Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2112

کتاب الحج

دوڑ کر شکار کو پکڑنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

10000

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10000

Sahih

(۹۹۹۶)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِیَادٍ أَبِی بِشْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو شَیْبَۃَ : سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَیْدِیُّ حَدَّثَنَا مُجَاہِدٌ قَالَ : جَائَ نَفَرٌ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ قَالُوا إِنَّا أَنْفَجْنَا ضَبُعًا فَرَدَّدْنَاہَا بَیْنَنَا فَأَصَبْنَاہَا وَمِنَّا الْحَلاَلُ وَمِنَّا الْمُحْرِمُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنْ کَانَ ضَبُعًا فَکَبْشٌ سَمِینٌ ، وَإِنْ کَانَ ضَبُعَۃٌ فَنَعْجَۃٌ سَمِینَۃٌ قَالَ فَقَالُوا : یَا أَبَا عَبَّاسٍ عَلَی کُلِّ رَجُلٍ مِنَّا۔ قَالَ : لاَ وَلَکِنْ تَخَارَجُونَ بَیْنَکُمْ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٩٦) مجاہد فرماتے ہیں کہ عراق کا ایک گروہ ابن عباس (رض) کے پاس آیا۔ انھوں نے کہا : ہم نے گوہ کو دوڑایا اور اپنے درمیان بھگاتے رہے ، یہاں تک کہ ہم نے اس کو پکڑ لیا اور ہمارے بعض ساتھی محرم اور بعض حلال تھے تو ابن عباس (رض) فرمانے لگے : اگر گوہ مذکر تھا تو اس کا عوض ایک موٹا تازہ مینڈھا ہے، اگر گوہ مونث تھی تو اس کا عوض ایک مونث مینڈھی ہے، انھوں نے پوچھا : اے ابن عباس ! کیا ہم میں سے ہر ایک پر ؟ فرمایا : نہیں بلکہ تم آپس میں برابر تقسیم کرلو۔

10001

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10001

Zaeef

(۹۹۹۷)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَی بَنِی ہَاشِمٍ أَنَّ مَوَالِیَ لاِبْنِ الزُّبَیْرِ أَحْرَمُوا إِذْ مَرَّتْ بِہِمْ ضَبُعٌ فَحَذَفُوہَا بِعِصِیِّہِمْ فَأَصَابُوہَا فَوَقَعَ فِی أَنْفُسِہِمْ فَأَتَوُا إِلَی ابْنِ عُمَرَ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : عَلَیْکُمْ کَبْشٌ قَالُوا : عَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا کَبْشٌ قَالَ : إِنَّکُمْ لَمُعَزَّزٌ بِکُمْ عَلَیْکُمْ کُلُّکُمْ کَبْشٌ۔ قَالَ عَلِیٌّ قَالَ اللُّغَوِیُّونَ لَمُعَزَّزٌ بِکُمْ أَیْ لَمُشَدَّدٌ بِکُمْ۔ وَرَوَاہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ وَسُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِی عَمَّارٍ عَنْ رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْصُولاً۔ [ضعیف۔ اخرجہ الدارقطنی ۲/ ۲۵۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٩٧) بنو ہاشم کے غلام عمار فرماتے ہیں کہ ابن زبیر کے غلاموں نے احرام باندھا، ان کے پاس سے گوہ گزری تو انھوں نے لاٹھیاں ماریں اور اس کو پکڑ لیا۔ ان کے دل میں کھٹکا پیدا ہوا۔ وہ ابن عمر (رض) کے پاس آئے اور ان کے سامنے تذکرہ کیا۔ ابن عمر (رض) فرمانے لگے : تمہارے ذمہ ایک مینڈھا ہے، انھوں نے کہا : ہم میں سے ہر شخص کے ذمہ مینڈھا ہے ؟ فرمانے لگے : تم نے اپنے اوپر سختی کی ہے، تم میں سے ہر ایک کے اوپر مینڈھا ہے، حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ لغویوں نے کہا : لمعزز کا معنی لَمُشَدَّدٌ بِکُمْ ہے۔

10002

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10002

Sahih

(۹۹۹۸)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَغَیْرُ وَاحِدٍ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَہُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَطَبَ النَّاسَ بِعَرَفَۃَ یُعَلِّمَہُمْ أَمْرَ الْحَجِّ وَکَانَ فِیمَا قَالَ لَہُمْ : إِذَا جِئْتُمْ مِنًی فَمَنْ رَمَی الْجَمْرَۃَ فَقَدْ حَلَّ لَہُ مَا حَرُمَ عَلَیْہِ إِلاَّ النِّسَائَ وَالطِّیبَ لاَ یَمَسُّ أَحَدٌ نِسَائً وَلاَ طَیِّبًا حَتَّی یَطُوفَ بِالْبَیْتِ۔ قَالَ مَالِکٌ وَحَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَنْ رَمَی الْجَمْرَۃَ ثُمَّ حَلَقَ أَوْ قَصَّرَ وَنَحَرَ ہَدْیًا إِنْ کَانَ مَعَہُ فَقَدْ حَلَّ لَہُ مَا حَرُمَ عَلَیْہِ إِلاَّ النِّسَائَ وَالطِّیبَ حَتَّی یَطُوفَ بِالْبَیْتِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۹۲۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٩٨) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں کو عرفہ کے میدان میں خطبہ ارشاد فرمایا ، آپ ان کو حج کے احکام سکھا رہے تھے۔ ان میں سے بعض نے کہا : جب تم منیٰ میں رمیٔ جمار کرلو تو تمہارے لیے وہ چیز حلال ہوجاتی ہے جو اس حرام تھی۔ سوائے عورتیں اور خوشبو ۔ عورت سے ہمبستری اور خوشبو کا استعمال بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے نہ کرے۔ (ب) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جس نے جمرہ کو رمی کیا، پھر سر منڈوایا یا بال کتروائے اگر پاس قربانی ہو تو ذبح کرے۔ تو اس کے لیے وہ اشیاء جائز ہیں جو اس پر حرام تھیں لیکن عورتیں اور خوشبو بیت اللہ کے طواف کے بعد جائز ہوں گی۔