Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2067

کتاب الحج

حج کے مفسدات کا بیان

12 hadiths in this chapter

9783

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9783

Zaeef

(۹۷۷۸)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَسَوِیُّ الدَاوُدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ اللُّؤْلُؤْیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَۃَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ یَعْنِی ابْنَ سَلاَّمٍ عَنْ یَحْیَی قَالَ أَخْبَرَنِی یَزِیدُ بْنُ نُعَیْمٍ أَوْ زَیْدُ بْنُ نُعَیْمٍ شَکَّ أَبُو تَوْبَۃَ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ جُذَامٍ جَامَعَ امْرَأَتَہُ وَہُمَا مَحْرِمَانِ فَسَأَلَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ لَہُمَا : اقْضِیَا نُسُکَکُمَا وَأَہْدِیَا ہَدْیًا ثُمَّ ارْجِعَا حَتَّی إِذَا جِئْتُمَا الْمَکَانَ الَّذِی أَصَبْتُمَا فِیہِ مَا أَصَبْتُمَا فَتَفَرَّقَا وَلاَ یَرَی وَاحِدٌ مِنْکُمَا صَاحِبَہُ وَعَلَیْکُمَا حَجَّۃٌ أُخْرَی فَتُقْبِلاَنِ حَتَّی إِذَا کُنْتُمَا بِالْمَکَانِ الَّذِی أَصَبْتُمَا فِیہِ مَا أَصَبْتُمَا فَأَحْرِمَا وَأَتَّمَا نُسُکَکُمَا وَأَہْدِیَا ۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَہُوَ یَزِیدُ بْنُ نُعَیْمٍ الأَسْلَمِیُّ بِلاَ شَکٍّ وَقَدْ رُوِیَ مَا فِی حَدِیثِہِ أَوْ أَکْثَرَہُ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ -۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود فی المراسیل، رقم ۱۲۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٧٨) یزید بن نعیم یا زید بن نعیم راوی ابو توبہ کو شک ہے، فرماتے ہیں کہ جزام قبیلہ کے ایک مرد نے حالت احرام میں اپنی بیوی سے مجامعت کرلی، پھر اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں سے فرمایا ؟ تم حج کے مناسک پورے کرو اور قربانی کرو۔ پھر تم دونوں واپس پلٹ کر اسی جگہ پہنچ جاؤ جس جگہ تم سے گناہ سرزد ہوا تھا۔ پھر دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوجاؤ کہ تم دونوں میں سے کوئی دوسرے کو دیکھ نہ سکے اور آئندہ سال تم پر حج کرنا لازم ہے، پھر آئندہ سال جب تم اسی جگہ پر آجاؤ تو احرام باندھ کر مناسکِ حج ادا کرو اور قربانی دو۔

9784

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9784

Zaeef

(۹۷۷۹)أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ : أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَأَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمْ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ أَصَابَ أَہْلَہُ وَہُوَ مُحْرِمٌ بِالْحَجِّ فَقَالُوا : یَنْفُذَانِ لِوَجْہِہِمَا حَتَّی یَقْضِیَا حَجَّہُمَا ثُمَّ عَلَیْہِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ وَالْہَدْیُ۔ وَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَإِذَا أَہَلاَّ بِالْحَجِّ عَامَ قَابِلٍ تَفَرَّقَا حَتَّی یَقْضِیَا حَجَّہُمَا۔ [ضعیف جداً۔ ذکرہ مالک ۸۵۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٧٩) امام مالک (رض) فرماتے ہیں : انھیں خبر ملی کہ حضرت عمر بن خطاب، حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جس نے حج کے احرام کی حالت میں اپنی بیوی سے مجامعت کرلی تھی تو انھوں نے فرمایا : یہ دونوں اپنی حالت پر ہی رہیں گے۔ یہاں تک کہ حج کو مکمل کرلیں، لیکن آئندہ سال ان پر دوبارہ حج کرنا لازم ہے اور قربانی کرنا بھی اور حضرت علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں : جب وہ آئندہ سال حج کا تلبیہ کہیں گے تو حج مکمل کرنے تک ایک دوسرے سے جدا رہیں گے۔

9785

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9785

Zaeef

(۹۷۸۰)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو یَعْنِی الأَوْزَاعِیَّ عَنْ عَطَائٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ قَالَ فِی مُحْرِمٍ بِحَجَّۃٍ أَصَابَ امْرَأَتَہُ یَعْنِی وَہِی مُحْرِمَۃٌ قَالَ : یَقْضِیَانِ حَجَّہُمَا وَعَلَیْہِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ مِنْ حَیْثُ کَانَا أَحْرَمَا وَیَفْتَرَقَانِ حَتَّی یُتِمَّا حَجَّہُمَا۔ قَالَ وَقَالَ عَطَائٌ وَعَلَیْہِمَا بَدَنَۃٌ إِنْ أَطَاعَتْہُ أَوِ اسْتَکْرَہَہَا فَإِنَّمَا عَلَیْہِمَا بَدَنَۃٌ وَاحِدَۃٌ۔ [ضعیف۔ جامع التحصیل، ص ۲۳۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٨٠) عطاء حضرت عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میاں بیوی دونوں احرام کی حالت میں مجامعت کرلیں تو وہ دونوں حج کو پورا کریں گے، لیکن آئندہ سال دوبارہ حج کریں، جہاں سے انھوں نے احرام باندھا تھا اور دونوں جدا رہیں گے جب تک وہ حج کو مکمل نہ کرلیں۔ عطاء فرماتے ہیں کہ اگر عورت نے اطاعت کی یا وہ مجبور ہوئی تب بھی دونوں میاں بیوی پر ایک قربانی ہے۔

9786

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9786

Sahih

(۹۷۸۱)وَفِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتَہُ عَنْہُ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ الْفَقِیہِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ ہُوَ ابْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ : سَأَلْتُ مُجَاہِدًا عَنِ الْمُحْرِمِ یُوَاقِعُ امْرَأَتَہُ فَقَالَ : کَانَ ذَلِکَ عَلَی عَہْدِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : یَقْضِیَانِ حَجَّہُمَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ بِحَجِّہِمَا ثُمَّ یَرْجِعَانِ حَلاَلاً کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا لِصَاحِبِہِ فَإِذَا کَانَا مِنْ قَابِلٍ حَجَّا وَأَہْدَی وَتَفَرَّقَا فِی الْمَکَانَ الَّذِی أَصَابَہَا۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۱۳۰۸۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٨١) یزید بن یزید بن جابر فرماتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے محرم کے بارے میں سوال کیا جو اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھتا ہے تو فرمایا : حضرت عمر (رض) کے دور میں ہوا، ، فرماتے ہیں : یہ دونوں (میاں بیوی) اپنے حج کو پورا کریں گے۔ (واللہ اعلم) اللہ ان کے حج کے بارے میں خوب جانتا ہے، پھر جب وہ واپس آئیں گے تو دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہیں، لیکن جب آئندہ سال ہوگا تو دونوں (میاں، بیوی) دوبارہ حج کریں گے اور قربانی کریں گے اور اسی جگہ سے جدا ہوں گے جس جگہ ان سے گناہ سر زد ہوا تھا۔

9787

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9787

Zaeef

(۹۷۸۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَکَرِیَّا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ حَدَّثَنَا جَدِّی مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ : عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: فِی رَجُلٍ وَقَعَ عَلَی امْرَأَتِہِ وَہُوَ مُحْرِمٌ قَالَ: اقْضِیَا نُسُکَکُمَا وَارْجِعَا إِلَی بَلَدِکُمَا فَإِذَا کَانَ عَامُ قَابِلٍ فَاخُرْجَا حَاجَّیْنِ فَإِذَا أَحْرَمْتُمَا فَتَفَرَّقَا وَلاَ تَلْتَقِیَا حَتَّی تَقْضِیَا نُسُکَکُمَا وَأَہْدِیَا ہَدْیًا۔ وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ ثُمَّ أَہِلاَّ مِنْ حَیْثُ أَہْلَلْتُمَا أَوَّلَ مُرَّۃٍ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٨٢) ابوطفیل عامر بن واثلہ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو حالت احرام میں اپنی بیوی سے مجامعت کرلیتا ہے کہ وہ دونوں حج کے مناسک پورے کر کے اپنے شہر کو واپس پلٹیں، لیکن آئندہ سال دوبارہ حج کے لیے نکلیں، جب دونوں احرام باندھ لیں تو پھر ایک دوسرے سے حج کے پورا کرنے اور قربانی کرنے تک ملاقات نہ کریں۔ (ب) ابوطفیل حضرت ابن عباس (رض) سے اس قصہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ پھر وہ وہاں سے تلبیہ کہیں جہاں سے انھوں نے پہلی مرتبہ کیا تھا۔

9788

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9788

Sahih

(۹۷۸۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ الأَصْبَہَانِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی وَقَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْفَقِیہُ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَلِیُّ بْنُ حَرْبٍ الْمَوْصِلِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو یَسْأَلُہُ عَنْ مُحْرِمٍ وَقَعَ بِامْرَأَۃٍ فَأَشَارَ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ : اذْہَبْ إِلَی ذَلِکَ فَسَلْہُ قَالَ شُعَیْبٌ : فَلَمْ یَعْرِفْہُ الرَّجُلُ فَذَہَبْتُ مَعَہُ فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ : بَطَلَ حَجُّکَ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : فَمَا أَصْنَعُ قَالَ : اخْرُجْ مَعَ النَّاسِ وَاصْنَعْ مَا یَصْنَعُونَ فَإِذَا أَدْرَکْتَ قَابِلاً فَحُجَّ وَأَہْدِ۔ فَرَجَعَ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا مَعَہُ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ : اذْہَبْ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَلْہُ قَالَ شُعَیْبٌ : فَذَہَبْتُ مَعَہُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَہُ فَقَالَ لَہُ کَمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَرَجَعَ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا مَعَہُ فَأَخْبَرَہُ بِمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ قَالَ : مَا تَقُولُ أَنْتَ؟ فَقَالَ : قَوْلِی مِثْلَ مَا قَالاَ۔ ہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ وَفِیہِ دَلِیلٌ عَلَی صِحَّۃِ سَمَاعِ شُعَیْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ مِنْ جَدِّہِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو۔ [حسن۔ اخرجہ ابن شیبہ ۱۰۸۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٨٣) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عبداللہ بن عمرو (رض) سے محرم کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی سے جماع کرلیتا ہے تو انھوں نے عبداللہ بن عمر (رض) کی طرف اشارہ کردیا کہ ان سے پوچھو ! شعیب کہتے ہیں کہ وہ ان کو جانتا نہ تھا، میں اس کے ساتھ گیا تو اس نے ابن عمر (رض) سے پوچھا تو فرمانے لگے : تیرا حج باطل ہے، تو آدمی کہنے لگا : پھر میں کیا کروں ؟ فرمانے لگے : لوگوں کے ساتھ نکل کر ویسا ہی کرو جیسا لوگ کر رہے ہیں۔ جب آئندہ سال ہو تو حج اور قربانی کرنا۔ وہ عبداللہ بن عمرو کی طرف واپس آیا اور میں بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس نے ان کو بتایا۔ پھر عبداللہ بن عمرو (رض) نے اس کو ابن عباس کی طرف روانہ کیا کہ ان سے سوال کرو تو شعیب فرماتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ ابن عباس (رض) کے پاس گیا۔ اس نے ان سے سوال کیا تو انھوں نے بھی ابن عمر (رض) کی طرح جواب دیا، پھر وہ دوبارہ عبداللہ بن عمرو (رض) کے پاس آئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا تو جو ابن عباس (رض) نے جواب دیا تھا مکمل بتادیا۔ پھر اس نے کہا : آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ تو عبداللہ بن عمرو (رض) فرمانے لگے : جو ان دو (یعنی ابن عمر، ابن عباس (رض) ) نے کہا ، وہی میں کہتا ہوں۔

9789

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9789

Sahih

(۹۷۸۴)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً مِنْ بَنِی عَبْدِ الدَّارِ قَالَ: أَتَی رَجُلٌ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو فَسَأَلَہُ عَنْ مُحْرِمٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِہِ فَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا قَالَ فَأَتَی ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو: إِنْ یَکُنْ أَحَدٌ یُخْبِرُہُ فِیہَا بِشَیْئٍ فَابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : یَقْضِیَانِ مَا بَقِیَ مِنْ نُسُکِہِمَا فَإِذَا کَانَ قَابِلٌ حَجَّا فَإِذَا أَتَیَا الْمَکَانَ الَّذِی أَصَابَا فِیہِ مَا أَصَابَا تَفَرَّقَا وَعَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا ہَدْیٌ أَوْ قَالَ عَلَیْہِمَا الْہَدْیُ قَالَ أَبُو بِشْرٍ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ فَقَالَ : ہَکَذَا کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَقُولُ۔[صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٨٤) ابوبشر فرماتے ہیں کہ میں نے بنو عبدالدار قبیلہ کے ایک آدمی سے سنا کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمرو (رض) کے پاس آیا، اس نے محرم آدمی کے متعلق پوچھا جو اپنی بیوی سے مجامعت کرلیتا ہے تو انھوں نے کچھ جواب نہ دیا۔ وہ ابن عباس (رض) کے پاس آیا تو عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : اگر اس کے بارے میں کچھ بتادیں تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا کے بیٹے ہیں، راوی بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے فرمایا : وہ حج کے باقی مناسک ادا کریں لیکن آئندہ سال دوبارہ حج کریں، لیکن جب اس جگہ آئیں جہاں پر ان سے گناہ سر زد ہوا تھا تو وہاں سے جدا ہوجائیں اور ان دو میں سے ہر ایک پر قربانی ہے یا فرمایا : ان دونوں پر قربانی لازم ہے۔ ابو بشر فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے بیان کیا تو وہ کہنے لگے : ابن عباس (رض) بھی ایسے ہی فرماتے تھے۔

9790

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9790

Sahih

(۹۷۸۵)وَأَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِجَازَۃً أَنَّ أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ زِیَادٍ أَخْبَرَہُمْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَیْسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَجُلاً وَامْرَأَتَہُ مِنْ قُرَیْشٍ لَقِیَا ابْنَ عَبَّاسٍ بِطَرِیقِ الْمَدِینَۃِ فَقَالَ : أَصَبْتُ أَہْلِی فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَّا حَجُّکُمَا ہَذَا فَقَدْ بَطَلَ فَحُجَّا عَامًا قَابِلاً ثُمَّ أَہِلاَّ مِنْ حَیْثُ أَہْلَلْتُمَا حَتَّی إِذَا بَلَغْتُمَا حَیْثُ وَقَعْتَ عَلَیْہَا فَفَارِقْہَا فَلاَ تَرَاکَ وَلاَ تَرَاہَا حَتَّی تَرْمِیَا الْجَمْرَۃَ وَأَہْدِ نَاقَۃً وَلْتُہْدِ نَاقَۃً۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٨٥) ابوزبیر فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کے آزاد کردہ غلام نے ان کو خبر دی کہ قریش کا ایک مرد اور عورت مدینہ کے راستہ میں ابن عباس (رض) سے ملے۔ اس شخص نے کہا : میں اپنی بیوی سے مجامعت کرچکا ہوں تو ابن عباس (رض) فرمانے لگے : تمہارا یہ حج باطل ہے اور آئندہ سال حج کرنا، پھر وہیں سے تلبیہ کہنا جہاں سے تم نے شروع کیا تھا ، جب تم اس جگہ پہنچ جاؤ جہاں پر تم سے گناہ سر زد ہوا تھا تو پھر اپنی بیوی سے جدا ہوجانا۔ تو اس کو (بیوی) نہ دیکھے اور تیری بیوی تجھے نہ دیکھ سکے۔ جب تک تم رمی نہ کرلو، پھر ایک قربانی پیش کرنا اور تمہاری بیوی بھی۔

9791

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9791

Sahih

(۹۷۸۶)قَالَ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِذَا جَامَعَ فَعَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا بَدَنَۃٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٨٦) مجاہد ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب وہ (محرم) مجامعت کرلیتا ہے تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے ذمہ قربانی ہے۔

9792

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9792

Sahih

(۹۷۸۷) قَالَ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : یُجْزِی بَیْنَہُمَا جَزُورٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٨٧) عطاء بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان دونوں (میاں بیوی) کی طرف سے ایک اونٹنی کفایت کر جائے گی۔

9793

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9793

Sahih

(۹۷۸۸) قَالَ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : جَائَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَجُلٌ فَقَالَ : وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِی قَبْلَ أَنْ أَزُورَ فَقَالَ : إِنْ کَانَتْ أَعَانَتْکَ فَعَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْکُمَا نَاقَۃٌ حَسْنَائُ جَمْلاَئُ وَإِنْ کَانَتْ لَمْ تُعِنْکَ فَعَلَیْکَ نَاقَۃٌ حَسْنَائُ جَمْلاَئُ ۔ (ت) وَرُوِّینَا عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ : أَبِی الشَّعْثَائِ أَنَّہُ قَالَ : یُتِمَّانِ حَجَّہُمَا وَعَلَیْہِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ وَإِنْ کَانَ ذَا مَیْسَرَۃِ أَہْدَی جَزُورًا۔ وَعَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ یَفْتَرِقَانِ وَلاَ یَجْتَمِعَانِ حَتَّی یَفْرُغَا مِنْ حَجِّہِمَا۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٨٨) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک شخص ابن عباس (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں طواف زیارت کرنے سے پہلے ہی اپنی بیوی پر واقع ہوگیا، یعنی مجامعت کرلی تو ابن عباس (رض) فرمانے لگے : اگر تیری بیوی نے اس معاملہ میں تیری مدد کی ہے تو پھر تم دونوں پر ایک بہترین خوبصورت اونٹنی کی قربانی ہے۔ اگر تیری بیوی نے اس معاملہ میں تیرا تعاون نہیں کیا تو پھر صرف تیرے ذمہ ایک خوبصورت اور بہترین اونٹنی کی قربانی ہے۔ (ب) جابر بن زید ابو شعثاء سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اس حج کو پورا کریں اور آئندہ سال ان پر دوبارہ حج کرنا لازم ہے۔ اگر وہ مال دار ہیں تو ایک اونٹ کی قربانی بھی کریں۔ (ج) ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ وہ دونوں جدا ہوں گے اور حج کو مکمل کرنے تک اکٹھے نہ ہوں گے۔

9794

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9794

Sahih

(۹۷۸۹)وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّہُ سَمِعَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ : کَیْفَ تَرَوْنَ فِی رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِہِ وَہُوَ مُحْرِمٌ؟ فَلَمْ یَقُلْ لَہُ الْقَوْمُ شَیْئًا قَالَ سَعِیدٌ : إِنَّ رَجُلاً وَقَعَ بِامْرَأَتِہِ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَبَعَثَ إِلَی الْمَدِینَۃِ یَسْأَلُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَہُ بَعْضُ النَّاسِ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا إِلَی عَامٍ قَابِلٍ۔ قَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : لِیُنْفِذَانِ لِوُجُوہِہِمَا فَلْیُتِّمَا حَجَّہُمَا الَّذِی أَفْسَدَا فَإِذَا فَرَغَا رَجَعَا وَإِذَا أَدْرَکَہُمَا الْحَجُّ فَعَلَیْہِمَا الْحَجُّ وَالْہَدْیُ وَیُہِلاَّ مِنْ حَیْثُ کَانَا أَہَلاَّ بِحَجِّہِمَا الَّذِی کَانَا أَفْسَدَا وَیَتَفَرَّقَا حَتَّی یَقْضِیَا حَجَّہُمَا۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۸۵۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٨٩) یحییٰ بن سعید نے حضرت سعید بن مسیب سے سنا کہ اس شخص کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جو حالت احرام میں اپنی بیوی سے مجامعت کرلیتا ہے ؟ تو لوگوں نے کچھ جواب نہ دیا۔ سعید کہتے ہیں کہ ایک محرم آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کرلی تو اس نے ان کو مدینہ روانہ کیا کہ اس کے بارے میں سوال کرے تو کچھ لوگوں نے جواب دیا کہ آئندہ سال تک ان میں کروا دی جائے تو سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ وہ اپنی حالت پر ہی رہیں گے۔ لیکن وہ حج پورا کریں گے جو ان دونوں نے خراب کیا، پھر جب ان کو حج کا فریضہ پالے تو ان پر حج اور قربانی کرنا ہے، پھر وہاں سے حج کا تلبیہ کہنا شروع کریں جہاں سے پہلے حج کا تلبیہ کہنا شروع کیا تھا، جس کو انھوں نے باطل کردیا اور وہ دونوں جدا رہیں گے کہ یہاں تک حج مکمل کرلیں۔