Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2096

کتاب الحج

ایک دن کے روزے کے برابر مسکین کا کھانا ہونا چاہیے

2 hadiths in this chapter

9901

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9901

Sahih

(۹۸۹۶)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّیْرَفِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہِلاَلٍ الْبُوزَنْجَرْدِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ : حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکْتُ قَالَ : وَیْحَکَ وَمَا ذَاکَ ۔ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی یَوْمٍ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ قَالَ : أَعْتِقْ رَقَبَۃً ۔ قَالَ : مَا أَجِدُہَا قَالَ : فَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔قَالَ : مَا أَسْتَطِیعُ قَالَ : أَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَ : مَا أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِعَرَقٍ فِیہِ تَمْرٌ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ : خُذْہُ فَتَصَدَّقْ بِہِ ۔ قَالَ : عَلَی أَفْقَرَ مِنْ أَہْلِی فَوَاللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیِ الْمَدِینَۃِ أَحْوَجُ مِنْ أَہْلِی قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حَتَّی بَدَتْ أَنْیَابُہُ فَقَالَ : خُذْہُ وَاسْتَغْفِرِ اللَّہَ وَأَطْعِمْ أَہْلَکَ ۔وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَہِقْلُ بْنُ زِیَادٍ وَمَسْرُورُ بْنُ صَدَقَۃَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۸۱۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٩٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ! میں ہلاک ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو برباد ہو، کیا ہوا ؟ اس نے کہا : میں رمضان المبارک میں اپنی بیوی سے مجامعت کرچکا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلام آزاد کر۔ اس نے کہا : میرے پاس غلام موجود نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو ماہ کے لگاتار روزے رکھ۔ اس نے کہا : میں طاقت نہیں رکھتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ وہ کہنے لگا : میں نہیں پاتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا آیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لو اور صدقہ کر دو۔ اس نے کہا : اپنے گھر والوں سے غریب لوگوں پر ! اللہ کی قسم ! مدینہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ غریب کوئی نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیے ، جس کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لو اللہ سے استغفار کرو اور اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔

9902

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9902

Sahih

(۹۸۹۷)وَقَدْ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی ابْنُ شِہَابٍ قَالَ الشَّیْخُ أَبُو بَکْرٍ وَأَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْحَاسِبُ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا ہِقْلٌ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی حَسَّانَ حَدَّثَنَا دُحَیْمٌ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ وَہَذَا حَدِیثُ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکْتُ قَالَ : وَیْحَکَ مَا صَنَعْتَ ۔ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی رَمَضَانَ قَالَ : أَعْتِقْ رَقَبَۃً ۔ قَالَ : مَا أَجِدُہَا قَالَ : صُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔ قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَ : مَا أَجِدُ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِعَرَقٍ فَقَالَ : خُذْہُ فَتَصَدَّقْ بِہِ ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَعَلَی غَیْرِ أَہْلِی فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا بَیْنَ طُنُبَیِ الْمَدِینَۃِ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ مَا بَیْنَ لاَبَتَیِ الْمَدِینَۃِ أَحَدٌ أَحْوَجُ مِنِّی فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حَتَّی بَدَتْ أَسْنَانُہُ ثُمَّ قَالَ : خُذْہُ وَاسْتَغْفِرِ رَبَّکَ ۔ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ فَأُتِیَ بِمِکْتَلٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا۔ قَالَ الإِسْمَاعِیلِیُّ لَمْ یَذْکُرْ أَحَدٌ مِنْہُمْ عَمْرَو بْنَ شُعَیْبٍ غَیْرَ ابْنِ الْمُبَارَکِ وَقَالَ الْہِقْلُ : بِعَرَقٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا۔ قَالَ دُحَیْمٌ : وَیْحَکَ وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی یَوْمٍ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ فَأُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِعَرَقٍ فِیہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا۔ قَالَ الشَّیْخُ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الأَدَبِ عَنِ ابْنِ مُقَاتِلٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ إِلَی قَوْلِہِ مَا بَیْنَ طُنُبَیِ الْمَدِینَۃِ لَمْ یَذْکُرْ مَا بَعْدَہُ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۸۱۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٩٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں ہلاک ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھ پر افسوس ! تو نے کیا کیا ہے ؟ کہنے لگا : اپنی بیوی سے ہمبستری کرچکا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک گردن یعنی غلام آزاد کرو۔ کہنے لگا : میں پاتا نہیں ہوں۔ فرمایا : دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھو۔ کہنے لگا : میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔ اس نے کہا : میں نہیں پاتا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لو اور صدقہ کر دو۔ اس نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنے گھر والوں کے علاوہ دوسروں پر، اللہ کی قسم ! مدینہ میں مجھ سے زیادہ فقیر کوئی نہیں اور عمرو بن شعیب کہتے ہیں کہ مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان مجھ سے زیادہ فقیر اور ضرورت مند کوئی نہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیے یہاں تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دانت مبارک ظاہر ہوگئے۔ پھر فرمایا : لو اور اللہ سے استغفار کرو۔ عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔ ہقل کہتے ہیں : اس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔ دحیم نے کہا : تجھ پر افسوس ! وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : ماہ رمضان میں میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرچکا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔