Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2102

کتاب الحج

حرم کے شکار کو بھگایا نہ جائے گا، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں گے، اذخر گھاس کے علاوہ کچھ نہ کاٹا جائے گا

7 hadiths in this chapter

9949

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9949

Sahih

(۹۹۴۵)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَکَّۃَ فَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ کَانَ قَبْلِی وَلاَ تَحِلَّ لأَحَدٍ بَعْدِی وَإِنَّہَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ لاَ یُخْتَلَی خَلاَہَا وَلاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا وَلاَ یُلْتَقَطُ لُقَطَتُہَا إِلاَّ لِمُعَرِّفٍ ۔ فَقَالَ الْعَبَّاسُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِلاَّ الإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَبُیُوتِنَا قَالَ : إِلاَّ الإِذْخِرَ ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۳۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٤٥) عکرمہ، ابن عباس (رض) سینقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے مکہ کو حرم قرار دیا، یہ نہ مجھ سے پہلے حلال ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا۔ صرف دن کی ایک گھڑی میں حلال قرار دیا گیا۔ اس کا گھاس، درخت نہ کاٹے جائیں گے، اس کا شکار نہ بھگایا جائے گا اور اس کی گری پڑی چیز صرف اعلان کروانے والا ہی اٹھاسکتا ہے، حضرت عباس (رض) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! اذخر گھاس ہمارے لوہاروں اور گھروں میں استعمال ہوتا ہے، فرمایا : سوائے اذخر کے۔

9950

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9950

Sahih

(۹۹۴۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ وَالْبُسَرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ وَقَالَ فَإِنَّہُ لِصَاغَتِنَا وَلِسُقُوفِ بُیُوتِنَا وَزَادَ قَالَ عِکْرِمَۃُ : ہَلْ تَدْرِی مَا لاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا أَنْ یُنَحِّیَہُ مِنَ الظِّلِّ وَیَنْزِلَ مَکَانَہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٤٦) عبدالوہاب اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ حلال کیا گیا اور یہ ہمارے لوہاروں اور ہماری گھر کی چھتوں کے لیے ہے۔ اور عکرمہ نے زیادہ کیا ہے کہ کیا جانتے ہو اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے گا کہ سایہ سے اس کو دور کرکے اس کی جگہ خود جانا۔ (ب) محمد بن مثنی عبدالوہاب سے نقل فرماتے ہیں کہ اور ہماری قبروں کے لیے۔

9951

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9951

Sahih

(۹۹۴۷)وَرَوَاہُ أَبُو شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیُّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : فَلاَ یَحِلُّ لاِمْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ یَسْفِکَ بِہَا دَمًا وَلاَ یَعْضِدُ بِہَا شَجَرَۃً ۔ أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۳۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٤٧) ابو شریح خزاعی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مسلمان بندہ کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے جائز نہیں کہ اس میں خون بہائے اور اس کے درختوں کو کاٹے۔

9952

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9952

Sahih

(۹۹۴۸) وَرَوَاہُ أَبُو ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : حَرَامٌ لاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلاَ یُخْتَلَی شَوْکَتُہَا وَلاَ یُلْتَقَطُ سَاقِطَتُہَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ السُّوسِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَخْبَرَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ فَذَکَرَہُ وَقَالَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِلاَّ الإِذْخِرَ فَإِنَّا نَجْعَلُہُ فِی مَسَاکِنِنَا وَقُبُورِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہ -ﷺ : إِلاَّ الإِذْخِرَ إِلاَّ الإِذْخِرَ ۔ کَذَا قَالَ الْوَلِیدُ بْنُ مَزْیَدٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ۔ وَرَوَاہُ الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیُّ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : فَلاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا ولاَ یُخْتَلَی شَوْکُہَا وَلاَ تَحِلُّ سَاقِطَتُہَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ۔ وَفِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی عَنْہُ: لاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا وَلاَ تَحِلُّ لُقَطَتُہَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ ۔ وَرَوَاہُ شَیْبَانُ عَنْ یَحْیَی فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : لاَ یُخْبَطُ شَوْکُہَا وَلاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلاَ یَلْتَقِطُ سَاقِطَتَہَا إِلاَّ مُنْشِدٌ ۔ وَکُلُّ ذَلِکَ یَرِدُ فِی مَوَاضِعِہِ مِنَ الْکِتَابِ إِنْ شَائَ اللَّہُ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۱۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٤٨) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : درختوں کا کاٹنا، کانٹوں کا اکھاڑنا، جائز نہیں حرام ہے اور گری پڑی چیز کو صرف اعلان کروانے والا ہی اٹھاسکتا ہے۔ (ب) عباس بن عبدالمطلب (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اذخر کی اجازت دیں کیوں کہ یہ ہمارے گھروں اور قبروں میں کام آتا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اذخر گھاس کی اجازت دے دی۔ (ج) مسلم بن ولید اوزاعی سے نقل فرماتے ہیں کہ اس کا شکار نہ بھگایا جائے اور کانٹے نہ اکھاڑے جائیں اور اس کی گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا ہی اٹھاسکتا ہے۔ (د) شیبان یحییٰ سے بیان کرتے ہیں کہ اس کے کانٹوں کو نہ روندا جائے، درخت نہ کاٹے جائیں اور گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا اٹھاسکتا ہے۔

9953

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9953

Zaeef

(۹۹۴۹)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًی فَرَأَی رَجُلاً عَلَی جَبَلٍ یَعْضِدُ شَجَرًا فَدَعَاہُ فَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ مَکَّۃَ لاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلاَ یُخْتَلَی خَلاَہَا۔ قَالَ : بَلَی وَلَکِنِّی حَمَلَنِی عَلَی ذَلِکَ بَعِیرٌ لِی نِضْوٌ۔ قَالَ : فَحَمَلَہُ عَلَی بَعِیرٍ وَقَالَ لَہُ : لاَ تَعُدْ وَلَمْ یَجْعَلْ عَلَیْہِ شَیْئًا۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن ابی عروبہ المناسک ۲۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٤٩) عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) منیٰ میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ پہاڑ پر ایک آدمی درخت کاٹ رہا تھا، اس کو بلوایا۔ اس سے پوچھا : کیا تو جانتا نہیں کہ مکہ کے درخت اور اس کا گھاس نہیں کاٹا جاتا۔ اس نے کہا : کیوں نہیں ، لیکن مجھے تو اونٹ نے اس پر ابھارا ہے، جو ہمارا کمزور اونٹ ہے ، اس نے اس کو اونٹ پر رکھ لیا اور حضرت عمر (رض) نے فرمایا : آئندہ نہ کرنا اور اس کے اوپر کچھ رکھنا بھی نہیں۔

9954

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9954

Sahih

(۹۹۵۰)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : مَنْ قَطَعَ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ شَیْئًا جَزَاہُ حَلاَلاً کَانَ أَوْ مُحْرِمًا فِی الشَّجَرَۃِ الصَّغِیرَۃِ شَاۃٌ وَفِی الْکَبِیرَۃِ بَقَرَۃٌ۔ یُرْوَی ہَذَا عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ وَعَطَائٍ ۔ وَبِہَذَا الإِسْنَادِ قَالَ فِی الإِمْلاَئِ وَالْفِدْیَۃِ فِی مُتَقَدِّمِ الْخَبَرِ عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ وَعَطَائٍ مُجْتَمِعَۃً فِی أَنَّ فِی الدُّوحَۃِ بَقَرَۃٌ وَالدُّوحَۃُ : الشَّجَرَۃُ الْعَظِیمَۃُ۔ وَقَالَ عَطَائٌ فِی الشَّجَرَۃِ دُونَہَا شَاۃٌ قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَالْقِیَاسُ لَوْلاَ مَا وَصَفَتُ فِیہِ أَنَّہُ یَفْدِیہِ مَنْ أَصَابَہُ بِقِیمَتِہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ : رُوِّینَا عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ فِی الرَّجُلِ یَقْطَعُ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ قَالَ فِی الْقَضِیبِ دِرْہَمٌ وَفِی الدُّوحَۃِ بَقَرَۃٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٥٠) ربیع کہتے ہیں کہ امام شافعی (رض) نے فرمایا : جس نے حرم کا درخت کاٹا وہ محرم یا حلال ہو اس پر فدیہ ہے۔ چھوٹے درخت کے عوض ایک بکری اور بڑے درخت کے عوض گائے۔ یہ ابن زبیر اور عطاء سے منقول ہے۔ (ب) ابن زبیر اور عطاء اس بات پر متفق ہیں کہ بڑے درخت کے عوض گائے ہے۔ (ج) اور عطاء کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کسی درخت کے عوض بکری ہے۔ (د) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر وہ موجود نہ ہو جس کو میں نے بیان کیا ہے تو وہ اس کے فدیہ میں اس کے برابر قیمت دے گا۔ (ح) عطاء ایک آدمی کے متعلق فرماتے ہیں ، جو حرم سے درخت کاٹتا تھا کہ پیلوں کے عوض ایک درہم اور بڑے درخت کے عوض ایک گائے۔

9955

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9955

Sahih

(۹۹۵۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْقَارِئُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ الْعَبْدِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَا کَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ إِلاَّ الْقُرْآنَ وَمَا فِی ہَذِہِ الصَّحِیفَۃِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : الْمَدِینَۃُ حَرَامٌ مَا بَیْنَ عَیْرٍ إِلَی ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِیہَا حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ لاَ یَقْبَلُ اللَّہُ مِنْہُ عَدْلاً وَلاَ صَرْفًا ذِمَّۃُ الْمُسْلِمِینَ وَاحِدَۃٌ یَسْعَی بِہَا أَدْنَاہُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ وَمَنْ وَالَی قَوْمًا بِغَیْرِ إِذْنِ مَوَالِیہِ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۷۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٥١) ابراہیم تیمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ حضرت علی (رض) سے روایت فرماتے ہیں کہ ہم نے صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن اور جو اس صحیفہ میں موجود ہے تحریر کیا ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مدینہ کا عیر اور ثور کے درمیان کا علاقہ حرم ہے۔ جس نے اس میں کوئی بدعت کی یا بدعتی کو جگہ دی، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ اس سے فرض ونفل قبول نہ کریں گے۔ مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے ان کا ادنیٰ بھی اس کے ذریعے کوشش کرسکتا ہے اور جس نے مسلمان سے بےوفائی کی، عہد توڑا۔ اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ اس سے فرض ونفل کو بھی قبول نہ کرے گا اور جس نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے دوستی کی، اس پر بھی اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ ان سے فرض ونفل قبول نہ کریں گے۔