْبُرِّ بِالشَّعِیرِ وَالشَّعِیرُ أَکْثَرُہُمَا یَدًا بِیَدٍ وَأَمَّا النَّسِیئَۃُ فَلاَ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ فَذَکَرَہُ۔ وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۳۳۴۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٠٦) حضرت بشر بن عمر ہمام سے نقل فرماتے ہیں کہ سونے کے بدلے چاندی خریدنا جبکہ چاندی مقدار میں زیادہ بھی ہو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن سودا نقدہو اور ادھار کی صورت میں جائز نہیں ہے، اس طرح گندم کے عوض جو لینا اور جَو مقدار میں زیادہ بھی ہوں۔ سودا نقدی ہو لیکن ادھار میں جائز نہیں ہے۔

10512

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10512

Sahih

(۱۰۵۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ یُوسُفَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحارِثِ أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَہُ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِیدٍ حَدَّثَہُ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّہُ أَرْسَلَ غُلاَمَہُ بِصَاعِ قَمْحٍ قَالَ : بِعْ ثُمَّ اشْتَرِ بِہِ شَعِیرًا فَذَہَبَ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِیَادَۃَ بَعْضِ صَاعٍ فَلَمَّا جَائَ مَعْمَرٌ أَخْبَرَہُ بِذَلِکَ فَقَالَ لَہُ مَعْمَرٌ : لِمَ فَعَلْتَ ذَلِکَ؟ انْطَلِقْ فَرُدَّہُ وَلاَ تَأْخُذَنَّ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَإِنِّی کُنْتُ أَسْمَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلاً بِمِثْلٍ ۔ وَکَانَ طَعَامُنَا یَوْمَئِذٍ شَعِیرًا۔ قِیلَ فَإِنَّہُ لَیْسَ مِثْلَہُ قَالَ : فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ یُضَارِعَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَغَیْرِہِ۔ فَہَذَا الَّذِی کَرِہَہُ مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ خَوْفَ الْوُقُوعِ فِی الرِّبَا احْتِیَاطًا مِنْ جِہَتِہِ لاَ رِوَایَۃً وَالرِّوَایَۃُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- عَامَّۃٌ تَحْتَمِلُ الأَمْرَیْنِ جَمِیعًا أَنْ یَکُونَ أَرَادَ الْجِنْسَ الْوَاحِدَ دُونَ الْجِنْسَیْنِ أَوْ ہُمَا مَعًا فَلَمَّا جَائَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ بِقَطْعِ أَحَدِ الاِحْتِمَالَیْنِ نَصًّا وَجَبَ الْمَصِیرُ إِلَیْہِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔[صحیح۔ مسلم ۱۵۹۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٠٧) معمر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے غلام کو ایک صاع گندم کا دے کر روانہ کیا کہ جاؤ اس کو فروخت کر کے پھر جَو خرید لینا۔ غلام گیا اس نے ایک صاع اور کچھ زیادہ لے لیا۔ جب معمر آئے تو غلام نے خبر دی۔ معمر کہنے لگے : تو نے ایسا کیوں کیا ؟ جاؤ اس کو واپس کرو صرف برابر، برابر لینا۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ کھانا کھانے کے بدلے برابر، برابرہو اور ان دنوں ہمارا کھانا جَو تھا۔ کہا گیا : یہ اس کی مثل نہیں ہے۔ فرمانے لگے : میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ اس کے مشابہہ نہ ہو۔ اس کو معمر بن عبداللہ نے پسند کیا کہ کہیں وہ سود میں نہ پڑجائیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عام روایت ہے، وہ دو احتمالوں کو شامل ہے : 1 صرف ایک جنس ہی مراد ہو۔ 2 یا دونوں اکٹھی ہوں۔ اس لیے عبادہ بن صامت (رض) دو احتمالوں میں سے ایک کو باقی رکھا، اسی کی جانب لوٹا جائے گا۔