Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2113

کتاب الحج

پہلی حلت کے بعد شکار کی حلت اور عدم حلت کا قول

4 hadiths in this chapter

10003

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10003

Sahih

(۹۹۹۹)أَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ المُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنِ الْحَسَنِ یَعْنِی الْعُرَنِیَّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِذَا رَمَیْتَ الْجَمْرَۃَ فَقَدْ حَلَّ لَکَ کُلُّ شَیْئٍ إِلاَّ النِّسَائَ حَتَّی تَطُوفَ بِالْبَیْتِ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : أَیَتَطَیَّبُ؟ قَالَ : أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یُضَمِّخُ رَأْسَہُ بِالْمِسْکِ أَوْ قَالَ بِالسُّکِّ أَفَطِیبٌ ذَلِکَ أَمْ لاَ؟ [صحیح لغیرہ۔ تقدم برقم ۹۵۹۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٩٩) حسن عرنی حضرت ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ رمی جمار کرلیں تو آپ کے لیے ہر چیز جائز ہے سوائے عورتوں کے۔ جب تک آپ بیت اللہ کا طواف نہ کریں۔ آدمی نے کہا : کیا وہ خوشبو لگالے۔ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ انھوں نے سر کو کستوری سے لیپ کر رکھی تھی۔ معلوم نہیں یہ خوشبو تھی یا نہیں۔

10004

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10004

Sahih

(۱۰۰۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ ہِلاَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : إِذَا ذَبَحَ وَحَلَقَ وَأَصَابَ صَیْدًا قَبْلَ أَنْ یَزُورَ الْبَیْتَ فَإِنَّ عَلَیْہِ جَزَاؤُہُ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ مِنْ إِحْرَامِہِ شَیْئٌ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی {وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا} [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٠٠) ابو نجیح حضرت عطاء سے نقل فرماتے ہیں کہ جب قربانی ذبح کرے اور سر منڈوائے اور طواف زیارت سے پہلے شکار کرلے۔ اس پر فدیہ ہے جب اس کے اوپر احرام کی کوئی چیز بھی باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا } الآیۃ (المائدۃ : ٢) ” اور جب تم حلال ہوجاؤ تو شکار کرو۔ “

10005

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10005

Zaeef

(۱۰۰۰۱)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ : مَنْ أَصَابَ صَیْدًا وَقَدْ رَمَی الْجَمْرَۃَ وَلَمْ یُفِضْ فَعَلَیْہِ جَزَاؤُہُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٠١) ابن ابی الزناد اپنے والد سے اور وہ اہل مدینہ کے فقہاء سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے رمی جمرہ کے بعدشکار کرلیا اور طواف افاضہ نہ کیا اس پر فدیہ ہے۔

10006

Sunan Al Kubra Bayhaqi #10006

Zaeef

(۱۰۰۰۲) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی حُسَیْنٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَثِیرٍ الدَّارِیِّ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ قَالَ : قَدِمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَکَّۃَ فَدَخَلَ دَارَ النَّدْوَۃِ فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَأَرَادَ أَنْ یَسْتَقْرِبَ مِنْہَا الرَّوَاحَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَأَلْقَی رِدَائَ ہُ عَلَی وَاقِفٍ فِی الْبَیْتِ فَوَقَعَ عَلَیْہِ طَیْرٌ مِنْ ہَذَا الْحَمَامِ فَأَطَارَہُ فَوَقَعَ عَلَیْہِ فَانْتَہَزَتْہُ حَیَّۃٌ فَقَتَلَتْہُ فَلَمَّا صَلَّی الْجُمُعَۃَ دَخَلْتُ عَلَیْہِ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ : احْکُمَا عَلَیَّ فِی شَیْئٍ صَنَعْتُہُ الْیَوْمَ إِنِّی دَخَلْتُ ہَذِہِ الدَّارِ وَأَرَدْتُ أَنْ أَسْتَقْرِبَ مِنْہَا الرَّوَاحَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَأَلْقَیْتُ رِدَائِی عَلَی ہَذَا الْوَاقِفِ فَوَقَعَ عَلَیْہِ طَیْرٌ مِنْ ہَذَا الْحَمَامِ فَخَشِیتُ أَنْ یُلَطِّخَہُ بِسَلْحِہِ فَأَطَرْتُہُ عَنْہُ فَوَقَعَ عَلَی ہَذَا الْوَاقِفِ الآخَرِ فَانْتَہَزَتْہُ حَیَّۃٌ فَقَتَلَتْہُ فَوَجَدْتُ فِی نَفْسِی أَنِّی أَطَرْتُہُ مِنْ مَنْزِلَۃٍ کَانَ فِیہَا آمِنًا إِلَی مَوْقِعَۃٍ کَانَ فِیہَا حَتْفُہُ فَقُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : کَیْف تَرَی فِی عَنْزِ ثَنِیَّۃِ عَفْرَائَ نَحْکُمُ بِہَا عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ : أُرَی ذَلِکَ فَأَمِرَ بِہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الشافعی ۶۴۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٠٠٢) نافع بن عبدالحارث فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) جمعہ کے دن مکہ آئے دار الندوہ میں داخل ہوئے ۔ ان کا ارادہ تھا کہ مسجد کے قریب پڑاؤ کریں، انھوں نے اپنی چادر بیت اللہ کے پاس کھڑے ہوئے شخص پر ڈالی۔ اس پر ایککبوتر آکر بیٹھ گیا۔ اس کو اڑایا گیا، پھر بیٹھ گیا ۔ اس کو سانپ نے کھینچ لیا اور اس کو قتل کردیا۔ جب اس نے نماز پڑھی تو میں اور عثمان بن عفان ان کے پاس گئے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میرے بارے میں فیصلہ کرو۔ جو آج میں نے کیا ہے۔ میں اس گھر میں داخل ہو۔ اور میں نے ارادہ کیا تھا کہ مسجد کے قریب پڑاؤ کروں، میں نے اپنی چادر اس پر ڈال دی۔ اس پر کبوتر بیٹھ گیا۔ میں ڈر گیا کہ وہ اس کو اپنی بیٹ سے آلودہ کر دے گا۔ میں نے اس سے اڑا دیا۔ وہ دوسرے ستون پر بیٹھ گیا تو سانپ نے ڈس کر اس کو قتل کردیا، میں نے اپنے دل میں پایا کہ میں نے اس کو امن والی جگہ سے اڑایا اور وہ ایسی جگہ چلا گیا جہاں اس کو موت کے گھاٹ اترنا پڑا۔ میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) سے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ ہم امیرالمومنین کے بارے میں دو دانت والی بکری کے بچے کا فیصلہ کردیں۔