Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2066

کتاب الحج

محرم کو صفر کہنے کی کراہت اور کمی زیادتی کرنا جاہلیت کا کام ہے

6 hadiths in this chapter

9777

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9777

Sahih

(۹۷۷۲)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ : أَکْرَہُ أَنْ یُقَالَ لِلْمُحَرَّمِ صَفَرُ وَلَکِنْ یُقَالُ لَہُ : الْمُحَرَّمُ وَإِنَّمَا کَرِہْتُ أَنْ یُقَالَ لِلْمُحَرَّمِ : صَفَرُ مِنْ قِبَلِ أَنَّ أَہْلَ الْجَاہِلِیَّۃِ کَانُوا یَعُدُّونَ فَیَقُولُونَ صَفَرَانِ لِلْمُحَرَّمِ وَصَفَرَ وَیُنْسِئُونَ فَیَحُجُّونَ عَامًا فِی شَہْرٍ وَعَامًا فِی غَیْرِہِ وَیَقُولُونَ : إِنْ أَخْطَأْنَا مَوْضِعَ الْحَرَمِ فِی عَامٍ أَصَبْنَاہُ فِی غَیْرِہِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ {اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ} الآیَۃَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ خَلَقَ اللَّہُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ ۔ فَلاَ شَہْرَ یُنْسَأُ وَسَمَّاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ الْمُحَرَّمَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٧٢) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ میں محرم کو صفر کہنا مکروہ خیال کرتا ہوں، اس کو محرم ہی کہا جائے اور صفر کو محرم کہنا صرف اس لیے مکروہ خیال کرتا ہوں کہ جاہلیت والے دو مہینوں یعنی صفر اور محرم کو صفر ہی شمار کرتے تھے اور محرم و صفر کو آگے پیچھے کرلیتے تھے ایک سال حج کے مہینہ میں حج کرتے اور دوسرے سال کسی اور مہینہ میں۔ اور کہتے تھے کہ اس سال محرم کی جگہ پر ہم سے غلطی ہوگی۔ آئندہ سال درست کرلیں گے۔ اللہ فرماتے ہیں : { اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ } (التوبۃ : ٣٧) ” مہینہ کا سر کا دینا اور زیادہ کفر ہے۔ “ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمانہ گھوم کر اسی حالت پر آگیا ہے جس دن اللہ رب العزت نے آسمانوں و زمین کو پیدا کیا تھا۔ ابھی کسی مہینہ کو آگے پیچھے نہ کیا جائے گا اور اس کا نام نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محرم رکھا۔

9778

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9778

Sahih

(۹۷۷۳)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنِ ابْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ خَلَقَ اللَّہُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ السَّنَۃُ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا مِنْہَا أَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ثَلاَثَۃٌ مُتَوَالِیَاتٌ ذُو الْقَعْدَۃِ وَذُو الْحِجَّۃِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبٌ شَہْرُ مُضَرَ الَّذِی بَیْنَ جُمَادَی وَشَعْبَانَ ۔ ثُمَّ قَالَ : أَیُّ شَہْرٍ ہَذَا ؟ ۔ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ قَالَ : أَلَیْسَ ذُو الْحِجَّۃِ ۔ قُلْنَا : بَلَی قَالَ : فَأَیُّ بَلَدٍ ہَذَا؟ ۔ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ قَالَ : أَلَیْسَ الْبَلْدَۃَ ۔ قُلْنَا : بَلَی قَالَ : فَأَیُّ یَوْمٍ ہَذَا؟ ۔ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ قَالَ : أَلَیْسَ یَوْمَ النَّحْرِ ۔ قُلْنَا : بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : فَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُہُ قَالَ : وَأَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ فَیَسْأَلُکُمْ عَنْ أَعْمَالِکُمْ فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِی ضُلاَّلاً یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلاَ لِیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ یُبَلَّغُہُ أَوْعَی لَہُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَہُ ۔ ثُمَّ قَالَ : أَلاَ ہَلْ بَلَّغْتُ۔ لَمْ یَسُقِ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ مَتْنَہُ وَقَالَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ: إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ عَبْدِالْوَہَّابِ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۰۲۵۔ مسلم۱۶۷۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٧٣) حضرت ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمانہ گھوم کر اسی حالت پر آگیا ہے، جس دن اللہ رب العزت نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا تھا۔ سال بھر میں ١٢ مہینے ہیں : چار مہینے حرمت والے ہیں۔ تین مسلسل ہیں : 1 ذوالقعدہ 2 ذوالحجہ 3 محرم اور 4 رجب قبیلہ مضر کا مہینہ ہے جو جمادی الاخری اور شعبان کے درمیان ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کون سا مہینہ ہے ؟ صحابہ (رض) فرماتے ہیں : ہم نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے۔ ہم نے گمان کیا شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے ؟ ہم نے کہا : کیوں نہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے۔ ہم نے گمان کرلیا شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا یہ خاص شہر یعنی مکہ نہیں ہے ؟ ہم نے کہا : کیوں نہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا یہ کون سا دن ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے ہم نے گمان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے ؟ ہم نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیوں نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے خون و اموال، راوی محمد فرماتے ہیں : میرا گمان ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر اور مہینہ کے اندر ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے، وہ تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ تم میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو، یعنی قتل کرو۔ خبردار ! حاضر غائب تک یہ بات پہنچا دے۔ شاید کہ جس کو بات پہنچی ہے وہ زیادہ یاد رکھے سننے والے سے۔ پھر فرمایا : کیا میں نے پہنچا دیا ہے۔ لیکن امام شافعی (رض) نے یہ متن بیان نہیں کیا۔ (ب) عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمانہ گھوم آیا ہے۔

9779

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9779

Zaeef

(۹۷۷۴)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی (إِنَّمَا النَّسِیئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ) قَالَ النَّسِیئُ أَنَّ جُنَادَۃَ بْنَ عَوْفِ بْنِ أُمَیَّۃَ الْکِنَانِیَّ کَانَ یُوَافِی الْمَوْسِمَ کُلَّ عَامٍ وَکَانَ یُکْنَی أَبَا ثُمَامَۃَ فَیُنَادِی أَلاَ إِنَّ أَبَا ثُمَامَۃَ لاَ یُحَابُ وَلاَ یُعَابُ أَلاَ وَإِنَّ عَامَ صَفَرَ الأَوَّلَ الْعَامَ حَلاَلٌ فَیُحِلُّہُ لِلنَّاسِ فَیُحَرِّمُ صَفَرًا عَامًا وَیُحَرِّمُ الْمُحَرَّمُ عَامًا فَذَلِکَ قَوْلِہِ تَعَالَی (إِنَّمَا النَّسِیئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِین کَفَرُوا یُحِلُّونَہُ عَامًا وَیُحَرِّمُونَہُ عَامًا) إِلَی قَوْلِہِ ( لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ) [ضعیف۔ الطبری فی تفسیرہ ۶/ ۳۶۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٧٤) ابن عباس (رض) اللہ کے ارشاد { اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ } (التوبۃ : ٣٧) ” مہینہ کا سر کا دینا اور زیادہ کفر ہے “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جنادہ بن عوف بن امیہ کنانی ہر سال حج کے زمانہ میں آتے، ان کی کنیت ابوثمامہ تھی وہ اعلان کرتے کہ ابو ثمامہ سے نہ تو محبت کی جاتی ہے اور نہ ہی عیب لگایا جاتا ہے۔ خبردار ! وہ صفر کے مہینہ کو لوگوں کے لیے ایک سال حلال قرار دیتے اور ایک سال حرمت والا گردانتے اور ماہ محرم کو ایک سال حرمت والا شمار کرتے تھے۔ اللہ کا فرمان ہے : { اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُحِلُّوْنَہٗ عَامًا۔۔۔ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ } (التوبۃ) ” مہینہ کا سرکا دینا اور زیادہ کفر ہے وہ لوگ گمراہ ہوئے جنہوں نے کفر کیا ، وہ ایک سال اس کو حلال خیال کرتے تھے اور اللہ کافر کو ہدایت نہیں دیتے۔ “

9780

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9780

Sahih

(۹۷۷۵)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : الرَّفَثُ الْجِمَاعُ وَالْفُسُوقُ الْمَعَاصِی وَلاَ جِدَالَ فِی الْحَجِّ یَقُولُ : لَیْسَ ہُوَ شَہْرٌ یُنْسَأُ قَدْ تَبَیَّنَ الْحَجُّ لاَ شَکَّ فِیہِ وَذَلِکَ أَنَّہُمْ کَانُوا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یُسْقِطُونَ الْمُحَرَّمَ ثُمَّ یَقُولُونَ صَفَرٌ بِصَفَرٍ وَیُسْقِطَونَ شَہْرَ رَبِیعٍ الأَوَّلِ ثُمَّ یَقُولُونَ شَہْرُ رَبِیعٍ بِشَہْرِ رَبِیعٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ : اخْتَلَفُوا فِی حَجِّ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَبْلَ حَجِّ النَّبِیِّ -ﷺ ہَلْ کَانَ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ أَوْ فِی ذِی الْحِجَّۃِ فَذَہَبَ مُجَاہِدٌ إِلَی أَنَّہُ وَقَعَ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ وَذَہَبَ بَعْضُہُمْ إِلَی أَنَّہُ وَقَعَ فِی ذِی الْحِجَّۃِ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن شیبہ ۱۳۲۲۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٧٥) ابو نجیح حضرت مجاہد (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ الرفث سے مراد جماع ہے ” الفسوق “ سے مراد نافرمانی ہے اور ایام حج میں جھگڑا نہیں۔ فرماتے ہیں کہ یہ ایسا مہینہ نہیں جس کو مقدم اور موخر کریں ، بلکہ حج کا مہینہ واضح ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ محرم کے مہینہ کو ویسے گرا دیتے تھے یعنی ساقط کردیتے۔ پھر وہ کہتے : صفر تو صفر کے بدلے میں ہے اور کبھی ماہ ربیع الاول کو ساقط کردیتے اور ربیع الثانی کا نام دے دیتے۔ شیخ فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے حج کے بارے میں اختلاف ہے کہ انھوں نے ذی قعدہ یا ذی الحجہ میں حج کیا ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ ذی القعدہ میں انھوں نے حج کیا جب کہ بعض کے نزدیک ذوالحجہ ہی میں حج کیا گیا۔

9781

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9781

Sahih

(۹۷۷۶)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ حِکَایَۃً عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ (إِنَّمَا النَّسِیئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ) قَالَ : حَجُّوا فِی ذِی الْحِجَّۃِ عَامَیْنِ ثُمَّ حَجُّوا فِی الْمُحَرَّمِ عَامَیْنِ فَکَانُوا یَحُجُّونَ فِی کُلِّ سَنَۃٍ فِی کُلِّ شَہْرٍ عَامَیْنِ حَتَّی وَافَقَتْ حَجَّۃُ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الآخِرَ مِنَ الْعَامِینِ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ قَبْلَ حَجَّۃِ النَّبِیِّ -ﷺ بِسَنَۃٍ ثُمَّ حَجَّ النَّبِیُّ -ﷺ مِنْ قَابِلٍ فِی ذِی الْحِجَّۃِ فَذَلِکَ حِین یَقُولُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فِی خُطْبَتِہِ : إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ خَلَقَ اللَّہُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا بِہَذَا الْحَدِیثِ عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٧٦) ابوعبداللہ امام احمد بن حنبل (رح) حضرت مجاہد (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ { اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ } [التوبۃ : ٣٧] ” مہینہ کا سر کا دینا اور زیادہ کفر ہے۔ “ انھوں نے ذوالحجہ میں دو سال حج کیا۔ پھر دو سال محرم میں حج کیا۔ پھر انھوں نے ہر سال ایک مہینہ (یعنی محرم یا ذوالحجہ) میں دو سال تک حج کیا، پھر آخری دو سالوں میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا حج ذی القعدہ میں ہوا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج سے ایک سال پہلے، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آئندہ سال ذی الحجہ میں حج ادا کیا، اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا کہ زمانہ اپنی اصلی حالت میں واپس آگیا ہے جب سے اللہ رب العزت نے آسمانوں و زمین کو پیدا فرمایا ہے۔

9782

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9782

Sahih

(۹۷۷۷)قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ فَأَمَّا الزُّہْرِیُّ فَحُکِیَ عَنْہُ قَالَ أَخْبَرَنِی حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ : بَعَثَنِی أَبُو بَکْرٍ فِی تِلْکَ الْحَجَّۃِ فِی مُؤَذِّنِینَ یَوْمَ النَّحْرِ نُؤَذِّنُ بِمِنًی أَنْ لاَ یَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَلاَ یَطُوفَ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدِیثُ الزُّہْرِیِّ إِسْنَادُہُ إِسْنَادٌ جَیِّدٌ وَإِنَّمَا کَانَتْ حَجَّۃُ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ذِی الْحَجَّۃِ عَلَی مَا ذَکَرَ الزُّہْرِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : قَدْ نَزَلَتْ سُورَۃُ بَرَائَ ۃَ قَبْلَ حَجَّۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ وَفِیہَا ( إِنَّمَا النَّسِیئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ) وَفِیہَا (إِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُورِ عِنْدَ اللَّہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا) فَہَلْ کَانَ یَجُوزُ أَنْ یَحُجَّ أَبُو بَکْرٍ عَلَی حَجِّ الْعَرَبِ وَقَدْ أَخْبَرَ اللَّہُ أَنَّ فِعْلَہُمْ ذَلِکَ کَانَ کُفْرًا۔ [صحیح۔ بخاری ۳۶۲۔ مسلم ۱۳۴۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٧٧٧) حمید بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ مجھے حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حج کے موقع پر قربانی کے دن منیٰ کے میدان میں اعلان کرنے کے لیے روانہ کیا کہ آئندہ سال مشرک حج نہ کریں اور نہ ہی برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف کیا جائے۔ (ب) ابوعبداللہ فرماتے ہیں کہ زہری کی حدیث کی سند جید ہے، لیکن اس میں ہے کہ ابوبکر (رض) کا حج ذی الحجہ میں تھا۔ ابوعبداللہ فرماتے ہیں کہ سورة براء ۃ ابوبکر صدیق (رض) کے حج سے پہلے نازل ہوئی، اس میں ہے : { اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ } (التوبۃ : ٣٧) ” مہینہ کا سر کا دینا اور زیادہ کفر ہے “ اس میں ہے :{ اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا } (التوبۃ : ٣٦) ” اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ ماہ ہے۔ “ کیا یہ جائز ہے کہ ابوبکر صدیق (رض) نے حج عرب کے (قدیم) طریقہ پر کیا ہو جب کہ اللہ نے ان کے فعل کو کفر قرار دیا ہے۔