Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2111

کتاب الحج

حلال آدمی حل میں شکار کرے پھر وہ اسے لے کر حرم میں داخل ہوجائے

4 hadiths in this chapter

9996

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9996

Sahih

(۹۹۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ بِالطَّابِرَانِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا وَکَانَ لِی أَخٌ یُقَالُ لَہُ أَبُو عُمَیْرٍ أَحْسَبُہُ قَالَ فَطِیمٌ فَکَانَ إِذَا جَائَ قَالَ : أَبَا عُمَیْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَیْرُ ۔ کَانَ یَلْعَبُ بِہِ وَرُبَّمَا حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ وَہُوَ فِی بَیْتِنَا فَیَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِی تَحْتَہُ فَیُکْنَسُ وَیُنْضَحُ ثُمَّ یَقُومُ وَنَقُومُ خَلْفَہُ فَیُصَلِّی بِنَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۸۵۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٩٢) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اخلاق کے اعتبار سے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے تھے۔ میرا چھوٹا بھائی تھا ، اس کو ابوعمیر کہا جاتا تھا قنطیم کہا جاتا تھا۔ جب بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آتے تو فرماتے : اے ابوعمیر ! چڑیا نے کیا کیا ؟ وہ اس کے ساتھ کھیلا کرتا تھا اور بعض اوقات نماز کا وقت آجاتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے گھر میں ہوتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے نیچے والی چٹائی کے بجھانے کا حکم فرماتے تو وہ جھاڑو دے کر پانی چھڑک کر اس پر بچھا دیتے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔

9997

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9997

Sahih

(۹۹۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : کَانَ ابْنٌ لأُمِّ سُلَیْمٍ یُقَالُ لَہُ أَبُو عُمَیْرٍ کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ رُبَّمَا مَازَحَہُ إِذَا دَخَلَ عَلَی أُمِّ سُلَیْمٍ فَدَخَلَ یَوْمًا فَوَجَدَہُ حَزِینًا فَقَالَ : مَا لأَبِی عُمَیْرِ حَزِینٌ ۔قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَاتَ نُغَیْرُہُ الَّذِی کَانَ یَلْعَبُ بِہِ جَعَلَ النَّبِیُّ -ﷺ یَقُولُ : أَبَا عُمَیْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَیْرُ ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٩٣) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ ام سلیم کا ایک بیٹا تھا، اس کو ابو عمیر کہا جاتا تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے خوش طبعی فرماتے، جب ام سلیم کے پاس آتے۔ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو وہ پریشان تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ابوعمیر ! غمگین کیوں ہے، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میری چڑیا مرگئی ہے جس کے ساتھ میں کھیلا کرتا تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہنے لگے : اے ابو عمیر ! چڑیا نے کیا کیا۔

9998

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9998

Sahih

(۹۹۹۴)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی بِنَیْسَابُورَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ أَبِی ہِنْدٍ یُحَدِّثُ فِی بَیْتِ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ عَطَائٍ : أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أُہْدِیَ لَہَا طَیْرٌ أَوْ ظَبْیٌ فِی الْحَرَمِ فَأَرْسَلَتْہُ فَقَالَ یَوْمَئِذٍ ہِشَامٌ : مَا عِلْمُ ابْنِ أَبِی رَبَاحٍ کَانَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ یَعْنِی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ بِمَکَّۃَ تِسْعَ سِنِینَ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ یَقْدَمُونَ فَیَرَوْنَہَا فِی الأَقْفَاصِ الْقُبَارَی وَالْیَعَاقِیبَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٩٤) عطاء فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) کو حرم میں پرندہ یا ہرن تحفہ میں دیا گیا، تو انھوں نے نے چھوڑ دیا۔ اس دن ہشام نے کہا کہ ابن ابی رباح کو علم نہیں کہ امیرالمومنین عبداللہ بن زبیر مکہ میں نو سال رہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ آتے رہے، وہ پنجروں میں چراغ اور چکور کو دیکھتے تھے۔

9999

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9999

Zaeef

(۹۹۹۵)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ قُرَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : أَنَّ رَجُلاً جَائَ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ أَجْرَیْتُ أَنَا وَصَاحِبِی فَرَسَیْنِ نَسْتَبِقُ إِلَی ثُغْرِ الثَّنِیَّۃِ فَأَصَبْنَا ظَبْیًا وَنَحْنُ مُحْرِمَانِ فَمَاذَا تَرَی؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِرَجُلٍ إِلَی جَنْبِہِ : تَعَالَ نَحْکُمُ أَنَا وَأَنْتْ فَحَکَمَا عَلَیْہِ بِعَنْزٍ وَذَکَرَ فِی الْحَدِیثِ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : ہَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٩٥) محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر (رض) کے پاس آیا تو ان سے کہنے لگا کہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے گھوڑے دوڑائے۔ اور ہم ثغرثنیہ تک مقابلہ بازی کر رہے تھے۔ ہم نے ایک ہرن کو پا لیا اور ہم محرم تھے، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟ تو حضرت عمر (رض) نے اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے شخص سے کہا : آؤ ہم دونوں مل کر فیصلہ کریں، ان دونوں نے ایک بکری کے فدیہ کا فیصلہ فرمایا۔ اس نے حدیث میں تذکرہ کیا کہ وہ عبدالرحمن بن عوف تھے۔ [ضعیف۔ تقدم برقم : ٩٨٥٧)