Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2107

کتاب الحج

حرم میں (جانور) چرانے کا بیان

3 hadiths in this chapter

9987

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9987

Sahih

(۹۹۸۳)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَبِی حَسَّانَ عَنْ عَلِیٍّ فِی قِصَّۃِ حَرَمِ الْمَدِینَۃِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : لاَ یُخْتَلَی خَلاَہَا وَلاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا وَلاَ یُلْتَقَطُ لُقَطَتُہَا إِلاَّ لِمَنْ أَشَادَ بِہَا وَلاَ یَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ یَحْمِلَ فِیہَا السِّلاَحَ لِقِتَالٍ وَلاَ یَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ یَقْطَعَ مِنْہَا شَجَرَۃً إِلاَّ أَنْ یَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِیرَہُ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ ہُدْبَۃَ : بَعِیرًا ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ۲۰۳۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٨٣) ابو حسان حضرت علی (رض) سے حرم مدینہ کے بارے میں فرماتے ہیں جو انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا، فرمایا : اس کا گھاس نہ کاٹا جائے، شکار نہ بھگایا جائے اور گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا اٹھائے۔ لڑائی کی غرض سے کسی کے لیے اسلحہ اٹھانا جائز نہیں اور کسی کے لیے اس کے درخت کاٹنا بھی جائز نہیں۔ صرف اس کے لیے جو اپنے اونٹوں کو چارہ دینا چاہے۔ ایک روایت میں ” ہدبۃً “ کے لفظ ہیں یعنی اونٹ۔

9988

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9988

Zaeef

(۹۹۸۴)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : شَہِدَ ابْنُ عُمَرَ الْفَتْحَ وَہُوَ ابْنُ عِشْرِینَ وَمَعَہُ فَرَسٌ حَرُونٌ وَرُمْحٌ ثَقِیلٌ قَالَ فَذَہَبَ عَبْدُ اللَّہِ یَخْتَلِی لِفَرَسِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : إِنَّ عَبْدَ اللَّہِ إِنَّ عَبْدَ اللَّہِ ۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد ۲/ ۱۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٨٤) مجاہد فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) فتح میں حاضر ہوئے۔ وہ ٢٠ سال کے تھے۔ ان کے ساتھ ان کا گھوڑا حرون تھا اور بھاری نیزہ بھی۔ کہتے ہیں کہ وہ اپنے گھوڑے کے لیے گھاس کاٹتے تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ کے بندے ! ہٹ جا، اے اللہ کے بندے ! ہٹ جا۔

9989

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9989

Zaeef

(۹۹۸۵) فِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتَہُ عَنْہُ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِیعِ عَنِ الشَّافِعِیِّ حِکَایَۃً عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی أَنَّہُ حَدَّثَ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُمَا کَرِہَا أَنْ یُخْرَجَ مِنْ تُرَابِ الْحَرَمِ وَحِجَارَتِہِ إِلَی الْحِلِّ شَیْئٌ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَدْ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الأَزْرَقِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَدِمْتُ مَعَ أُمِّی أَوْ قَالَ جَدَّتِی مَکَّۃَ فَأَتَتْہَا صَفِیَّۃُ بِنْتُ شَیْبَۃَ فَأَکْرَمَتْہَا وَفَعَلْتْ بِہَا فَقَالَتْ صَفِیَّۃُ : مَا أَدْرِی مَا أُکَافِئُہَا بِہِ فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہَا بِقِطْعَۃٍ مِنَ الرُّکْنِ فَخَرَجْنَا بِہَا فَنَزَلْنَا أَوَّلَ مَنْزِلٍ فَذَکَرَ مِنْ مَرَضِہِمْ وَعِلَّتِہِمْ جَمِیعًا قَالَ فَقَالَتْ أُمِّی أَوْ جَدَّتِی : مَا أُرَانَا أُتِینَا إِلاَّ أَنَّا أَخَرَجْنَا ہَذِہِ الْقِطْعَۃَ مِنَ الْحَرَمِ فَقَالَتْ لِی وَکُنْتُ أَمْثَلَہُمْ : انْطَلِقْ بِہَذِہِ الْقِطْعَۃِ إِلَی صَفِیَّۃَ فَرُدَّہَا وَقُلْ لَہَا : إِنَّ اللَّہَ وَضْعَ فِی حَرَمِہِ شَیْئًا فَلاَ یَنْبَغِی أَنْ یُخْرَجَ مِنْہُ۔ قَالَ عَبْدُ الأَعْلَی فَقَالُوا لِی : فَمَا ہُوَ إِلاَّ أَنْ تَحَیَّنَّا دُخُولَکَ الْحَرَمَ فَکَأَنَّمَا أُنْشِطْنَا مِنْ عُقُلٍ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٨٥) عطاء بن ابی رباح حضرت ابن عباس اور ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ دونوں ناپسند کرتے تھے کہ حرم مکہ کی مٹی اور پتھروں کو حل کی جانب منتقل کیا جائے۔ (ب) عبدالاعلیٰ بن عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں : میں اپنی والدہ یا اپنی دادی کے ساتھ مکہ آیا۔ وہ صفیہ بنت شیبہ کے پاس آئی تھیں۔ اس نے ان کی عزت کی۔ صفیہ کہنے لگی : میں نہیں جانتی کہ میں ان کو کیسا بدلہ دوں، پھر انھوں نے رکن کا ٹکڑا دیا۔ اس کو ساتھ لے کر ہم وہاں سے نکلے اور ہم نیپہلی منزل پر پڑاؤ کیا۔ اس نے ان تمام کی بیماری کا تذکرہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میری ماں یا دادی نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ یہ ٹکڑا ہم نے حرم سے منتقل کیا ہے۔ اس نے مجھ سے کہا اور میں بھی ان کی مانند تھا۔ یہ ٹکڑا صفیہ کے پاس لے جاؤ اور ان کو واپس کر دو۔ ان سے کہنا کہ جو چیز اللہ نے حرم میں رکھی ہے، اس کو یہاں سے منتقل کرنا درست نہیں ہے۔ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں : انھوں نے مجھے کہا کہ ہم حرم میں تیرے داخلے کا انتظار کریں گے۔ گویا کہ ہمیں رسیوں سے کھول دیا گیا۔