Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2110

کتاب الحج

آدمی شکار کی طرف تیر پھینکے تیر شکار یا کسی اور کو لگے حرم میں تو اس پر فدیہ ہے اللہ کا فرمان { تَنَالُــہٗٓ اَیْدِیْکُمْ وَ رِمَاحُکُمْ } الآیۃ (المائدۃ : ٩٤) ” جس کو تم اپنے ہاتھوں اور برچھوں سے پکڑ سکتے ہو۔ “ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بعض مفسرین کا خیال ہے ک

2 hadiths in this chapter

9994

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9994

Sahih

(۹۹۹۰)أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوسَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ حَدَّثَنِی عَبْدُ السَّلاَمِ قَالَ : سَأَلْتُ الأَوْزَاعِیَّ رَجُلٌ أَرْسَلَ کَلْبَہُ فِی الْحِلِّ عَلَی صَیْدٍ فَدَخَلَ الصَّیْدُ الْحَرَمَ فَطَلَبَہُ الْکَلْبُ فَأَخْرَجَہُ إِلَی الْحِلِّ فَقَتَلَہُ فَقَالَ : مَا عِنْدِی فِیہَا شَیْئٌ وَأَنَا أَکْرَہُ التَّکَلُّفَ قُلْتُ : یَا أَبَا عَمْرٍو قُلْ فِیہَا قَالَ : مَا أُحِبُّ أَکْلَہُ وَلاَ أَرَی عَلَیْہِ أَنْ یَدِیَہُ۔ قَالَ عَبْدُ السَّلاَمِ وَتَیَّسَرَ لِی الْحَجُّ مِنْ عَامِی ذَلِکَ فَلَقِیتُ ابْنَ جُرَیْجٍ فَسَأَلْتُہُ عَنْہَا فَقَالَ سَمِعْتُ عَطَائَ بْنَ أَبِی رَبَاحٍ یُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْہَا فَقَالَ : لاَ أُحِبُّ أَکْلَہُ وَلاَ أَرَی عَلَیْہِ أَنْ یَدِیَہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَکَذَلِکَ قَالَہُ الشَّافِعِیُّ فِی الَّذِی یُرْسِلُہُ عَلَی الصَّیْدِ مِنَ الْحِلِّ فِی الْحِلِّ فَتَحَامَلَ الصَّیْدُ فَدَخَلَ الْحَرَمَ فَقَتَلَہُ فِیہِ الْکَلْبُ فَلاَ یَجْزِیہِ وَلاَ یَأْکُلُہُ وَفَرَّقَ بَیْنَ الْکَلْبِ وَبَیْنَ السَّہْمِ یَجُوزُ فَیُصِیبُہُ أَوْ غَیْرَہُ فِی الْحَرَمِ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٩٠) عبدالسلام فرماتے ہیں کہ میں نے اوزاعی سے سوال کیا کہ ایک شخص اپنے کتے کو حل میں شکار پر چھوڑتا ہے اور شکار جا کر حرم میں داخل ہوجاتا ہے، کتا اس کو تلاش کر کے پھر حل کی طرف نکال لیتا ہے اور قتل کردیتا ہے۔ انھوں نے کہا : اس پر میرے نزدیک فدیہ نہیں، لیکن تکلف کو میں ناپسند کرتا ہوں۔ میں نے کہا : اے ابوعمرو ! آپ اس طرح کہیں، میں اس کے کھانے کو پسند نہیں کرتا اور نہ ہی میں اس سے منع کرتا ہوں۔ (ب) عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا، میں اس کو کھانا پسند نہیں کرتا اور نہ ہی اس سے روکتا ہوں۔ شیخ فرماتے ہیں : اسی طرح امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ وہ شکار پر حل سے حل میں کتا چھوڑتا ہے، لیکن شکار حرم میں داخل ہوجاتا ہے، کتا اس کو قتل کردیتا ہے۔ اس پر فدیہ تو نہیں اور اس کو کھاتے بھی نہیں، لیکن کتے اور تیر میں فرق ہے کہ وہ اس شکار کو لگے یا کسی اور کو حرم میں۔

9995

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9995

Sahih

(۹۹۹۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو التَّیَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یُخَالِطُنَا حَتَّی یَقُولَ لأَخٍ لِی صَغِیرٍ : یَا أَبَا عُمَیْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَیْرُ ۔ یَعَنِی طَائِرًا لَہُ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۷۷۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٩١) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ساتھ گھل مل کر رہتے۔ یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے کہتے : اے ابوعمیر چڑیا نے کیا کیا۔ یعنی اس کا جو پرندہ تھا۔