Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2084

کتاب الحج

میت اور روکے ہوئے انسان کی جانب سے حج کرنا

6 hadiths in this chapter

9856

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9856

Sahih

(۹۸۵۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ قَالَ قِرَائَ ۃٌ عَلَی أَبِی الْیَمَانِ أَنَّ شُعَیْبَ بْنَ أَبِی حَمْزَۃَ أَخْبَرَہُ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : أَرْدَفَ النَّبِیُّ -ﷺ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَکَانَ الْفَضْلُ رَجُلاً وَضِیئًا فَوَقَفَ النَّبِیُّ -ﷺ لِلنَّاسِ یُفْتِیہِمْ فَأَقْبَلَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ خَثْعَمَ وَضِیئَۃٌ تَسْتَفْتِی النَّبِیَّ -ﷺ فَطَفِقَ الْفَضْلُ یَنْظُرُ وَأَعْجَبَہُ حُسْنُہَا فَالْتَفَتَ النَّبِیُّ -ﷺ إِلَی الْفَضْلِ وَہُوَ یَنْظُرُ إِلَیْہَا فَأَخَذَ بِذَقَنِ الْفَضْلِ فَعَدَلَ وَجْہَہُ عَنِ النَّظَرِ إِلَیْہَا فَقَالَتْ تِلْکَ الْخَثْعَمِیَّۃُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ فَرِیضَۃَ اللَّہِ فِی الْحَجِّ عَلَی عِبَادِہِ أَدْرَکَتْ أَبِی شَیْخًا کَبِیرًا لاَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یَسْتَوِیَ عَلَی رَاحِلَتِہِ فَہَلْ یَقْضِی أَنْ أَحُجَّ عَنْہُ؟ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : نَعَمْ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٥١) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فضل بن عباس کو سواری کے پیچھے بٹھا لیا اور فضل خوبصورت انسان تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو فتویٰ دینے کی غرض سے رک گئے تو خشعم قبیلہ کی ایک خوبصورت عورت آپ کی جانب متوجہ ہوئی۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فتویٰ پوچھ رہی تھی تو فضل نے ان کی طرف دیکھا تو وہ ان کو اچھی لگی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فضل کی طرف دیکھا کہ اس عورت کو دیکھ رہے ہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فضل کی ٹھوڑی سے پکڑ کر چہرہ دوسری طرف پھیر دیا۔ یہ خثعمیہ عورت کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! میرے بوڑھے والد کو فریضۂ حج نے پا لیا ہے۔ لیکن وہ سواری پر سوار نہیں ہوسکتا۔ کیا میں اس کی جانب سے حج کروں تو کفایت کر جائے گا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔ [صحیح۔ بخاری ٤١٣٨]

9857

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9857

Sahih

(۹۸۵۲)أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَعَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ وَاللَّفْظُ لِعَلِیٍّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ خَثْعَمَ سَأَلَتِ النَّبِیَّ -ﷺ غَدَاۃَ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ رَدِیفُہُ فَقَالَتْ : إِنَّ فَرِیضَۃَ اللَّہِ عَلَی عِبَادِہِ أَدْرَکَتْ أَبِی شَیْخًا کَبِیرًا لاَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یَسْتَمْسِکَ عَلَی الرَّاحِلَۃِ فَہَلْ تَرَی أَنْ أَحُجَّ عَنْہُ ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ قَالَ سُفْیَانُ وَکَانَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ یَزِیدُ فِیہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَبْلَ أَنْ یَرَی ابْنَ شِہَابٍ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیَنْفَعُہُ ذَلِکَ؟ قَالَ : نَعَمْ کَذَلِکَ لَوْ کَانَ عَلَی أَحَدِکُمُ الدَّیْنُ فَقَضَیْتِیہِ ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٥٢) سلیمان بن یسار ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ خثعم قبیلہ کی ایک عورت نے مزدلفہ کی صبح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا اور فضل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سوار تھے۔ کہنے لگی : میرے بوڑھے والد کو فریضۂ حج نے پا لیا ہے۔ وہ سواری پر سوار بھی نہیں ہوسکتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا خیال ہے کہ میں اس کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔ (ب) عمرو بن دینار تو امام زہری سے ، ابن شہاب کو دیکھنے سے پہلیاس میں کچھ اضافہ کرتے ہیں کہ اس عورت نے کہا : کیا یہ اس کو نفع بھی دے گا ؟ فرمایا : ہاں یہ اس طرح کسی پر قرض ہو تو تو اس کو بھی ادا کر۔

9858

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9858

Sahih

(۹۸۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ: جَعْفَرُ بْنُ أَبِی وَحْشِیَّۃَ وَہُوَ جَعْفَرُ بْنُ إِیَاسٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَی رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ فَقَالَ لَہُ : إِنَّ أُخْتِی نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّہَا مَاتَتْ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ : أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ عَلَیْہَا دَیْنٌ أَکُنْتَ قَاضِیَہُ ۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَاقْضُوا اللَّہَ فَہُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَائِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ بُرَیْدَۃَ بْنِ حُصَیْبٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۳۲۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٥٣) سعید بن جبیر ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میری بہن نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کرے، لیکن وہ فوت ہوگئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اس پر قرض ہوتا تو آپ اس کو ادا کرتے ؟ کہنے لگا : جی ہاں، فرمایا : تم اللہ کا حق ادا کرو یہ پورا کرنے کا زیادہ حق دا رہے۔

9859

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9859

Sahih

(۹۸۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ قَتَادَۃَ بْنِ دُعَامَۃَ أَنَّ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ حَدَّثَہُ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ مَرَّ بِہِ رَجُلٌ یُہِلُّ یَقُولُ : لَبَّیْکَ بِحَجَّۃٍ عَنْ شُبْرُمَۃَ فَقَالَ : وَمَنْ شُبْرُمَۃُ قَالَ : أَوْصَی أَنْ یَحُجَّ عَنْہُ فَقَالَ : أَحَجَجْتَ أَنْتَ؟ قَالَ : لاَ قَالَ : فَابْدَأْ أَنْتَ فَاحْجُجْ عَنْ نَفْسِکَ ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَۃَ۔ کَذَا رَوَاہُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ فِیہِ لَفْظَ الْوَصِیَّۃِ وَرُوِّینَاہُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ : أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَحُجَّ الرَّجُلُ عَنْ أَبِیہِ وَإِنْ لَمْ یُوصِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٥٤) سعید بن جبیر (رض) فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کے پاس سے ایک آدمی گزرا جو شبرمہ کی جانب سے حج کا تلبیہ کہہ رہا تھا۔ انھوں نے پوچھا : شبرمہ کون ہے ؟ کہنے لگا : اس نے وصیت کی تھی کہ وہ اس کی طرف سے حج کرے۔ انھوں نے پوچھا : کیا تو نے اپنی طرف سے حج کیا ہوا ہے۔ وہ کہنے لگا : نہیں۔ ابن عباس (رض) فرمانے لگے : پہلے اپنی طرف سے حج کر ، پھر شبرمہ کی جانب سے کرلینا۔ (ب) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ آدمی اپنے والد کی جانب سے حج کرسکتا ہے اگر اس نے وصیت نہ بھی کی ہو۔

9860

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9860

Zaeef

(۹۸۵۵)أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ یَعْنِی ابْنَ عِیسَی بْنِ الطَّبَاعِ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یُدْخِلُ بِالْحَجَّۃِ الْوَاحِدَۃِ ثَلاَثَۃَ نَفَرٍ الْجَنَّۃَ الْمَیِّتَ وَالْحَاجَّ عَنْہُ وَالْمُنْفِذَ ذَلِکَ ۔ أَبُو مَعْشَرٍ ہَذَا نَجِیحٌ السِّنْدِیُّ مَدَنِیٌّ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الحارث ۳۵۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٥٥) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ ایک حج کی وجہ سے تین آدمیوں کے گروہ کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔ 1 میت 2 اس کی جانب سے حج کرنے والا۔ 3 اس کی مدد کرنے والا۔

9861

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9861

Zaeef

(۹۸۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْمُقْرِئُ الْخَسْرُوجِرْدِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ الْخَسْرُوجِرْدِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا زَاجِرُ بْنُ الصَّلْتِ الطَّاحِیُّ حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ فِی رَجُلٍ أَوْصَی بِحَجَّۃٍ : کُتِبَتُ لَہُ أَرْبَعُ حُجَجٍ حَجَّۃٌ لِلَّذِی کَتَبَہَا وَحَجَّۃٌ لِلَّذِی أَنْفَذَہَا وَحَجَّۃٌ لِلَّذِی أَخَذَہَا وَحَجَّۃٌ لِلَّذِی أَمَرَ بِہَا ۔ زِیَادُ بْنُ سُفْیَانَ ہَذَا مَجْہُولٌ وَالإِسْنَادُ ضَعِیفٌ وَقَدْ رُوِیَ فِی الْحَجِّ عَنِ الأَبَوَیْنِ أَخْبَارٌ بِأَسَانِیدَ ضَعِیفَۃٍ فَتَرَکْتُہَا وَفِی بَعْضِ مَا رُوِّینَا کِفَایَۃٌ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٥٦) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کے بارے میں فرمایا کہ اس نے حج کی وصیت کی تھی اس کو چار اشخاص کے حجوں کا ثواب ملے گا۔ 1 وصیت کرنے والے کے لیے 2 عملاً کرنے والے کے لیے 3 اس کو لکھنے والے کے لیے (٤) جو اس کا حکم دینے والا ہے۔