Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2106

کتاب الحج

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چراگاہ کی ہر جگہ سے درخت کاٹنے کی ممانعت وکراہت

4 hadiths in this chapter

9983

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9983

Sahih

(۹۹۷۹)وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّبْغِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ السُّرِّیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ قَالَ حَدَّثَنِی خَارِجَۃُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِیہِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِع بْنِ مَکِیثٍ الْجُہَنِیِّ ثُمَّ الرَّبْعِیِّ : أَنَّہُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ السُّلَمِیَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : إِنَّ لَنَا غَنَمًا وَغِلْمَانًا وَہُمْ یَخْبِطُونَ عَلَی غَنَمِہِمْ مِنْ ہَذِہِ الثَّمَرَۃِ الْحَبْلَۃِ۔ قَالَ خَارِجَۃُ : وَہِیَ ثَمَرَۃُ السَّمُرَۃِ قَالَ جَابِرٌ : لاَ ثُمَّ لاَ لاَ یُخْبَطُ وَلاَ یُعْضَدُ حِمَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ وَلَکِنْ ہُشُّوا ہَشًّا قَالَ جَابِرٌ : إِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ أَظُنُّہُ قَالَ یَنْہَی أَنْ یُقْطَعَ الْمَسَدُ۔ قَالَ جَابِرٌ : وَالْمَسَدُ مِرْوَدٌ لِلْبَکْرَۃِ قَالَ ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ : الْحِمَی حَوْلَ الْمَدِینَۃِ۔ [صحیح لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٧٩) خارجہ بن حارث اپنے والد حارث بن رافع بن مکیث جہنی سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے سوال کیا کہ ہماری بکریاں ہیں اور ہمارے غلام ان بکریوں کے لیے پتے جھاڑتے ہیں، رسی وغیرہ کی مدد سے۔ خارجہ کہتے ہیں : یہ ببول کا درخت تھا اور جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چراگاہ سے نہ تو درخت کاٹے جائیں لیکن آرام و سکون سے پتے جھاڑے جاسکتے ہیں، حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں : میرا گمان ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور کا ریشہ کاٹنے سے بھی منع فرمایا تھا۔

9984

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9984

Zaeef

(۹۹۸۰)أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَیْحِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ قَالَ : کَانَ جَدِّی مَوْلًی لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ وَکَانَ یَلِی أَرْضًا لِعُثْمَانَ فِیہَا بَقْلٌ وَقِثَّائٌ قَالَ فَرُبَّمَا أَتَانِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نِصْفَ النَّہَارِ وَاضِعًا ثَوْبَہُ عَلَی رَأْسِہِ یَتَعَاہَدُ الْحِمَی أَنْ لاَ یُعْضَدَ شَجَرُہُ وَلاَ یُخْبَطَ قَالَ فَیَجْلِسُ إِلَیَّ فَیُحَدِّثُنِی وَأُطْعِمُہُ مِنَ الْقِثَّائِ وَالْبَقْلِ فَقَالَ لِی یَوْمًا : أَرَاکَ لاَ تَخْرُجُ مِمَّا ہَا ہُنَا قَالَ قُلْتُ : أَجَلْ۔ قَالَ : إِنِّی أَسْتَعْمِلُکَ عَلَی مَا ہَا ہُنَا فَمَنْ رَأَیْتَ یَعْضِدُ شَجَرًا أَوْ یَخْبِطُ فَخُذْ فَأْسَہُ وَحَبْلَہُ قَالَ قُلْتُ آخُذُ رِدَائَ ہُ؟ قَالَ : لاَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن الجعد ۱/ ۴۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٨٠) محمد بن زیاد فرماتے ہیں کہ میرے دادا جو حضرت عثمان بن مظعون کے غلام تھے۔ ان کی زمین حضرت عثمان (رض) کے ساتھ ملتی تھی (یعنی ان کی زمین سے) اس میں ترکاریاں اور سبزیاں تھیں۔ کہتے ہیں : بعض اوقات میرے پاس حضرت عمر بن خطاب (رض) دوپہر کے وقت تشریف لاتے اور اپنا کپڑا سر پر رکھے ہوئے ہوتے۔ چراگاہ کی حفاظت فرماتے اور کہتے کہ اس کے درختوں وغیرہ کو نہ کاٹا جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ میرے پاس آکر بیٹھ جاتے اور میرے ساتھ باتیں کرتے۔ میں ان کو ککڑیاں کھلاتا۔ انھوں نے ایک دن مجھ سے کہا : میرا خیال ہے کہ آپ یہاں سے نہ جائیں، کہتے ہیں : میں نے کہا : ٹھیک ہے۔ فرمانے لگے : میں تجھے یہاں کا عامل بنانا چاہتا ہوں۔ جس کو تو دیکھے کہ وہ درخت کاٹتا ہے یا پتے جھاڑتا ہے تو اس کا کلہاڑا اور رسی پکڑ لینا۔ کہتے ہیں : میں نے کہا : میں اس کی چادر لے لوں۔ فرمانے لگے : نہیں۔

9985

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9985

Zaeef

(۹۹۸۱)حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَیَّاطُ عَنِ الْعُمَرِیِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ حَمَی النَّقِیعَ لِلْخَیْلِ۔ وَرُوِّینَا ذَلِکَ أَیْضًا عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد ۲/ ۱۵۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٨١) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، نقیع کی چراگاہ گھوڑوں کے لیے ہے۔

9986

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9986

Sahih

(۹۹۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ حَدَّثَنَا الْمَعْمَرِیُّ یَعْنِی الْحَسَنَ بْنَ عَلِیِّ بْنِ شَبِیبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ابْنِ عُلَیَّۃَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ وُہَیْبٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ أَنَّہُ حَدَّثَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی الْمَہْرِیِّ : أَنَّہُ أَصَابَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ جَہْدٌ وَشِدَّۃٌ وَأَنَّہُ أَتَی أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ فَقَالَ لَہُ : إِنِّی کَثِیرُ الْعِیَالِ وَقَدْ أَصَابَنَا شِدَّۃٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِیَالِی إِلَی بَعْضِ الرِّیفِ فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ : لاَ تَفْعَلْ الْزَمِ الْمَدِینَۃَ فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ أَظُنُّہُ قَالَ حَتَّی قَدِمْنَا عُسْفَانَ قَالَ فَأَقَامَ بِہَا لَیَالِیَ فَقَالَ النَّاسُ : وَاللَّہِ مَا نَحْنُ ہَا ہُنَا فِی شَیْئٍ إِنَّ عِیَالَنَا لَخُلُوفٌ وَمَا نَأْمَنُ عَلَیْہِمْ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ -ﷺ فَقَالَ : مَا ہَذَا الَّذِی یَبْلُغَنِی مِنْ حَدِیثِکُمْ ۔ مَا أَدْرِی کَیْفَ قَالَ قَالَ : وَالَّذِی أَحْلِفُ بِہِ أَوْ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ ہَمَمْتُ أَوْ أَنِّی سَأَہِمُّ لاَ أَدْرِی أَیَّتْہُمَا قَالَ : لآمُرَنَّ بِنَاقَتِی تُرْحَلُ ثُمَّ لاَ أُحِلُّ لَہَا عُقْدَۃً حَتَّی أَقْدَمَ الْمَدِینَۃَ وَقَالَ اللَّہُمَّ إِنَّ إِبْرَاہِیمَ حَرَّمَ مَکَّۃَ فَجَعَلَہَا حَرَمًا اللَّہُمَّ إِنِّی حَرَّمْتُ الْمَدِینَۃَ حَرَامًا مَا بَیْنَ مَأْزِمَیْہَا أَنْ لاَ یُہَرَاقَ فِیہَا دَمٌ وَلاَ یُحْمَلَ فِیہَا سِلاَحٌ لِقِتَالٍ وَلاَ تَخْبَطُ فِیہَا شَجَرَۃٌ إِلاَّ لِعَلَفٍ اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی مَدِینَتِنَا اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی صَاعِنَا اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی مُدِّنَا ثَلاَثًا اللَّہُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَکَۃِ بَرَکَتَیْنِ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا مِنَ الْمَدِینَۃِ مِنْ شِعْبٍ وَلاَ نَقْبٍ إِلاَّ عَلَیْہِ مَلَکَانِ یَحْرُسَانِہِ حَتَّی تَقْدَمُوا إِلَیْہَا ۔ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : ارْتَحِلُوا ۔ فَارْتَحَلْنَا فَأَقْبَلْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ فَوَالَّذِی نَحْلِفُ بِہِ أَوْ یُحْلَفُ بِہِ شَکَّ حَمَّادٌ فِی ہَذِہِ الْکَلِمَۃِ وَحْدَہَا : مَا وَضَعْنَا رِحَالَنَا حِینَ دَخَلْنَا الْمَدِینَۃَ حَتَّی أَغَارَ عَلَیْہَا بَنُو عَبْدِ اللَّہِ بْنِ غَطَفَانَ وَمَا یَہِیجُہُمْ قَبْلَ ذَلِکَ شَیْئٌ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۷۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٨٢) یحییٰ بن ابی اسحق فہری کے غلام ابو سعید سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کو مدینہ میں سخت اور مشکل دن آگئے۔ وہ ابوسعید خدری کے پاس آئے اور ان سے کہنے لگے : میں زیادہ عیال دارہوں اور ہمیں سختی آئی ہے۔ میں ارادہ رکھتا ہوں کہ اپنے گھر والوں کو سبزہ زار یا پانی کے چشمے کے قریب منتقل کر دوں۔ ابوسعید کہنے لگے : ایسا نہ کرنا مدینہ کو لازم پکڑو۔ کیوں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے شاید عسفان جگہ پر آگئے۔ وہاں پر چند راتیں قیام کیا، لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم تو یہاں کسی چیز میں نہیں کیوں کہ ہمارے گھر والے پیچھے ہیں اور ہم ان پر بےخوف اور امن میں نہیں ہیں۔ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کیا ہے جو تمہاری باتوں کی مجھے خبر ملی ہے ؟ میں نہیں جانتا کیا حالت ہے، پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے ارادہ کیا یا عنقریب ارادہ رکھتا ہوں، میں نہیں جانتا دونوں میں سے کیا فرمایا۔ پھر فرمایا : ضرور میں اپنی اونٹنی کا کجاوہ رکھنے کا حکم دوں گا، پھر میں اس کی گرہ کو نہ کھولوں گا یہاں تک کہ مدینہ آجاؤں اور فرمایا : اے اللہ ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کو بنایا بھی ہے ، اے اللہ ! میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں، اس کے دونوں کناروں کے درمیان خون نہ بہایا جائے اور ہتھیار نہ اٹھائے جائیں لڑائی کی غرض سے اور درختوں کے پتے نہ جھاڑے جائیں مگر چارے کے لیے۔ اے اللہ ! ہمارے مدینہ کے مد اور صاع میں برکت فرما۔ تین مرتبہ فرمایا : اے اللہ ! دگنی برکت دے۔ اللہ کی قسم ! جس کے قبضہ میں میری جان ہے، مدینہ کی کوئی گھاٹی اور راستہ ایسا نہیں، جہاں دو فرشتے پہرہ نہ دیتے ہوں، یہاں تک کہ تم اس کی طرف آؤ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوچ کرو، ہم نے کوچ کیا اور مدینہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ اللہ کی قسم ! ہم اٹھاتے ہیں یا جس کی قسم اٹھائی جاتی ہے، حماد کو اس اکیلے کلمہ کے بارے میں شک ہے، ہم نے سواریوں سے کجاوے نہ اتارے تھے جس وقت مدینہ میں داخل ہوئے۔ یہاں تک کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے حملہ کردیا اور اس سے پہلے کسی چیز نے ان کو اس پر نہ ابھارا تھا۔