Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2097

کتاب الحج

جس نے ایک دن کے روزے کے برابر مد کھانے کے دوشمار کیے

3 hadiths in this chapter

9903

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9903

Sahih

(۹۸۹۸)أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ زَکَرِیَّا الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْن عَبَّاسِ فِی قَوْلِہِ ( فَجَزَائٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ) قَالَ إِذَا أَصَابَ الْمُحْرِمُ الصَّیْدَ یُحْکَمُ عَلَیْہِ جَزَاؤُہُ فَإِن کَانَ عِنْدَہُ جَزَاؤُہُ ذَبَحَہُ وَتَصَدَّقَ بِلَحْمِہِ فَإِنْ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ جَزَاؤُہُ قُوِّمَ جَزَاؤُہُ دَرَاہِمَ ثُمَّ قُوِّمَتِ الدَّرَاہِمُ طَعَامًا فَصَامَ مَکَانَ کُلِّ نِصْفِ صَاعٍ یَوْمًا وَإِنَّمَا أُرِیدَ بِالطَّعَامِ الصِّیَامُ أَنَّہُ إِذَا وَجَدَ الطَّعَامَ وَجَدَ جَزَائَ ہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۱۳۳۶۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٩٨) مقسم ابن عباس (رض) سے اللہ کے ارشاد { فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ } (المائدۃ : ٩٥) ” پس بدلہ مثل اس کے جو شکار کو قتل کیا جو پاؤں میں سے ہے۔ “ جب محرم آدمی شکار کرلے تو اس کے خلاف اس کی مثل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر اس کے پاس اس کا بدلہ اور مثل موجود ہو تو اس کو ذبح کرے اور اس کا گوشت صدقہ کر دے۔ اگر اس کے پاس اس کا بدل اور مثل موجود نہ ہو تو درہم کی قیمت مقرر کی جائے۔ پھر کھانے کی قیمت لگائی جائے۔ پھر وہ نصف صاع کے عوض ایک دن کا روزہ رکھے۔ طعام سے میرا ارادہ روزہ کا تھا۔ جب اس نے کھانا پا لیا تو اس نے اس کا بدلہ بھی پا لیا۔

9904

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9904

Sahih

(۹۸۹۹)وَأَخْبَرَنَا الشَّرِیفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ قَالَ سَمِعْتُ مِقْسَمًا فِی الَّذِی یُصِیبُ الصَّیْدَ لاَ یَکُونُ عِنْدَہُ جَزَاؤُہُ قَالَ : یُقَوَّمُ الصَّیْدُ دَرَاہِمَ وَتُقَوَّمُ الدَّرَاہِمُ طَعَامًا فَیَصُومُ لِکُلِ نِصْفِ صَاعٍ یَوْمًا۔ قَالَ شُعْبَۃُ وَقَالَ لِی أَبَانُ وَأَبُو مَرْیَمَ إِنَّہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ یَعْنِی أَبَانَ بْنَ تَغْلِبَ کَذَا فِی رِوَایَۃِ شُعْبَۃَ تَقْوِیمُ الصَّیْدَ وَفِی رِوَایَۃِ مَنْصُورٍ یُقَوَّمُ الْجَزَائُ وَمَنْصُورٌ أْحَسَنُہُمَا سِیَاقَۃً لِلْحَدِیثِ۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ عَدَلَ فِی الْجَزَائِ إِذَا کَانَتْ شَاۃً صِیَامَ یَوْمٍ بِإِطْعَامِ مِسْکِینَیْنِ فَإِذَا کَانَتْ بَدَنَۃً أَوْ بَقَرَۃً صِیَامَ یَوْمٍ بِإِطْعَامِ مِسْکِینٍ وَاحِدٍ وَقَالَ مُدٌّ مُدٌّ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن الجعد ۱۵۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٩٩) حکم فرماتے ہیں کہ میں نے مقسم سے اس شخص کے بارے میں سنا جو شکار کو کرلیتا ہے لیکن اس کا بدلہ نہیں پاتا، اس پر شکار کی قیمت مقرر کی جائے گی درہموں میں اور درہموں سے کھانا خریدا جائے گا، یعنی اس کی قیمت مقرر کی جائے گی اور وہ ہر نصف صاع کے عوض روزہ رکھے گا۔ (ب) شعبہ کی روایت میں ہے کہ شکار کی قیمت لگائی جائے۔ (ج) منصور کی روایت میں ہے کہ اس کے بدلہ یا مثل کی قیمت لگائی جائے۔ (د) ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ وہ برابر ہو مثل کے یا بدلہ کے، جب بکری ہو تو ایک دن کا روزہ دو مسکینوں کے کھانے کے عوض ہے، لیکن جب اونٹ یا گائے ہو تو ایک دن کا روزہ ایک مسکین کے کھانے کے عوض ۔ فرماتے ہیں : وہ مد، مد ہوا کرتا ہے۔

9905

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9905

Zaeef

(۹۹۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُوزَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ بْنُ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِذَا قَتَلَ الْمُحْرِمُ شَیْئًا مِنَ الصَّیْدِ حُکِمَ عَلَیْہِ فِیہِ فَإِنْ قَتَلَ ظَبْیًا أَوْ نَحْوَہُ فَعَلَیْہِ شَاۃٌ تُذْبَحُ بِمَکَّۃَ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَإِطْعَامُ سِتَّۃِ مَسَاکِینَ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ وَإِنْ قَتَلَ إِیلاً أَوْ نَحْوَہُ فَعَلَیْہِ بَقَرَۃٌ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ أَطْعَمَ عِشْرِینَ مِسْکِینًا فَإِنْ لَمْ یَجِدْ صَامَ عِشْرِینَ یَوْمًا وَإِنْ قَتَلَ نَعَامَۃً أَوْ حِمَارَ وَحْشٍ أَوْ نَحْوَہُ فَعَلَیْہِ بَدَنَۃٌ مِنَ الإِبِلِ فَإِنْ لَمْ یَجِدْہُ أَطْعَمَ ثَلاَثِینَ مِسْکِینًا فَإِن لَمْ یَجِدْ صَامَ ثَلاَثِینَ یَوْمًا وَالطَّعَامُ مُدٌّ مُدٌّ شِبْعُہُمْ۔وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ وَمَا قَبْلَہَا تَدُلُّ عَلَی أَنَّ ذَلِکَ عِنْدَہُ عَلَی التَّرْتِیبِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[ضعیف۔ اخرجہ الطبری فی تفسیر ۵/۴۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٩٠٠) ابوطلحہ ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب محرم کسی شکار کو قتل کرے تو اس کی مثل کا فیصلہ کیا جائے ، اگر اس نے ہرن یا اس کی مثل کو قتل کیا ہے تو محرم کے ذمہ بکری ہے جو مکہ میں ذبح کرے گا۔ اگر محرم بکری نہ پائے تو پھر چھ مساکین کو کھانا کھلانا ہے۔ اگر کھانا بھی موجود نہ ہو تو پھر تین دن کے روزے رکھنے ہیں۔ اگر وہ بارہ سنگھا یا اس کی مثل کو قتل کرتا ہے تو پھر محرم کے ذمہ گائے ہے، اگر گائے موجود نہ ہو تو پھر بیس مسکینوں کا کھانا ہے۔ اگر کھانا میسر نہ ہو تو پھر بیس دنوں کے روزے ۔ اگر اس نے شتر مرغ یا نیل گائے یا اس کی مثل چیز کو قتل کردیا تو پھر محرم کے ذمہ اونٹ کی قربانی ہے۔ اگر نہ پائے تو تیس مسکینوں کا کھانا ہے۔ اگر کھانا نہ ہو تو تیس ایام کے روزے رکھنا ہے اور کھانا ایک ایک مد ان کی سیرابی یا پیٹ کا بھرنا ہے یہ اور اس سے پہلے والی روایات ترتیب کا تقاضا کرتی ہیں۔