Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2086

کتاب الحج

شکار کے بدلے کا بیان شکار کے بدلے جانوروں میں سے اسی کے مثل ہونا چاہیے مسلمان دو عدل والے فیصلہ کریں گے

4 hadiths in this chapter

9866

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9866

Sahih

(۹۸۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ الأَدِیبُ الْبِسْطَامِیُّ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ بِخَسْرُوجِرْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْغِطْرِیفِ أَخْبَرَنِی ہَارُونُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ ہُوَ ابْنُ عُمَیْرٍ سَمِعَ قَبِیصَۃَ بْنَ جَابِرٍ الأَسَدِیَّ قَالَ : خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَکَثُرَ مِرَاؤُنَا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ أَیُّہُمَا أَسْرَعُ شَدًّا الظَّبْیُ أَمِ الْفَرَسُ فَبَیْنَمَا نَحْنُ کَذَلِکَ إِذْ سَنَحَ لَنَا ظَبْیٌ وَالسُّنُوحُ ہَکَذَا یَقُولُ : مَرَّ یُجَزُّ عَنَّا عَنِ الشِّمَالِ قَالَہُ ہَارُونُ بِالتَّشْدِیدِ فَرَمَاہُ رَجُلٌ مِنَّا بِحَجَرٍ فَمَا أَخْطَأَ خُشَشَائَ ہُ فَرَکِبَ رَدْعَہُ فَقَتَلَہُ فَأُسْقِطَ فِی أَیْدِینَا فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ انْطَلَقْنَا إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمِنًی فَدَخَلْتُ أَنَا وَصَاحِبُ الظَّبْیِ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ فَذَکَرَ لَہُ أَمْرَ الظَّبْیِ الَّذِی قَتَلَ وَرُبَّمَا قَالَ فَتَقَدَّمْتُ إِلَیْہِ أَنَا وَصَاحِبُ الظَّبْیِ فَقَصَّ عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : عَمْدًا أَصَبْتَہُ أَمْ خَطَأً؟ وَرُبَّمَا قَالَ فَسَأَلَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : کَیْفَ قَتَلْتَہُ عَمْدًا أَمْ خَطَأً؟ فَقَالَ : لَقَدْ تَعَمَّدْتُ رَمْیَہُ وَمَا أَرَدْتُ قَتْلَہُ زَادَ رَجُلٌ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَقَدْ شَرَکَ الْعَمْدُ الْخَطَأَ ثُمَّ اجْتَنَحَ إِلَی رَجُلٍ وَاللَّہِ لَکَأَنَّ وَجْہَہُ قُلْبٌ یَعْنِی فِضَّۃً وَرُبَّمَا قَالَ : ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَی رَجُلٍ إِلَی جَنْبِہِ فَکَلَّمَہُ سَاعَۃً ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی صَاحِبِی فَقَالَ لَہُ : خُذْ شَاۃً مِنَ الْغَنَمِ فَأَہْرِقْ دَمَہَا وَأَطْعِمْ لَحْمَہَا وَرُبَّمَا قَالَ فَتَصَدَّقْ بِلَحْمِہَا وَاسْقِ إِہَابَہَا سِقَائً فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِہِ أَقْبَلْتُ عَلَی الرَّجُلِ فَقُلْتُ لَہُ أَیُّہَا الْمُسْتَفْتِی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إِنَّ فُتْیَا ابْنِ الْخَطَّابِ لَنْ تُغْنِیَ عَنْکَ مِنَ اللَّہِ شَیْئًا وَاللَّہِ مَا عَلِمَ عُمَرُ حَتَّی سَأَلَ الَّذِی إِلَی جَنْبِہِ فَانْحَرْ رَاحِلَتَکَ فَتَصَدَّقْ بِہَا وَعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّہِ قَالَ فَنَمَا ہَذَا ذُو الْعُوَیْنَتَیْنِ إِلَیْہِ وَرُبَّمَا قَالَ فَانْطَلَقَ ذُو الْعُوَیْنَتَیْنِ إِلَی عُمَرَ فَنَمَاہَا إِلَیْہِ وَرُبَّمَا قَالَ فَمَا عَلِمْتُ بِشَیْئٍ وَاللَّہِ مَا شَعَرْتُ إِلاَّ بِہِ یَضْرِبُ بِالدِّرَّۃِ عَلَیَّ وَقَالَ مَرَّۃً عَلَی صَاحِبِی صُفُوقًا صُفُوقًا ثُمَّ قَالَ : قَاتَلَکَ اللَّہُ تَعَدَّی الْفُتْیَا وَتَقْتُلُ الْحَرَامَ وَتَقُولُ : وَاللَّہِ مَا عَلِمَ عُمَرُ حَتَّی سَأَلَ الَّذِی إِلَی جَنْبِہِ أَمَا تَقْرَأُ کِتَابَ اللَّہِ فَإِنَّ اللَّہَ یَقُولُ (یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ) ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیَّ فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ رِدَائِی وَرُبَّمَا قَالَ ثَوْبِی فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنِّی لاَ أُحِلُّ لَکَ مِنِّی أَمْرًا حَرَّمَہُ اللَّہُ عَلَیْکَ فَأَرْسَلَنِی ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیَّ فَقَالَ : إِنِّی أَرَاکَ شَابًّا فَصِیحَ اللِّسَانِ فَسِیحَ الصَّدْرِ وَقَدْ یَکُونُ فِی الرَّجُلِ عَشْرَۃُ أَخْلاَقٍ تِسْعٌ حَسَنَۃٌ وَرُبَّمَا قَالَ صَالِحَۃٌ وَوَاحِدَۃٌ سَیِّئَۃٌ فَیُفْسِدُ الْخُلُقُ السَّیِّئُ التِّسْعَ الصَّالِحَۃَ فَاتَّقِ طَیْرَاتِ الشَّبَابِ۔ قَالَ ابْنُ أَبِی عُمَرَ قَالَ سُفْیَانُ : وَکَانَ عَبْدُ الْمَلِکِ إِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ قَالَ : مَا تَرَکْتُ مِنْہُ أَلِفًا وَلاَ وَاوًا۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۸۲۴۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٦١) عبدالملک بن عمیر نے قبیصہ بن جابراسدی سے سنا، کہتے ہیں : ہم حج کے لیے نکلے اور ہمارے زیادہ بامروت لوگ تھے اور ہم محرم بھی تھے۔ ہرن زیادہ تیز دوڑتا ہے یا گھوڑا ہم یہی باتیں کر رہے تھے کہ ہرن سامنے آگیا اور سنوح کا لفظ بھی اس طرح ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ہم سے شمال کی طرف گزر گیا۔ ہارون نے اس کو شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ ہم میں سے کسی ایک آدمی نے اس کو پتھر مارا۔ اس کے تیر کا نشانہ خطا نہ ہوا اور وہ اس کو دھمکا رہا تھا۔ اس نے اس کو قتل کردیا۔ وہ ہمارے سامنے گرگیا، جب ہم مکہ آئے تو حضرت عمر (رض) کے پاس منیٰ میں گئے۔ میں اور ہرن والا حضرت عمر (رض) کے پاس گئے تو اس نے ہرن کے قتل کا قصہ حضرت عمر (رض) کے سامنے بیان کیا اور کبھی کہتے ہیں کہ میں اور ہرن والا آگے بڑھے اور ان پر قصہ بیان کیا تو حضرت عمر (رض) نے پوچھا : جان بوجھ کر ایسا کیا یا غلطی سے ؟ بعض اوقات حضرت عمر (رض) اس سے سوال کرتے کہ کیا تو نے جان بوجھ کر قتل کیا ہی یا غلطی سے ؟ اس نے کہا : تیر تو جان بوجھ کر مارا لیکن قتل کا ارادہ نہ کیا تھا ۔ آدمی نے زائد بیان کیا تو حضرت عمر فرمانے لگے کہ عمداً اور خطا دونوں مل گئے۔ پھر آدمی کی طرف متوجہ ہوئے ، اللہ کی قسم ! اس کا چہرہ چاندی کی طرح چمک رہا تھا۔ بعض اوقات یہ بیان کیا کہ پھر آدمی کو آپ نے بلا کر اس سے کلام کی۔ پھر میرے ساتھی پر متوجے ہوئے اور فرمایا : ایک بکری لے کر ذبح کرو اور اس کا گوشت کھلاؤ۔ کبھی فرماتے : اس کا گوشت صدقہ کرو اور اس کے چمڑے کا مشکیزہ بنا کر پانی پلایا کرو۔ جب ہم ان کے پاس سے نکلے تو میں آدمی پر متوجہ ہوا۔ میں نے ان سے کہا : اے عمر بن خطاب (رض) سے فتویٰ پوچھنے والے ! حضرت عمر (رض) کا فتویٰ اللہ سے تجھے کچھ کفایت نہ کرے گا : کیوں کہ حضرت عمر (رض) تو جانتے نہ تھے بلکہ وہ اپنے قریب بیٹھے ہوئے آدمی سے پوچھتے تھے، اپنی سواری کو ذبح کر اور اس کا گوشت صدقہ کر اور اللہ کے شعائر کی تعظیم کیا کرو۔ کہتے ہیں : وہ چشمہ والا ان کی طرف آگے بڑھا۔ بعض اوقات بیان کرتے ہیں کہ وہ چشمے والا حضرت عمر (رض) کے پاس گیا اور بعض اوقات کہتے ہیں : میں کچھ نہیں جانتا۔ اللہ کی قسم ! میں صرف اس کا شعور رکھتا ہوں، وہ مجھے کوڑے مارتا ہے اور بعض اوقات میرے ساتھی کے رخسار پر مارتا ہے۔ پھر کہا : اللہ تجھے قتل کرے تو نے فتویٰ میں ظلم کیا اور تو نے حرام کو قتل کردیا اور تو کہتا ہے : اللہ کی قسم ! حضرت عمر (رض) جانتے ہی نہیں، جب تک وہ اپنے پہلو میں بیٹھے شخص سے سوال نہ کرلیں۔ کیا آپ نے اللہ کی کتاب نہیں پڑھی ؟ اللہ فرماتے ہیں :{ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ } (المائدۃ : ٩٥) ” کہ فیصلہ دو عادل کریں۔ “ پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور اکٹھی کی ہوئی چادر کو پکڑا اور بعض اوقات کہتے ہیں : میرے کپڑے کو پکڑا۔ میں نے کہا : اے امیرالمومنین ! میں اپنی طرف سے کسی کام کو آپ کے لیے جائز قرار نہ دوں گا، جو اللہ نے آپ کے لیے حرام قرار دیا ہے۔ اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے میں تجھے فصیح زبان والا، کشادہ سینے والا نوجوان خیال کرتا ہوں اور کبھی انسان میں نو عادتیں ہوتی ہیں۔ نو تو اچھی ہوتی ہیں یا بعض اوقات صالحہ کا لفظ بولا ہے کہ درست ہوتی ہے اور ایک عادت بری ہوتی ہے۔ وہ بری ایک عادت نو اچھی کو بھی خراب کردیتی ہیں اور جوانی کی آفات سے بچو ۔ ابن ابی عمر اور سفیان کہتے ہیں کہ عبدالملک جب یہ حدیث بیان کرتے تو کہتے کہ میں نے الف اور واؤ کو بھی نہیں چھوڑا۔

9867

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9867

Sahih

(۹۸۶۲)حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الصَّنْعَانِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّبَرِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ جَابِرٍ الأَسَدِیِّ قَالَ : کُنْتُ مُحْرِمًا فَرَأَیْتُ ظَبْیًا فَرَمَیْتُہُ فَأَصَبْتُ خُشَّائَ ہُ یَعْنِی أَصْلَ قَرْنِہِ فَمَاتَ فَوَقَعَ فِی نَفْسِی مِنْ ذَلِکَ فَأَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَسْأَلُہُ فَوَجَدْتُ إِلَی جَنْبِہِ رَجُلاً أَبْیَضَ رَقِیقَ الْوَجْہِ وَإِذَا ہُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَسَأَلْتُ عُمَرَ فَالْتَفَتَ إِلَیَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ : تَرَی شَاۃً تَکْفِیہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ فَأَمَرَنِی أَنْ أَذْبَحَ شَاۃً فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِہِ قَالَ صَاحِبٌ لِی : إِنَّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لَمْ یُحْسِنْ أَنْ یُفْتِیَکَ حَتَّی سَأَلَ الرَّجُلَ فَسَمِعَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْضَ کَلاَمِہِ فَعَلاَہُ بِالدِّرَّۃِ ضَرْبًا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیَّ لِیَضْرِبَنِی فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنِّی لَمْ أَقُلْ شَیْئًا إِنَّمَا ہُوَ قَالَہُ قَالَ فَتَرَکَنِی ثُمَّ قَالَ : أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ الْحَرَامَ وَتَتَعَدَّی الْفُتْیَا ثُمَّ قَالَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ : إِنَّ فِی الإِنْسَانِ عَشْرَۃَ أَخْلاَقٍ تِسْعَۃٌ حَسَنَۃٌ وَوَاحِدَۃٌ سَیِّئَۃٌ وَیُفْسِدُہَا ذَلِکَ السَّیِّئُ ثُمَّ قَالَ : وَإِیَّاکَ وَعَثَرَۃَ الشَّبَابِ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۸۲۳۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٦٢) عبدالملک بن عمیر حضرت قبیصہ بن جابر اسدی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں محرم تھا ، میں نے ہرن کو دیکھا اور تیر مار دیا تو تیر کی دھار اس کو لگی وہ مرگیا، میرے دل میں اس کی وجہ سے کھٹکا محسوس ہوا۔ میں نے حضرت عمر (رض) کے پاس آکر سوال کیا، ان کے پہلو میں سفید رنگت اور نرم چہرے والا ایک آدمی موجود تھا، وہ عبدالرحمن بن عوف (رض) تھے۔ سوال میں نے حضرت عمر (رض) سے کیا تو عبدالرحمن بن عوف (رض) نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگے : ایک بکری کفایت کر جائے گی ؟ اس نے کہا : ہاں تو حضرت عمر (رض) نے مجھے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دے دیا، جب ہم ان کے پاس سے اٹھے تو میرے ساتھی نے مجھے کہا کہ امیرالمومنین مسائل اچھی طرح نہیں بتاسکتے۔ وہ پہلے آدمی سے سوال کرتے ہیں، حضرت عمر (رض) نے ان کی کچھ باتیں سن لیں تو کوڑے سے ان کو مارا۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے تاکہ مجھے بھی ماریں، میں نے کہا : اے امیرالمومنین ! میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا۔ اس نے کہا جو کہا۔ کہتے ہیں : انھوں نے مجھے چھوڑ دیا، پھر کہا : تو حرام کے قتل کا ارادہ رکھتا ہے اور فتویٰ میں ظلم چاہتا ہے۔ پھر کہا : اے امیرالمومنین ! انسان میں ١٠ عادات ہوتی ہیں : ٩ اچھی ہوتی ہیں اور ایک بری ہوتی ہے اور یہ بری سب اچھی عادت کو بھی خراب کردیتی ہے پھر فرمایا کہ جوانی کی آفات سے بچو۔

9868

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9868

Zaeef

(۹۸۶۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو حَرِیزٍ قَالَ : أَصَبْتُ ظَبْیًا وَأَنَا مُحْرِمٌ فَأَتَیْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ : ائْتِ رَجُلَیْنِ مِنْ إِخْوَانِکَ فَلْیَحْکُمَا عَلَیْکَ فَأَتَیْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَسَعْدًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَحَکَمَا عَلَیَّ تَیْسًا أَعْفَرَ۔ زَادَ فِیہِ جَرِیرُ بْنُ عَبْدِالْحَمِیدِ عَنْ مَنْصُورٍ وَأَنَا نَاسٍ لإِحْرَامِی۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن سعد فی الطبقات ۶/۱۵۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٦٣) ابومحریز کہتے ہیں کہ میں نے ہرن کا شکار کیا اور میں محرم تھا۔ میں نے آکر حضرت عمر (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : تم دو آدمی اپنے بھائیوں سے لاؤ تاکہ وہ آپ کا فیصلہ کریں ۔ میں عبدالرحمن بن عوف اور سعد (رض) کو لے کر آیا تو انھوں نے ایک سالہ بکری کے بچے کا فیصلہ کیا۔ (ب) جریر بن عبدالحمید منصور سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم لوگ احرام کی حالت میں تھے۔

9869

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9869

Sahih

(۹۸۶۴)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ أَخْبَرَنَا مُخَارِقٌ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ قَالَ : خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَأَوْطَأَ رَجُلٌ مِنَّا یُقَالُ لَہُ أَرْبَدُ ضَبًّا فَفَزَرَ ظَہْرَہُ فَقَدِمْنَا عَلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَہُ أَرْبَدُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : احْکُمْ یَا أَرْبَدُ فَقَالَ : أَنْتَ خَیْرٌ مِنِّی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَأَعْلَمُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّمَا أَمَرْتُکَ أَنْ تَحْکُمَ فِیہِ وَلَمْ آمُرُکَ أَنْ تُزَکِّیَنِی۔ فَقَالَ أَرْبَدُ : أَرَی فِیہِ جَدْیًا قَدْ جَمَعَ الْمَائَ وَالشَّجَرَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَذَاکَ فِیہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۸۲۲۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٦٤) طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ ہم حج کے لیے نکلے ، ایک آدمی نے ہرن کو روند کر زخمی کردیا۔ اس کا نام اربد تھا۔ ہم حضرت عمر (رض) کے پاس آئے تو اربد نے سوال کیا۔ حضرت عمر (رض) نے اربد کو حکم دیا کہ فیصلہ کرو تو اربد کہنے لگے : اے امیرالمومنین ! آپ مجھ سے بہتر اور زیادہ بڑے عالم ہیں۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : میں نے تجھے فیصلہ کا حکم دیا ہے نہ کہ تزکیہ کا تو اربد نے بکری کے بچے کا فیصلہ سنایا۔ گویا کہ انھوں نے پانی اور درخت کو جمع کردیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اسی طرح ہی ہے۔