Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2104

کتاب الحج

جس نے حرم مدینہ میں درخت کاٹا یا شکار کیا یا کسی سے زبردستی کوئی چیز چھینی

5 hadiths in this chapter

9977

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9977

Sahih

(۹۹۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی عَامِرٍ الْعَقَدِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : فَوَجَدَ غُلاَمًا یَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ یَخْبِطُہُ فَسَلَبَہُ وَقَالَ فِی آخِرِہِ وَأَبَی أَنْ یَرُدَّ عَلَیْہِمْ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَغَیْرِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٧٣) عبداللہ بن جعفر مسور بن مخرمہ کی اولاد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے ایک غلام کو درخت کاٹتے ہوئے یا پتے جھاڑتے ہوئے پایاتو اس سے چھین لیا۔ اس کے آخر میں ہے کہ اس نے واپس کرنے سے انکار کردیا۔ [صحیح۔ انظر قبلہ ]

9978

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9978

Sahih

(۹۹۷۴) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأَمَۃِ حَدَّثَنِی بَعْضُ وَلَدِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : مَنْ أَخَذْتُمُوہُ یَقْطَعُ مِنَ الشَّجَرِ شَیْئًا یَعْنِی شَجَرَ حَرَمِ الْمَدِینَۃِ فَلَکُمْ سَلَبُہُ لاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلاَ یُقْطَعُ ۔ قَالَ فَرَأَی سَعْدٌ غِلْمَانًا یَقْطَعُونَ فَأَخَذَ مَتَاعَہُمْ فَانْتَہُوا إِلَی مَوَالِیہِمْ فَأَخْبَرُوہُمْ أَنَّ سَعْدًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَعَلَ کَذَا وَکَذَا فَأَتَوْہُ فَقَالُوا : یَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ غِلْمَانَکَ أَوْ مَوَالِیکَ أَخَذُوا مَتَاعَ غِلْمَانِنَا قَالَ: بَلْ أَنَا أَخَذْتُہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَقُولُ : مَنْ أَخَذْتُمُوہُ یَقْطَعُ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ فَلَکُمْ سَلَبُہُ وَلَکِنْ سَلُونِی مِنْ مَالِی مَا شِئْتُمْ ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطیالسی ۲۱۸۔ ابوداود ۲۰۳۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٧٤) سعد کی اولاد حضرت سعد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو تم پکڑ لو کہ وہ حرم مدینہ سے درخت کاٹ رہا ہے۔ اس کی سلب یعنی سامان تمہارے لیے ہے۔ اس کے درختوں کا کاٹنا یا اکھاڑنا درست نہیں ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت سعد نے دو غلاموں کو درخت کاٹتے ہوئے پایا تو ان کا سامان لے لیا۔ وہ اپنے آقاؤں کے پاس گئے ان کو خبر دی کہ سعد نے اس طرح کیا ہے ؟ وہ آئے انھوں نے کہا : اے ابواسحاق ! تیرے غلاموں نے ہمارے غلاموں کا سامان چھین لیا ہے، فرمانے لگے : میں نے چھینا ہے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ جس کو تم پکڑ لو کہ وہ حرم کے درخت کاٹ رہا ہو تو، اس کا سامان تمہارے لیے ہے، لیکن تم میرے مال کے بارے میں سوال کرو جو تم چاہو۔

9979

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9979

Sahih

(۹۹۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ وَأَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَبِی عَلِیٍّ السَّقَّائُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ کَانَ یَخْرُجُ مِنَ الْمَدِینَۃِ فَیَجِدُ الْحَاطِبَ مَعَہُ شَجَرٌ رَطْبٌ قَدْ عَضَدَہُ مِنْ بَعْضِ شَجَرِ الْمَدِینَۃِ فَیَأْخُذُ سَلَبَہُ فَیُکَلَّمُ فِیہِ فَیَقُولُ : لاَ أَدَعُ غَنِیمَۃً غَنَّمَنِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ قَالَ وَإِنِّی لَمِنْ أَکْثَرِ النَّاسِ مَالاً۔ أَبُوہُ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَارِثِ الْقُرَشِیُّ۔ [صحیح لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٧٥) عامر بن سعد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مدینہ سے نکلے ، انھوں نے حاطب کے پاس تر درخت پایا جو انھوں نے مدینہ کے درختوں سے کاٹا تھا۔ انھوں نے ان کا سامان لے لیا۔ اس کے بارے میں کلام کی گئی۔ وہ کہنے لگے : میں مال غنیمت نہ چھوڑوں گا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے عطا کیا ہے اگرچہ میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ مال والا ہوں۔

9980

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9980

Zaeef

(۹۹۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ : مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنِی یَعْلَی بْنُ حَکِیمٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : رَأَیْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلاً یَصِیدُ فِی حَرَمِ الْمَدِینَۃِ الَّذِی حَرَّمَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَسَلَبَہُ ثِیَابَہُ فَجَائُ وا مَوَالِیہِ فَکَلَّمُوہُ فِیہِ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حَرَّمَ ہَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ : مَنْ أَخَذَ أَحَدًا یَصِیدُ فِیہِ فَلْیَسْلُبْہُ ۔ فَلاَ أَرُدُّ عَلَیْکُمْ طُعْمَۃً أَطْعَمَنِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَلَکِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَیْکُمْ ثَمَنَہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۲۰۳۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٧٦) سلیمان بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص (رض) کو دیکھا، انھوں نے ایک آدمی کو پکڑا جو حرم مدینہ میں شکار کر رہا تھا، جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرم قرار دیا تھا۔ اس کے کپڑے چھین لیے۔ اس کے آقا آئے، انھوں نے اس کے بارے میں کلام کیا تو سعد بن ابی وقاص (رض) کہنے لگے کہ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرم قرار دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے کسی کو شکار کرتے پکڑ لیا وہ اس کا سامان لے لے۔ میں تو وہ مال یا کھانا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عطا کیا ہے ہرگز واپس نہ کروں گا۔ لیکن اگر تم چاہو تو میں اس کی قیمت واپس کردیتا ہوں۔

9981

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9981

Zaeef

(۹۹۷۷)أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِیرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مَیْمُونٍ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِالْمَلِکِ الْمَخْزُومِیُّ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِنْسَانٍ قَالَ الْحُمَیْدِیُّ بَطْنٌ مِنَ الْعَرَبِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ مِنْ لِیَّۃَ نُرِیدُ مَکَّۃَ حَتَّی إِذَا کُنَّا عِنْدَ السِّدْرَۃِ طَرَفِ الْقَرْنِ الأَسْوَدِ حَذْوَہَا اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ نَخْبًا بِبَصَرِہِ ثُمَّ وَقَفَ حَتَّی اتَّقَفَ النَّاسُ ثُمَّ قَالَ : أَلاَ إِنَّ صَیْدَ وَجٍّ وَعِضَاہَہُ یَعْنِی شَجَرَہُ حَرَامٌ مُحَرَّمٌ ۔ وَذَلِکَ قَبْلَ نُزُولِہِ الطَّائِفَ وَحِصَارِہِ ثَقِیفًا وَرَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ وَقَالَ فِیہِ : وَاسْتَقْبَلَ نَخْبًا بِبَصَرِہِ یَعْنِی وَادِیًا۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۲۰۳۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٧٧) عروہ بن زبیر اپنے والد زبیر بن عوام سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہم ” طیہ “ سے آئے اور مکہ کا ارادہ تھا۔ جب ہم ” سدرہ “ (بیری) کے پاس قرن اسود کے برابر ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نظروں کو ایک طرف جمایا ، پھر کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ لوگ بھی کھڑے ہوگئے۔ پھر فرمایا : شتر مرغ کا شکار اور اس کے درختوں کا کاٹنا بھی حرام کیا گیا ہے۔ (ب) عبداللہ بن حار کہتے ہیں کہ پھر آپ نے نظر جما کروادی میں دیکھا۔