Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 16 · Chapter 2225

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

اس شخص کا رجوع جو شروع زمانے میں کہتا تھا کہ سود صرف ادھار میں ہے

3 hadiths in this chapter

10504

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10504

Sahih

(۱۰۴۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَی حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ فَلَمْ یَرَیَا بِہِ بَأْسًا فَإِنِّی لَقَاعِدٌ عِنْدَ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فَسَأَلْتُہُ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ : مَا زَادَ فَہُوَ رِبًا فَأَنْکَرْتُ ذَلِکَ لِقَوْلِہِمَا فَقَالَ : لاَ أُحَدِّثُکُمْ إِلاَّ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- جَائَ ہُ صَاحِبُ نَخْلِہِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ طَیِّبٍ وَکَانَ تَمْرُ النَّبِیِّ -ﷺ- ہُوَ الدُّونُ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَنَّی لَکَ ہَذَا ۔ قَالَ : انْطَلَقْتُ بِصَاعِی وَاشْتَرَیْتُ بِہِ ہَذَا الصَّاعَ فَإِنَّ سِعْرَ ہَذَا بِالسُّوقِ کَذَا وَسِعْرَ ہَذَا بِالسُّوقِ کَذَا فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَرْبَیْتَ إِذَا أَرَدْتَ ذَلِکَ فَبِعْ تَمْرَکَ بِسِلْعَۃٍ ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِکَ أَیَّ تَمْرٍ شِئْتَ ۔ فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ : فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَحَقُّ أَنْ یَکْونَ رِبًا أَوِ الْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ قَالَ فَأَتَیْتُ ابْنَ عُمَرَ بَعْدُ فَنَہَانِی وَلَمْ آتِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ فَحَدَّثَنِی أَبُو الصَّہْبَائِ : أَنَّہُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْہُ فَکَرِہَہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَقَالَ : وَکَانَ تَمْرُ النَّبِیِّ -ﷺ- ہَذَا اللَّوْنَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۹۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٤٩٩) ابونضرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر، ابن عباس (رض) سے صرف کے متعلق سوال کیا، وہ دونوں اس میں حرج محسوس نہ کرتے تھے۔ میں ابوسعید خدری (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا میں نے ان سے صرف کے متعلق سوال کیا تو فرمانے لگے : جو زیادہ ہو وہ سود ہے، میں نے ان دونوں (ابن عمر، ابن عباس (رض) کے قول کی وجہ سے انکار کردیا تو ابوسعید کہنے لگے : میں صرف تمہیں وہ بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا۔ ایک کھجوروں والا ایک صاع عمدہ کھجوریں لے کر آیا، حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کھجوریں ردی قسم کی تھیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کہاں سے ؟ اس نے کہا : میں اپنی کھجوروں کا دو صاع لے کر گیا اور میں نے یہ ایک صاع خرید لیا اور کہنے لگا : بازار میں اس کا یہ ریٹ ہے اور اس کا یہ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے سود کا کام کیا ہے، جب تیرا یہ ارادہ تھا تو اپنی کھجوریں قیمت میں فروخت کرتا۔ پھر اس قیمت کے عوض جونسی مرضی کھجوریں خریدتا۔ ابوسعید کہتے ہیں کہ کھجور کھجور کے عوض یہ زیادہ حق ہے کہ وہ سود ہو یا چاندی چاندی کے عوض۔ کہتے ہیں : میں ابن عمر (رض) کے پاس آیا تو انھوں نے مجھے منع کردیا اور میں ابن عباس (رض) کے پاس نہ آیا۔ (ب) ابوصہباء کہتے ہیں کہ اس نے ابن عباس (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے اس کو ناپسند کیا۔ (ج) اسحاق بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کھجوریں اس رنگت کی تھیں۔

10505

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10505

Zaeef

(۱۰۵۰۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ أَبُو عَلِیٍّ الْمَاسَرْجَسِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی أَبُو الْعَبَّاسِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَہُوَ ابْنُ ابْنَۃِ الْحَسَنِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا جَدِّی الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ أَبِی الْقَعْقَاعِ عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا الْجَوْزَائِ یَقُولُ : کُنْتُ أَخْدُمُ ابْنَ عَبَّاسٍ تِسْعَ سِنِینَ إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ فَسَأَلَہُ عَنْ دِرْہَمٍ بِدِرْہَمَیْنِ فَصَاحَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَقَالَ : إِنَّ ہَذَا یَأْمُرُنِی أَنْ أُطْعِمَہُ الرِّبَا فَقَالَ نَاسٌ حَوْلَہُ : إِنْ کُنَّا لَنَعْمَلُ بِفُتْیَاکَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَدْ کُنْتُ أُفْتِی بِذَلِکَ حَتَّی حَدَّثَنِی أَبُو سَعِیدٍ وَابْنُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَہَی عَنْہُ فَأَنَا أَنْہَاکُمْ عَنْہُ۔ [ضعیف۔ ابن عساکر فی تاریخ ۱۴/ ۲۹۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٠٠) ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) کی نو سال خدمت کی۔ اچانک ایک آدمی آیا، اس نے ایک درہم کے عوض دو درہم لینے کے بارے میں سوال کیا، ابن عباس (رض) پہنچے اور فرمانے لگے : یہ مجھے حکم دیتا ہے کہ میں اس کو سود کھلاؤں۔ ان کے اردگرد جو لوگ تھے وہ کہنے لگے : ہم تو آپ کے فتوی کی بنیاد پر یہ کام کرتے تھے، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں اس کا فتویٰ دیا کرتا تھا، یہاں تک کہ مجھے ابوسعید، ابن عمر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کردیا کہ آپ نے اس سے منع کیا تھا اس وجہ سے میں بھی تمہیں منع کرتا ہوں۔

10506

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10506

Zaeef

(۱۰۵۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِیلَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِیَاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی شَمْخِ بْنِ فَزَارَۃَ سَأَلَہُ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَرَأَی أُمَّہَا فَأَعْجَبَتْہُ فَطَلَّقَ امْرَأَتَہُ أَیَتَزَوَّجُ أُمِّہَا؟ قَالَ لاَ بَأْس فَتَزَوَّجَہَا الرَّجُلُ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ عَلَی بَیْتِ الْمَالِ وَکَانَ یَبِیعُ نُفَایَۃَ بَیْتِ الْمَالِ یُعْطِی الْکَثِیرَ وَیَأْخُذُ الْقَلِیلَ حَتَّی قَدِمَ الْمَدِینَۃَ فَسَأَلَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ -ﷺ- فَقَالُوا : لاَ یَحِلُّ لِہَذَا الرَّجُلِ ہَذِہِ الْمَرْأَۃُ وَلاَ تَصْلُحُ الْفِضَّۃُ إِلاَّ وَزْنًا بِوَزْنٍ۔ فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ اللَّہِ انْطَلَقَ إِلَی الرَّجُلِ فَلَم یَجِدْہُ وَوَجَدَ قَوْمَہُ فَقَالَ : إِنَّ الَّذِی أَفْتَیْتُ بِہِ صَاحِبَکُمْ لاَ یَحِلُّ فَقَالُوا : إِنَّہَا قَدْ نَثَرَتْ لَہُ بَطْنَہَا قَالَ : وَإِنْ کَانَ وَأَتَی الصَّیَارِفَۃَ فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ الصَّیَارِفَۃِ إِنَّ الَّذِی کُنْتُ أُبَایِعُکُمْ لاَ یَحِلُّ لاَ تَحِلُّ الْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ إِلاَّ وَزْنًا بِوَزْنٍ۔ [اخرجہ الفسوی فی المعرفہ ۱/ ۸۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٥٠١) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ بنو شمخ بن فزارہ کے ایک آدمی نے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے ایک عورت سے شادی کی۔ پھر اس کی والدہ کو دیکھا، وہ اس کو پسند آئی اور اچھی لگی تو اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ کیا وہ اس کی والدہ سے شادی کرلے۔ فرمانے لگے : کوئی حرج نہیں ہے، مرد نے شادی کرلی اور حضرت عبداللہ بیت المال کے محکم میں تھے، وہ بیت المال کی ردی چیزیں زیادہ دے کر تھوڑی لے لیتے۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ آئے۔ انھوں نے صحابہ سے سوال کیا، انھوں نے کہا : اس شخص کے لیے یہ عورت جائز نہیں ہے اور چاندی کی فروخت بھی برابر، برابر وزن میں کی جائے وگرنہ درست نہیں ہے، جب عبداللہ آئے تو اس آدمی کی طرف گئے۔ اس کو نہ پایا، لیکن اس کی قوم موجود تھی۔ کہنے لگے : جو فتویٰ میں نے تمہارے ساتھ کردیا تھا وہ درست نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ حاملہ ہوچکی ہے۔ فرمانے لگے : اگرچہ وہ حاملہ بھی ہوچکی ہے۔ پھر وہ صراف (سکے تبدیل کرنے والے) کے پاس آئے اور فرمایا : اے صراف کی جماعت ! بیشک وہ چیز جس پر میں نے تم سے بیعت لی تھی وہ جائز نہیں اور چاندی چاندی کے بدلے فروخت کرنا جائز نہیں مگر صرف برابر، برابر۔