Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2079

کتاب الحج

حج وعمرہ کے ارادہ کے بغیر مکہ میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } (البقرۃ : ١٢٥) ” اور جس وقت ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنادیا۔ “ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عربی زبان میں

10 hadiths in this chapter

9835

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9835

Sahih

(۹۸۳۰)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ السَّقَّائِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ بَطَّۃَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ یَحْیَی الأَمَوِیُّ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدِ بْنِ جَبْرٍ أَبِی الْحَجَّاجِ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی (وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا) قَالَ : یَثُوبُونَ إِلَیْہِ وَیَذْہَبُونَ وَیَرْجِعُونَ لاَ یَقْضُونَ مِنْہُ وَطَرًا۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن جریر فی تفسیرہ ۱/ ۵۸۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٣٠) ابو حجاج مجاہد بن جبر سے اللہ کے اس قول کے بارے میں منقول ہے : { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا } ” اور جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لییلوٹنے کی جگہ (یا ثواب کی جگہ) اور امن کی جگہ بنایا۔ “ فرماتے ہیں : وہ اس سے ثواب حاصل کرتے ہیں اور جاتے ہیں اور واپس آتے ہیں لیکن دنیوی مقصد حاصل نہیں کرتے۔

9836

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9836

Sahih

(۹۸۳۱)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ {مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ} یَقُولُ : لاَ یَقْضُونَ مِنْہُ وَطَرًا أَبَدًا (وَأَمْنًا) یَقُولُ : لاَ یَخَافُ مَنْ دَخَلَہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٣١) ابن ابی نجیح حضرت مجاہد سے نقل فرماتے ہیں کہ { مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ } (البقرۃ : ١٢٥) سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے (دنیاوی) مقاصد حاصل نہیں کرتے۔ اور امنا سے مراد یہ ہے کہ شہر مکہ میں داخل ہوجاتا ہے وہ خوف نہیں کھاتا۔

9837

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9837

Sahih

(۹۸۳۲)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ (وَأَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ) قَالَ : لَمَّا أَمَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ إِبْرَاہِیمُ -ﷺ أَنَّْ یُؤَذِّنَ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ قَالَ : یَا أُیَّہَا النَّاسُ إِنَّ رَبَّکُمُ اتَّخَذَ بَیْتًا وَأَمَرَکُمْ أَنْ تَحُجُّوہُ فَاسْتَجَابَ لَہُ مَا سَمِعَہُ مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ أَکَمَۃٍ أَوْ تُرَابٍ أَوْ شَیْئٍ فَقَالُوا : لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ۔ [حسن لغیرہ۔ ابن عساکر فی تاریخہ ۶/ ۲۰۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٣٢) سعید بن جبیر ابن عباس (رض) سے اللہ کے ارشاد { وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ } (الحج : ٢٧) کہ متعلق نقل فرماتے ہیں کہ جب اللہ نے ابراہیم کو حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کردیں کو انھوں نے فرمایا : اے لوگو ! تمہارے رب نے گھر بنوایا ہے اور وہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اس کا حج کرو۔ ان کی آواز یا دعوت کو ہر پتھر، درخت، گھاس، مٹی اور ہر چیز جس نے بھی سنا قبول کیا۔ انھوں نے کہا : اے اللہ ! ہم حاضر ہیں۔ اے اللہ ! ہم حاضر ہیں۔

9838

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9838

Sahih

(۹۸۳۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ قَابُوسٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی ظَبْیَانَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا فَرَغَ إِبْرَاہِیمُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ مِنْ بِنَائِ الْبَیْتِ قَالَ : رَبِّ قَدْ فَرَغْتُ فَقَالَ : أَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ قَالَ : رَبِّ وَمَا یَبْلُغُ صَوْتِی قَالَ أَذِّنْ وَعَلَیَّ الْبَلاَغُ قَالَ : رَبِّ کَیْفَ أَقُولُ قَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْحَجُّ حَجُّ الْبَیْتِ الْعَتِیقِ فَسَمِعَہُ مَنْ بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ أَلاَ تَرَی أَنَّہُمْ یَجِیئُونَ مِنْ أَقْصَی الأَرْضِ یُلَبُّونَ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الحاکم ۲/ ۴۲۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٣٣) ابن ابی ظبیان اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کو بنانے سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے : اے میرے رب ! میں فارغ ہوگیا ہوں تو اللہ رب العزت نے فرمایا : لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ کہنے لگے : اے میرے رب ! میری آواز نہ پہنچ سکے گی ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اعلان تم کرو آواز میں پہنچا دوں گا۔ کہنے لگے : اے میرے ! رب میں کیا کہوں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہو : اے لوگو ! اللہ نے تمہارے اوپر بیت اللہ کے حج کو فرض کردیا ہے۔ ان کی آواز کو آسمان و زمین کے درمیان رہنے والوں نے سن لیا، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ لوگ زمین کے کناروں سے تلبیہ کہتے ہوئے آتے ہیں۔

9839

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9839

Sahih

(۹۸۳۴)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَکَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالُوا : إِنَّہُ مَکْتُوبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ ک ف ر فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَمْ أَسْمَعْہُ یَقُولُ ذَلِکَ وَلَکِنَّہُ قَالَ : أَمَّا إِبْرَاہِیمُ فَانْظُرُوا إِلَی صَاحِبِکُمْ وَأَمَّا مُوسَی فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَی جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَۃٍ کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَیْہِ قَدِ انْحَدَرَ مِنَ الْوَادِی یُلَبِّی ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مُوسَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی عَدِیٍّ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۵۹۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٣٤) مجاہد فرماتے ہیں کہ ہم ابن عباس (رض) کے پاس موجود تھے ، لوگوں نے دجال کا تذکرہ کیا اور کہنے لگے : اس کی آنکھوں کے درمیان (ک ف ر) لکھا ہوگا۔ ابن عباس (رض) فرمانے لگے : میں نے یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس طرح نہیں سنی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہرحال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو تم اپنے ساتھی کی جانب دیکھو اور موسیٰ (علیہ السلام) تو وہ گندمی رنگ، گھنگریالے بالوں والے، سرخ اونٹ پر سوار تھے جس کو کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی مضبوط رسی سے لگام دی ہوئی ہے گویا میں ان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ وادی سے نیچے اتر رہے ہیں اور تلبیہ پکار رہے ہیں۔

9840

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9840

Zaeef

(۹۸۳۵)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَیْسَرَۃَ الْبَکْرِیِّ حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : کَانَ مَوْضِعُ الْبَیْتِ فِی زَمَنِ آدَمَ شِبْرًا أَوْ أَکْثَرَ عَلَمًا فَکَانَتِ الْمَلاَئِکَۃُ تَحُجُّہُ قَبْلَ آدَمَ ثُمَّ حَجَّ آدَمُ فَاسْتَقْبَلَتْہُ الْمَلاَئِکَۃُ فَقَالُوا : یَا آدَمُ مِنْ أَیْنَ جِئْتَ؟ قَالَ : حَجَجْتُ الْبَیْتَ فَقَالُوا : قَدْ حَجَّتْہُ الْمَلاَئِکَۃُ قَبْلَکَ۔ [منکر۔ اخرجہ المولف فی الشعب ۳۹۸۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٣٥) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدم کے دور میں بیت اللہ کی جگہ ایک بالشت یا زیادہ تھی بطور علامت و نشانی، فرشتے آدم (علیہ السلام) سے پہلے اس کا حج کرتے تھے۔ پھر آدم (علیہ السلام) نے اس کا حج کیا تو فرشتے آدم (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : اے آدم ! آپ کہاں سے آئے ؟ فرمانے لگے : میں نے بیت اللہ کا حج کیا ہے، انھوں نے کہا : آپ سے پہلے فرشتوں نے اس کا حج کیا ہے۔

9841

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9841

Sahih

(۹۸۳۶)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی لَبِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِیِّ أَوْ غَیْرِہِ قَالَ : حَجَّ آدَمُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَلَقِیَتْہُ الْمَلاَئِکَۃُ فَقَالُوا : بُرَّ نُسُکُکَ آدَمُ لَقَدْ حَجَجْنَا قَبْلَکَ بِأَلْفَیْ عَامٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافعی ۵۳۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٣٦) محمد بن کعب قرظی یا ان کے علاوہ کوئی بیان کرتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کا حج کیا، ان سے فرشتوں نے ملاقات کی اور کہا کہ آدم (علیہ السلام) کا حج قبول کیا گیا، حالاں کہ ہم نے آپ سے دو ہزار سال پہلے اس کا حج کیا تھا۔

9842

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9842

Zaeef

(۹۸۳۷)حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : لَقَدْ سَلَکَ فَجَّ الرَّوْحَائِ سَبْعُونَ نَبِیًّا حُجَّاجًا عَلَیْہِمْ ثِیَابُ الصُّوفِ وَلَقَدْ صَلَّی فِی مَسْجِدِ الْخَیْفِ سَبْعُونَ نَبِیًّا۔وَبِہَذَا الإِسْنَادِ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی ثِقَۃٌ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّہُ قَالَ : مَا مِنْ نَبِیٍّ إِلاَّ وَقَدْ حَجَّ الْبَیْتَ إِلاَّ مَا کَانَ مِنْ ہُودٍ وَصَالِحٍ وَلَقَدْ حَجَّہُ نُوحٌ فَلَمَّا کَانَ مِنَ الأَرْضِ مَا کَانَ مِنَ الْغَرَقِ أَصَابَ الْبَیْتَ مَا أَصَابَ الأَرْضَ وَکَانَ الْبَیْتُ رَبْوَۃً حَمْرَائَ فَبَعَثَ اللَّہُ ہُودًا عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَتَشَاغَلَ بِأَمْرِ قَوْمِہِ حَتَّی قَبَضَہُ اللَّہُ إِلَیْہِ فَلَمْ یَحُجَّہُ حَتَّی مَاتَ فَلَمَّا بَوَّأَہُ اللَّہُ لإِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ حَجَّہُ ثُمَّ لَمْ یَبْقَ نَبِیٌّ بَعْدَہُ إِلاَّ حَجَّہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الحاکم ۲/ ۶۵۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٣٧) مقسم حضرت ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ٧٠ نبی روحا کے راستے حج کے لیے چلے، انھوں نے روئی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور مسجد ” خیف “ میں ٧٠ نبیوں نے نماز ادا کی۔ (ب) عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ ہر نبی نے بیت اللہ کا حج کیا، لیکن ہود، صالح (علیہ السلام) کے سوا اور نوح (علیہ السلام) نے بھی بیت اللہ کا حج کیا، جب زمین پر طوفانِ نوح نہ آیا تھا، یعنی سیلاب، جب زمین پر پانی، سیلاب آیا تو بیت اللہ کا بھی نقصان ہوا اور بیت اللہ ایک سرخ ٹیلے پر تھا۔ اللہ رب العزت نے ہود کو مبعوث فرمایا : وہ اپنی قوم کے معاملہ میں مصروف ہوگئے۔ یہاں تک کہ اللہ نے ان کو فوت کرلیا لیکن وہ حج نہ کرسکے۔ پھر جب اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جگہ عطا فرمائی تو اس نے حج کیا۔ پھر ہر نبی نے اس کا حج کیا۔

9843

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9843

Zaeef

(۹۸۳۸)أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَوْسٍ أَبُو زَیْدٍ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : حَجَّ مُوسَی بْنُ عِمْرَانَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فِی خَمْسِینَ أَلْفًا مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ وَعَلَیْہِ عَبَائَ تَانِ قَطَوَانِیَّتَانِ وَہُوَ یُلَبِّی لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ تَعَبُّدًا وَرِقًّا لَبَّیْکَ أَنَا عَبْدُکَ أَنَا لَدَیْکَ لَدَیْکَ یَا کَشَّافَ الْکُرَبِ قَالَ فَجَاوَبَتْہُ الْجِبَالُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَلَمْ یُحْکَ لَنَا عَنْ أَحَدٍ مِنَ النَّبِیِّینَ وَلاَ الأُمَمِ الْخَالِینَ : أَنَّہُ جَائَ الْبَیْتَ أَحَدٌ قَطُّ إِلاَّ حَرَامًا وَلَمْ یَدْخُلْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مَکَّۃَ عَلِمْنَاہُ إِلاَّ حَرَامًا إِلاَّ فِی حَرْبِ الْفَتْحِ۔ [ضعیف جداً]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٣٨) عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ بن عمران نے بنی اسرائیل کے ٥٠ ہزار آدمیوں میں حج کیا۔ ان کے اوپر دو روئی کی چادریں تھیں۔ اور وہ تلبیہ پکار رہے تھے۔ اے اللہ ! حاضر ہوں، اے اللہ ! حاضر ہوں عبادت کے اعتبار سے۔ اے اللہ میں تیرا بندہ ہوں۔ میں تیرے پاس ہوں۔ اے مصائب کو دور ہٹانے والے، اس کا پہاڑوں نے بھی جواب دیا۔ قالشافعی کسی نبی یا امتی سے حکایت نہیں کی گئی۔ جو بھی بیت اللہ میں آیا احرام کی حالت میں آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی مکہ میں داخل ہوئے تو احرام کی حالت میں سوائے فتح مکہ کے موقع پر۔

9844

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9844

Sahih

(۹۸۳۹)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : مَا یَدْخُلُ مَکَّۃَ أَحَدٌ مِنْ أَہْلِہَا وَلاَ مِنْ غَیْرِ أَہْلِہَا إِلاَّ بِإِحْرَامٍ۔ وَرَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَوَاللَّہِ مَا دَخَلَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ إِلاَّ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٨٣٩) عطاء حضرت ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ مکہ کا رہنے والا یا کوئی دوسرا مکہ میں احرام کی حالت میں داخل ہوتا تھا۔ (ب) عطاء ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف حج یا عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہوئے۔